انشائیہ: خوشیاں ہیں، پر منائیں کہاں
ہم نے خوشیوں کو خود سے کوسوں دور کر لیا ہے۔ کبھی کسی خوشی کے سامنے ہم خود ساختہ مذہب، رسم رواجوں یا پھر اپنی انا کی دیوار کھڑی کر لیتے ہیں۔ لوگ مسکرانا بھولتے چلے جا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم سارے جہاں کا درد اپنے جگر میں لیے ہوئے چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔
” نہیں، نہیں یہ سب خرافات ہیں یہ یہاں نہیں ہو سکتا“
مجھے یاد ہے چند سال پہلے دوستوں نے ایک تعلیمی ادارے میں مشاعرہ منعقد کروایا کیوں کہ اس ادارے کی طرف سے اس فنکشن کو منعقد کرنے میں کوئی مالی معاونت نہیں کی گئی تھی، تو دوستوں نے تعلیمی ادارے کے سربراہ کو مدعو کرنا بھی ضروری نہ سمجھا۔ مشاعرہ اپنے جوبن پر تھا۔ خواتین و حضرات ہر شعر پر داد دے رہے تھے۔ اتنے میں سربراہ ادارہ کی طرف سے فوراً ہال خالی کرنے کا حکم جاری ہو گیا۔ حکم میں کہا، یہ گیا کہ اس طرح کے خرافات ان موصوف کے ہوتے ہوئے یہاں نہیں ہو سکتے۔
نتیجتاً فوراً پروگرام کو مختصر کر دیا گیا اور معاملہ رفع دفع ہو گیا۔
چند ماہ بعد وہیں پر پھر سے سربراہ ادارہ کی صدارت میں اس سے زیادہ خرافات کا حلال مشاعرہ منعقد کیا گیا۔ جس کے آخر میں میوزک پر ہمراہ صدر ادارہ و مشاعرہ نے بھرپور ڈانس بھی کیا گیا۔
گویا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں خوشیوں کا منانا اہل اختیار کی مرضی اور انا سے مشروط ہے۔ مذہب، رسم رواج سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس پر ہم یہ بھی خیال کر سکتے ہیں کہ اہل اختیار کے مزاج پر ہی ہم غریب عوام کی خوشی منحصر ہے۔
یہاں لوگ خوش کیسے ہوتے ہیں؟ ہر کسی کی خوشی کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ دبئی جا کر شاپنگ کرنے پر خوش ہوتے ہیں اور کچھ لوگ دودھ فروش کی دکان کے آگے فٹ پاتھ پر بڑے پیالے میں دودھ جلیبیاں کھا کر خوش و خرم ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں خوشیاں تو ہیں لیکن منانے کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا شاید کوئی تہوار تھا، میں گلشن اقبال پارک چلا گیا وہاں ایک نوجوان بانسری پر بہت خوبصورت دھنیں بجا رہا تھا دیکھتے ہی دیکھتے ایک مجمع سا لگ گیا حاضرین ہر دھن کے اختتام پر تالیاں بجاتے۔ اتنے میں اسی پارک کے دو کارندے اس نوجوان کو زبردستی بالوں سے گھسیٹ کر تھپڑوں کی بارش کرتے ہوئے پارک سے باہر لے گئے۔ اس پر بھی کچھ نوجوانوں نے تالیاں پیٹیں اور سیٹیاں بھی بجا دیں۔
ہمارے ہاں گھروں میں بھی ایمرجنسی کی فضاء رہتی ہے۔ خوشی سے قہقہے لگاتی اولاد ایک دم سے سہم جاتی ہے جب ان کی ماں اطلاع دیتی ہے کہ ”بس کرو تمہارے ابو آ گئے ہیں“ اس اطلاع کے ساتھ ہی گھر میں موجود قہقہے لگاتے روشن اور خوش کن آنکھوں میں ایک اداسی اور خوف طاری ہو جاتا سب اہم سے جاتے۔ پتہ نہیں بات میں کیا منطق ہے کہ کہا جاتا ہے کہ ”کم از کم باپ کو تو اپنی اولاد پر رعب اور دبدبہ رکھنا چاہیے“ ۔ پھر ایک دن بچوں کا باپ اولاد کے نزدیک ظالم اور ماں مظلوم عورت کی علامت بن جاتی ہے۔ ہمارے خوشیوں کے مرشد مستنصر حسین تارڑ فرماتے ہیں ”جوان اولاد ماں کی کلاشنکوفیں ہوتی ہیں اور وہ ہمیشہ باپ پر ہی چلتی ہیں“
یہاں بات خوشیوں کی ہو رہی ہے کچھ عرصہ پہلے مجھے بنکاک جانے کا اتفاق ہوا۔ بنکاک کی سڑکوں پر ہر کوئی آپ کی طرف دیکھ کر خوشی سے مسکراتا ضرور ہے۔ سمجھ لیں کہ وہاں مسکراہٹیں ہر طرف آپ کا استقبال کرتیں ہیں۔ اس پر مجھے اپنے پرانے محلے کی ایک لڑائی یاد آ گئی جو شروع ہی اس بات پر ہوئی تھی اور نوبت تھانہ جانے تک آ گئی تھی ”میرے ول ویکھ کے ہنسیاں کیو ایں“ ( میری طرف دیکھ کر ہنسے کیوں ہو ) ۔ انسان بنیادی طور خوش رہنا چاہتا ہے اور خوشی کا خوبصورت اظہار مسکرانا ہے لیکن یہ تو آپ کی قسمت ہے کہ آپ بنکاک جا کر مسکراتے ہیں یا پھر اندرون لاہور کی کسی گلی محلے میں یہ حرکت سرزد کرتے ہیں۔


