آئینی تقاضا اور انتظامیہ کی عدالتی امور میں مداخلت


آئین بنیادی دستاویز کا نام ہے جو قوموں کی سالوں کی تگ و دو کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم یا ملک کو جانچنے یا پرکھنے کے لئے ابتدائی طور پر اس ملک کے آئین کا مطالعہ ہی موزوں تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ کسی بھی ملک میں بسنے والی قوم کے مزاج کا عکاس ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر آئین ایک ایسی دستاویز کا نام ہے جو سماجی معاہدہ کی صورت میں تشکیل پاتی ہے جس میں ریاست اور عوام کے حقوق و فرائض کا تعین کیا جاتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، انڈیا یا پاکستان جیسے ملکوں کے ناموں کی بازگشت ان ممالک کے آئین ہی کی بدولت سنائی دی جاتی ہے کیونکہ آئین ہی ملک کی شناخت اور عوام کے حقوق کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو نوزائیدہ مملکت کے پاس کوئی آئین موجود نہ تھا جس کے تحت مملکت کا نظم و نسق چلایا جاتا اسی لئے 1935 کے فرنگی دور کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں مناسب ترامیم کر کے اسی سے عارضی طور پر ملک کا نظم نسق چلانے کا کام لیا گیا۔ پھر بعد ازاں قرارداد مقاصد 1949 پاس ہوئی اور یکے بعد دیگرے تین آئین آئے اور گئے جن کی تشکیل میں قرارداد مقاصد کو بھی مد نظر رکھا گیا لیکن متفقہ طور پر پاس ہونے والا ملک کا تیسرا 1973 کا آئین تاحال نافذ العمل چلا آ رہا ہے جو ماضی میں متعدد بار معطل اور بحال بھی ہوتا رہا ہے۔

آئین کی اہمیت اس لئے بھی اہم ہے کہ اسے سپریم لاء کا درجہ حاصل ہے اور تمام رائج الوقت قوانین کو آئین ہی نے بنیاد فراہم کر رکھی ہے۔ بالفرض اگر آئین کو یکسر معطل یا ختم کر دیا جائے تو اس کے ساتھ ہی ریاست کا سارا نظم و نسق بھی زمین بوس ہو جائے گا اور ریاست کے سبھی ستون شتر بے مہار ہو جائیں گے کیونکہ اس کے ساتھ ہی یہ تمام ستون اپنے اوپر عائد پابندیوں اور ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آزاد ہوجائیں گے۔ نیز آئین پر من و عن عمل کرنا اس لئے بھی لازم ہے کہ یہ شہری اور ریاست کے درمیان بنیادی معاہدہ سمجھا جاتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین نے ریاست اور عوام کے باہمی تعلق کو واضح کر دیا جہاں آرٹیکل 5 میں شہریوں کی ریاست سے وفاداری کو شہریوں کی آئینی ذمہ داری قرار دیا گیا وہیں شہریوں کو بنیادی حقوق آرٹیکلز 8 تا 28 جیسی دولت سے نہ صرف مالا مال کر دیا گیا بلکہ قانون سازوں کو پابند بھی کر دیا گیا کہ بنیادی حقوق سے متصادم قوانین ”باطل من ابتدا“ تصور کیے جائیں گے۔ اسی کے ساتھ ہی آرٹیکل 4 کے تحت زندگی، شخصی آزادی، عزت و آبرو اور جائیداد کا تحفظ کسی بھی صورت میں شہری سے نہ چھینا جا سکنے والا حق قرار دیا گیا تاکہ بفرض محال اگر ایمرجنسی کے نام پر بنیادی حقوق وقتی طور پر سلب بھی ہوجائیں تو آرٹیکل 4 کے بنیادی حقوق کے باب سے باہر ہونے کی وجہ سے یہ حق کسی صورت سلب نہ ہو سکے گا۔

اسی آئین کے آرٹیکل 175 کی ذیلی شق 3 میں بڑی صراحت کے ساتھ واضح کیا گیا کہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان جو کہ 12 اپریل 1973 کو نافذ کیا گیا سے ٹھیک چودہ برس کے اندر اندر تدریجا انتظامیہ اور عدلیہ کو الگ کر دیا جائے گا تاکہ انتظامی معاملات انتظامیہ جبکہ عدل و انصاف کے معاملات کلی طور پر عدلیہ کے سپرد ہوجائیں۔

یہ عام فہم اصول ”جس کا کام اسی کو ساجھے“ پر مبنی فیصلہ تھا کیونکہ عدلیہ کے معاملات آئین و قوانین سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں اور انہیں ماہر قانون ہی بہتر طور پر سلجھا سکتا ہے۔ کیونکہ جیسے کوئی ڈاکٹر انجنیئرنگ کو بہتر طور پر نہیں سمجھ سکتا اسی طرح انتظامی امور کا ماہر، قانونی امور کو بہتر طور پر سرانجام دینے سے قاصر ہوتا ہے۔

چونکہ عدالتی معاملات خاص ضوابط اور فہم کے تحت ہی انجام دیے جاتے ہیں اس لئے انہیں ماہرین قوانین ہی بہتر طور پر سرانجام دے سکتے ہیں۔ نیز آئین کو سپریم لاء کا درجہ حاصل ہونے کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ اپنے متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ اس کی شقوں کے خلاف بنائے گئے قوانین یا سرانجام دیے گئے افعال ”باطل من ابتدا“ تصور کیے جائیں گے۔

لیکن اس کے باوجود جس طرح آج تک آئین کی متعدد شقوں کی خلاف ورزیاں دیکھنے اور سننے میں آتی ہیں اس شق کی خلاف ورزی بھی جوں کی توں چلی آ رہی ہے۔ جس انتظامیہ نے 1987 میں مکمل طور پر عدلیہ کے امور سے الگ ہوجانا تھا وہ آج بھی بہت سے عدالتی امور پر قابض چلی آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں کثرت ازدواجی دفعہ 6 مسلم فیملی لاء آرڈیننس 1961 کا استغاثہ تاحال اسسٹنٹ کمشنر کے دائرہ اختیار میں چلا آ رہا اور صاحب موصوف جرم مذکورہ کا ٹرائل کر کے قید معہ جرمانے کی سزا بھی سنا رہے ہیں۔ جو کہ متعلقہ ایکٹ کی دفعہ 20 کی صریحا نفی ہے جس میں بڑی صراحت کے ساتھ درج ہے کہ مسلم عائلی قانون آرڈیننس 1961 میں درج تمام جرائم و معاملات فیملی کورٹ کا دائرہ اختیار ہیں۔

بات صرف یہیں نہیں رکتی کیونکہ اسسٹنٹ کمشنر کی طرف سنائی گئی سزا اس گراؤنڈ پر عدالت بالا میں چیلنج ہوتی ہے کہ ماتحت عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاتے ہوئے حکم صادر فرمایا ہے تو یوں دو سے تین سال کے محیط عرصے پرکیا گیا سارا ٹرائل ہی خلاف ضابطہ قرار دے کر ملزم بریت کا استحقاق پاتا ہے اور مستغیث کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ متعلقہ فورم پر اپنا استغاثہ پیش کرے، اس طرح ماتحت عدالت، مستغیث اور ملزم تینوں کے وقت کے ضیاع کی صورت میں ناقابل تلافی نقصان یقینی ہو چکا ہوتا ہے۔

اسی طرح شناخت پریڈ جیسے اہم معاملات بھی صاحب بابو کے سپرد چلے آرہے ہیں۔ اور تو اور دفعہ 164 کے تسلیمی بیانات بھی انہی انتظامی افسران کی سرپرستی میں انجام دیے جا رہے ہیں جس کے اعلیٰ عدلیہ نے باضابطہ ایس او پیز بھی طے کر رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ ان افسران کے ماتحت عملہ کے افراد یہ بیانات قلم بند کر رہے ہوتے ہیں جو کہ انصاف کے عمل کا صریحا جنازہ نکال دینے کے مترادف ہے۔

عدالتی نظام خاص قاعدے، ضابطے اور فہم کا متقاضی ہوتا ہے کیونکہ عوام کے حقوق اور زندگیاں اسی کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ ٹرائل کورٹ کا مقصد فقط قانون کو مد نظر رکھ کر سزا سنانا ہی نہیں ہوتا بلکہ حالات و واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ جات کی روشنی میں قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوتا ہے اور یہ کام ماہر قانون ہی بہتر طور پر انجام دے سکتا ہے جس کی اس مقصد کے لئے باقاعدہ طور پر تربیت بھی کی جاتی ہے۔ جبکہ ایک انتظامی افسر ان امور کے فہم و ادراک سے قاصر ہوتا ہے۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 175 ( 3 ) پر عملدرآمد کرتے ہوئے انتظامی افسران کو عدالتی امور سے مکمل الگ کر دیا جائے تاکہ جس کا کام ہو اسی کو ساجھے وگرنہ انتظامی افسران مذکور بالا جیسے عدالتی ضوابط یا مقدمات میں ٹرائل پر وقت ضائع کر کے بریت یا سزا کے احکامات صادر فرماتے رہیں گے اور عدالت بالا قانون کے مطابق تمام پروسیڈنگز کو ہی خلاف ضابطہ قرار دیتی رہیں گی۔

Facebook Comments HS