علامہ اقبال کے افکار و نظریات اور ہم!


9 نومبر کو ہم نے علامہ اقبال کا یوم پیدائش منایا ہے۔ اپنے قومی مشاہیر کو یاد رکھنا اور ان سے جڑے دن منانا یقیناً ایک اچھی روایت ہے۔ دنیا بھر میں یہی رواج ہے۔ ہم اکثر یہ بات سنتے ہیں کہ بطور قوم ہم اپنے محسنوں اور قومی ہیرو کی بے قدری کرتے ہیں۔ سو نہایت غنیمت ہے کہ ہم شاعر مشرق علامہ اقبال کو کسی نہ کسی حوالے سے یاد رکھتے ہیں۔ یہ الگ بات کی ان کی تعلیمات کو، ان کے افکار و نظرات کو، ان کے فلسفہ خودی کو ہم نے بھلا رکھا ہے۔

علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر ان پر لکھے کچھ مضامین پڑھ رہی تھی کہ علامہ اقبال پر کئی برس قبل لکھی اپنی ایک تحریر میری نگاہ سے گزری۔ اسے پڑھ کر خیال آیا کہ آج بھی صورتحال بالکل ویسے ہی ہے جیسے کئی برس پہلے تھی۔ آج بھی ہم نے یوم اقبال کو تقریبات کے انعقاد تک محدود کر رکھا ہے۔ اس سال بھی حسب روایت یوم اقبال پر چھوٹی بڑی تقریبات ہوئیں۔ علامہ کی شاعری کا تذکرہ ہوا۔ اخبارات میں علامہ اقبال پر مضامین چھپے اور ٹیلی ویژن چینلوں پر ان کے حوالے سے خصوصی پروگرام ہوئے۔ لیکن آج بھی ان کی تعلیمات سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے۔

بحیثیت قوم ہمارا ایک المیہ ہے۔ ہم کچھ شخصیات کو علامتوں کی شکل دے کر انہیں اپنی عقیدت و محبت کا مرکز بنا لیتے ہیں۔ ان کا احترام بھی کرتے ہیں، انہیں اپنا ہیرو بھی مانتے ہیں، ان کی تصاویر بھی اپنے دفاتر میں لگاتے ہیں۔ لیکن ان کے افکار، ان کے نظریات، ان کی تعلیمات اور ان کے ارشادات سے کم کم ہی مستفید ہوتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت، ان کے کردار، ان کی سیاسی فکر کو ایک دنیا سراہتی اور خراج پیش کرتی ہے۔ قائد اعظم سے منسوب دن بھی ہم بڑے اہتمام سے مناتے ہیں۔ ان کی تصویریں اپنے دفتروں میں آویزاں کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں خصوصی ضمیمے شائع کرتے اور مضامین لکھتے ہیں۔ لیکن عملاً قائد اعظم کے اصول اور نظریات ہماری سیاسی زندگی سے خارج ہیں۔

علامہ اقبال نے خود اپنے بارے میں کہا تھا
اک ولولہ تازہ دیا میں نے دلوں کو
لاہور سے تاخاک بخارا و سمر قند

بلاشبہ اقبال نے ہر اس قوم کو ایک ولولہ تازہ دیا جو تھک ہار چکی تھی اور جو غلامی کا شکار ہو چکی تھی۔ علامہ اقبال کی شاعری نے بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو اس وقت بیداری اور جدوجہد کا درس دیا، جب ہر طرف مایوسی اور بے یقینی کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ انہوں نے نا امیدی کا شکار قوم کو بتایا کہ اس کا ماضی کتنا شاندار تھا اور کس طرح وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر مسلم نوجوان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

شاعر مشرق علامہ اقبال نے خودی کا درس دیتے ہوئے ہند کے مایوس اور شکستہ دل مسلمانوں میں زندگی کی ایک لہر پیدا کی۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں بکھرے ہوئے مسلمان، مسلم لیگ کے پرچم تلے اکٹھے ہونے لگے۔ ابھی ایک مسلمان آزاد ریاست کا خواب دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا تھا جب علامہ اقبال نے دسمبر 1930 میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وہ بات کہہ ڈالی جس نے جنوبی ایشیا کی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ علامہ اقبال نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا

” میری خواہش ہے کہ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ہی ریاست میں ملا دیا جائے، خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومت خود اختیاری حاصل کرے یا سلطنت برطانیہ سے باہر رہتے ہوئے۔ مجھے تو یہ دکھائی دے رہا ہے کہ شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کو آخر ایک منظم مسلم ریاست قائم کرنا پڑے گی۔“

Personally, I would go farther than the demands embodied in it. I would like to see the Punjab, North-West Frontier Province, Sind and Baluchistan amalgamated into a single State. Self-government within the British Empire, or without the British Empire, the formation of a consolidated North-West Indian Muslim State appears to me to be the final destiny of the Muslims, at least of North-West India.

یہاں سے تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔ ایک نیا سفر شروع ہوا۔ اس سفر کا اگلا عظیم الشان سنگ میل 23 مارچ 1940 تھا جب لاہور کے منٹو پارک میں قرار داد پاکستان کی منظوری دی گئی۔ اس کے سات سال بعد اللہ نے ہمیں آزادی کی نعمت سے نوازا۔ یہ رمضان کا مبارک مہینہ تھا جب علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر پاکستان کی شکل میں سامنے آئی۔ 1930 میں شاید ہی کسی کو یقین آیا ہو کہ علامہ اقبال شمال مغربی ہند میں جس آزاد اسلامی ریاست کا تصور پیش کر رہے ہیں، وہ سترہ سال بعد پاکستان کے نام سے حقیقی وجود حاصل کر لے گی۔

پاکستان کو قائم ہوئے اب ستر سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ ان ستر برسوں میں ہم نے قائد اعظم اور اقبال کی سوچ سے کتنی رہنمائی حاصل کی، اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل کام نہیں۔ علامہ کی صرف چند بنیادی تعلیمات کے آئینے میں ہم اپنی شکل دیکھیں تو افسوس ہی ہو گا۔ مثال کے طور پر دیکھیں تو ہمارا معاشرہ اور سماج آج بھی طرح طرح کے تعصبات میں گھرا ہوا ہے۔ علامہ نے تو کہا تھا

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی، ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

کس قدر دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ستر برس بعد بھی ہم نے رنگ، نسل، قومیت، مسلک، زبان، علاقائیت اور قومیت کی بنیاد پر دیواریں کھڑی کر رکھی ہیں۔ اب تو ان بنیادوں پر باقاعدہ سیاسی جماعتیں بھی بن گئی ہیں، جو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ بھی ہیں۔ اسی طرح خودی علامہ اقبال کی شاعری کی روح کا درجہ رکھتی ہے۔ آپ نے کہا تھا

تری زندگی اسی سے، تری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی
اور یہ کہ
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

لیکن کیا خودی ہماری انفرادی یا قومی زندگی میں کوئی کردار ادا کر رہی ہے۔ کیا ہم دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہماری داخلی یا خارجی پالیسیاں، قومی خودداری کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں؟ علامہ اقبال نے غور و فکر، تدبر، اجتہاد اور انقلاب کا درس دیا۔ خود احتسابی کا سبق دیا۔

صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

لیکن کیا ہم خود احتسابی کرتے ہیں؟ کیا سیاسی جماعتیں، ملکی ادارے، سیاستدان اور دوسرے طبقے سنجیدگی سے سوچتے ہیں کہ ماضی میں انہوں نے کیا غلطیاں کی تھیں اور مستقبل میں انہیں کیا کرنا چاہیے؟ افسوس کہ ہم نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ ہم تو بڑے بڑے المیوں کی رپورٹیں بھی پتہ نہیں کن صندوقوں میں بند کر کے بھول چکے ہیں۔ اقبال کا دن منانا غنیمت سہی، لیکن کچھ تو ایسا کیا جائے کہ ان کی تعلیمات ہماری زندگیوں کا حصہ بن سکیں۔

۔ ۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Facebook Comments HS