یہ ڈپریشن اور اینگزائٹی مجھے بہت جلد مار ڈالے گا


تین نومبر کو میں اس دنیا میں آیا بچپن کا تو مجھے یاد نہیں مگر جب عمر ذرا بڑھی تو مجھے احساس ہو کہ مجھ میں حساسیت کا بہت بڑا مادہ ہے۔ میں حد سے زیادہ حساس تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہوجاتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ کچھ بہتری آتی گئی۔ میں اب تک جتنی گزاری اس میں صرف محبت کرنا سیکھا لوگوں کی مشکلات میں ان کا ساتھ دیتا رہا کیونکہ مجھے کسی بھی انسان کو مشکل، بیماری و پریشانی میں نہیں دیکھ سکتا۔ مگر اکثر مجھے بے وفائی ملی۔

کل تک جو لوگوں کی پروا کرتا تھا ان کا ہر طرح سے احساس کرتا ہے۔ آج وہ انسان کرب و بلا کی زندگی گزار رہا ہے۔ لوگوں کے بدلتے رویوں سے میں شدید قسم کے ڈپریشن کے ساتھ اینگزائٹی کا بھی شکار ہو گیا۔ میری دماغی اور جسمانی حالت اس قدر مخدوش ہو گئی کہ کل تک ہنسنے بولنے والا سلمان موت کی دعائیں مانگنے لگا۔ یہ جانتے ہوئے بھی میرے مذہب میں خود کشی حرام ہے مگر پھر بھی میں سنجیدگی یہ سوچنے دو تین بار تو میں نے جان کر اپنی بائیک سے خود کے ایکسیڈنٹ کی کوشش کری مگر شاید اللہ کو منظور نہیں تھا۔

میرے اندر کی حساسیت مجھے دن بہ دن ختم کرنے میں مشغول ہے۔ اس دوران سائکاٹرسٹ سے بھی علاج چلتا رہا مگر مجھے ابھی تک کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آئی۔ میں روز جیتا و روز مرتا ہوں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کا شدید ترین اسٹریس لیتا ہو۔ دل میں منفی خیالات کا خزانہ ہے جو مجھے جینے نہیں دیتا، گھر سے کوئی باہر گاڑی پر جائے تو جب تک وہ واپس نہ آ جائے میرے ذہن میں منفی خیالات آتے رہتے ہیں کہ کہیں خدانخواستہ کوئی حادثہ رونما نہ ہو جائے۔

ابھی چند پہلے میری چھوٹی بہن ریاض سعودی عرب سے آئی تھی تو اس کے نومولود بچے کے ساتھ اچھا ٹائم گزرا مگر جب وہ واپس گئی تو میری ہمت نہیں تھی کہ میں اسے ائرپورٹ تو دور دروازے تک چھوڑنے نہ جا سکا۔ کتنا عرصہ ہو گیا میں دفتر نہیں جا پا رہا گھر کا قیدی بن چکا ہوں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی میری اس کیفیت کو سمجھ سکے۔ اگر میں ایسا کرتا ہوں تو جان کر نہیں کرتا۔ میری ساری ہمت ٹوٹ گی۔ اعصاب جواب دے چکے ہیں۔ رات کی تنہائی میں روتا رہتا اور اللہ سے فریاد کرتا ہوں اے میرے مالک مجھے اس مشکل سے نکال دے اور مجھے خود کشی جیسے حرام عمل سے بچا لے آمین۔ رات کو سوتے وقت یہ ہی الفاظ میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔

کوئی سانحہ
کوئی بہت ہی بری خبر
ابھی کہیں سے آئے گی!
ایسی جان لیوا فکروں میں
سارا دن ڈوبا رہتا ہوں
رات کو سونے سے پہلے
اپنے آپ سے کہتا ہوں
بھائی مرے
دن خیر سے گزرا
گھر میں سب آرام سے ہیں
کل کی فکریں
کل کے لیے اٹھا رکھو
ممکن ہو تو
اپنے آپ کو
موت کی نیند سلا رکھو!

Facebook Comments HS