سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایک شاعر یا حکیم الامت


اقبال بے شک ایک بہت بڑے شاعر، ادیب اور مفکر تھے لیکن وہ ہر عیب سے پاک اور ایک ولی اللہ نہیں تھے۔ ان کی برطانیہ نوازی ان کی شاعری سے مکمل طور پر واضح ہے اور برطانوی حکومت کے اچھے خاصے وفاداروں میں سے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی ہندوستان سے برطانوی سامراج کے نکلنے کی بات نہیں کی۔

جاوید اقبال اپنی کتاب میں کہتے ہیں :۔

”جہاں تک اقبال صاحب کا انگریزی حکام کی مدح میں یا فرمائش پر اشعار لکھنے کا تعلق ہے تو اقبال نے کئی نظمیں کہی ہیں جو خاص مواقع پر انہوں نے طبعاً، اخلاقاً یا مصلحتاً تحریر کیں اور جنہیں اس قابل نہ سمجھا کہ اپنے مطبوعہ کلام میں شائع کریں“ ، پھر اچانک ہی لکھتے ہیں کہ، ”اقبال کا تعلق سر سید کے سیاسی مکتبہ فکر سے تھا وہ کلمہ حق کہنے سے باز نہیں رہ سکتے تھے“ (زندہ رود صفحہ 399 )

اقبال بذات خود فرماتے ہیں

”ہندوستان کے مسلمان شاید اسلامی ممالک کی حالت کا صحیح طور پر اندازہ نہیں لگا سکتے کیونکہ حکومت برطانیہ کے سبب جو امن اور آزادی اس ملک کے لوگوں کو حاصل ہے وہ اور ممالک کا ابھی نصیب نہیں ہے“

(کلیاب مکاتیب اقبال جلد 1 صفحہ 168 )

علامہ اقبال نے اپنے لئے سر کا خطاب پسند کیا اور اپنے استاد سید میر حسن کے لئے شمس العلماء کے لئے خود پنجاب کے گورنر سرایڈورڈ میکلیگن کو سفارش کی!

گورنر صاحب سید میر حسن سے آشنا نہ تھا۔ اقبال صاحب سے جب گورنر پنجاب نے پوچھا کہ ان کی کسی تصنیف کا نام بتائیے تو اقبال صاحب برجستہ بولے :۔

”ان کی سب سے بہترین تصنیف میں ہوں“

ذیل میں اقبال کی برطانیہ نواز شاعری کی کچھ مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔

مورخہ 22 جنوری 1901 ء کو ملکہ وکٹوریہ کا انتقال ہوا۔ اتفاق سے اس دن عید الفطر تھی۔ علامہ اقبال نے اس موقع پر ملکہ وکٹوریہ کے غم میں ایک سو دس اشعار پر مشتمل پر درد اور طویل مرثیہ لکھا اور اس مرثیے کا انگریزی ترجمہ خود علامہ اقبال نے کیا۔ اس کا نام رکھا گیا ”Tears of Blood“ ۔

یہ مرثیہ لاہور کے ایک ماتمی جلسہ میں پڑھا گیا۔ یہ مرثیہ مطبع خادم التعلیم میں چھپ کر شائع کیا گیا تھا۔ اس کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

آئی ادھر نشاط ادھر غم بھی آ گیا
کل عید تھی تو آج محرم بھی آ گیا
صورت وہی ہے نام میں رکھا ہوا ہے کیا
دیتے ہیں نام ماہ محرم کا ہم تجھے
کہتے ہیں آج عید ہوئی ہے ہوا کرے
اس عید سے تو موت ہی آئے خدا کرے

تو جس کی تخت گاہ تھی اے تخت گاہ دل
رخصت ہوئی جہاں سے وہ تاجدارآج
اے ہند تیرے سر سے اٹھا سایہ خدا
اک غمگسار تیرے مکینوں کی تھی گئی
ہلتا تھا جس سے عرش یہ رونا اسی کا ہے
زینت تھی جس سے تجھ کو جنازہ اسی کا ہے
(باقیات اقبال صفحہ 92۔ 74 طبع دوم 1966 ء)

انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں انگریز گورنر پنجاب شریک ہوئے تو علامہ اقبال نے منظوم ہدیہ عقیدت پیش کیا اس کے یہ اشعار دیکھیے۔

ہے کون زیب دہ تخت صوبہ پنجاب
کہ جس کے ہاتھ نے کی قصر عدل کی تعمیر
جو بزم اپنی ہے طاعت کے رنگ میں رنگین
تو درس گاہ رموز وفا کی ہے تفسیر
اس اصول کو ہم کیمیا سمجھتے ہیں
نہیں ہے غیر اطاعت جہان میں اکسیر

22 جون 1911 کو شہنشاہ جارج کا جشن تاج پوشی منایا گیا اور اس تاجپوشی کے لئے مسلمانوں نے بادشاہی مسجد کو مناسب و موزوں جگہ سمجھا۔

تاج پوشی کی رسوم منانے کے لئے جو اعلان نامہ شائع ہوا اس کا عنوان تھا۔
”لاہور میں کارونیشن ڈے کی اسلامی رسوم“

تاج پوشی کے حوالے سے علامہ اقبال کی نظم کے دو اشعار ملاحظہ کیجئے۔
ہمائے اوج سعادت ہے آشکارا
کہ تاج پوش ہوا آج تاج دار اپنا
اسی سے عہد وفا ہند یوں نے باندھا ہے
اسی کی خاک قدم پر ہے دل نثار اپنا

1918 میں لاہور کے ٹاؤن ہال میں سر مائیکل اوڈائر گورنر پنجاب کی صدارت میں ایک جلسہ ہوا اس جلسہ کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ مصارف جنگ کے لئے پیسہ جمع کیا جائے اور پنجاب سے کم از کم دو لاکھ نوجوان فوج میں بھرتی کیے جائیں۔ اس موقع پر علامہ اقبال نے ایک نظم پڑھی جس کے دو اشعار میں دعائے پر خلوص دیکھئے۔

جب تک نسیم صبح عنادل کو راس ہے
جب تک کلی کو قطرہ شبنم کی پیاس ہے
قائم رہے حکومت آئین اسی طرح
دبتا رہے چکور سے شاہیں اسی طرح

جب 1918 میں پورے پنجاب میں تحریک خلافت کی وجہ سے انگریزوں کے خلاف تحریک چل رہی تھی اور حکومت فوجیوں کے لئے جبری بھرتی کر رہی تھی تو نواب ذوالفقار علی خان صاحب کے کہنے پر علامہ اقبال نے شہنشاہ جارج پنجم کو مخاطب کر کے ایک قصیدہ لکھا تھا۔ جب یہ قصیدہ لکھا گیا تو اس وقت پنجاب پر مائیکل اوڈائر گورنر مقرر تھا۔

مائیکل اوڈائر کے عہد میں ہی جلیانوالہ باغ کا واقعہ ہوا تھا۔ اس قصیدہ کا عنوان ”پنجاب کا جواب“ تھا۔ اور علامہ اقبال نے یہ قصیدہ یونیورسٹی ہال میں ایک مشاعرے میں پڑھا تھا۔

گورنر پنجاب مائیکل او ڈائر نے جنگی تنظیمات کے سلسلے میں دیگر تقریبات کے علاوہ مشاعرے بھی منعقد کرائے تھے۔ اور 1918 میں گورنر نے خاص طور پر علامہ اقبال سے نظم لکھنے اور مشاعرے میں آنے کی فرمائش کی تھی۔ زمانہ ایسا نازک تھا کہ اس فرمائش کو ٹالنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ چنانچہ علامہ اقبال نے یہ نظم لکھی اور مشاعرے میں خود جا کر پڑھی۔

برٹش لائبریری میں Sir Muhammad Iqbal Papers کے نام سے جو فائل موجود ہے، اس میں یہ قصیدہ مکمل اور شائع شدہ حالت میں موجود تھا۔ لیکن معین سال کا علم نہیں ہو سکتا۔ نیچے یہ الفاظ درج ہیں

