حماس اسرائیل مقاومت کا پس منظر


تھیوڈور ہرزل، صیہونیت کا بانی خیال کیا جاتا ہے۔ صیہونیت یہودیوں کی قومی تحریک ہے جو یہودیوں کے وطن کے قیام کی خواہاں ہے۔ اس وطن کو وہ اسرائیل سے موسوم کرتے ہیں جو ان کے خیال میں کنعان، ارض قدس اور فلسطین کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ سلطان عبدالحمید کی تخت نشینی سے ایک سال پہلے 1875 ء میں سلطنت عثمانیہ جنگ کریمیا ہار کر معاشی طور پر کمزور ہو چکی تھی۔ اسی باعث اسے ”یورپ کا مرد بیمار“ بھی کہا جانے لگا تھا۔

اس کے تھوڑے عرصے بعد ہی 1878 ء میں روس سے معاہدہ سان اسفتا نوس ہوا جس کے تحت ترکی کو کافی علاقہ واپس کرنے کے ساتھ تاوان بھی ادا کرنا پڑا تھا۔ یہ وہ حالات تھے جنھوں نے عثمانیہ دشمنوں اور یہود کے حوصلے بلند کر دیے تھے۔ سلطان عبدالحمید نے مختلف اوقات میں مختلف قوانین بھی جاری کیے جن میں یہودیوں کو فلسطین میں زمین بیچنے سے منع کیا گیا تھا۔ یہودی زائرین جو مقدس مقامات کی زیارت کے لیے پہلے چھ ماہ وہاں گزارا کرتے تھے اس کی مدت کم کر کے تین ماہ کر دی اور پھر مزید گھٹا کر ایک ماہ کر دی۔

اس دوران یہودیوں نے جو زمینیں اس خطے میں حاصل کیں وہ عیسائیوں کے نام سے ہیں۔ جرمن کے ایک صیہونی لیڈر پال فریڈ مان نے شاہ مصر خدیو عباس حلمی کو لالچ دے کر صحرائے سینا میں طور سینا کی جانب ایک خطہ اراضی ایک لاکھ ستر ہزار جرمن مارک اور پچیس ہزار پونڈ سٹرلنگ کے عوض حاصل کر لیا تھا۔ سلطان عبدالحمید نے فوج بھیج کر یہ علاقہ یہودیوں سے خالی کرا لیا اور مصر سے یہ علاقہ چھین لیا۔ اس کے باوجود یہودیوں نے اس علاقے میں بسنے کی اپنی کوششیں جاری رکھیں۔

ذہن میں رہے کہ تھیوڈور ہرزل آسٹریا کا ایک یہودی تھا جسے اسرائیل کا روحانی باپ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ موصوف ہنگری میں ڈرامے تحریر کرنے اور صحافت کے پیشے سے منسلک تھے۔ ان دنوں وہ خود کو ”لامذہب“ بھی کہا کرتے تھے۔ اس نے پہلی کوشش میں یہودیوں کو ارجنٹینا میں آباد کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کی یہ کوشش ناکام ہوئی۔ 1896 ء میں اس نے کتاب ”دی جیوش سٹیٹ“ شائع کی جس میں اس نے تمام یہودیوں کے مسائل کا حل، فلسطین میں قومی ریاست قائم کرنے میں مضمر بتایا۔

اس نے یہ کتاب دنیا کے با اثر یہودیوں اور روتھ چائلڈ خاندان کو بھیجی تاکہ وہ قومی ریاست کی تشکیل میں اس کے مدد گار ہوں۔ ہرزل کے نصب العین کی تکمیل کی خاطر 1897 ء میں سوئٹزر لینڈ کے شہر باسل میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں آزاد یہودی ملک کے وجود کے لیے یورپی طاقتوں کی لابنگ کا منصوبہ بنایا گیا۔ صیہونی، مذہبی سے زیادہ سیاسی مزاج کے حامل یہودی ہیں۔ بہت سے یہودی آج بھی انھیں اپنا نمایندہ تصور نہیں کرتے۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران میں جب برطانیہ نے مسلمانوں پر اعتماد کرنا ختم کر دیا تو نہر سوئز پر قابض ہونے کے لیے اسے اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ فلسطینی علاقے میں اتحادی افواج ٹھہرائے۔ اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے لبرل پارٹی کے سیاست دان ہربرٹ سموئیل نے اپنا خفیہ میمو ”دی فیوچر آف پلسٹائن“ تیار کیا۔ اسی کے تحت نومبر 1917 ء میں حکومت کے اعلامیے کے بعد ڈیوڈ لائڈ جارج، وزیر خارجہ آرتھر بالفور اور یہودی سرمایہ کار اور راہنما والٹر روتھ شیلڈ اور بیرن روتھ چائلڈ کے مابین معاہدے میں یہودیوں کے لیے قومی گھر کے قیام کی حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی۔

