مستقبل کی پلاننگ
اس وقت بالخصوص پاکستان اور بالعموم مسلمان ممالک کے بڑے مسائل کسی مذہب سے تعلق ہی نہیں رکھتے۔ وہ عام معاشرت کے مسائل ہیں۔ جدید تعلیم سے جہالت سب سے بڑا سانحہ ہے۔ یہی سانحہ نہ صرف ہمارے تنزل کا ذمہ دار ہے بلکہ ہمیں روز بروز غربت میں بھی دھکیل رہا ہے۔ دنیا بھر کی معیشت زرعی سے صنعتی ہوئی۔ مواصلات کی بہتری سے ترقی کا دوسرا اور انٹرنیٹ سے تیسرا انقلاب بپا ہوا۔ اس وقت ذہانت کی معیشت کا دور ہے۔ اس دور میں صرف جدید علم اور ہنر ہی سے زندہ رہا جاسکتا ہے۔ جب تک ہماری بقا کی سکیورٹی نہیں بنتی ہم میں نہ قومی جذبے کا تصور راسخ ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہم کسی عقیدے کو اچھے طریقے سے اپنا سکتے ہیں۔
قومیں اپنے مستقبل کے لئے آنے والی نسلوں کو سنوارتی ہیں۔ یہ تربیت پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوجاتی ہے۔ ایک بچے کی تربیت اٹھارہ سال لیتی ہے اور گھر سے شروع ہو کر، سکول، کالج اور معاشرے تک سے متاثر ہوتی ہے۔ اب گھر کی تربیت کا انحصار زیادہ تر ماں پر ہوتا ہے۔ گویا ہمیں ایک نسل پہلے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔ یوں معاشرے یا قومی سطح پر کسی تبدیلی کا گمان چالیس سال سے قبل تو ممکن ہی نہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم، لڑکوں سے کہیں مختلف ہوتی ہے۔ سب سے پہلے تو اس کو بچپن سے کم مائیگی کے احساس سے آزاد کرنا ہو گا۔ چھوٹی چھوٹی بہنوں سے بڑے بھائیوں کے کپڑے استری کروانا، چائے بنوانا اور جوتے پالش کروانا ان کو بچپن سے کم تر بنانے کی تیاری ہوتی ہے۔ کھانے پینے سے لے کر کپڑوں اور کھلونوں میں تفریق تک یہ سب کچھ لڑکیوں کی ہمت توڑنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ سکول اور کالج میں کپڑوں کی تفریق سے لے کر رستے میں لڑکوں کے آوازیں کسنے، اساتذہ کے ذومعنی جملے، ٹرانسپورٹ تک ان بچیوں کے رستے کی رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ (آوازے کسنے والے لڑکے انہی ماؤں کی اولاد ہوتے ہیں جو ان کی تربیت نہیں کر سکتیں ) ۔
نہ تو ان کی مائیں ان کو جنسی تعلیم دیتی ہیں اور نہ سکول کے نصاب میں کوئی رہنمائی ہوتی ہے۔ جب بلوغت کے نزدیک ہوتی ہیں تو ان پہ ایک قیامت گزر جاتی ہے۔ سکول و کالج میں نہ ڈھنگ کے واش رومز ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی خلوت کا انتظام ہوتا ہے۔ رمضان میں اگر روزے نہ بھی رکھیں یا مسلمان نہ بھی ہوں تو بھوک و پیاس سے دن گزارنے ہوتے ہیں۔ بلوغت کے بعد ان پر نہ صرف گھر اور معاشرے کی از حد پابندیاں ہوتی ہیں، بلکہ ایک ماہ کے اندر ان کے ہارمونز ان کو چار مختلف ذہنی و جسمانی کیفیات سے دوچار کرواتی ہیں۔
یہ سب کچھ بتانے سے مراد لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم و تربیت میں فرق واضح کرنا ہے۔ تاہم اسکی اہمیت بھی سمجھنی چاہیے کہ ایک لڑکی کی تعلیم ایک پوری نسل کی تعلیم ہے۔ تعلیم کے بعد ان خواتین کو معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے بھی سہولیات ناگزیر ہیں۔
