گندم کی بڑھتی ہوئی قیمت: پاکستانی عوام کی روٹی چھننے کا خطرہ


گندم انسانی زندگی کو بچانے کے لیے ایک بنیادی خوراک ہے۔ غریب آدمی گوشت نہیں کھا سکتا لیکن چائے کے ساتھ سوکھی روٹی تو کھا سکتا ہے، غریب کو دو وقت کی روٹی چاہیے تاکہ وہ بھوک سے مر نہ جائے۔ گندم گاؤں سے لے کر شہروں تک لاکھوں پاکستانیوں کی خوراک میں مرکزی مقام رکھتی ہے۔ یہ ایک بنیادی غذا کے طور پر ہماری خوراک میں شامل ہے جو شہری اور دیہی دونوں آبادیوں کے لوگوں کی غذائی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ تاہم حالیہ گندم کے نرخوں کے بڑھنے کی وجہ سے عام آدمی متاثر ہوا ہے، گندم کی قیمتوں میں اچانک اور خاطر خواہ اضافہ نے غریب عوام کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، صرف پانچ دنوں میں اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں 10 سے 15 روپے فی کلو کا اضافہ ہو گیا ہے اور 600 روپے فی 40 کلو گرام اضافے نے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے، جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بے بس و لاچار شہریوں، خاص طور پر غربت اور مہنگائی سے نبرد آزما ہونے والے عوام کے لیے خاصی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔

گندم نے کئی دہائیوں سے پاکستان کے زرعی منظر نامے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کے کسانوں نے اس ضروری اناج کی مسلسل بمپر فصلیں پیدا کی ہیں، جو ان گنت گھرانوں کے لیے لائف لائن فراہم کرتی ہیں۔ گندم کی سستی ریٹ پر دستیابی طویل عرصے سے سیاسی استحکام اور ملک کی مجموعی اقتصادی صورت حال سے جڑی ہوئی ہے۔

اس وقت پاکستان کے اندر گندم کے 75 لاکھ ٹن ذخائر دستیاب ہیں، 6 نومبر کو گندم کی قیمتوں میں 4300 روپے فی 40 کلو گرام سے 4900 روپے فی 40 کلو گرام تک کا حالیہ اضافہ کئی پریشان کن سوالات کو جنم دیتا ہے۔ قیمتوں میں اچانک 600 روپے فی 40 کلو گرام اضافہ نے عوام کو آدھی روٹی کھانے پر مجبور کر دیا ہے حالیہ 15 روپے فی کلو گرام اضافہ مہنگائی زدہ عوام پر مزید بوجھ ڈالے گا۔ یہ اضافہ پاکستان کے غریب طبقوں کے کندھوں پر ایک وزنی بوجھ کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب آٹے اور گندم کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو اس کے نہ صرف گھریلو بجٹ بلکہ ملک کی سیاست اور معیشت کے لیے بہت خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مندرجہ ذیل سفارشات پر عمل کر کے گندم اور آٹے کی سمگلنگ کو روکا جاسکتا ہے :

جب تک ملکی نظام شفافیت اور احتساب کا عمل دخل نہیں ہو گا اس وقت تک گندم اور آٹے کی اسمگلنگ پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ گندم کی سپلائی چین میں اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کو کم کرنے کے لیے شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ منصفانہ، مناسب اور جائز قیمتوں کی نگرانی اور اسے نافذ کرنے کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

جب تک گندم اور آٹے کے غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے لیے حکومتی مداخلت نہیں ہوگی اس وقت تک اسمگلنگ جاری رہے گی۔ حکومت خصوصاً نگراں حکومتوں کو وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر گندم کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے حکومتی ذخائر سے سستی قیمتوں پر گندم جاری کر کے صارفین کے لیے اس کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

مستقبل میں قیمتوں میں اضافے کو روکنے اور گندم کی مستحکم منڈی کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ کو مارکیٹ کی اصلاحات پر غور کرنا چاہیے، فلور ملوں کے درمیان منصفانہ مسابقت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے اور سپلائی چین کی ناکارہ پن کو دور کرنا چاہیے۔

پائیدار زرعی طریقوں کی حوصلہ افزائی اور حمایت کی جائے جو گندم کی مسلسل پیداوار کو یقینی بناتے ہیں، طویل مدتی غذائی تحفظ کی ضمانت کے لیے حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ تاکہ عوام کو مناسب ریٹ پر گندم اور آٹے کی سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی عالمی ریکارڈ و اعزاز یافتہ ماہر لسانیات، ادیب اور کالم نگار ہیں، ادب، سماج، سیاست اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں، ان سے ای میل rachitrali@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS