مولانا طارق جمیل صاحب اور ہماری سماجی منافقت
یہ خبر میرے لئے بھی بالکل ویسی ہی تھی جیسے بیشتر افراد کے لئے چونکا دینے والی اور پریشان کن۔ جوان موت کا دکھ اللہ پاک کسی کو بھی نا دکھائے، سیانے کہتے ہیں کہ جوان میت کو کندھا دینے سے زیادہ ایک باپ کے لئے تکلیف دہ عمل کچھ نہیں اور یہ حقیقت ہے اور اس کا دکھ وہی جانتا ہے جس پر گزر رہی ہوتی ہے۔ اور ویسے بھی بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ انسان اس تکلیف کو سمجھ رہا ہوتا ہے جس میں وہ نہیں ہوتا۔
اس پر قلم دیر سے اٹھانے میں بھی حکمت تھی اور وہ یہ کہ میں اس پر کوئی پوائنٹ سکورنگ اور ہاٹ ٹاپک کی وجہ سے زیادہ پڑھے جانے کا اور ریٹنگ کا شوق نہیں رکھے ہوا تھا۔ اور دوسرا کوئی ایسی بات جس سے کسی کا دل دکھے بھی نہیں چاہتا تھا کہ سب کے جذبات بالکل تازہ تھے۔ اور تحریر کا مقصد تو اپنا تجزیہ دینا اور رائے دینا ہے جو بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔ اور سماج میں ان چیزوں کی طرف نشاندہی ہے جنھیں میں غلط یا قابل اصلاح سمجھتا ہوں۔
پہلا رویہ جس کی طرف میں نشاندہی کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ایک طوفان بد تمیزی برپا کیا گیا اس واقعہ کے فوراً بعد جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ظاہر ہے کہ مولانا ایک نام رکھتے ہیں اور پاکستان بھر میں ان کی مشہوری ہے اور ظاہر ہے اس وجہ سے نظریاتی اور شخصی مخالفت ہونا بھی ایک فطرتی عمل ہے۔ لیکن کیا اس سب پر جو ردعمل دیا گیا، جس طریقہ سے غصے اور مخالفت کا اظہار ہوا وہ ایک مہذب معاشرے کی عکاسی کرتا ہے؟ کیا ہمیں مخالفت اور دشمنی کے طور طریقے بھی بھول چکے ہیں۔
لگ ایسے رہا تھا کہ ہم اس انتظار میں ہیں کہ خدانخواستہ کوئی واقعہ ہو اور ہم ٹوٹ پڑیں۔ ایک شخص آپ کا دشمن بھی ہو لیکن اس کے ساتھ بھی دشمنی کے اسلام نے طور طریقے سکھائے ہیں۔ آپ کسی بھی شخص کے نظریات سے، انداز سے، اس کی سوچ اور اپروچ سے اختلاف کریں اور کھل کر کریں آپ کو حق ہے۔ ظاہر ہے ایک شخص جب پبلک فگر بنتا ہے تو اس پر پبلک تنقید اور تبصرہ کرتی ہے۔ لیکن اس کا طور طریقہ ہونا چاہیے، اس کے آداب کا پتہ ہونا چاہیے۔ لیکن جو کچھ ہوا اس سب سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ سماجی طور پر ہم کتنے زوال شدہ ہو چکے ہیں۔ زوال کی اس پستی سے نکلنے پر ہمیں غور کرنا ہو گا۔
دوسرا رویہ جس پر میں بات کرنا چاہوں گا کہ کیسے ہمارے مذہبی طبقے نے اس پر وہ موقف لیا جو اس سے پہلے کم از کم میں نے نہیں دیکھا۔ مطلب کوئی اسے غلطی بیان کر رہا ہے، کوئی اسے حادثہ قرار دے رہا ہے اور کوئی اسے ذہنی بیماری سے تعبیر کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ یہ سب باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہیں اور ایسا ہی ہوا ہو گا بلکہ میں کہتا ہوں کہ ایسا ہی ہے۔ میری بھی یہی رائے ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب تاویلات مولانا صاحب کے بیٹے کے لئے ہی کیوں؟
کیا جب عوام میں سے کسی عام باپ کا بیٹا یہ حرکت کر بیٹھتا ہے تو تب ہمیں حرام موت، جنازہ کون پڑھے گا، پڑھائے گا؟ اللہ چاہے گا تو بخش دے گا وغیرہ وغیرہ کے جملے عام و خاص سے سننے کو کیوں ملتے ہیں؟ یہ اتنا تضاد ہمارے معاشرے میں کیوں ہے؟ کیا یہ ہمارے معاشرے کا منافقانہ رویہ نہیں ہے؟ کیا ایسا نہیں کہ زوال نے ہمیں اتنا بوسیدہ کر دیا کہ ایک مشہور باپ کے بیٹے کی غلطی پر جنت کی کنفرمیشن کے ٹکٹس، جنت کی نویدیں اور دوسری طرف حرام موت کی باتیں۔ ایک طرف تاریخ کے بڑے جنازے کی شنید اور دوسری طرف جنازہ کون پڑھائے گا کے مسائل۔ ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم ان منافقانہ رویوں کا شکار کیوں ہیں اور کیسے ہم ان سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔


