مقاومتی اسٹیبلشمنٹ کا جدید نقطہ ظہور


اسرائیل کے پاس کوئی زمین ہے ہی نہیں۔ فلسطین کے مقبوضہ علاقے کو زبردستی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ یہ زبردستی عالمی اسٹیبلشمنٹ کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا۔ زبردستی کا یہ منصوبہ نیو ورلڈ آرڈر کہلاتا ہے۔

نیو ورلڈ آرڈر کو سمجھنے کے لئے ہمارے سامنے طالبان کی واضح مثال موجود ہے۔ وہ طالبان جنہوں نے امارت اسلامیہ کے قیام کے لئے پاکستان کے چپے چپے پر لوگوں کا خون بہایا تھا، آج افغانستان میں اپنی خلافت قائم کیے انہیں دو سال ہوچکے ہیں۔ مجال ہے کہ وہ غزہ کے مظلومین یا کشمیر کی حمایت کے لئے کوئی لشکر کشی کی بات کریں۔ وہ کر ہی نہیں سکتے، چونکہ وہ خود نیو ورلڈ آرڈر کی پیداوار ہیں۔

حالات حاضرہ پر گہری نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ انہیں ایسے انداز میں حکومت دی گئی ہے، جیسے کسی کو تھالی میں رکھ کر ہدیہ دیا جاتا ہے۔ ورنہ جب ماضی میں طالبان نے اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے امریکی ورلڈ آرڈر کے خلاف حرکت کرنے کی کوشش کی تھی تو ان کی بنی بنائی حکومت آناً فاناً گرا دی گئی تھی۔ طالبان اب دوبارہ وہی غلطی دہرانے کے موڈ میں نہیں۔

دور کیوں جاتے ہیں؟ اپنے ہاں آپ پاکستان میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کو اپنے سامنے رکھئے۔ 1971 ء میں یہ نہیں سوچا گیا کہ ملک کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی بات کرنے والے یہ بنگلہ دیشی پاکستان کے لئے کتنے مفید اور اہم ہیں۔ نہ ہی ان کی تعداد اور آبادی نیز جمہوری حقوق کو خاطر میں لایا گیا۔ مقتدر اشرافیہ نے صرف یہ دیکھا کہ یہ لوگ تو ہمارے نقشے کے مطابق چلنے والے نہیں، لہذا انہیں بے دردی سے کاٹ کر رکھ دو۔

ان کے ساتھ جو ہوا، سو ہوا، اب باقی ماندہ پاکستانیوں کو دیکھ لیجیے۔ آج بھی پاکستانی عوام اپنی چادر و چاردیواری کے تحفظ، قانون کی بالا دستی، عدل و انصاف، روزگار کی فراہمی اور معیاری تعلیم و غیر وغیرہ کے اعتبار سے وہیں کھڑے ہیں، جہاں ماضی میں بنگالی کھڑے تھے۔ ایسے ہوتے ہیں اسٹیبلشمنٹ کے کارنامے۔ ان کے کارناموں کی فہرست میں عوامی و انسانی حقوق اور قانون کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ انہوں نے انٹرنیشنل سنٹرل اشرافیہ کے نقشے کو ہی عملی کرنا ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں ابھی پی ڈی ایم کی حکومت کا تجربہ سارے پاکستانیوں نے کیا۔ کیا اس کے باوجود ہم عالمی اسٹیبلشمنٹ کی منصوبہ بندی، طاقت اور نیو ورلڈ آرڈر کو نہیں سمجھ سکتے؟

عراق کے صدر صدام کا عروج و زوال بھی آپ کو یاد ہو گا۔ جب ایران میں انقلاب آیا اور انقلابی حکومت نے ایران سے عالمی اشرافیہ کو نکال باہر کیا تو یہ انٹرنیشنل اشرافیہ کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا۔ چنانچہ صدام حسین نے انٹرنیشنل اشرافیہ کے ایک آلہ کار کے طور پر ایران پر حملہ کیا۔ آٹھ سال تک بے گناہ انسان مارے جاتے رہے۔ بعد ازاں اسی صدام حسین کو جب بہت زیادہ اسلحہ دینے کی وجہ سے عالمی اشرافیہ کو خطرہ محسوس ہوا تو امریکہ نے خود آگے بڑھ کر صدام کو سولی پر لٹکا دیا۔

