کوتوال نامہ – زوال کا عروج از ڈاکٹر سیّد کلیم امام – تبصرہ
کوتوال نامہ یوں تو ڈاکٹر سیّد کلیم امام صاحب کے اردو کالموں کا مجموعہ ہے لیکن اسے پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے ڈاکٹر صاحب کی آپ بیتی پڑھ رہے ہوں۔ اس کتاب کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ انتہائی مختصر اور پڑھنے کے لائق ہے۔ کئی سالوں بعد ایک ایسی کتاب ہاتھ آئی ہے جسے میں نے ایک ہی دن میں پڑھ ڈالا۔ اس سے قبل محمد حنیف کا انگریزی ناول ”سرخ پرندے“ ایک ہی دن میں پڑھا تھا۔ کوتوال نامہ بھی محمد حنیف کے ناولوں کی طرح دلچسپی کا سامان لئے ہوئے ہے۔
کتاب کے پہلے اکتیس صفحات (تقریباً پانچویں حصے ) میں مختلف علمی و ادبی شخصیات نے ڈاکٹر صاحب کی تعریفوں کے پل باندھے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے بارے ان مشہور شخصیات نے مبالغہ آرائی سے ہر گز کام نہیں لیا۔ غالباً اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ تبصرے ڈاکٹر سیّد کلیم امام صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد تحریر کیے گئے۔ کتاب کے باقی چار حصوں میں ایک حصہ تصویروں سے مزین ہے اور باقی ماندہ صفحات پہ ڈاکٹر صاحب کے اٹھائیس کالم موتیوں کی طرح بکھرے ہیں۔
ڈاکٹر سیّد کلیم امام صاحب اور جنرل پرویز مشرف صاحب، دونوں کا میرے محکمہ فارن آفس سے ایک جیسا تعلق تھا۔ دونوں کے والد محترم فارن آفس میں تعینات رہے۔ اسلام آباد میں پلنے بڑھنے اور ابتدائی تعلیم کے بعد ڈاکٹر کلیم امام صاحب نے کراچی یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا اور وہیں پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سی ایس ایس پاس کر کے اے ایس پی بن گئے۔
پولیس میں اپنی محنت اور ایمانداری کے بل بوتے پہ ترقی کے آخری زینے تک پہنچے۔ آئی جی اسلام آباد، آئی جی موٹر وے پولیس، آئی جی سندھ اور آئی جی پنجاب بنے اور بقول اجمل جامی، ”آئی جیوں“ کے امام کہلا سکتے ہیں۔ سروس کے دوران انہوں نے سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات عامہ میں پی ایچ ڈی کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد آج کل اسلام آباد میں درس و تدریس کے سلسلہ سے منسلک ہیں۔ بنگلہ دیشی تھنک ٹینک کی دعوت پہ ڈھاکہ تشریف لائے تو ان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کمال مہربانی سے یہ کتاب عنایت کی۔ میں ان کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔
کتاب میں ڈاکٹر صاحب نے پاکستانی معاشرے کے بتدریج زوال کے مختلف پہلوؤں پر نہ صرف دلچسپ انداز میں تبصرہ کیا ہے بلکہ اسے سدھارنے کی قابل عمل تجاویز بھی دی ہیں۔ معاشرے میں روز افزوں انحطاط اور بڑھتے ہوئے قحط الرجال کے باوجود ڈاکٹر سیّد کلیم امام صاحب نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ کتاب کے تتمہ ”آخری بات“ میں لکھتے ہیں :
”ہمارے ہاں جگہ جگہ ہیرے موتی بکھرے ہوئے ہیں لیکن چند پتھروں نے ان کی چمک دمک کو گہنا کر رکھا ہوا ہے۔ حق بات کرنے پر مجھے وقتی نقصان ضرور ہوا لیکن یہ کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں رہا پولیس فورس میں بے شمار ایسے افسران و جوان موجود ہیں جو ہر طرح کی لالچ سے محفوظ اور ملک و قوم کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں انہوں نے روکھی سوکھی (کو حرام) کھانے پر ترجیح دی اور سکون کی زندگی پائی ہمارے ہاں تعلیم، ہنر اور اچھے لوگوں کی کمی نہیں۔“
کتاب نیشنل بک فاؤنڈیشن سے منگوائی جا سکتی ہے۔

