افغانستان پاکستان تجارت، معاشی بوجھ اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہری


44 برس پہلے 1979 میں شروع ہونے والی سوویت۔ افغان جنگ کے اثرات نے پاکستان کی معیشت، انتظام اور سماج کو برباد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

لگ بھگ آدھی صدی پر محیط اس جنگ کا پڑوسی ممالک پر اثر انداز ہونا یقینی تھا، لیکن، دانستہ طور پر اس جنگ میں ملوث ہونا پاکستان کے ”فیصلہ سازوں“ کی حکمت عملی کا بنیادی اور تباہ کن نتائج کا نکتۂ آغاز ثابت ہوا۔

1965 کے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے سے افغانستان کو پاکستان میں کراچی کی بندرگاہ کے استعمال کی سرکاری طور پر آغاز ہوا، اس کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے نام پر اسمگلنگ یا غیرقانونی تجارت کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے، اس غیرقانونی تجارت میں اشیائے صرف کے ساتھ امریکی کرنسی ”ڈالر“ اسمگل کر کے افغانستان منتقل کرنے نے پاکستانی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

افغانستان کے استعمال کے لیے درآمد (امپورٹ) کی جانے والی اشیا افغانستان پہنچ کر اور اکثر افغانستان پہنچے بغیر پاکستان میں فروخت ہونے کا رواج عام ہے۔ 1965 کا تجارتی معاہدہ افغانستان کے لیے بذریعہ پاکستان اشیاء کی ڈیوٹی فری درآمد کو یقینی بناتا تھا، یہ اشیاء افغانستان میں استعمال ہونے کے بجائے غیر قانونی طور پر پاکستان میں استعمال ہونے لگیں، دیگر الفاظ میں اگر یہ اشیاء پاکستان اپنے استعمال کے لیے درآمد کرتا تو اس پر ڈیوٹی عائد ہوتی جو ملک کے محصولات میں اضافے کا باعث ہوتی۔ لیکن افغانستان کے نام پر درآمد کی جانے والی یہ اشیاء محصولات وصول کیے بغیر پاکستان میں بکتی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس غیرقانونی تجارت کو پاکستان کے بدعنوان سرکاری عملے کی آشیرباد حاصل رہی ہے۔

اس صورتحال نے پاکستان میں بلیک مارکیٹ کے قیام میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کو ایک طرف ناصرف لگان یا محصولات کی مد میں آمدنی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ دوسری جانب بدعنوانی کو فروغ ملا، منشیات کی تجارت اسمگلنگ کے ساتھ جڑی رہی جس کے نقصان کی تلافی ممکن نہیں ہے، معاشرے میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور نشے کی لت کا آپس میں گٹھ جوڑ سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔

ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ 1965 کا افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (ATTA) پاکستان کو براستہ افغانستان وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدی تجارت پر افغانستان سے سہولت حاصل کرنے پر خاموش ہے، دوسرے الفاظ میں پاکستان کو افغانستان سے گزر کر وسطی ایشیائی ممالک کو تجارت یا برامدات کی اجازت نہیں دیتا تھا۔

افغانستان کی داخلی صورتحال اور وسطی ایشیا کے ممالک سے تجارت کے پیش نظر پاکستان، چین، کرغیزستان اور قازقستان نے 1995 میں ایک علیحدہ معاہدہ ”Quadrilateral Traffic in Transit Agreement“ (QTTA) دستخط کیا لیکن تاحال اس معاہدے کے کوئی قابل ذکر پیشرفت یا ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکے ہیں۔

سال 2010 میں پاکستان اور افغانستان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرچکے ہیں جس میں امریکہ نے اپنی خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا، یہ ایم او یو افغانستان اور پاکستان کے مابین ریلوے نیٹ ورک قائم کرنے سے متعلق ہے جس پر اب تک کوئی بڑی پیشرفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔ اس مفاہمتی یاداشت میں امریکی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس دستخطی تقریب میں افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی مندوب رچرڈ ہالبروک دیگر کئی ممالک کے سفیران کے ساتھ موجود تھے۔ اس مفاہمتی یاداشت کے مطابق سال 2010 میں دستخط کیا جانے والا معاہدہ Afghanistan۔ Pakistan Transit Trade

Agreement یا ATTA

کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان اور پاکستان دونوں ممالک تجارت کے لیے ایک دوسرے کے ہوائی اڈے، ریلوے اور زمینی راستے استعمال کر سکتے ہیں۔ در حقیقت امریکہ اپنی حکمت عملی کے مطابق چین کے سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ کے مدمقابل گزرگاہ ترتیب دینے کی کوشش میں مصروف ہے جس میں انڈیا کی شمولیت یقینی بنانا شامل ہے۔

اس معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ افغانستان اپنی مصنوعات انڈیا کو برامد کرنے کے لیے واہگہ بارڈر تک پہنچا سکتا ہے جہاں سے مال اتار کر انڈیا کے اندر لے جانا انڈیا کی ذمہ داری ہو گی جبکہ انڈیا کے لیے اپنی برامدات افغانستان بھیجنے کے لیے اس سہولت کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، انڈیا کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی ہے کہ افغانستان کا مال واہگہ بارڈر پر اتارنے کے بعد انڈیا کا مال اٹھا کر افغانستان لے جا سکیں۔ اس قدم یا حکمت عملی کے پیچھے پاکستان کی افغانستان کے لیے درآمدات کا پاکستان میں بلیک مارکیٹ کا عفریت ہے، پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ انڈیا سے افغانستان کے لیے درآمدات بھی افغانستان کے بجائے پاکستان میں فروخت ہوں گی اور بلیک مارکیٹ کو تقویت پہنچانے کا باعث ہوں گی۔

