افغان مہاجر: ہارے جواری کا گھر جانا

پشاور کے کارخانو مارکیٹ میں ہر وقت اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی۔ لیکن اتوار کے دن یہ بھیڑ اور زیادہ ہوتی ہے۔ پر آج کل تو ہر روز اتوار ہی اتوار ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ بھیڑ رہتی ہے۔ ساتھ ساتھ دکانداری کے اوقات بھی بڑھ گئے ہیں۔
لوگ مختلف سامان پر ایسے ٹوٹ پڑے ہیں۔ جس طرح پرانے فلموں میں عرب کے منڈیوں میں بڑی بڑی توند اور موٹی موٹی گردنوں والے شیوخ عورتوں کی نیلامی پر آیا کرتے تھے۔
افغان جو اسلام اور جہاد کے نام پر مہاجرین بنے۔ تو اپنی فطرت کے مطابق یہاں بھی کاروبار شروع کیے۔ اور جہاں بھی جس طرح کا بھی کاروبار شروع کیا شہرت اور کامیابیوں کے عروج کو پہنچا دیا۔ ساتھ ہی ساتھ مقامی اور ملکی سطح پر کاروبار۔ سماج اور اقتصادیات پر بھی مثبت اثرات ڈال دیے۔
پشاور کے اس وقت کے خیبر ایجنسی (علاقہ غیر) کے باڑہ بازار کی اپنی ایک حیثیت اور مقام تھا۔ ان افغانیوں کی آمد سے بہت ہی کم عرصہ میں کارخانو مارکیٹ نے اس کی جگہ لے لی اور اتنی ترقی کرلی کہ بین الاقوامی حیثیت حاصل کر لی۔ سارے ملک سے خریداروں کا اتنا زور پڑا کہ پشاور کے حاجی کیمپ کے جنرل بس سٹینڈ سے کارخانو مارکیٹ تک باقاعدہ ٹرانسپورٹ سروس شروع ہوئی۔ اس میں بھی افغانیوں کی گاڑیوں ”بینز“ کی تعداد زیادہ تھی۔ جب کہ ذاتی سواریاں۔ رکشے اور ٹیکسی اس کے علاوہ ہوتے تھے۔ اب تو شدید عوامی ضرورت کے تحت حکومت نے بی آر ٹی کی سروس بھی یہاں تک پہنچا دی ہے۔
گنتی کی چند دکانوں پر مشتمل اس بازار نے اب اتنی وسعت اختیار کر لی ہے کہ کسی سواری کے بغیر اس میں گھومنا پھرنا ہی ناممکن ہو چکا ہے۔
آج کل کارخانو مارکیٹ میں لوگوں کے رش اور کاروبار میں اور بھی تیزی آ چکی ہے۔ لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے لالٹین میں تیل ختم ہوتے وقت بتی کی روشنی تیز ہو گئی ہو۔
یہ ساری کاروباری، تعمیراتی ترقی اور یہاں پر ہر قسم اور بڑی مقدار میں سامان کی دستیابی ان افغانیوں ہی کی بدولت ہے۔ ان کا مہاجر بننا ایک سامراجی منصوبہ اور عالمی قطبین کی جنگ کو جہاد کا مقدس نام دینا تھا۔ اور ان صاف نیتوں اور پاک و صاف دل لوگوں کو اللہ، رسول اور اسلام کے نام پر استعمال کیا گیا۔ اس کھیل میں ہر کسی، ہر قوم و ملک گڑ کی ان چاٹیوں سے اپنا حصہ لیتا رہا ہے۔ اور یہ حقیقت اب روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے۔ کہ جب ان کی ضرورت باقی نہیں رہی تو ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔ اور ملکی اور بین الا اقوامی قوانین کے خلاف ان پر ایسی لاٹھی رکھ کے بھگانا شروع کیا کہ یہ بیچارے اپنے کاروبار کے سامان ساتھ گھر بار کر استعمال کا اشیاء بھی اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور ہوئے۔
