ہمارا وقت اچھا تھا


کسی حال میں بھی خوش نہ رہنا انسان کا فطری اور بنیادی حق ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت اس سے چھین نہیں سکتی۔ بچپن میں کھیل کود اور کھلونوں کی حسرت، بڑوں کی ڈانٹ اور سکول کا خوف، ٹین ایج کے رومانوی دکھ، جوانی و شادی کی شادمانیوں کا عارضی پن، بچے ہونے اور نہ ہونے کے شکوے، چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے پہ کھلنے والے گل، رشتے داروں کے رویوں پر گلے، بزرگوں اور چھوٹوں سے فکری اختلاف، یاد رفتگاں اور فکر معاش کے باوجود عشق ہائے بتاں کے نا تھمنے والے سلسلے، بچپنے کا ناسٹیلجیا، مستقبل کے اندیشے، بڑھاپے کی بڑبڑاہٹ، مرنے کا ڈر اور عالم ممات کے خوف بندے کو کسی حال میں سکھ کا سانس نہیں لینے دیتے۔

آدمی، ساڈا ویلہ چنگا سی (ہمارا وقت اچھا تھا)، کی رٹ کی رٹ قائم کرتا اور لمحہ موجود کو سخت ناپسند کرتا چلا آیا ہے۔ سوچئیے کہ اگر ثنا خوان ماضیاں کو ان کی فیملی سمیت پچاس سال پیچھے پہنچا دیا جائے تو کیا تماشا ہو۔ باقی چھوڑو صرف سیل فون اور انٹر نیٹ کا نا ہونا ہی تو بتہ النصوح کا موجب بن سکتا ہے۔ پچاس سال قبل گاؤں میں نوے فی صد گھر کچے تھے جبکہ آج نوے فی صد گھر پکے ہیں۔ حیرت ہے کہ غربت سے بے حال لوگ لاکھوں کا بلڈنگ میٹیریل کہاں سے لا رہے ہیں۔

پورا سال غربت اور مہنگائی کا ماتم کرنے والوں کی تقریبات مرگ و شادی ملاحظہ کریں تو کروڑ پتی ہونے کا گماں ہوتا ہے۔ ہمارے بچپن میں گاؤں میں فقط آٹھ دس موٹر سائکل ہوا کرتے تھے۔ گویا پٹرول کا یومیہ تصرف دس بار لٹرز تھا۔ آج ایک ہزار سے زائد ہیں اور بے شمار گاڑیاں بھی ہیں اور تیل کا خرچ ہزاروں لٹر یومیہ ہے۔ ایسے پر تصرف زمانے میں سستا تیل کیونکر مل سکتا ہے۔ اس دور میں ایک متمول آدمی کے ایک دو سوٹ اور ایک آدھ بوٹ (جوتا) ہوا کرتا تھا۔ تہواروں پرایک دوسرے سے بدل لیا کرتے تھے۔ آج غریب کے سوٹ بوٹ اور طرز حیات کا خود دیکھ بھال لیں۔ مگر نجانے کیوں ہمیں، ساڈا ویلہ ہی چنگا لگدا اے۔

سنتے ہیں کہ پرانا دور بڑا سستا تھا۔ سونا پانچ سو روپے تولہ، پٹرول ایک روپیہ لٹر، گیہوں تین روپے من اور دو روپوں میں سوٹ مع بوٹ تیار ملتا تھا۔ پھر اتنی آسان زندگی میں اتنے اذیت ناک طرز زندگی کی کہانیاں کیوں سننے کو ملتی ہیں۔ لاریب آج مہنگائی کی معراج ایک متفق علیہ رائے ہے۔ مگر ہر کس و نا کس کا رہن سہن، کھان پان اور طرز حیات تو کچھ اور ہی ظاہر کرے ہے۔ کسان بیلوں سے ہل چلاتا، کنوؤں سے آبپاشی کرتا، مہینوں فصلیں برداشت کرتا اور بہت قلیل پیداوار لے پاتا۔

آج زرعی انقلاب کسی سے چھپا نہیں۔ ان دنوں لوگ کھالوں پر نہاتے اور خواتین وہیں کپڑے دھویا کرتیں۔ آج گھر گھر موٹر پمپس کا پانی بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ تب گاؤں کی گوریاں پنگھٹ کے کٹھن ڈگر پر مٹکے بھرنے جاتیں اور وہاں بہت سے نند لالوں کو بھی منتظر پاتیں۔ آج پانی گھر میں اور نند لالے آن لائن دستیاب ہیں۔ تب عزیزوں کے احوال صرف خطوط کے ذریعے ملتے تھے اور کہیں سے، تار، کا آنا تو انتہائی ہولناک سمجھا جاتا تھا۔ آج ہر ہاتھ میں ٹچ فون اور ہر گھر میں، ونڈو، کھلی ہے اور میلوں دور بیٹھے پیارے بصری گپ لگائے دکھتے ہیں۔ مگر پھر بھی، ساڈا ویلہ چنگا سی،

دیہات میں بجلی نہیں تھی۔ سورج ڈھلتے ہی تاریکی کے ڈیرے لگ جاتے۔ گرمائی راتیں دستی پنکھے جھلتے اور، اکیس پور، گنتے گزرا کرتیں۔ بارش کے بعد کئی روز آمد و رفت بند رہتی اور چولہوں پر خواتین کپاس کی چھٹیوں کو پھونکتے پھونکتے شب و روز کرتیں۔ میکے سسرال کے چکروں اور دیگر اسفار میں میلوں پیدل جانا پڑتا تب کہیں بیمار گھوڑے والا ٹانگا، اکھڑی سیٹوں والا ڈالہ اور بغیر شیشوں کے کھڑ کھڑ کرتی لاری ملتی جس پر سوار ہو کر پھولے نہ سمایا جاتا۔

