فلسطینی شہدا اور کلمہ شہادت


قائداعظم محمدعلی جناح ؒ ایک دوراندیش لیڈر تھے، انہوں نے ملعون اسرائیل کے بارے میں ہزار فیصد درست فرمایا تھا، ”اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے“ ۔ سات دہائیوں بعد بھی اسرائیل کا سرزمین فلسطین پر قبضہ ناجائز ہے، اسرائیلی اہلکار بندوق اور بارود کے زور پر فلسطینیوں کی زمین ہتھیار ہے ہیں۔ فلسطینیوں کو ان کی آبائی سرزمین پر اجنبی بنا دیا گیا ہے، آزادی کے داعی ہزاروں فلسطینیوں کا اسرائیل کے زندانوں میں زندوں میں شمار نہیں ہوتا، وہاں ان پر ہولناک اور انسانیت سوز تشدد کیا جاتا ہے۔

اسرائیلی بربریت کے نتیجہ میں ہر عمر کے فلسطینی جام شہادت نوش کر رہے ہیں، وہاں ہر دوسرا فلسطینی باپ اپنے شیر خواروں کے جنازوں کو کندھا دیتے ہوئے انہیں لحد میں اتار رہا ہے لیکن مسلمان حکمرانوں سمیت انسانیت کے نام نہاد علمبردار میڈیا کی حد تک مذمت کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک جام شہادت نوش کرنے والے فلسطینی بہشت میں منتقل ہو رہے ہیں جبکہ دنیا سے انسانیت کا جنازہ اٹھ گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سربلندی اور سرفرازی کے ساتھ پیش ہو رہے ہیں وہ تو زندہ ہیں جبکہ جو اس کشت و خون کے باوجود نہیں چیختا وہ مردہ ہے۔

میں ایک بے بس مسلمان خاتون اور تین بچوں کی ماں ہوں لیکن میں ہرگز بے حس نہیں ہو سکتی لہٰذاء مجھے شیر خوار فلسطینی بچوں کی شہادت اور ان کے پھول سے لاشوں پر بیقرار فلسطینی ماؤں کی کیفیت کا شدت سے ادراک ہے۔ میں اس معاشرے کی فرد ہوں جس کے اپنے ملک میں ہر روز غربت کا مارے کئی نادار و مفلس لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی غیرت کی میت پر ماتم کرتے اور اپنے ہاتھوں سے اس کو خود دفناتے ہیں۔

جہاد فی سبیل اللہ کی علمبردار قوم کے افراد ایک دوسرے سے پوچھ ر ہے ہیں کہ ہم فلسطینیوں کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں، ہم کس طرح انہیں اسرائیلی درندوں کی درندگی سے بچا سکتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کسی بھی مجرمانہ فعل یا ظلم و ستم کو اپنی آنکھوں کے روبرو سرزد ہوتے دیکھنا لیکن پھر بھی خاموش رہنا اس سے بڑا ظلم ہے۔ جس وقت فلسطینیوں کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہو، وہ چادر اور چاردیواری سمیت ضروریات زندگی سے محروم ہیں، اہل غزہ کو غذاء اور پینے کا صاف پانی تک میسر نہ ہو اس نازک صورتحال میں مسلم امہ کس طرح سو اور پیٹ بھر طعام تناول کر سکتی ہے۔

ہر رات جب کہ عالم اسلام کو علم ہو کہ فلسطینی بھائیوں کے معصوم بچے ہر آہٹ پر سہم جاتے ہیں کہ کہیں یہ آہٹ موت کی تو نہیں۔ شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیروکار کس طرح بے حسی کی چادر تان سکتے ہیں۔ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کشمیر آزاد ہو گا مگر یوم یکجہتی کشمیر پر جھنڈیاں ہلانے اور ملی نغمے بجانے کے علاوہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

اقوام متحدہ کی فلسطینی مسلمانوں کے لئے مجرمانہ خاموشی بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، بزدل کی دادرسی کوئی نہیں کرتا، نڈر اور بہادر اپنا انتقام خود لیا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا ریمورٹ واشنگٹن کے پاس ہے لہٰذاء مسلمانوں کو اپنے فیصلے خود کرنا ہوں گے۔ مسلمان حکمران فلسطینیوں کی پکار پر کان دھریں ہے جس پکار میں کلمہ طیبہ کی للکار اور شہدائے غزوات کے افکار کا راز پنہاں ہے۔ جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دے تو وہ یہ بات بھول جاتی ہے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا۔

دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست مدینہ کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح بنے، یہ بات پوری دنیا کو علم ہے۔ مگر کیا آج کے دور کا مسلمان اسی فکر کے ساتھ اپنے اسلامی بھائیوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ کیا سبب ہے کہ ایک امت کا کلمہ گو دوسری امت کے کلمہ گو کی لڑائی میں آنکھیں موندے زبان بند کیے بے بس کھڑا خاموشی کا مجسمہ بنا ہوا ہے۔

ایمان بدل گیا یا خون کی تاثیر میں تبدیلی آ گئی ہے، اقوام متحدہ کی خاموشی کا سبب ہم ہیں کیوں کشمیر آزاد نہیں ہوتا، کیوں ایران عراق پر بار بار حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ غزہ اور فلسطینی بھائی بہنوں اور شیر خوار بچوں پر ایسا بدترین ظلم کیوں کیا جا رہا ہے، ہے کوئی جواب، کیا انسانی حقوق کی بالادستی پوری دنیا کا یکتا قانون نہیں۔ یہ وہ چند سوال ہیں جو آج ہمیں پہلے خود سے اور بعد میں اکٹھا ہو کر دنیا میں انصاف کے بیوپاریوں سے پوچھتا ہوں گے، مزید خاموشی اور بے بسی سے کچھ نہیں ہو گا۔

Facebook Comments HS