وقت اور حالات انسان اور ہر چیز پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور محسوس کیا۔ کارخانو مارکیٹ جس کے تمام بازاروں میں ایک خوشی، جوش اور نامعلوم سا اطمینان اور روحانی آسودگی کا احساس ہوا کرتا تھا۔ اب سارا ماحول سونا سونا لگتا ہے۔ اور ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے یہ ماربل، رنگ و روشنی کا کوئی مقبرہ ہی ہو۔
بڑے بوڑھے اور بچے ایسے دکھائی دے رہے ہیں۔ جیسے بے گھر پرندے انجان منڈیروں پر بد حواس سر چھپانے کی سوچ میں بیٹھے ہوں۔
پ
دکانداروں اور سیلز مینوں نے نہ تو پہلے کی طرح نئے اور فیشن ایبل کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ نہ دور دور تک جانے والی دیرپا خوشبو والے سپرے خود پر کیے ہوئے ہیں۔ نہ ہی سر، داڑھی اور مونچھوں کو تازہ تازہ شیمپو کیا اور تیل یا کریم لگایا ہے اور نہ ہی فریش شیو کیے ہوئے ہیں۔ نہ ہی چہروں پر کریم اور لوشن لگائے ہیں اور نہ ہی دکانوں اور سامان کی سجاوٹ کی ہے۔ بس سامان کے ڈھیر ہی لگائے ہیں۔ نہ باتوں میں وہ شیرینی ہے نہ طوطوں کی طرح وہ رٹ۔ نہ کاروباری داؤ پیچ نہ وہ احترام تخاطب۔ بس وہ ہیں اور سامان ہیں۔ جس پر یہ روبوٹس کی طرح کھڑے بولتے اور حرکت کرتے ہیں۔ اور جو جس بھی قیمت پر تیار ہو سامان دے دیتے اور کالدارے (پاکستانی کرنسی) لے لیتے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ یہ کالدارے افغانستان جا کے مزید سستے ہوں گے۔ البتہ بکری خوب ہو رہی ہے۔ لوگ سامان پر ایسے ٹوٹ پڑے ہیں جیسے گدھ گلی سڑی لاشوں پر ٹوٹ پڑے ہوں۔
میں نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ سب لوگ میرے جیسے ہی تھے۔ مسلمان تھے جن میں اکثریت افغانوں کی تھی۔ مجھے بھی اپنا آپ ان کی طرح موقع پرست جانور ہی لگا۔ اور جب مفت کی قیمت میں ایک کمبل خریدنا چاہا۔ ٹھیک اسی وقت یہ افغانی مجھے اپنے جدی پشتی وطن کے ہم وطن دکھائی دینے لگے۔ احمد شاہ ابدالی کے پشتون افغان خون کی بو اپنے خون سے آنے لگی۔ اللہ عزوجل کی وحدانیت اور رسول پاک کے ختم الرسل کا عقیدہ اور اس کا عشق و جذبہ بھی ایک ہی ہے۔ اب اپنا آپ ان افغانیوں کی طرح دکھائی دینے لگا۔ اور پھر اپنی پشتون افغانیت اور مسلمانی نے ان مصیبت زدوں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے روک دیا۔
ٹوٹے دل۔ زخمی زخمی احساس اور بوجھل قدموں سے واپس چلا آیا۔ گاڑی میں بیٹھا تو نم آلود آنکھوں کے ساتھ دھیان ایک پرانے ٹپے کی جانب چلا گیا اور ایسا لگا کہ یہ میرے اور ان افغانوں کے لیے ہی کہا گیا ہے :۔
”جوند تہ پہ شاتہ شاتہ گورم
لکہ بائیللے جوارگر چے کور تہ زینہ ”
(زندگی کو پیچھے مڑ مڑ کے دیکھتا دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی ہارا ہوا جواری گھر کو واپس جا رہا ہو)