دوسری طرف آج بھی ایران اگر ظالمانہ نیو ورلڈ آرڈر کو تسلیم کر لے۔ اپنے معدنی ذخائر کے منہ امریکہ و برطانیہ وغیرہ کے لئے کھول دے تو عالمی اسٹیبلشمنٹ فوراً ایران کو گلے لگا لے گی۔ آپ صاف دیکھ لیجیے کہ ایک مہسا امینی کی خاطر کئی مہینے تک ماتم اور آہ و فغاں کرنے والے ممالک آج آٹھ ہزار نہتے فلسطینیوں کے قاتل اسرائیل کے لئے مزید اسلحہ اور فوج بھیج رہے ہیں۔

نیو ورلڈ آرڈر دراصل ساری دنیا کی مرکزی اسٹیبلشمنٹ کا ظالمانہ و جارحانہ استعماری منصوبہ ہے۔ ساری دنیا کی اشرافیہ اور بڑی طاقتیں اگر اسرائیل کی حمایت نہ کریں تو کیا اپنے مفادات کو خود ہی پھونک ڈالیں۔ اسرائیل کی تباہی یعنی عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کی تباہی۔

ایران میں انقلاب نہ آتا تو فلسطین کو عالمی اسٹیبلشمنٹ نے کب کا خرید لیا ہوتا۔ آج حماس کی مخالفت کی وجہ بھی اسٹیبلشمنٹ کے نقشے کو خراب کرنا ہے۔ ان دنوں میں کہ جب سعودی عرب اور وطن عزیز پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے درپے تھے۔ طوفان الاقصی نے اس سازش کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا۔ جو لوگ غزہ میں ہونے والے مظالم کا ذمہ دار حماس کو قرار دیتے ہیں وہ اس حقیقت کو چھپاتے ہیں کہ حماس نے بروقت اقدام کر کے فلسطین کو دنیا کے نقشے سے مٹنے سے اور فلسطینیوں کو ہمیشہ کی غلامی سے بچا لیا ہے۔

اس وقت نیو ورلڈ آرڈر کو چیلنج کرنے کی سزا فلسطینیوں کو مل رہی ہے۔ اسلامی ممالک کے حکمران چپ سادھے کھڑے ہیں۔ آئندہ بھی یہ نیو ورلڈ آرڈر کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں کریں گے۔ ایران اپنی حکمت عملی کے ساتھ پرانے اور ظالمانہ ورلڈ آرڈر کی جگہ ایک نیا ورلڈ آرڈر تشکیل دے رہا ہے۔ ایک ایسا نیو ورلڈ آرڈر جس میں ظالم اشرافیہ کے مقابل مقاومتی ملتوں کو مرکزیت حاصل ہو۔ دنیا بھر کی مقاوم اقوام کی ایک ایسی مضبوط مرکزیت کہ جس کی طاقت کا اظہار یمن و عراق اور شام میں بھرپور طریقے سے ہو چکا ہے اور اب غزہ میں ہو رہا ہے۔

غزہ کی جنگ میں فتح و شکست کا دار و مدار لاشوں کی تعداد پر نہیں بلکہ غزہ کے خالی ہونے اور جھکنے پر ہے۔ اگر اس جنگ کے بعد شام، عراق اور یمن کی طرح غزہ بھی اپنی جگہ پر قائم رہا تو یہ نئی عالمی مقاومتی و مزاحمتی اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کا ایک اور نقطۂ ظہور ہو گا۔ اس کے بعد طاغوتی منصوبہ سازوں کو نئی شکست و ریخت کا مشاہدہ کرنے کے لئے آمادہ رہنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS