پاکستان میں پیدا ہونے والے افغانی اور نو لکھی کوٹھی کے ولیم کا نوحہ
ہزاروں کی تعداد میں طورخم بارڈر پر موجود، وہ ”افغانی“ جو پاکستان میں پیدا، جوان اور بھال بچوں والے ہوئے، کی گفتگو ذاتی طور پریا سوشل میڈیا کے توسط سے اگر سنیں تو ، ایک بات پر وہ بار بار اصرار کر رہے ہوتے ہیں، کہ ہم تو یہی اسی ملک میں پیدا ہوئے، ہمارا تو سب کچھ یہیں ہے اور جس ملک کی طرف ہمیں واپس جانے کا کہا جا رہا ہے، اس کے بارے میں ہمیں صرف اتنا ہی معلوم ہے کہ کسی بھلے وقت میں ہمارے بڑوں کا ، وہ وطن رہا تھا، وگرنہ ہمارا تو باقی سارا سرمایہ حیات پاکستان میں ہی موجود ہے، ان کی اس گفتگو کو سن کر بہت ساری باتیں /سوالات ذہن میں آنے کے ساتھ ساتھ، علی اکبر ناطق کے ناول ”نولکھی کوٹھی“ کے ایک دلچسپ کردار ’ولیم‘ بھی یاد آ جاتے ہیں۔
ولیم جس کا خاندان تین پشتوں سے ہندوستان میں مقیم ہوتا ہے اور اس کے والد اور داد انڈین سول سروس میں کمشنر رہ چکے ہوتے ہیں۔ ولیم جس کی پیدائش، اور زندگی کا بیشتر حصہ ہندوستان میں گزرا ہوتا ہے اور تعلیم کے لئے محض چند سال انگلستان جاتا ہے، کا دل پنجاب اور اوکاڑہ میں موجود اس کے عالیشان آبائی گھر اور دوستوں کے لئے دھڑکتا ہے۔ ولیم بھی خاندانی روایت کے عین مطابق انڈین سول سروس کا حصہ بن کر پنجاب کے مختلف حصوں میں انگریز سرکار کے لئے خدمات سر انجام دیتا ہے، اسی دوران اس کی شادی لندن میں اس کی انگریز کلاس فیلو سے ہو جاتی ہے اور وہ انڈین سول سروس اور اپنے بڑوں کی ہندوستان میں کمائی گئی اچھی خاصی دولت کی بدولت ایک پرتعیش زندگی گزار ہی رہے ہوتے ہیں، کہ تقسیم ہندوستان کا واقعہ رونما ہو جاتا ہے اور انگریزوں کی اکثریت ایک پر تعیش زندگی کو بادل نخواستہ چھوڑ کر پرکھوں کے وطن لوٹ جاتے ہیں۔
انہی واپس لوٹنے والوں میں ولیم کی بیوی اور بچے بھی ہوتے ہیں لیکن ولیم خاندان کے سخت اصرار کے باوجود لندن کو ”سرد جہنم“ کہہ کر بندوستان (موجودہ پاکستان) چھوڑنے سے انکاری ہو جاتا ہے۔ شروعات میں قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے ولیم کے اس انکار کی وجہ بندوستان کی زمین سے محبت کے بجائے یہاں کی شاہانہ زندگی ہے، جو کہ لندن میں بوجہ دستیاب نہ تھی لیکن بعد کے واقعات میں جہاں ولیم مقامی زبان و ثقافت اپنانے کے باوجود، قبضہ گروہ و سرکار کی جانب سے نوکری، گھر، جائیداد سمیت سب مال و متاع سے محروم کر لیا جاتا ہے اور وہ پرانی کھلنڈر عمارت میں زندگی کے آخری ایام، اگرچہ کسمپرسی میں گزار کر فوت ہو جاتا ہے لیکن اوکاڑہ کو چھوڑنے سے جب آخری وقت تک انکاری رہتا ہے، تو قاری پر یہ بات کھلتی ہے کہ، ولیم جس کے پرکھ بلاشبہ قبضہ گیر تھے، لیکن وہ قابض کی قبیل سے ہونے کے باوجود اپنے آباء کے وطن سے کٹ کر ہندوستان کو دل دے بیٹھا ہے، اور یہی لندن نہ جانے کی اصل وجہ نکلتی ہے۔ لیکن اس کی اس پرخلوص محبت کو نہ تو مقامی لوگ قبول کرتے ہیں اور نہ ہی ریاست جو اس کو شہریت دینے سے انکار کر دیتی ہے۔ اور ولیم جو اس زمین کو اپنا مان چکا ہوتا ہے، کو اس کی سفید چمڑی لے ڈوبتی ہے۔
پاکستان میں دو ، تین نسلوں سے آباد بیشتر افغانیوں کے ساتھ بھی یہی المیہ واقع ہوا ہے۔ وہ جس خطہ ارض کو اپنا سمجھ کر ، وہاں اپنی زندگی کی جمع پونجی لگائے جا رہے تھے۔ ان کو معلوم نہیں تھا کہ ایک دن وہ یہ سب مال اونے پونے دام بیچ کر ، یوں رسوا ہو کر نکالیں جائیں گے۔
اور امن وامان کے جس بیانیہ کی بنیاد پر ان کو نکالا جا رہا ہے وہ پچھلے کئی سالوں سے بار بار پٹتا چلا آ رہا ہے۔ ہمارے کالج کے دنوں میں ریاست اور اس کے حامی دانشور ہمیں پڑھاتے تھے کہ پاکستان میں امن و امان سے جڑے تمام مسائل کی وجہ افغانستان کی سویلین حکومتوں اور تحریک طالبان پاکستان کا آپسی گٹھ جوڑ ہے اور ساتھ میں ہمیں یہ بتانا بھی فرض سمجھتے تھے کہ افغان طالبان حریت پسند ہیں اور ان کا ٹی ٹی پی سے کوئی لینا دینا نہیں، ہم نے بطور طالب علم اس وقت بھی ان کے اس تھیسز سے اختلاف کیا، لیکن سقوط کابل کے دوران میں ٹی ٹی پی کا افغان طالبان کے شانہ بشانہ لڑنے، ان کا افغان جیلوں سے رہا ہونے اور افغان طالبان کی حکومت کی جانب سے ان کی مہمان نوازی نے جب ان کے بیانیے کا ستیاناس کر دیا تو نتیجتاً اب امن وامان اور جملہ مسائل کو کلی طور پر پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزین سے جوڑ دیا گیا ہے اور ریاست اور اس کے حامی دانشور سابقہ غلط بیانی پر شرمندہ ہونے کے بجائے زور و شور سے اس نئے بیانئے کی ترویج میں مصروف ہو گئے ہیں، لیکن سوال تو یہ ہے کہ امن و امان اور یہ باقی مسائل اگر افغانیوں کی بیدخلی سے بھی ٹھیک نہ ہوئے تو ہمیں اور کون سا نیا جھوٹ پڑھایا جائے گا؟