روتھ چائلڈ بنیادی طور پر یہ جرمنی کا سود خور خاندان تھا جس کے ایک فرد ”می ایر“ روتھ چائلڈ نے جرمنی کا پہلا بینک قائم کیا تھا۔ بینک کاری کے کاروبار میں اس نے اتنی ترقی کی کہ اس کا شمار یورپ کے امیر ترین سرمایہ داروں میں ہونے لگا۔ والٹر اور بیرن کا تعلق اسی خاندان سے تھا۔ یہاں شام ویزمان کا ذکر بھی ضروری ہے جو روس میں پیدا ہوا، جرمنی میں کیمسٹری کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہو گیا۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران میں اس نے ”ایسی ٹون“ تیار کرنے کا نسبتاً آسان، سستا اور بہتر طریقہ ایجاد کیا۔ ”ایسی ٹون“ دھماکہ خیز مواد تیار کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ ایجاد بھی اعلان بالفور کو منظور کرانے میں مدد گار ثابت ہوئی۔ اس کا ذکر ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب ”فلسطین کے سوال“ میں بھی کیا ہے۔ ویز مان بعد میں اسرائیل کا پہلا صدر بھی منتخب ہوا تھا۔

پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر، امریکی صدر ووڈروولسن نے سلطنت عثمانیہ کے غیر ترک علاقوں کے حوالے سے ڈاکٹر ہنری کنگ اور چارلس کرین کی مدد سے اک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا تھا کہ فلسطین کی نوے فیصد غیر آبادی صیہونی منصوبے کی صریح مخالف تھی۔ مصنفین نے تنبیہ کی کہ امن اور آباد کاروں کے وسیع تر مفاد کی خاطر یہودیوں کی آباد کاری کو محدود کیا جائے لیکن بین الاقوامی برادری نے اس کو نظر انداز کیا اور اس کے نتائج 1922 ء تک دبا دیے۔ اس دوران فلسطینی عربوں میں بے چینی پھیلنی شروع ہوئی جس کا اظہار 1929 ء، 1933 اور 1936 کے مظاہروں سے ہوتا ہے۔

1939 ء میں ایک بار پھر جنگ کا آغاز ہو گیا۔ اس جنگ میں ہٹلر نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 1945 ء میں دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر بین الاقوامی برادری نے فلسطین میں تشدد کے خاتمے کی جانب اپنی توجہ مبذول کی۔ فلسطین کے متنازعہ علاقے کا حل 1947 میں سامنے آیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرار داد پیش ہوئی جس کے تحت دریائے اردن کے مغرب میں فلسطین اور اسرائیل کو دنیا کے نقشے پر وجود میں لایا گیا۔

1948 میں جب اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی تو ساتھ ہی تین ہزار مزاحمتی جنگجو اسرائیلی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ عرب اسرائیل کی اس جنگ میں سات لاکھ پناہ گزین اردن، شام، لبنان، مغربی کنارے اور غزہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اس جنگ میں مصر نے غزہ پر قبضہ جما لیا جو 1967 ء کی جنگ تک قائم رہا۔ اس جنگ میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ جمایا جس کے باعث نئی خون ریزی کا باب کھلا۔ یہ تسلسل اس وقت سے اب تک جاری ہے جس میں لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

صیہونی تحریک کے آغاز نے یہودیوں کو کیا کچھ دیا، اس سے قطع نظر، ایک بات واضح ہے کہ اب تک یورپ میں جو یہودیوں کی عیسائیوں کے خلاف نفرت پائی جاتی تھی، اس کی سمت اب مسلمانوں کی جانب مڑ چکی ہے۔ حالاں کہ مسلمانوں کے علاقوں میں انھیں کبھی بھی نسلی بنیادوں پر انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ پاکستان میں عوام اس مسئلے کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں حالاں کہ یہ ایک علاقائی مسئلہ ہے۔ اس کا تعلق فلسطینی عربوں کی شناخت سے ہے جو مذہب سے بالا تر ہے۔

Facebook Comments HS