اقبال کے شاہین


آج ایک طویل عرصے بعد قلم کشائی کی جسارت کر رہا ہوں۔ اس کی وجہ شدت کے ساتھ ایک کمی کا محسوس ہونا ہے جو مثل ہے پانی کے اس اک قطرے کے جو آتش نمرود میں ایک پرندے کی جانب سے ڈالا گیا تھا۔ جس سے اس آگ پر تو شاید فرق بھی نہ پڑا ہو پر اس پرندے نے اپنا کام کیا۔ میری اب تک کی لکھی تحریروں سے بھی شاید معاشرے میں بدلاؤ تو دور کی بات، کان پر جوں تک نہ رینگی ہوگی۔ پر پھر بھی چند علم و ادب سے تعلق رکھنے والے احباب اور اساتذہ کے کہنے پر اپنے قلبی اور قلمی تسکین کے لیے تحریر کا سلسلہ پھر سے شروع کرنے کا ارادہ کیا۔

9 نومبر کو ’اقبال ڈے‘ کے نام سے سرکاری ملازمین نے چھٹی کر کے منایا اور نجی اداروں کے ملازمین اور کاروباری حضرت اپنے روز مرہ کے معاملات میں مشغول رہے۔ جن کو اس بات کی پرواہ بھی نہیں کہ کل کون سا ڈے یعنی دن ہے۔ ہاں شاید اس وجہ سے یاد ہو کہ اس دن سری لنکا اور نیوزی لینڈ کا میچ تھا۔ جس کی ہار یا جیت پر اقبال کے شاہینوں کا کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں رسائی تک کی امیدوں کا دار و مدار تھا۔ خیر میچ کے فیصلے کے بعد یہ امیدوں کا چراغ بھی بجھ ہی گیا سمجھے۔

اگر دیکھیں تو جیسی حالت ہماری ٹیم کی ہے ویسی ہی ملک کی بھی ہے۔ ہماری ٹیم کی مانند ہی ہمارے ملک کا بھی حال ہے۔ یہاں بھی عالمی اداروں کے آگے اقبال کے شاہین اپنی ساخت کو بچانے کے لیے دوسرے ممالک سے امداد یا قرض ملنے کی امید میں نظر آتے ہیں۔ ملک کے اہم اداروں میں بھرتیاں سفارش اور رشوت کی بنا پر ہونے کی خبریں تو عام ہیں پھر خیر کی امید رکھیں بھی تو کس سے؟ اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا کیا وہ ایسا تھا جو دوسروں کا محتاج ہو؟ جس میں انصاف کے لیے طویل اور کبھی نہ ختم ہونے والا انتظار ہو؟ جس میں قابلیت کے آگے خوشامد، رشوت اور سفارش کا گرم بازار ہو؟ جس میں چھوٹے چور بینڈ اور بڑے چوروں کا راج ہو؟ جس ملک میں رہنے والوں کا دل ملک سے بھاگ جانے کو بیقرار ہو؟ اور جس کے حکمرانوں کو محض اس کو کھانے کا اشتیاق ہو؟

خیر یہ سارے سوالات جو کہ بڑے اہم ہیں پوچھے جا سکتے تھے اگر آج اقبال زندہ ہوتے تو۔ ۔ ۔ پر اب کیا کر سکتے ہیں سوائے چھٹی کرنے کے۔ ویسے اقبال کا ایک مشہور زمانہ شعر

’نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں ’

ہمارے حکمران کچھ یوں سمجھ بیٹھے ہیں کہ انہوں نے عوام کی بنیادی ضروریات جو شہر تو کیا گاؤں میں بھی میسر ہوتی ہیں وہ اس قدر مہنگی کردی ہیں کہ عوام کو اب پہاڑوں پر ہی جاکر بسیرا کرنا ہو گا۔ روزگار کا حصول مشکل اور اگر مل جائے تو تنخواہ اور اخراجات کے بچ بڑا منفی فرق آ جاتا ہے۔ بجلی اپنی چھپن چھپائی کے باوجود بہت مہنگی، گیس جو بقدر سستی مل رہی تھی پر اب وہ بھی مہنگی ہونے کو ہے اور سردیوں میں غائب ہونے کے بھی انتہائی قوی امکانات ہیں۔

پیٹرول کے ریٹ بھی بڑھنے کو بیقرار ہیں۔ باقی کرائے، خوراک، دوا وغیرہ کی بات کو تو جانے دیں۔ تو لب لباب یہ کہ اب پہاڑوں پر رہنا عوام کی اک بڑی تعداد کے لیے برا آپشن نہیں رہا۔ چلیں ہم اپنے حکمرانوں سے بدگمان نہیں ہوتے بلکہ اگر اس کا مثبت پہلو دیکھیں تو اس سے وہ قدرت کے قریب بھی رہیں گے اور ذہنی و جسمانی صحت بھی بہتر ہوگی۔

Facebook Comments HS