کہانی آئی جے آئی کی تشکیل اور نواز شریف کے پہلی بار وزیر اعظم بننے کی


ایک ’بے وقوف‘ طالب علم کے طور پر سلطنت خداد داد پاکستان، یعنی خدا کے بخشے اس ’باڑے‘ کی ’داغ داغ‘ سیاسی تاریخ ہمیشہ سے ہمارا پسندیدہ موضوع رہی ہے۔ ہمارا تعلق اس نسل سے ہے جو مرد مومن، مرد حق ضیاء الحق صاحب کے سنہرے اسلامی دور آمریت میں پیدا ہوئی، بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی لولی لنگڑی جمہوریت میں اس نسل کا لڑکپن گزرا اور ’مخدوم الملک‘ سید پرویز مشرف کی ’روشن خیال‘ فوجی حکومت میں لاحاصل جوانی۔

اور پھر ’اسلامی ٹچ‘ والے ’با فیض‘ مرشد کے ’نئے پاکستان‘ میں ’تبدیلی‘ کی ’بد ہضمی‘ میں مبتلا ہو کر یہ نامراد نسل اتحادیوں کے تیز دھار استرے سے چھیلی گئی اور اب نگرانوں کے رحم و کرم پر ’ادھیڑ عمری‘ میں ’استحکام پاکستان‘ کے خواب دیکھتے ہوئے تیزی سے 8 فروری کی جانب گامزن ہے۔ اپنے ’تجربات‘ کی بنا پر ہمارا تو یہی تجزیہ ہے کہ آئندہ بھی یہ ملک ایسے ہی ’چلتا‘ بلکہ ’دوڑتا‘ رہے گا۔ یعنی کہ ووٹ کی ’عزت‘ سولہ سنگھار کیے اسلام آباد کے شاہراہ دستور اور راولپنڈی کے ’بڑے بھائی جان‘ کی دہلیز پر جھانجھریں چھنکاتی اور عشوہ طراز حسینہ کی طرح آنکھیں مٹکاتی رہے گی اور استحکام بے چارہ مشت زنی کرتا رہے گا۔

یادش بخیر، ہمارے حافظے میں 90 ء کی شور انگیز دہائی پاکستان میں آئینی بحران، سیاسی عدم استحکام، پارلیمان کی بے وقعتی، جمہوری حکومتوں کی بے توقیری اور غیر جمہوری قوتوں کی بالادستی کے حوالے سے منقوش ہے۔ ”یاد ماضی عذاب ہے یا رب“ لیکن یہ وہی دہائی تھی جس میں ریاستی سرپرستی میں پہلی بار سیاست میں مذہب کا عنصر داخل کیا گیا اور عسکری مقتدرہ کی طرف سے نامی گرامی سیاست دانوں میں بھاری رقوم تقسیم کر کے راتوں رات ’آئی جے آئی‘ نامی بھان متی کا کنبہ تشکیل دیا گیا۔ یہ اسی دستر خوانی کنبے کی تشکیل تھی جو بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اصغر خان کیس کے نام سے ہمارے قومی نامہ اعمال میں تیرگی کا ساماں بنی۔

ذکر ہے 6 اگست 1990 ء کا، جب صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بدعنوانی اور لاقانونیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کی حکومت آئین کے آرٹیکل 58 ( 2 ) بی کے تحت برطرف کر دی اور غلام مصطفی جتوئی کو نگران وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ ملک کی سیاسی تاریخ میں انہیں پہلا نگران وزیر اعظم قرار دیا جاتا ہے۔

غلام مصطفی جتوئی کے زیر قیادت نگران حکومت کی طرف سے 24 اکتوبر 1990 ء کو کرائے جانے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان جمہوری اتحاد (پی ڈی اے ) کے جھنڈے تلے انتخابات میں حصہ لیا، اس اتحاد میں پی پی پی کے علاوہ ائر چیف مارشل (ر) اصغر خان کی تحریک استقلال، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور پاکستان مسلم لیگ کا ملک قاسم گروپ شامل تھا۔ جب کہ ان کے بالمقابل اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) حصہ لے رہا تھا جس کی قیادت میاں محمد نواز شریف کر رہے تھے۔

پاکستان کی تاریخ کے ان پانچویں عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد جیسی قدامت پسند جماعت نے قومی اسمبلی میں 105 نشستیں جیتیں جب کہ پی ڈی اے نے صرف 44 نشستیں حاصل کیں۔ 6 نومبر 1990 ء کو میاں محمد نواز شریف نے پہلی مرتبہ بطور وزیر اعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ تاہم کچھ عرصے بعد ہی مختلف ایشوز پر ان کے صدر مملکت غلام اسحاق خان کے ساتھ گہرے اختلافات پیدا ہو گئے، انہی اختلافات کے نتیجے میں 18 اپریل 1993 ء کو صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58 ( 2 ) بی کے تحت کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر دیا۔

اس وقت کے اسپیکر قومی اسمبلی کیپٹن (ر) گوہر ایوب خان نے صدر غلام اسحاق خان کے اس اقدام کے خلاف اسمبلی کے کسٹوڈین کی حیثیت سے سپریم کورٹ رجوع کیا، چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر سید نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بنچ نے تقریباً پانچ ہفتے کی سماعت کے بعد 26 مئی 1993 ء کو قومی اسمبلی اور نواز شریف سرکار کی بحالی کا حکم نامہ جاری کیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس غیر متوقع فیصلے سے جہاں صدر غلام اسحاق خان کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا، وہاں ملک کی سیاسی صورت حال بھی بد سے بدتر ہوتی چلی گئی، جولائی 1993 ء کے اوائل میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے اعلان کیا کہ اگر وزیر اعظم نے نئے انتخابات کروانے کا اعلان نہیں کیا تو وہ 16 جولائی 1993 ء کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گی۔

ملک کی بحرانی صورت حال میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے ایک جانب قائد حزب اختلاف بے نظیر بھٹو کو لانگ مارچ منسوخ کرنے پر آمادہ کیا اور دوسری جانب صدر غلام اسحاق خان کو استعفیٰ دینے اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو اسمبلی توڑنے پر تیار کر لیا، جنرل عبدالوحید کاکڑ نے تینوں فریقین کو ان فیصلوں پر عمل درآمد کی صورت میں عام انتخابات وقت پر منعقد کروانے کی ضمانت دی۔

پاکستان کی سیاست میں 18 جولائی 1993 ء وہ تاریخی دن تھا جب ’کاکڑ فارمولہ‘ کے تحت ملک کے صدر اور وزیر اعظم ایک ساتھ اپنے عہدوں سے رخصت ہوئے، پہلے وزیر اعظم نے صدر مملکت کو قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دی پھر صدر نے قومی اسمبلی توڑنے کا اعلان کر کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا، میاں محمد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے اتفاق رائے سے عالمی بنک کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر معین قریشی کو نگران وزیراعظم بنا دیا گیا جبکہ سینیٹ کے چیئرمین وسیم سجاد نے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔

ملکی تاریخ کے انہی پانچویں عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کی فتح کے بعد پاکستان جمہوری اتحاد میں شامل سیاسی جماعت تحریک استقلال کے چیئرمین ائر چیف مارشل (ر) اصغر خان نے آئی جے آئی کی تشکیل میں سکیورٹی اداروں کی معاونت اور جیتنے والے سیاست دانوں پر انہی اداروں سے رقوم لینے کے سنگین الزامات عائد کیے تھے اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں یہ کیس ’اصغر خان کیس‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

Facebook Comments HS