A poem in praise of King George V، by Sir Muhammad Iqbal۔ Lahore ( 1911؟ )
اعلیٰ حضرت ملک معظم کے پیغام کا جواب پنجاب کی طرف سے
از نتائج افکار جناب ڈاکٹر شیخ محمد اقبال
اے تاجدار خطہ جنت نشان ہند
روشن تجلیوں سے تیری خاوران ہند
محکم تیرے قلم سے نظام جہان ہند
تیغ جگر شگاف تیری پاسبان ہند
ہنگامہ وغا میں سر میرا قبول ہو
اہل وفا کی نذر محقر قبول ہو
تلوار تیری دہر میں نقاد خیر و شر
بہروز جنگ توز جگر سوز سینہ در
رایت تیری سپر کا سرمایہ ظفر
آزادہ پرکشادہ پری زادہ یم سپر
سطوت سے تیری پختہ جہاں کا نظام ہے
ذرے کا آفتاب سے اونچا مقام ہے۔
آزادی زبان و قلم ہے اگر یہاں
سامان صلح دیر و حرم ہے اگر یہاں
تہذیب کاروبار امم ہے اگر یہاں
خنجر میں تاب تیغ میں دم ہے اگر یہاں
جو کچھ بھی ہے عطائے شہ محترم سے ہے
آباد یہ دیار تیرے دم قدم سے ہے
وقت آ گیا ہے کہ گرم ہو میدان کارزار
پنجاب ہے مخاطب پیغام شہر یار
اہل وفا کے جوہر پنہاں ہوں آشکار
معمور ہو سپاہ سے پنہائے روزگار
تاجر کا زر ہو اور سپاہی کا زور ہو
غالب جہاں میں سطوت شاہی کا زور ہو
دیکھے ہیں میں نے سینکڑوں ہنگامہ نبرد
صدیوں رہا ہوں میں اسی وادی کا لورد
طفل صغیر میں ہی میرے جنگاہ میں مرد
ہوتے ہیں ان کے سامنے شیروں کے رنگ زرد
میں نخل ہوں وفا کا محبت ہے پھل میرا
اس قول سے ہے شاہد عادل عمل میرا
ہندوستان کی تیغ ہے فتاح ہشت باب
خونخوار لالہ باب جگر دار برق تاب
بے باک تابناک گہرپاک بے حجاب
دلبند۔ ارجمند۔ سحر خند۔ سیم ناب
یہ تیغ دلنواز اگر بے نیام ہو
دشمن کا سر ہو اور نہ سودائے خام ہو
اہل وفا کا کام ہے دنیا میں سوز و ساز
بے نور ہے وہ شمع جو ہوتی نہیں گداز
پردے میں موت کے ہے نہاں زندگی کا راز
سرمایہ حقیقت کبریٰ ہے یہ مجاز
سمجھو تو موت ایک مقام حیات ہے
قوموں کے واسطے یہ پیام حیات ہے
اخلاص بے غرض ہے صداقت بھی بے غرض
خدمت بھی بے غرض ہے اطاعت بھی بے غرض
عہد وفا مہر و محبت بھی بے غرض
تخت شہنشہی سے عقیدت بھی بے غرض
لیکن خیال فطرت انسان ضرور ہے
ہندوستان پہ لطف نمایاں ضرور ہے
جب تک چمن کی جلوہ گل پر اساس ہے
جب تک فروغ لالہ احمر لباس ہے
جب تک نسیم صبح عنادل کو راس ہے
جب تک کلی کو قطرہ شبنم کی پیاس ہے
قائم رہے حکومت آئین اسی طرح
دبتا رہے چکور سے شاہیں اسی طرح

مصنف: ڈاکٹر عرفان اللہ فرہاد
اسسٹنٹ پروفیسر
شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی شیرینگل دیر بالا

Facebook Comments HS

ڈاکٹر عرفان اللہ فرہاد

ڈاکٹر عرفان اللہ فرہاد شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی، شیرینگل، دیر بالا کے ڈیپارٹمینٹ اف بائولوجیکل سائنسز میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں

dr-irfanullah-farhad has 6 posts and counting.See all posts by dr-irfanullah-farhad