پورن سائٹس اور والدین کی ذمہ داری
اس شجر ممنوعہ پر لکھنا جگر گردے کا کام ہے۔ برسوں سے یہ موضوع مجھے مہمیز کیے ہوئے ہے۔ متفرق موضوعات پر قلم فرسائی کے بعد آج نہ چاہتے ہوئے بھی اس موضوع پر نہ لکھنا مجھ سے ضبط نہیں ہوسکا۔ یہ موضوع ایسا ہے جس میں مذہبی نزاعات کا براہ راست دخل ناگزیر صورت اختیار کر جاتا ہے۔ مذہب، معاشرت اور سیاست؛ تین ایسے موضوعات ہیں، جن پر لکھنے کا مطلب؛ ہر ایرے غیرے کو اپنے خلاف کر لینا ہے۔ مذہب کے حوالے سے کچھ بھی اچھے سے اچھا اور محتاط انداز سے لکھ لیں۔
آپ کے ہر لفظ کو دین کی عین معراجانہ کسوٹی پر پرکھا جائے گا اور دشنام و ملامت سے تحسین کی جائے گی۔ اسی طرح معاشرت سے متصل مسائل و معاملات پر رائے کا تحریری اظہار کیا جائے تو صاحب ادراک اور ذی شعور اذہان تذلیل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سیاست پر تو ہر بندہ ایک رائے رکھتا ہے۔ آپ نے اگر اس کی رائے کو مقدم نہ گردانا تو آپ کا لکھا سب بکواس اور بے معنی ہے۔ پورن سائٹ سے مشت زنی تک کا سفر ایک المناک داستان ہے جس میں پاکستانی نوجوانوں میڈیا رپورٹ کے مطابق (غلط یا صحیح) اگر ستر فیصد تعداد بھی مبتلا پائی جاتی ہے تو یہ ستر فیصدی شرح بہت زیادہ ہے۔
پاکستانی اذہان و شعور پر پورن سائٹ کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ اس فعل کے المناک تجربات سے بھی گزرتے ہیں۔ نجی محافل میں اس موضوع پر کھل کر بات بھی کرتے ہیں لیکن اسے اپنی ذات کے تجربے سے گریزاں ثابت کرنے کی کوشش اس طور سے کرتے ہیں گویا یہ عمل ان کی ذات سے کبھی سرزد نہیں۔ فرشتہ سیرت یہ صاحب بتلاتے ہیں کہ میں نہیں بلکہ وہ اور لوگ ہیں جو اس قبیح فعل میں مبتلا ہیں جن کی از سر نو ذہن سازی کرنا نہایت ضروری اور ناگزیر ہے۔
میں شاید پانچویں کلاس میں تھا اور عمر کے نویں یا دسویں برس میں ہو گا جب پہلی بار میرے ہمسایہ لڑکے نے کسی کام کی غرض سے مجھے اپنے گھر بلوایا۔ پھر اس نے وی سی آر پر پیٹی سے ایک کالی کیسٹ نکال کر میرے سامنے چلائی۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر پہلے ترمرے سے ناچنے لگے۔ کچھ دیر بعد تصویر ذرا صاف دکھائی دینے لگی۔ میرے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے کہ یہ کیا ہے اور یہ کیا ہو رہا ہے۔ میں شاید ایک منٹ سے زیادہ نہیں دیکھ سکا تھا اور رونے لگا تھا کہ یہ کیا ہے اور مجھے کیوں دکھا رہے ہو۔
میں نے یہ فلم نہیں دیکھنی۔ اس میں تو مرد اور عورت ننگے نظر آرہے ہیں اور یہ کر کیا رہے ہیں؟ اس لڑکے نے کہا کہ آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا۔ ابھی تو فلم شروع ہو رہی ہے۔ میں نے بھاگ کر دروازے کی کنڈی کھول دی اور ہڑبڑایا ہوا بھاگ کر اپنے گھر چلا گیا۔ رات بھر میرے ذہن میں برہنہ تصویریں محو رقصاں رہیں۔ ایک عجیب سی بے چینی نے مجھے رات بھر مضطرب رکھا۔ صبح سکول سے بہانہ کر کے چھٹی کر لی۔ سارا دن یہاں وہاں بے کار پڑا رہا۔
من بہت دکھی اور بے چین تھا کہ میں کیا کروں۔ ابا کو بتاؤں کہ اس نے یہ کیوں میرے ساتھ کیا وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد مجھے نہیں علم کہ میرے دن کیسے گزرے اور میں کیسے نارمل ہوا۔ تاہم اتنا معلوم ہے کہ وہ ایک منٹ کا منظر نامہ میں آج تک نہیں بھول سکا جیسے میرے ذہن پر وہ برہنہ پرچھائیاں مستقل نقش ہو کر رہ گئیں ہیں۔ ایک مدت اس واقعے کو گزر گئی۔ جوانی آئی اور تقریباً گزر چکی۔ شادی ہوئی اور بھر پور رہی۔ اولاد اللہ نے دی اور ازدواجی معاملات کو بھی بخوبی نبھاہنے کی سعی جاری ہے۔
تعلیم کے حصول کے بعد ملازمت کی تلاش میں لاہور چلا آیا اور یہاں کی بود و باش اور ہوا پانی میں ملے جلے اثرات نے ذہن کو ارتکاز بخشا۔ قدرے اطمینان سے بھرے پرے اس شہر میں مناسب ٹھکانے کی تلاش کے بعد روزگار کے لیے سرگرداں ہوا۔ یہاں آ کر ڈیٹ، پورن سائٹ، یوٹیوب اور فیس بک وغیرہ سے متعارف ہوا۔ سال بھر کی مشقت کے بعد پہلا اینڈرائڈ موبائل خریدا۔ یوٹیوب کے بارے میں سنا تو بہت تھا لیکن موبائل خریدنے کی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے اسے استعمال کرنے کا تجربہ نہیں تھا۔
موبائل کے حصول کے بعد انٹرنیٹ پیکج لگایا اور یوٹیوب پر گھنٹوں جو کچھ سامنے آیا دیکھتا رہا۔ ایک خیال جو ایک زمانے سے حادثہ بن کر مجھ پر وارد ہوا تھا۔ اس نے میرے ذہن میں ایسی انگڑائی لی کہ میں اس کی شدت کے آگے خود کو کمزور محسوس کیا۔ وہ خیال ایک منٹ کی برہنہ دیکھی ہوئی فلم کا سین تھا جو میرے ہمسائے نے بچپن میں مجھے میری رضا مندی کے بغیر دکھا یا تھا۔ باوجود ہر طرح کی کوشش اور توبہ و استغفار اور عہد پیہم کے ؛ میں اس خیال کی گرفت میں آخر آہی گیا۔
ایک شب رات گئے گوگل کروم پر پورن سائٹ لکھا۔ پل بھر میں پورن سائٹ کا ایک طلسم کدہ مجھ پر ایسا کھلا کہ آنکھیں حیرت و استعجاب کے عالم میں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ صاف، شفاف دھلی ہوئی چٹی گوری چلتی پھرتی رقص کرتی ہوئی متحرک الھڑ سفید رنگ کی برہنہ مغربی مٹیاریں۔ سحر آمیز اس عالم حیرت میں انسان کے اختیار میں گریز کا کوئی پہلو نہیں بچتا۔ ایک واقعہ بچپن میں سانحہ بن کر ٹوٹا تھا اور ایک یہ واقعہ تھا جس سے شرمندہ ہونے کی بجائے میں نے اسے جنسی تلذذ کے تفاخر کا اعزاز سمجھا۔
مدت تلک اس دیار برہنگی میں آوارگی کی۔ اس آوارگی کا نتیجہ محض جنسی تلذذ کی عارضی مسرت کا تخیلی حصول تھا؛ جس کا انجام مشت زنی کی تاریک گلی میں منہ کے بل گر جانا نکلا۔ مشت زنی کا یہ عمل خوشگوار نہ تھا۔ اس میں ایک طرح کی کراہت، بے چینی، بے قراری اور اپنے تئیں بے حسی کا مستقل احساس زیاں حواس پر غالب رہتا تھا۔ بہت جلد اس راستے سے خود کو جدا کر لیا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ بس دیکھنے اور جی للچانے پر اکتفا کیا جائے اور اس کار عصیاں گری کو عملی شکل دینے سے گریز کیا جائے تاکہ دل میں بسے ترقی و خوشحالی کے ارمان اور کسی کے لیے دیکھے ہوئے خوابوں کے کچلنے کا سامان غارت نہ پیدا ہو جائے۔
یہ سلسلہ نہیں معلوم کتنی دیر برقرار رہا؛ تاہم اس کی شدت میں مرور وقت کے ساتھ کمی آتی گئی۔ ایک چیز بار بار دیکھنے سے جی اکتا گیا اور بہت جلد اس آوارگی سے ہمیشہ کے لیے تائب ہو گیا۔ اب کہیں دوستوں میں بیٹھے نجی محافل میں جنسی تلذذ سے متعلقہ موضوعات پر بات ہو جائے تو ہنسی آجاتی ہے اور ذہن میں خیال گزرتا ہے کہ ہاں! وہ بھی ایک دور تھا جب آتشؔ جوان تھا۔ اس مفصل کارگزاری کی تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ پورن سائٹ کو دیکھنا ؛ایک انسان کا خود اختیاری عمل ہو سکتا ہے لیکن اس عمل کے پیچھے کوئی ایسا محرک ضرور ہوتا ہے جو آپ کو اس راستے کی آوارگی پر مہمیز کرتا ہے۔
بچپن میں میرے ساتھ اگر یہ واقعہ رونما نہ ہوتا تو شاید میں غیر اخلاقی سائٹس کے متعلق معلومات اور رسائی ہونے کے باوجود دھیان نہ دیتا اور جنسی تسکین کی اس عادت قبیح سے محروم رہتا۔ بطور عبرت کہیے یا سیکھ کی غرض سے جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ اپنے بچوں کو جینڈر ڈیفرنس اور بیسک سیکس ایجوکیشن سے آگاہ کیجیے۔ آپ کے بچے جب مکالمے کی سطح کو پہنچ جائیں تو انھیں بتائیں کہ موبائل فون اور انٹر نیٹ کا درست اور غلط استعمال کیا ہے۔
بچے جب جوان ہو رہے ہوں اور دوستوں اور کلاس فیلوز سے زیادہ وقت صرف کر رہے ہوں اور کمرے میں زیادہ دیر اکیلے بیٹھ رہے ہوں اور بار بار واش روم آتے جاتے ہوں اور صبح دیر تلک سوتے رہنے کی عادت اپنائے جاتے ہوں تو سمجھ لیجیے کہ انھیں کسی نے بہکا دیا ہے یا یہ خود سے بہک گئے ہیں۔ پانچ برس سے پندرہ برس تک کی عمر میں خاص طور سے بچوں کی جملہ حرکات و سکنات پر نظر رکھیں۔ ان کے دوستوں کی پسند و ناپسند پر نظر رکھیں۔
بچپن میں لڑکے ؛لڑکیوں سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ ان کا ریپ ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے۔ یہ ریپ ان کا جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے ہو سکتا ہے۔ بچپن میں لاشعوری اور نادانستہ سرزد ہونے والے واقعات کا انسان کی ذہنی حالت پر بہت منفی اثر پڑتا ہے۔ پورن سائٹ سے مشت زنی تک؛ انسان پل بھر میں نہیں پہنچ جاتا بلکہ اس کے کئی ایک مراحل ہیں جو ہماری نگاہوں کے سامنے مختلف انداز و نوع کی صورت وقوع پذیر ہو رہے ہوتے ہیں لیکن ہم بچہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ایک نسل نے ایک نسل کو نظر انداز کیا ہے تو حالات یہاں تک آ پہنچے ہیں کہ پاکستان گزشتہ پانچ برس سے پورنوگرافی کی سرچنگ اور ڈاؤن لوڈنگ میں نمایاں پوزیشن پر مستحکم ہے۔ سیکس ایجوکیشن کی بنیادی تعلیم سے آگاہی ؛ایک باپ، اپنے بچے کو اور ایک ماں ؛ اپنی بیٹی کو لازمی فرض سمجھ کر دے۔ اس میں شرم، جھجک اور لحاظ کو ملحوظ رکھنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے بچے اس قبیح فعل سے خود کو محفوظ رکھ کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھر پور درست استعمال کریں اور شادی کے بعد خود کو اور آپ کو شرمندہ نہ کریں ؛تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ کو یہ ذمہ داری نبھانا ہی پڑے گی۔



بہت عمدہ اور اچھے طریقہ سے مسئلہ بیان کیا آپ نے پہلے اہل الرائے ڈیسک ٹاپ کے دور میں کہا کرتے تھے کمپیوٹر کسی کامن روم میں رکھوں بچوں کے کمرے میں نہیں اب موبائل کے دور میں وہ طریقہ کار بیکار ہو گیا ہے