قابل رہائش شہروں میں کیا چار چاند لگے ہوتے ہیں؟
اقوام متحدہ اور عالمی بنک کی تحقیقات کے مطابق سن دو ہزار سات سے اب تک دنیا کی آدھی آبادی شہروں میں آن بسی ہے۔ جس کا سب سے زیادہ زور براعظم ایشیا کے جنوبی حصے اور بر اعظم افریقہ میں ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں واقع تمام ممالک میں اس مد میں سب سے اوپر ہے۔ جہاں پر حکومت کی طرف سے ’ڈکلیئرڈ اربن ایریاز‘ میں پچھلی دو دہائیوں میں چار سو اڑسٹھ سے چھ سو چوبیس کا بیس صد اضافہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ شہری آبادی بڑھنی ہے اور اسی تناسب سے شہری رقبے بھی۔ لیکن کیا شہر بسنے کا دوسرا نام گند اور کوڑے کے ڈھیر ہو گا؟ شور، آلودہ ہوا، پینے کے صاف پانی کی کمیابی، زرعی زمیں کا بانجھ پن مقدر ہو گا؟ ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر، بے ترتیب گھر ہی آنکھ کے منظر سے ٹکرائیں گے؟ دھواں، سموگ، لٹکتی تاریں، ابلتے گٹر، انواع و اقسام کے کھمبوں کی بھرمار، سبزے کا فقدان، نامیاتی کھانوں کا عنقا ہونا ہی شہری آبادیوں کا تعارف ہو گا؟
کیا دل کے سکون، بصارت کی طراوت اور چین سے جینے کو دور دراز تفریحی مقامات کو نکلنا پڑے گا جہاں ٹی۔ وی، ٹیلیفون، کیبل اور انٹرنیٹ کی دستیابی نہیں ہو گی۔ جدید سہولیات اور کشادہ شاہرات نہ ملیں گی۔ فاسٹ فوڈ کو ترسنا ہو گا۔ مختصراً کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا یا پر سکوں زندگی اور خالص ہوا و خوراک۔ یا ماڈرن شہری حیات لیکن ان و کم چاہی ’کوالٹی آف لائف‘ ۔
یہ وہ سارے خدشات ہیں جو غیر، کم ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کا باشندہ اپنی جدید شہری زندگی کی پاداش میں پالتا ہے۔ روز تجربہ کرتا ہے اور یہی تجزیہ کرتا ہے کہ ’بن اچھے ہیں شہر سے‘ ۔ اور اس خوش فہمی کا شکار تب تک رہتا ہے جب تک قسمت سے باہر کے کسی ترقی یافتہ ملک کو دیکھ نہیں لیتا۔ نوکری، پڑھائی، تفریح، شادی یا مستقل ہجرت اس پر آشکار کرتی ہے کہ شہروں اور شہری علاقوں کی عملی تصویر دنیا میں اس سے کہیں بہتر موجود ہے، جس میں وہ آج تک بستے رہے ہیں۔
انھیں اس حقیقت کا ادراک ہوتا ہے کہ:
مسئلہ شہری حدود اور آبادیوں کا بڑھنا نہیں، بلکہ ’نان یونیفارم‘ بڑھنا، ٹکڑوں میں بننا، مستقبل کے منصوبوں کے بغیر بے ترتیب بڑھنا ہے۔
انھیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ رہنے کے قابل شہروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے ایک اہم نکتہ ’اربن گورننس‘ ہے۔ یعنی انتظامی امور۔ جس کے لئے پیسے سے زیادہ ضروری پہلو نیت کا ہے۔
اس کے علاوہ ایک عام سیاح اور شہری کو جن موٹی موٹی باتوں کا فرق لگتا ہے وہ یہ ہیں :
شہری منصوبہ بندی: ہر شہر کے مستقبل کا فیصلہ ایک منصوبے کے ذریعے ہوتا ہے۔ جس کا عکس شہر میں ہونے والے ہر طرح کے ترقیاتی کاموں میں نظر آتا ہے۔ لیکن غیر ترقی یافتہ ممالک میں شہر کی بڑھوتی کو قابو کرنے کے منصوبے کا نہ ہونا اور اگر ہیں تو ان کو نافذ کرنے میں بہت پیچیدگیاں، غلطیاں اور کمیاں عام سی باتیں ہیں۔ ان منصوبوں کو ایک مخصوص وقفے سے متواتر ’اپ ڈیٹ‘ نہ کرنے کی روایت بھی اس میں شامل ہے۔
یکساں بلڈنگ لائن: جدھر تک نگاہ جاتی ہے، واپسی میں ایک ترتیب کی تصویر اور یاد رہ جاتی ہے۔ کوئی دکان کسی دوسری دکان، کوئی گھر ساتھ والے گھر، کوئی پلازہ مقابل پلازے سے آگے نکلتا ہوا نہیں ملتا۔ نہ کسی مکان کا چھجا آگے کو بڑھا ہے نہ کسی کے ٹیرس کے پردوں والی دیوار۔ نہ کسی کی ہوا، سورج کی روشنی پر ڈکا (بند) ہے۔ نہ باہر کی طرف ریمپس کا طوفان ہے۔ غرض بلڈنگ اور پراپرٹی لائن دونوں کا تقدس بڑا واضح دیکھنے کو ملتا ہے۔
آؤٹ ڈور اشتہارات کا خاتمہ: دنیا نے اشتہار بازی اور مشہوری کے لئے نفیس طریقوں کا استعمال کرنا سیکھ لیا ہے۔ اگر ایک طرف ’لو ایبل لونگ‘ ماحول کی اہمیت و ضرورت ان کی سمجھ میں آ رہی ہے تو دوسری طرف کاروبار اور اس کی کمرشل تقاضوں کو بھی وہ تسلیم کرتے ہیں۔ اس لئے جگہ جگہ، بے وجہ، بے ترتیب بل بورڈز، ہورڈنگز، سٹیمرز، سائنز، بینرز آویزاں کرنے کی بجائے مخصوص عوامی جگہوں مثلاً بس اور ہوائی اڈے، ریل اسٹیشنز، سی۔ بی۔ ڈی وغیرہ میں ان کی اجازت لمبے چوڑے قوانین کے اطلاق کی زیر نگرانی ہے۔ جو کہ ترقی پذیر ممالک کے بر عکس ہے جہاں سڑکوں، گلیوں، دیواروں، دکانوں کے ساتھ اب مکانوں کی چھتیں بھی ان سے بچی نہیں۔ جدھر دیکھو، اشتہارات کے گند کا ایک سیلاب امڈا پڑا ہے۔ ماحول کی لطافت سے زیادہ پیسے کمانے کی دھن حاوی ہے۔
ہم آہنگی اور یونیفارمٹی: ہر طرح کی ’ڈویلپمنٹ‘ کا آپس میں ایک تعلق ہے۔ اسکیل، تناسب، اسٹائل، ڈیزائن، بلندی، رنگ سب میں ایک سوچ، اور یکسانیت یا کنٹراسٹ کا پہلو ہوتا ہے۔ یعنی عمارتوں، درختوں، فٹ پاتھ، اسٹریٹ لائٹس، اسٹریٹ فرنیچر، فکسچرز، سبھی ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ کجا کہ کوئی گھر سنگل سٹوری ہے تو دوسرا تین منزلہ۔ گلی میں کسی کے گھر کا ڈیزائن مشرق ہے اور دوسرے کا مغرب۔ گلی میں ایک پودا امرود ہے تو دوسرا بکائن۔ سڑکوں پر درختوں کی اقسام، کٹنگ کا طریقہ، بلندی سب ایک دوسرے سے مختلف۔
پلاننگ سب کے لئے : بھلے دو مرلے والوں کی کالونی ہے یا دس مرلے والوں کی۔ فارم ہاؤس ہیں یا بنگلے۔ سڑکوں، پارکس، اسکولز، ڈسپنسری، کوڑا پھینکنے، اکٹھا کرنے کا بنیادی نظام سب کے لئے موجود ہے۔ یوں نہیں کہ اگر آپ تین مرلے کے گھر میں ہیں تو ہر وقت ٹوٹی سڑکوں، بدبودار ماحول، کچرے اور بد انتظامی سے واسطہ پڑے گا۔ اور اگر آپ کسی پوش علاقے کے مہنگے رہائشی ہیں تو سہولتیں آپ کو میسر ہوں گی۔
کچرے کو سنبھالنے کا انتظام: عموماً لوگ آپ کو اپنے پالتو کے ساتھ ہی دکھتے ہیں لیکن کتے، بلیاں، کوے، چیلیں، گدھ کوڑے کے شاپروں کا طواف کرتے نہیں ملتے۔ شاپر اڑتے اڑتے آپ یا آپ کی گاڑی کے گلے نہیں لگتے۔ کوڑا اور تعفن نظر اور قوت شامہ کا معمول نہیں بنتے۔ چوبیس گھنٹے ایک صاف رہن سہن۔
زمین کا کوئی ٹکڑا خالی نہیں ہوتا: زمین گورنمنٹ کی ہو یا پرائیویٹ، اگر سر دست زیر استعمال نہیں تو کسی نہ کسی صورت لینڈ اسکیپ کا حصہ ہوتی ہے۔ بھلے پیوڈ ہو یا ملچنگ یا سبز گھاس، یا کرش بجری یا پھولوں سے۔ مٹی زدہ کوئی ٹکڑا بظاہر نہیں ہوتا۔ اسی لئے طوفان ہو یا آندھی یا تیز ہوائیں گرد اڑنے کے ڈر سے کوئی کھڑکیاں، دروازے بند نہیں کرتا۔ اور نہ وہاں کی خواتین آندھیاں نہ چلنے کی دعائیں کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ صاف ہوا اتنی کہ زبردستی منہ کھول کے ’ان ہیل، ایگز ہیل‘ کرنے کو دل آمادہ ہوتا ہے۔
ترقی پذیر یا غیر ترقی یافتہ ممالک کے باشندے اپنے ملکوں سے باہر جس شہری زندگی سے متعارف ہوتے ہیں اور جو تقابل کرتے ہیں۔ ان تمام نئے تجربوں پر عمل ہی ان کے وطن میں شہری زندگی کو بہر طور بہتر بنائے گا۔
نوٹ: 8 نومبر ہر سال ’عالمی یوم اربنزم‘ جسے ’ورلڈ ٹاؤن پلاننگ ڈے‘ بھی کہتے ہیں، کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چونکہ مصنف اربن پلانر ہے، جس کی ڈاکٹریٹ ’بصری آلودگی یعنی وژیول پلوشن‘ میں ہے۔ اس لئے کوشش ہو گی کہ اس مہینے ساری تحریریں ٹاؤن پلاننگ کے حوالے سے ہوں۔