باوجود پاکستان کی جانب سے تجارتی، مالی اور انسانی بنیاد پر افغان باشندوں کی پاکستان میں رہائشی بندوبست اور APTTA پر دستخط کرنے کے، افغانستان نے اب تک پاکستان کو افغانستان کے راستے سے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ برامدات کی اجازت نہیں دی ہے جبکہ افغانستان کے لیے براستہ پاکستان انڈیا کو برامدات کی اجازت دے چکا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ افغانستان نے اب تک اپنی حکومت کے Custom Transit Rules سے بھی پاکستان کو آگاہ نہیں کیا ہے نا ہی اپنے مال بردار ٹرکس کو کھوج لگانے والے آلات یا جدید ٹریکرز سے آراستہ کیا ہے تاکہ ان مال بردار ٹرکوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے جبکہ پاکستان اپنی برامدات کے لیے استعمال ہونے والے ٹرکوں  پر ٹریکرز کی تنصیب کا کام مکمل کر چکا ہے۔

افغانستان کی جانب سے ہر ممکن تجارتی مشکلات پیدا کرنا، سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹس پر حملے اور اور پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کی رسائی روکنے سے اجتناب اور آئے دن پاکستان کے خلاف الزام تراشی روزمرہ کا معمول ہے۔ انتہا یہ ہے کہ 23 اکتوبر 2017 کو، افغانستان کے صدر اشرف غنی نے یک طرفہ طور پر یہ اعلان جاری کر دیا کہ ”افغانستان اور پاکستان تجارتی معاہدہ (APTTA) کی میعاد ختم ہو گئی ہے“ اور حکم نامہ کے ذریعے پاکستانی ٹرکوں کو طورخم اور اسپن بولدک سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے ملک میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی، یہ حقیقت ہے کہ APTTA کی مدت دس سال تھی جس کی میعاد 11 فروری 2021 کو ختم ہوئی لیکن پاکستان کی جانب سے اس معاہدے کی توثیق جاری ہے اور جلد سے جلد نئے معاہدے کے لیے کوشاں بھی ہے، جبکہ افغانستان کا اسرار ہے کہ انڈیا کو اس معاہدے میں شامل کیے بغیر بات آگے نہیں بڑھے گی۔

حال ہی میں پاکستان کی کابینہ نے کامرس ڈویژن کی طرف سے پیش کردہ ”افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ 2010 کے تحت افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے سہولت کاری کا تسلسل“ کے عنوان سے ایک سمری پر غور کرنے کے بعد نظرثانی شدہ APTTA پر دستخط کرنے تک معاہدے پر عملدرآمد کی تجویز کی منظوری دی ہے۔

اس سال 19 ستمبر کو ہونے والی پاکستان بزنس کونسل نے ایک مرتبہ پھر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے بے جا استعمال پر حکومت پاکستان کو متنبہ کیا ہے، بزنس کونسل نے اپنی سفارشات میں واضح طور پر اس بات کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے کہ افغانستان میں استعمال ہونے والی اشیاء کے حجم کا درست اندازہ لگایا جائے اور استعمال سے زائد درآمدات پر پابندی لگائی جائے۔ افغانستان کی کل 37 ملین آبادی کو چائے، الیکٹرانکس گندم وغیرہ کی ضروریات کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے، اس مطابق ڈیوٹیز کی وصولی کے بعد درآمدات کی اجازت معقول اصول ہے لیکن اس سے زیادہ کی اجازت وہ بھی ڈیوٹیز کی وصولی بغیر پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

بزنس کونسل کے مطابق جب بھی ہم نے وزارت تجارت یا ایف بی آر سے درآمدی ڈیٹا طلب کیا ہے، ہمیں بتایا گیا ہے کہ قانون درآمد کنندہ کی اجازت کے بغیر درآمدی ڈیٹا شیئر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یقیناً یہ طرز عمل شفافیت کے برعکس ہے۔

قیام پاکستان سے اب تک خصوصاً پچھلے 40 سے زائد برس پاکستان کے پالیسی ساز حلقے افغانستان کی یک طرفہ طور پر مسلسل مدد جاری رکھے ہوئے ہیں، صرف غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو 40 سال سے زائد خدمت انجام دینے کے باوجود انہیں ان کے اپنے وطن واپس بھیجنے کے جائز فیصلے پر افغان حکومت کی برہمی، آئے دن سرحدی جھڑپیں، اور روزمرہ کے بیانات میں معاندانہ رویہ پاکستان کی جانب دوستانہ نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان کی معیشت اور اس کے شہریوں کے کاروبار، جان اور مال کی حفاظت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جس پر مصلحت کوش رویہ اپنانے سے ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے، مزید دیر اس نقصان میں اضافے کا باعث ہو گی جس کی پاکستانی معیشت متحمل نہیں ہو سکتی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments