وہ اک تارا (12)


گاڑی عام طور پر اینا کے پاس ہوتی تھی۔ ہیثم عام روسی مردوں کے برعکس زیادہ لبرل تھا۔ اس کے بہت اصرار کے باوجود کسی اشد مجبوری کے تحت ہی گاڑی لے کر جاتا۔

بالعموم وہ اکٹھے نکلتے۔ اینا اسے چھوڑتے ہوئے اپنے دفتر آجاتی۔ آج گاڑی گیراج سے نکال کر وہ خود اسٹیئرنگ پر بیٹھا۔ اسے دفتر اتارتے ہوئے اس نے کہا۔

”تین بجے تک اپنے کام نپٹا لینا۔ کہیں چلنا ہے۔“
وہ پوچھتی رہی۔ کہاں؟ کہاں؟ اس نے جواب دینے کی بجائے گاڑی آگے بڑھا دی تھی۔
ڈاکٹر دونوں کی دوست تھی۔ دونوں کو دیکھ کر ہنس پڑی تھی۔ ہیثم نے بے تکلفی سے کہا۔

”اپنی رپورٹ میں لے آیا ہوں۔ اسے چیک کرنا آپ کا کام ہے۔ میں بچہ چاہتا ہوں۔ اسے منائیں اور دیکھیں بھی۔“

پہلے وہ ہتھے سے اکھڑی۔
”ہیثم کھانے کو روٹی نہیں مل رہی ہے اور تمہیں بچہ چاہیے۔“
”چلو چار پانچ نہ سہی ایک دو تو ہونے ضروری ہیں۔“ وہ اس کے غصے کو یکسر نظر انداز کرتا ہوا ہنسا۔
”اف چار پانچ۔ دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا۔ ہاں بچہ تو چاہ رہے ہو اسے پالے گا کون؟“
”میں۔“ اس نے ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے گردن بڑے فدویانہ انداز میں جھکائی۔
ڈاکٹر ہنستے ہوئے حظ اٹھا رہی تھی۔
”چلو اٹھو چیک کروں تمہیں۔ عجیب ہو۔ عورتیں بچوں کے لئے مری جاتی ہیں۔“
واپسی پر وہ چپ تھی۔ کھانا کھاتے ہوئے برتنوں کو دھوتے اور انہیں سمیٹتے ہوئے اس نے کوئی بات نہیں کی۔
پر جب وہ اس کے ساتھ لیٹی اس نے کہا۔
”تو اگر مجھ سے بچہ نہ ہوا تو؟“
”اینا تم بھی کمال کی عورت ہو۔ بھئی نہ ہوا نہ سہی۔ کوشش کرنی ضروری ہے۔“

یہ بھی محض اتفاق ہی تھا کہ اگلے دن نینا اپنے شوہر اور دونوں بچوں کے ساتھ ان کے گھر آ دھمکی۔ اس کا آنا کوئی نیا نہ تھا۔ پہلے بھی وہ آتی رہتی تھی۔ بچے بھی ساتھ ہوتے پر عجیب سی بات ہوئی۔

جیسے خاموش مدتوں سے بند پڑے ساز پر کوئی موسیقار اپنی انگلیاں چلا دے۔ سر نکال کر فضا میں بکھیر دے۔ کچھ ایسا ہی اس کے ساتھ ہوا تھا۔

جب وہ سب یلسن اور اس کی مخالف پارلیمنٹ پر زور و شور سے بحث کرتے تھے۔ کلنٹن کی تڑپ اور اس کی بے چینی کا ذکر ہوتا تھا۔ امریکن ایڈ اور جی 7 کی طرف سے امدادی پیکج کے دیے جانے پر بات ہوتی تھی۔

”مضبوط کرویلسن کے ہاتھ، کلنٹن کو تو مصیبت پڑی ہوئی ہے۔“ نینا کہتی تھی۔
کچن سے نکل کر تولیے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اینا نے کہا۔

”دیکھ لو پھر جی 7 کی طرف سے اس 42 بلین ڈالر کی امداد کا حشر کیا ہوا؟ رشوتوں کے زور پر ریفرنڈم جیت کر پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیانا یلسن نے۔“

”سب کا خیال تھا کہ صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان یہ محاذ آرائی زیادہ دیر نہیں چلنی چاہیے۔ یہ ملک کے لئے بہت نقصان دہ ہوگی۔“

ان کے جانے کے بعد اس نے کہا۔

”ہیثم میں کتنی عجیب اور فضول عورت ہوں۔ نینا کے بچوں نے آج مجھے بہت بری طرح اس کمی کا احساس دلایا ہے۔“

”چلو تمہیں احساس ہوا یہی کافی ہے۔ اب تھوڑی سی توجہ تو کرو گی۔ پر مجھے یہ بھی بتاؤ کہ آج تم گرجی برسی نہیں۔“

”ارے۔ وہ پھیکی سی ہنسی ہنسی۔ کھانا بنانے میں جو مصروف تھی۔“

اپنے مزاج کے برعکس اس نے اپنے احساسات کا اعتراف تو ضرور کیا تھا۔ پر اندر خانے وہ جس طرح کے محسوسات سے دوچار ہوئی تھی۔ اس کو ظاہر کرنا کچھ اسے اچھا نہیں لگا تھا۔

یہ دن بڑے اہم تھے۔ یلسن اور پارلیمنٹ میں اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی۔ پارلیمنٹ کا دھڑا جو بیورو کریٹوں، پرانے سٹالنسٹوں اور فوج پر مشتمل تھا۔ حکمت عملی سے خالی تھا۔ عوام اور مزدوروں کو اپنی طرف مائل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ یلسن نے کے جی بی، پولیس اور فوج کے سرکردہ جرنیلوں کو ڈالروں کے بریف کیس دیے اور وائٹ ہاؤس پر قبضہ کر لیا۔

ذاتی طور پر اس نے کبھی اس بات کو پسند نہیں کیا تھا کہ وہ کسی بھی چیز کو سٹور کرے۔ ہمیشہ وہ روزمرہ چیزوں کو اتنا ہی خریدتی جتنی اس کی ضرورت ہوتی۔ گزشتہ ماہ ہیثم گوشت کوئی مہینہ بھر کالے آیا تھا۔ چینی چاول میدہ وہ لے آئی تھی۔ کس دقت سے اس نے یہ چیزیں خریدیں۔ اس کا احساس اسے قطاروں میں کھڑے ہونے سے ہوا۔ بالعموم وہ اپنے تعلقات کی بنا پر بلیک مارکیٹ سے خرید لیتے تھے اور اس کوفت اور تکلیف سے بچ جایا کرتے تھے۔ جو ان دنوں متوسط اور غریب روسیوں کا مقدر بنی ہوئی تھی۔

گزشتہ چار ماہ سے اسے تنخواہ نہیں ملی تھی۔ بہت سے نئے اخبار نکلے۔ انہوں نے اسے زیادہ بہتر آفر دی مگر اس نے سوچا دفع کرو۔ ماسکو نیوز کا ہی ایک نیا پرچہ Ogonyuk نکلا۔ جس کی آغاز کی اشاعت ہی تین لاکھ سے ہوئی تھی۔ گو پرچہ کی اشاعت اس وقت کوئی بیس لاکھ ہو چکی تھی۔ پر ملکی حالات کا اس پر بھی اثر تھا۔ ہیثم کی تنخواہ سے گزارہ ہو رہا تھا۔

حالات کا جبر شدید اور بے رحم تھا تو موسم بھی ایسی ہی بے رحمی پر سزا دے رہا تھا۔ جنوری کی برف باری ماسکو کے گلی کوچوں میں اپنی شدتوں سے اتری ہوئی تھی۔

اس دن اس کا آف تھا۔ ہیثم دفتر تھا۔ بارہ بجے تک تو سوتی رہی۔ پھر ناشتے کی ٹرالی کچن سے گھسیٹ کر لاؤنج میں لے آئی کہ چلو ٹی وی بھی دیکھتی ہوں اور ناشتہ بھی ہو جائے گا۔

اسی وقت ہیثم کی کال آئی وہ پوچھ رہا تھا۔
”تمہارے پاس کچھ دنوں کا گزارہ ہے؟“
”کیا مطلب؟“
”ٹی وی کھولو اور دیکھ لو۔ اگر کچھ چیزیں خرید کر لا سکتی ہو تو لے آؤ۔ وگرنہ پھر فاقے تو ہیں ہی۔“

اس نے ٹی وی آن کیا وہاں اس اچانک اعلان کی گونج اور دھمک سنائی دی تھی۔ حکومت نے اشیاء پر سے کنٹرول ختم کر دیا تھا۔

اس نے الٹا سیدھا ناشتہ کیا۔ فل کوٹ پہنا۔ ٹوپی اوڑھی۔ تھیلا اٹھایا اور نکل کھڑی ہوئی۔ مارکیٹ سے اول تو چیزیں غائب تھیں اگر کوئی مل رہی تھی تو دس گنا زیادہ داموں پر۔ یہیں اسے معلوم ہوا کہ وائٹ ہاؤس کے سامنے لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں کو دفع دور کرتے ہوئے وہ روسی سپریم سوویت کی عمارت کی طرف بھاگی۔

لوگوں کا کوئی ہجوم تھا۔ وائٹ ہاؤس، میئر ہاؤس اور ماسکو دریا کے کنارے کی سڑک سمولنسکایا تک لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ اس نے تھیلا کوٹ کی جیب میں ڈالا۔ تصویریں کھینچیں، رپورٹ بنائی اور دفتر بھاگ گئی۔

رسد زر قابو سے باہر، افراط زر کی شرح انتہائی بلندیوں پر۔ اچکے بدمعاش، بلیک مارکیٹیئے، مافیا، سٹے باز، سب یلسن کے ساتھی دوست جن کے لئے صرف اپنے مفادات اہم۔ ان کے ڈالر محفوظ۔ انگلینڈ اور یورپی ملکوں میں خریدی گئی جائیدادیں محفوظ۔ عام لوگ اور ملک جائے بھاڑ میں۔

اگلے تین چار سالوں پر پھیلی ملکی کہانیاں بہت خوفناک تھیں۔ حکومت کے شرمناک کردار تھے۔ وہ جس ریپبلک میں چاہتی ہنگامے کروا دیتی جہاں چاہتی امن ہو جاتا۔ جارجیا میں ہونے والی ابخاز بغاوت اسی لمحے دم توڑ گئی تھی جب جارجیا کے صدر ایڈورڈ شیورڈ ناڈزے نے روس کی طرف سے پیش کردہ اس امن معاہدے پر دستخط کیے جس نے عملاً جارجیا کی آزادی کو ختم کر دیا۔ اندر کے ان شرمناک انکشافات پر دونوں نے لکھتے ہوئے بہت سفاکی سے کام لیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دھمکیاں مل رہی تھیں بھلا وہ انہیں خاطر میں لاتے۔

چیچنیا لوہے کا چنا بن کر روس کے دانتوں تلے آ گیا تھا۔ چبائے تو کیونکر۔ دانت ٹوٹنے کے لالے پڑ گئے تھے۔ پہلا حملہ اعلان آزادی کی سزا دینے کے لئے ہوا اور دوسرا طاقت کچلنے کے لئے۔ یہ حملے اتنے بھرپور اور شدید تھے کہ دونوں دکھی ہو گئے۔ دونوں نے جی داری سے لکھا۔

96 ء کے صدارتی انتخابات سر پر تھے۔ ہیثم، اینا، نینا اور اس کا شوہر خروشیف بہت سے دوسرے نڈر اور بے باک صحافی میدان میں یلسن کے خلاف صف آرا تھے۔ اس وقت بھی ان دونوں کے ساتھ نینا اینا کے آفس میں تھی۔ ہیثم اس معرکے میں زیادہ کھل کر نمایاں ہوا تھا۔

غیر متوقع نتائج۔ سب سے زیادہ ووٹ چیچنیا سے ایک ایسے شخص کے لئے جس نے چیچن عوام کا قتل عام کیا اور ان کی سرزمین کو خون میں نہلا دیا۔

سینٹ پیٹرز برگ میں صبح تک تو پولنگ سٹیشنوں پر کچھ بھی نہیں تھا حالانکہ شہر موجودہ حکومت کے حامیوں کا گڑھ تھا۔ شام چار بجے جیسے کسی نے الہٰ دین کے چراغ کی طرح کم ٹرن آؤٹ کو ایک بڑے ٹرن آؤٹ میں بدل دیا۔ علاقہ جتنا دور اور دشوار گزار تھا، صدر کی حمایت اتنی ہی زیادہ تھی۔

بشکریہ کی مسلمان آبادی جو کمیونسٹوں کو سپورٹ کرتی ہے وہاں بھی حالات حیران کن تھے۔ زیوگانوف چلاتا رہا تھا۔

”اب چلانے کا فائدہ۔ الو کے پٹھے کو کہا بھی تھا کہ انتخابی مہم کو صحیح طرح منظم کرو۔ روسی بورژوازی اور مغرب نے کسی طور بھی تمہیں جیتنے نہیں دینا وہ تو جیتے جی مر جاتے یلسن اگر ہار جاتا۔“

ہیثم نے سگریٹ ایش ٹرے میں جھاڑی۔
”ہیثم تمہاری خیر نہیں۔ تم تو یلسن کی نظروں کا کانٹا بن گئے ہو۔“
اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”میں ہمیشہ سے ایک خاموش کانٹا ہوں۔“

Facebook Comments HS