تمام مذاہب اپنے پیغمبروں اور بانیوں کی وفات کے کچھ عرصے تک اسی دنیاوی زندگی کے لئے اچھے اصول طے کرتے ہیں۔ تاہم بعد میں ان کے مذہبی رہنماؤں میں پھوٹ پڑ جاتی ہے، فرقے بن جاتے ہیں، عوام پر پیر تسمہ پا کی طرح مسلط ہو جاتے ہیں اور کسی نئے علم یا دریافت کی مخالفت میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ مسلمان سائنسدانوں سے لے کر یورپی اہل علم کی مخالفت تمام مذاہب نے کی ہے۔ ستاروں اور زمین کی گردش سے لے کر پرنٹنگ پریس کی مخالفت عیسائی راہبوں اور مسلمان مذہبی مشائخ نے یکساں کی ہے۔
جس طرح ہم پاپائیت کو صحیح نہیں سمجھتے۔ اسی طرح یہودیوں کے یشیوا، ہمارے مدارس یا ہندو پروہت اور داسیوں کی زندگی بھی خلاف فطرت ہیں۔ بچپن سے مذہب کے بنیادی اصول اور عبادات سکھانا والدین کی مرضی اور ذمہ داری ہے۔ لیکن انہیں گھروں سے دور رکھ کر مذہب کی خود ساختہ سختیاں جھیلنے دینا ان پر ظلم ہے۔ ان کا بچپنا کہاں گیا؟ بلکہ آج کل کے پرائیویٹ سکولوں کے ہوم ورک نے بھی ان کو اپنے بچپنے سے محروم کر دیا ہے۔ یہ پورا نصاب بھی بدلنا چاہیے۔
اس لئے ضروری ہے کہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ والدین ان کو وقت دیں۔ ان کو کھیلنے کے مواقع فراہم کریں۔ ان کے سکرین ٹائم کو آسانی کے ساتھ تعلیمی کھیلوں میں کھپایا جاسکتا ہے۔ ان کو سوال ڈالنے کی عادت ڈلوانی چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر والدین کو اپنے کردار سے ان میں سچائی، دیانت، صفائی اور اچھے اخلاق کی عادتیں پیدا کرنی چاہئیں۔
بچپن اور لڑکپن میں جسم کے اندر نیوکلیر توانائی ہوتی ہے۔ اگر اسے کارآمد اخراج کا رستہ نہ ملے تو ایٹم بم کی طرح تخریبی انداز میں استعمال ہوتی ہے۔ اگر اپنے بچوں اور اگلی نسل کو نشے، فحاشی، تشدد اور خود کشی (خواہ مذہب کے نام پر ہو) سے بچانا ہو تو اس توانائی کے اخراج کے لئے مختلف کھیلوں کو ترویج دینی ہوگی۔ پچھلی حکومت نے کم از کم کے پی کے تقریباً تمام اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس بنا لیے تھے۔ ان کی ترقی کا تسلسل ہونا چاہیے۔
جگہ جگہ پرائیویٹ جیم، سوئمنگ پولوں اور کھیلوں کے گراؤنڈز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس ٹرینڈ کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ نوجوان لڑکے ون ویلنگ میں اپنی زندگیاں دباؤ پر نہ لگائیں، شراب، ہیروئن اور نت نئے نشوں سے اجتناب کریں تو ہر سکول کالج اور یونیورسٹی میں کھیلوں کو ضروری قرار دیں۔ یقین مانیں جب میں کسی یونیورسٹی کے سوئمنگ پول یا جیم سے زنانہ ٹائم کے بعد جوق در جوق ہر عمر کی خواتین کو نکلتے دیکھتا ہوں تو شکریے کی ایک دعا دل سے نکلتی ہے۔ اور پھر باہر انتظار کرتے نوجوانوں کو نظریں نیچے کیے ان خواتین کو رستہ دیتے دیکھتا ہوں تو معاشرے میں کھیل اور ورزش کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے۔
مذہب کے نام پر جہاں ایک طرف اہم اخلاقیات کی تدریس سمجھ میں آتی ہے، دوسری طرف مالی حرص کا ایک نہ ختم ہونے کھیل بھی بہت بڑی سطح پر کھیلا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ سلسلہ پوری دنیا میں کسی نہ کسی نام سے موجود ہے لیکن پسماندہ ممالک میں کچھ زیادہ ہی اثر انداز ہے۔ مثال کے طور پر بھارت کے چند بڑے مندر سالانہ چالیس ارب ڈالر کماتے ہیں۔ ہمارے ہاں مختلف مزار اور سجادہ نشین نہ صرف اربوں کھربوں روپے سالانہ کماتے ہیں بلکہ حال ہی میں ایک مدرسے مہتمم فوت ہوئے اور ان کے ورثاء عدالت تک پہنچے تو معلوم ہوا کہ موصوف کے صرف بینک اکاؤنٹس میں پانچ ارب روپے سے زائد رقم پڑی ہوئی ہے۔ یہی مدرسہ اپنے علاقے کی بھتہ خوری میں بھی ملوث ہے۔
یہی رقم کسی نہ کسی رستے سے مزید جرائم کو جنم دیتی ہے اور آخر میں سیاست میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ اسی مالی کرپشن کی وجہ سے جگہ جگہ مساجد کی تعمیر کے نام پر چندے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ بہت کم مسجدیں ہیں جو دہائیوں میں بھی تعمیر نہیں ہو پاتیں کہ چندے کی ترسیل ہی تو سب کچھ ہے۔ یہی مالی کشش ہے جو ہر مذہب میں مختلف فرقے بنانے میں اہم کردار ہے۔ ہمارے ملک میں اسلحے کی فراوانی، ایک خودکش دور اور تشدد کی ترویج قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔ معذوروں کی ایک بڑی تعداد اتنے ہی خاندانوں کو امتحان میں مبتلا کر دیتی ہے۔ نوجوان جو اس تشدد کے لئے تربیت پاتے ہیں، ان کو بھی اس حسن بن صباح کے جنت کے تصور سے نکلنے کے لئے لمبے عرصے کی مہلت چاہیے۔
چونکہ اس ملک میں ہر قدم پر اسلام کے نام پر سب کچھ ہوتا ہے خواہ وہ اچھا کام ہو یا برا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس نام کا تقدس بحال کیا جائے۔ تمام مساجد کو صرف مسلمانوں کے لئے مختص کیا جائے اور ان پر سے فرقہ وارانہ ٹائٹل ختم کیے جائیں۔ اس کی مثال پہلے ہی گلگت بلتستان میں موجود ہے جہاں سنی شیعہ مساجد ایک ہی ہیں اور دونوں اپنے اپنے طریقے سے نماز پڑھتے ہیں۔
ہر فرقے کی ابتدا ایک معصوم سے جشن یا جلوس سے ہوتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے قومی تعطیل، رستوں کی بندش، بجلی کے ناجائز استعمال، خیرات کے نام پر فضول خرچی اور انتہا پر فرقہ وارانہ فسادات پر منتج ہوتے ہیں۔
عقائد کے اتنے تصادم میں سب سے بڑا سانحہ کسی قوم کے عقل و خرد کا ہوتا ہے۔ عوام کسی نہ کسی روایت یا معجزے کی ”برکات“ کا شکار ہوتے ہیں۔ کہیں پھلوں پہ اللہ اور بزرگوں کے نام نکلتے ہیں اور کہیں مخالف تاجر جوتوں میں اللہ کے نام تلاش کر کے دکان نذر آتش کرواتے ہیں۔ مذہبی پیشواؤں کی چاندی ہوتی ہے تو دوسری طرف روٹی پر اللہ کے نام نکلوانے والی خاتون مرجع خلائق بن جاتی ہے۔ ہر موسم گرما میں ایک مخصوص ڈرنک کی بائیکاٹ مذہبی بنیاد پر شروع ہوجاتی ہے۔ اسلام آباد کی اچھی خاصی ٹرانسپورٹ، دوسرے ٹرانسپورٹروں نے ڈینش کارٹون کے نام پر جلادی تھی۔ ان فراڈوں سے بچنے کے لئے قانون کا استعمال ضروری ہے۔ لاؤڈ سپیکر کے لائسنس ہونے چاہئیں اور لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی پر استعمال کنندہ کو بلا کسی رعایت کے جیل بھجوانا چاہیے۔
ہر مذہب میں خیرات و صدقات پر زور دیا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان میں اس کے مہلک اثرات اب ظاہر ہو رہے ہیں۔ ہمارے لئے تو خیرات بھی عذاب بن گئی ہے۔ حکومت نے کچکول کیا اٹھایا ہے کہ پوری قوم ہی بھکاری بن گئی ہے۔ گداگری کے نت نئے طریقے ایجاد ہو رہے ہیں۔ ایک سٹڈی سامنے آئی ہے جس میں بھیک کے دھندے سے دو کروڑ کے لگ بھگ عوام منسلک بتائے جاتے ہیں۔ یہ ایک دوسری انڈسٹری ہے جو پھل پھول رہی ہے۔ ہٹے کٹے مشٹنڈے اور نوجوان عورتیں بھیک کے سہارے ہزاروں روپے روزانہ آرام سے کماتے ہیں۔