ایسے قافلوں میں شامل افراد کے سروں پر لوہے کے روایتی ٹرنک، ہاتھ میں بکری یا بھیڑ کی رسی اور مرغی والے تھیلے بھی ہوتے جبکہ پہلو میں چار پانچ بچوں کا ہونا بھی لازم تھا۔ علی الصبح گھروں سے نکلنے والے شام ڈھلے بمشکل منزل پر دم لے پاتے۔ پھر ایسی غربت اور مہنگائی بڑھی کہ آج ایسے لوگوں میں سے اکثریت نے اپنی آرام دہ گاڑیاں خرید لیں اور جب کہیں سے گھوم پھر کر اپنے گھر کے عالیشان صدر دروازے سے گھر میں آ کر اترتے ہیں تو یہی شکوہ زد زبان ہوتا ہے۔ ، یار ایسا برا دور پہلے کبھی نہیں دیکھا، سچی گل اے، ساڈا ویلہ ای چنگا سی، ۔

گاؤں میں گھروں کے اندر ٹائلٹس نہ تھے اور ہر روز، شام کے بعد ، خاندان بھر کے زنانہ و مردانہ کا ررواں نواحی کھیتوں کو سیراب کرنے کی خاطر رخت سفر باندھ لیتے۔ اکثر خواتین نہ صرف فریضۂ قضائے حاجت ادا کرتیں بلکہ پورے دن کا فیملی ڈیٹا بھی خشوع و خضوع سے ٹرانسفر کر پاتیں۔ ان دنوں شہروں میں غریب اور متوسط گھروں کا حال تو اس سے بھی بد تر تھا۔ گھر میں کوئی ایک مقام، کوچہ حاجت کدہ، مخصوص تھا اور روزانہ ہم جیسے انسان جنھیں جمع دار کہتے تھے سروں پر اس فضلے کو اٹھا کر شہر کے باہر لے جاتے۔

شاہی ادوار میں محلات اور شاہان کی شان و شوکت ایک طرف اور دوسری طرف انسانیت کی اسی تذلیل کے منظر چشم فلک صدیوں تک دیکھتی رہی۔ پھر اس زمانے کو نظر بد نے آلیا اور گھر گھر کئی شو چالے چالو ہوئے حتیٰ کہ خواب گاہ سے اٹیچ باتھ تساہل عارفانہ کا مظہر بن چکا ہے۔ تاہم ماننا ہو گا کہ اس آؤٹ ڈور سسٹم نے لوگوں کو متحمل مزاج اور پابند وقت ضرور بنا رکھا تھا۔ تب کوئی بیمار پڑ جاتا تو کئی روز ٹوٹکوں کے ذریعے مرض میں شدت پیدا کی جاتی۔

حالات غیر ہونے پر مجبوراً بذریعہ چارپائی، بیل گاڑی یا بائسائیکل ڈاکٹر تک پہنچا جاتا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ٹریکٹر ٹرالی پر مریضوں کو کچے راہوں پر ہچکولے دار سفر کے ہسپتال لے جایا جاتا رہا۔ بارہا ٹرالی اور کھڈوں کی مشترکہ مسیحائی نے زچگی کے متعدد کیس دوران سفر ہی نمتا دیے۔ یعنی ہسپتال پہنچنے سے کہیں پہلے بچہ دنیائے فانی میں آ پہنچا یاپھر زچہ و بچہ دونوں ہی راہیٔ ملک عدم ٹھہرے۔ آج اور اس زمانے کا یہ تقابل کر کے بھی ہم کہنے پر مجبور ہیں کہ ساڈا ویلہ چنگا سی، ہاں مگر بہت سے معاملات میں وہ ویلہ واقعی بہت چنگا تھا۔

لوگوں کو سہولیات و تعیشات کی بے جا، لت، نہیں پڑی تھی، سادہ اور بے ریا زندگی اطمینان و سکون کا موجب تھی۔ آمدن کم تھی مگر کاسہ ہائے چشم حریصاں بھی دراز نہیں تھے۔ انٹر نیٹ، سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز کی ؑعدم موجودگی میں عوام کے درمیان نفرت اور شر پھیلانا اک کٹھن عمل تھا اور اس میں خاصا وقت بھی لگتا تھا۔ مذہبی و سیاسی مہاشوں کو سماج میں تیلی لگانے کے لیے مذکورہ سامان میسر نہ تھے۔ لوگ، نو نیوز از گڈ نیوز، کے تحت پر سکون زندگی گزارتے تھے۔ آج دنیا کی تباہی، ظلم و بربریت، مخرب الاخلاقی اور بد حالی کی لمحہ بہ لمحہ پہنچتی خبریں عام آدمی کا ، تراہ، نکالے رکھتی ہیں۔ ثابت ہوا کہ کچھ کچھ، ساڈا ویلہ چنگا سی، اور کہیں کہیں اہیہ ویلہ چنگا اے۔

مورال۔ ہر دور اپنے دور کا جدید دور رہا ہے اور ہر دور میں ارتقائی عمل بھی جاری رہا ہے۔ اشرف المخلوقات کے لیے جنت اور دوزخ اس دنیا میں بھی پنہاں ہے۔ جو چاہے اپنے فکر، صلاحیت اور محنت سے اپنی دنیا جنت بنا لے، جو چاہے اپنے جہل، کج فکری اور بے عملی سے دوزخ بنا لے۔

Facebook Comments HS