” مقدس گناہ“ ایک تعارف
” صرف عورت ہی کیوں؟ وجاہت کے لہجے میں شعلہ سا لپک آیا، حرف دہائی دینے لگے۔ آبروریزی کی اذیت سے مرد بھی گزر سکتا ہے دیا۔ دردمندی اور محبت سے عاری ہر لمس تشدد آمیز ہے، چاہے مرد کے حصے میں آئے یا عورت کے۔ اس تشدد سے جسم ہی مجروح نہیں ہوتا، روح بھی گھائل ہوتی ہے اور دنیا کا سب سے سفاک عمل روح کی عصمت دری ہے“
نینا عادل بطور شاعرہ اپنی پہچان رکھتی ہیں، ان کا اولیں شعری مجموعہ ”شبد“ پاکستان اور بھارت کے ادبی حلقوں میں پذیرائی پا چکا ہے۔ اب انہوں نے اپنے پہلے ناول ”مقدس گناہ“ سے اردو ناول کے شائقین کو چونکا دیا ہے، محمد سلیم الرحمان، شمیم حنفی، رئیس علوی اور خالد جاوید جیسے اساتذہ اس ناول کو سراہ چکے ہیں۔
مقدس گناہ چار نسلوں کی داستان پر مبنی فیملی ساگا ہے، مرکزی کہانی ہر اچھی کہانی کی طرح محبت کی کہانی ہے جو ایک میگا میٹروپول (کراچی) میں مہوش اور وجاہت کے بیچ جنم لیتی ہے اور حال سے ماضی اور پھر حال کی طرف لوٹتی ہوئی معروضی سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی صورتحال کا احاطہ کرتی ہے۔
مہوش میر داد راجپوت عرف دیا کا تعلق تقسیم ہند کے بعد کراچی منتقل ہونے والے ایک علمی و ادبی خاندان سے ہے، وہ ابھی دو ماہ کی ہوتی ہے کہ اس کی ماں مرضی کے خلاف کی گئی شادی اور بن چاہی بچی کی پیدائش کے دکھ میں خودکشی کر لیتی ہے، باپ بچی کو ننھیال کے رحم و کرم پر چھوڑ کر لاتعلق ہو جاتا ہے۔ مہوش کی نانی، ننا، اور نانا، ارتسام صدیقی، اس ناول کے دو بہت اہم کردار ہیں جو اپنے اپنے طرز زندگی کے لحاظ سے ایک دم توڑتی ہوئی علم و فن کی اعلی اقدار پر مبنی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
سید وجاہت آریز کا تعلق لکھنو سے کراچی منتقل ہونے والے ایک پیر گھرانے سے ہے، وجاہت کا باپ خاندان کی روایتی پیری مریدی سے بغاوت کرتے ہوئے ڈاکٹر بنتا ہے، مزید تعلیم کے لیے امریکہ جاتا ہے جہاں گریس سے دوستی ہوتی ہے جو شادی میں بدل جاتی ہے۔ یہاں سے ناول میں گریس کا نانا پیٹرک کیلی داخل ہوتا ہے اور اپنے ساتھ تقسیم ہند سے قبل کا زمانہ اور یورپی تمدن و ثقافت کا بیان لاتا ہے۔
مہوش اور وجاہت کو بچپن میں ہی ایک دوسرے سے منسوب کر دیا جاتا ہے لیکن نوجوانی میں ہی نبیل نامی لڑکے کے ہاتھوں مہوش کے جنسی استحصال سے، جس میں مہوش کی اپنی نیم رضامندی کے بھی اشارے ملتے ہیں، پیدا ہونے والی صورتحال میں نبیل قتل ہو جاتا ہے اور وجاہت ملک چھوڑ کر امریکہ چلا جاتا ہے۔ وجاہت کی واپسی ارتسام صدیقی کی وفات پر ہوتی ہے اور یہی مقام ناول کے بیانیہ کا نکتہ آغاز ہے۔ اپنی امریکی بیوی سے بیزار اور بددل وجاہت، مجبوری میں اپنائے گئے شوہر سے بیزار اور پہلے بچے کی موت کے بعد مزید نفسیاتی عارضوں کی شکار مہوش دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔
نینا عادل نے پیٹرک کیلی کے کردار میں دوسری جنگ عظیم اور اس کے بعد کے یورپ و ہندوستان کی معاشرت بہت خوبی سے بیان کی ہے اور ارتسام صدیقی کے کردار میں برصغیر کی علمی، ادبی، سیاسی اور ثقافتی روایتوں کی نقشہ کشی بہت وفور سے کی ہے۔ ننا کا کردار ہر حال میں صبر شکر کے ساتھ شوہر سے وفاداری نبھانے اور خاندان اور محلہ داروں کے لیے ایک مہربان، سایہ دار پیڑ کا ہے اور کمبائنڈ فیملیز میں مرکزی مادرانہ اختیارات کی اہمیت کا غماز ہے۔
ناول میں ذیلی کرداروں جیسے مہوش کی گونگی بہری سہیلی نیلو، ارتسام صدیقی کا نیم خفیہ عشق بنگالی رقاصہ برکھا، وجاہت کی امریکی بیوی ایو، مہوش کی برطانوی کزن شرمین اور مہوش کے خاوند کو بھی بڑی خوبی سے پیش کیا گیا ہے۔ ان سب کرداروں میں اچھائی اور برائی آپس میں اسی طرح گندھے ہوئے یا دست و گریباں ہیں جیسے حقیقی زندگی میں انسان کی صورتحال ہے۔ نینا عادل یہاں مطلق اچھائی اور مطلق برائی کے تصور کو کامیابی سے شکست دیتی نظر آتی ہیں۔
ناول کی زبان کو اردوئے معلا یا نیو کلاسیکل اردو کہا جا سکتا ہے اور بیانیے کی تکنیک ہمعصر یورپی ناول کی تکنیک ہے اور ان دونوں دھاروں کو اتنی خوبصورتی سے ہم آہنگ و یکجا کر دینا نینا عادل کا سب سے بڑا کمال ہے۔
اس ناول میں آپ کو تخلیق سے جڑے ہوئے لوگوں کے جذبات و احساسات کی نوعیت کا بیان، شاعری، مصوری، موسیقی اور رقص کی لگن پیدا کر دینے والی فضا، ناول نگار کی اپنے کرداروں کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی سے پیدا ہونے والا حسن بیان، معروضی سیاسی و معاشرتی صورتحال کا واضح ادراک، تاریخ کا غیر متعصبانہ مطالعہ اور روزمرہ کی زندگی کی تہہ میں جاری و ساری نفسیاتی و فلسفیانہ حقائق و تصورات کی نشاندہی، غرض کہ اتنی جہتیں اور ایسی پہلو داری ملتی ہے کہ آپ عش عش کر اٹھتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ بہت محنت اور تحقیق سے لکھا گیا ہمہ جہت اور تہہ دار ناول ہے (دو خوبیاں جو اردو ادیبوں میں معدوم ہوتی جا رہی ہیں ) اور زبان، بیانیہ، کردار نگاری، جزئیات نگاری اور اپنی خاص فضا تخلیق کرنے کے حوالے سے یہ ایک کامیاب بلکہ شہکار اولیں ناول ہے۔ اردو ناول کی روایت میں اس خوبصورت اور اہم اضافے پر نینا عادل مبارکباد کی مستحق ہیں۔
ناول کے اینٹی کلائمیکس میں نینا عادل نے وجاہت کی خود کلامی کے ذریعے مقدس گناہ کے تصور پر اس طرح بات کی ہے۔
” دیوتاؤں، خداؤں ، بادشاہوں، سپہ سالاروں اور پیشواؤں کے کارہائے نمایاں اور فرامین گواہ ہیں کہ اتہاس میں“ قتل و قربانی ”بڑے پیمانے پر عظیم نقصانات کی تلافی اور مہتم بالشان کامیابیوں کا موجب بنتی رہی۔ اور کیوں نہ بنے، جبکہ نا صرف ابن آدم بلکہ خدائے واحد کو بھی ازل سے اعلی و عظیم مقاصد کے حصول کے لیے مقدس گناہ درکار رہے ہیں اور دنیا کا کوئی قانون ان مقدس گناہوں پر سوال اٹھانے کی تاب نہیں رکھتا۔“
344 صفحات پر مشتمل ”مقدس گناہ“ نفیس اور عمدہ طباعت میں سنگ میل پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے، قیمت 2500 روپے۔ سرورق مصنفہ کے اپنے ڈیجیٹل آرٹ کا کمال ہے۔