ہر چوراہا اب باقاعدہ نیلام ہوتا ہے۔ اس سے جہاں یہ بیکار نوجوان جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں، وہاں ایک بڑی آبادی کسی ہنر و تعلیم کے بغیر رہ جاتی ہے اور ملکی پیداوار میں حصہ لینے کی بجائے قومی پیداوار پر بوجھ بن جاتی ہے۔ قوانین پہلے سے موجود ہیں لیکن ان کا نہ صرف اطلاق ضروری ہے بلکہ عوام کی آگاہی ایمرجنسی سطح پر بھی ناگزیر ہے۔
دوسری طرف زکوٰۃ، خیرات و صدقات کا رخ ہنر سکھانے اور ان مستحق افراد کو اپنے طور پر کمانے کے قابل بنانے کی طرف کرنا ہو گا۔ تمام خیراتی اداروں بشمول مساجد کے رجسٹر ہونے چاہئیں اور ان کو صرف آن لائن چندہ جمع کرنے کی اجازت ہو۔ اب تو ایس ایم ایس سے بھی چندہ دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح سے یہ خیراتی ادارے حساب کتاب کے لئے جوابدہ ہوں گے۔ جمعے کے خطبے بھی چندے کی ڈبیا کی رفتار سے نہیں ہوں گے۔ بھکاریوں کی آمدن پر بھی فرق پڑے گا۔
خیراتی ادارے بے تحاشا فنڈ جمع کرتے ہیں۔ تاہم اچھے اچھے نامور اداروں کا آڈٹ نہیں ہوتا۔ کرپشن اقوام متحدہ کے اداروں میں عام ہے تو ہم تو بہت گئے گزرے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک ادارے کا ایڈمنسٹریشن خرچہ پچانوے فیصد ہے۔ یعنی سو روپے کی اعانت ان کو ملتی ہے تو اس میں سے صرف پانچ روپے مستحق تک پہنچتے ہیں۔ پھر یہ بھی تحقیق کی جائے کہ ان رقوم سے مذہبی مدارس تو نہیں چلائے جا رہے، مستحقین کو نقد رقوم تو نہیں دیے جا رہے۔
ان تمام رقوم سے ہنر اور جدید تعلیم کے ادارے قائم کیے جائیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے قرضہ حسنہ دیا جائے۔ بیوہ خواتین کو کاروبار شروع کرنے کے لئے بلا سود قرضہ دیا جائے۔ علاج کے لئے ایسے ہسپتال بنائے جائیں جو شوکت خانم کی طرز پر صاحب حیثیت مریضوں سے فیس لے کر غریبوں کا علاج رعایت سے کریں (مفت کے علاج سے وہی گداگری عود کر آئے گی) ۔
آخر میں پھر سے اسلام کے پرستاروں سے استدعا ہے کہ مساجد کو کمیونٹی سنٹر بنائیں جہاں دن میں پانچ مرتبہ مرد، خواتین اور بچے آئیں۔ اللہ سے گفتگو کریں۔ پھر آپس میں ملیں۔ ایک دوسرے کی ضروریات جانیں۔ واقفیت بڑھائیں۔ بچے دوڑ کر شور مچائیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ دکھ سکھ میں شرکت کریں۔ اسے نکاح اور جنازے کا مرکز بنائیں۔ آپس میں کھانے شیئر کریں۔ بچوں کی تربیت پر سیمینار کریں۔ بچوں کی پڑھائی میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔
رشتوں کی تلاش میں ملیں۔ بچوں کے لئے ویک اینڈ پر مختلف دلچسپیاں رکھیں۔ اپنے علاقے کے مسائل کے لئے تجاویز دیں۔ کسی سیاستدان یا سرکاری افسر سے ملنے کے لئے یہی سنٹر استعمال کریں۔ خطیب کو پابند بنائیں کہ جمعے کا خطاب اس وقت کے مسائل پر تیار کریں۔ ہر دوسرے تیسرے جمعے کو کسی نوجوان کو خطبے کے لئے تیار کریں۔ تمام مقتدیوں سے باری باری جماعت، نمازجنازہ اور نکاح پڑھوائیں۔ غرض اسے اپنے علاقے کا مرکز بنائیں۔ غیر مسلموں کو بھی دعوت دیں۔ اور یہی دراصل یہی اقیموالصلوٰۃ ہے۔


