علوی کا ورثہ اعوان


آج معروف کالم نگار (جن کے کالمز معروف ویب سائٹ ”ہم سب“ پر دیکھے ) ’مصنف محمود خان جو مانچسٹر میں قیام پذیر ہیں‘ کی ایک قابل ذکر کتاب The Heritage of Alvi Awan پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ کتاب نسل نو کے لئے ایک بہترین سرمایہ سے کم نہیں ہے ’کتاب ہو یا تحریر وہ اپنے اسلوب سے زندہ رہتی ہے۔ تاریخ وہ ہے جو حقائق پر مبنی ہو۔ محمود خان کی کتاب میری رائے کے مطابق ان کی بہترین کاوش ہے۔ جو نسل نو کو اپنی تاریخ سے آگاہی کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ تاریخ کے اوراق کو کبھی بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ نوجوان نسل کی نظریاتی‘ علمی اور فکری پرورش کے لیے بھی ماضی سے واقفیت اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ نوجوانوں کا رشتہ ماضی سے صالح خطوط پر استوار ہو جائے تو پھر معاشرہ دنیائے افق پر اپنا امتیازی تشخص قائم کرتا ہے۔

ہمارے پاس پورا نظر یہ ’نظام اور تابناک ماضی موجود ہے‘ ایسا تابناک کہ اس کی کرنیں ہر دور اور ہر زمانے میں جھلملاتی رہتی ہیں ’ماضی کو پیش نظر رکھ کر ہم مستقبل کی بہتر تعمیر کر سکتے ہیں۔ ہمارا ماضی ہر اعتبار سے قابل فخر اور لائق اتباع ہے۔ کامیاب حکمت عملی اور بہترین ماضی سے رہنمائی لے کر اگر نوجوان منزل کی سمت پر گامزن ہیں تو یقیناً جلد ہی ان کی طے کردہ منزل ان کے قدم چومے گی‘ کیوں کہ ہماری تاریخ میں ’عدل و انصاف اور سیاسی و سماجی خدمات کے پہلو جا بجا موجود ہیں۔

انسانوں میں اپنے ارد گرد موجود حیاتیاتی ’مادی اور سماجی دنیا سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کا اشتیاق ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ انسانوں کی اس متجسس فطرت نے اس دنیا کے حیاتیاتی‘ مادی اور سماجی پہلوؤں سے متعلق بہت سی معلومات اکٹھا کرنے میں مدد کی ہے۔ زمانہ قدیم سے اب تک انسانوں نے اپنے اطراف کی دنیا کو سمجھنے کے لئے متنوع طریقے استعمال کیے ہیں ’روایت (tradition) اور ذاتی تجربات (personal experiences) زمانہ قدیم میں کسی چیز سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے واحد طریقے تھے۔

بعد میں الہامی علم یا (revealed knowledge) جیسا کہ مذہبی کتابوں کی شکل میں موجود تھا۔ ماہرین کے مشورے (advice expert) جانکاری حاصل کرنے کے رائج طریقے بن گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ارسطو کی تجویز کردہ استخراجی منطق (deductive logic) جس میں عمومی بیانات سے خصوصی واقعات کے بارے میں منطقی نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ معلومات حاصل کرنے کے طریقے کے طور پر مشہور ہوا۔ بعد از ایں فرانسس بیکن کی وکالت کردہ استقرائی منطق (inductive logic) جس میں خصوصی واقعات کے مشاہدے سے عمومی نتائج اخذ کرتے ہیں۔

اور چارلس ڈارون کا عام کردہ استقراء استخراجیی طریقہ (inductive۔ deductive method) سوچنے اور جاننے کے معقول طریقے بن گئے۔ سوچنے اور جانکاری کا یہی طریقہ آگے چل کر سائنسی طریقہ کار کی بنیاد بن گیا۔ اس طرح سائنس علم حاصل کرنے کے ایک طریقہ کار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ جان ڈیوی جیسے فلسفیوں نے یہ وکالت کی کہ مادی اور قدرتی دنیا کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے ایسا طریقہ استعمال کرنا چاہیے جو سائنسی طریقہ کار پر مبنی ہو۔

اس طرح سائنسی تحقیقی عمل (process of scientific inquiry) کو پہلے پہل مادی سائنس (physical science) کے طریقے کے طور پر استعمال کیا گیا اور بعد میں اس کو انسانی طرز عمل سے متعلق سائنسوں (behavioural sciences) میں بھی دھڑلے کے ساتھ استعمال کیا جانے لگا۔ یہ بات تو سب بخوبی جانتے ہیں کہ تحقیق کا مقصد ان پہلوؤں پر کام کرنا ہوتا ہے جو نظر سے اوجھل ہوتے ہیں ’ان نظریات کو منطقی دلیل سے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو برسوں سے ہمیں گمراہی کی جانب دھکیلے جا رہے ہوتے ہیں۔

کسی بھی انسان کے لئے تحقیقی منصوبے پر کام کرنا ایک دلچسپ اور فائدہ مند تجربہ ہوتا ہے ’جس کے ذریعے وہ اپنی مہارتوں میں نکھار لاتا ہے۔ تحقیق کے ذریعے انسان دلچسپ موضوعات کی گہرائی تک پہنچتا ہے اور درپیش مسائل کا حقیقی مطالعہ کرتا ہے۔ تحقیق کے دوران کھوج لگاتے ہوئے ہر مرحلے پر انسان کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ کسی بھی موضوع پر تحقیق کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہوتا چلا جاتا ہے‘ مثلاً دوران تحقیق ہم محسوس کرتے ہیں کہ ایک سوال کے بعد دوسرا سوال پیدا ہو رہا ہے۔ یہ سوالات نئے خیالات ’تصورات‘ تجزیات اور بہتر صورتحال کا اشارہ ہوتے ہیں ’جو بعد میں ایک بہترین، متاثر کن اور توقع کے عین مطابق ڈیٹا کی تیاری میں خاصے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

اس بیش بہا اہمیت کے سبب ہر فکر مند قوم کے افراد اپنے نوجوانوں کی بہترین تعلیم و تربیت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتے ہیں۔ وہ اس بات سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہیں کہ نوجوانوں کی درست راہنمائی ہی ملک و ملت کے روشن مستقبل کی ضامن ہے اور اگر اس اہم اور عظیم ذمہ داری سے پہلو تہی کی گئی تو اس کا خمیازہ بھی لازماً بھگتنا پڑے گا۔ اس حوالے سے سے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے والی سرگرمیاں لائق تقلید ہیں کہ اس اہم موضوع پر بہت سا لٹریچر لکھا جاتا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں ان باریک موضوعات پر تحقیق کرنے کی ریت نہیں ہے۔ شاید ہم اس کو اتنا بڑا مسئلہ ہی نہیں سمجھتے اسی لیے اس اہم موضوع پر لکھنے ’بولنے‘ سمجھنے اور سمجھانے کی جتنی زیادہ ضرورت ہے ہم اتنا ہی اس کام میں پیچھے ہیں۔

جو قوم اپنے ماضی سے واقف نہیں ہوتی وہ حال اور مستقبل کی صحیح منصوبہ بندی نہیں کر سکتی ’جب تک نسل نو کی نظریں ماضی پر نہیں ہوں گی۔ نسل نو کو ایسی کتب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے جو مبنی برحقائق ہوں‘ ہمیں اپنی تاریخ سے آگاہی بہر صورت ہونی چاہیے۔ محمود خان کی کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ کتب سے دوستی بہترین مستقبل کی ضامن ہے۔

Facebook Comments HS