جھونپڑی شہر سے کچھ دور جلی ہے اب کے


غزہ کا ایک منظر

بر بریت اور وحشت کا ایک خونی منظر۔ اسرائیلی بمباری سے تباہ حال شہر کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ دہشت، خوف، بھوک، پیاس، موت کا سایہ شہر پہ اپنے پر پھیلائے کھڑا ہے۔ فلسطینیوں کا خون ناحق ان کی اپنی مگر غصب شدہ مٹی میں مل رہا ہے۔ بچوں کے زخمی لاشے اپنی بے نور آنکھوں میں اپنے لئے انصاف کا سوال لیے ہسپتالوں کے ٹھنڈے فرش پہ پڑے ہیں۔ ہسپتالوں میں کام کرنے والے مسیحا آگاہ ہیں کہ ان پہ ہسپتال میں بھی کسی بھی وقت حملہ ہو سکتا ہے لیکن وہ اپنا فرض مسیحائی انجام دے رہے ہیں۔ انسانیت سسک رہی ہے۔ وحشت و بربریت کا ننگا رقص جاری ہے۔ پوری دنیا کے باضمیر لوگ بلا تفریق رنگ نسل مذہب فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لیکن ظلم ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

عالم اسلام کے ایک بڑے ملک کا منظر

ایک طرف فلسطینی عوام کا خون اتنا ارزاں ہے کہ دنیا اسے بہنے سے نہیں روک سکتی، دوسری طرف سعودی عرب میں میوزک فیسٹیول ریاض سیزن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے چند بڑے میوزک فیسٹیول میں سے ایک میوزک میلہ اس وقت شروع ہونے جا رہا ہے جب اس ملک کے قریب ہی ایک ملک پہ مسلسل بمباری ہے، ہسپتالوں، سکولوں، ایمبولینس، گھروں غرض ہر جگہ پہ حملے کئیے جا رہے ہیں۔ اس فیسٹول کے آن لائن ٹکٹس کی دستیابی کا بتایا جا رہا ہے۔ ہر طرح سے اس میوزک میلے کی ایڈورٹائزمنٹ کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان کا منظر

پوری قوم ٹی وی سیٹس کے سامنے حیران و پریشان بیٹھی ہے۔ کرکٹ کے عالمی مقابلے جاری ہیں اور پاکستان کی اگلے مرحلے تک رسائی ممکن ہے یا نہیں اس وقت پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک بنا ہوا ہے۔ نیوزی لینڈ کے ساتھ ایک اہم میچ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سے سب پریشان ہیں۔ نیوزی لینڈ نے اتنا بڑا ٹارگٹ دیا ہے کہ جیت ناممکن لگ رہی ہے۔ پوری قوم دعائیں کر رہی ہے کہ ہم کرکٹ کا یہ میچ جیت جائیں۔ پھر اچانک ہی معلوم ہوتا ہے کہ بارش کی وجہ سے میچ مکمل نہیں ہو گا لیکن میچ کی موجودہ صورتحال پہ پاکستان کو فاتح قرار دیا جاتا ہے۔ اچانک ملک میں جشن کی سی کیفیت سامنے آتی ہے۔ پوری قوم فخر سے کہہ رہی ہے کہ ہماری دعاؤں کے سبب بارش ہوئی اور پاکستان کو فتح ملی۔ نہ جانے یہ دعائیں اسرائیل کو نیست و نابود کیوں نہیں کر پائیں اور فلسطین کو جنگ میں فتح کیوں نہ دلا پائیں؟

اقوام متحدہ کا منظر

اقوام متحدہ جس کے قیام کا مقصد دنیا کے امن کو تباہی سے بچانا اور تمام ممالک کے تصفیہ طلب مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا تھا، عملی طور پہ امریکہ و اسرائیل کے عزائم اور اقدامات کو کسی طور بھی روکنے میں ناکام ہے۔ جنگ بندی کی قراردادیں ویٹو کی جا رہی ہیں۔ فلسطین پہ قابض اور مسلط اسرائیل کو الٹا مظلوم ثابت کیا جا رہا ہے۔ دنیا فلسطینیوں کے قتل عام اور نسل کشی پہ کچھ کرنے سے قاصر ہے بظاہر۔

کس کو فرصت ہے دھواں دیکھنے جائے محسن
جھونپڑی شہر سے کچھ دور جلی ہے اب کے۔

Facebook Comments HS