وقت کرتا ہے پرورش برسوں: سموگ اور ہمارے شہر
کیسی ہو؟
ٹھیک ہوں۔
کچھ جان پہچان ہوئی؟
ہو رہی ہے۔
شہر کیسا لگ رہا ہے؟
خاموشی۔
دل نہیں لگ رہا؟
لگ جائے گا۔
تو پھر بجھی بجھی اور پریشان کیوں ہو؟
پھر چپ کا وقفہ۔ اور جب فون بوتھ کے دوسری طرف رندھی ہوئی آواز گئی تو یہ تھی:
ابا! یہاں کے آسمان پر تو ستارے ہی نظر نہیں آتے۔
بیس سال پہلے جب وہ پڑھنے اس شہر کی جامعہ آئی تھی۔ تو بولائی بولائی پھرتی تھی۔ دن تو پھر بھی گزر جاتا تھا لیکن شام سے صبح کاذب تک کا وقت بہت گراں رہتا۔ بند کمروں میں گرمیوں کی شامیں گھٹن زدہ اور ساری راتیں جلے پیر کی بلی بنی رہتیں۔ کبھی کمرا، کبھی راہداریاں، کبھی ٹیرس، کبھی چھت وہ بے چین رہتی۔ دو منزلہ ہوسٹل کے ٹیرس پر وہ بیٹھی آسمان دیکھتی تو اور مایوسی، اور بے کلی ہوتی۔ فلک گدلا لگتا اور تارے شاذونادر یا ندارد۔ اور یہ منظر اس کا دل مزید دہلاتا۔
وہ جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے زرعی ضلع کے ایک شہر سے لاہور آئی تھی۔ جو اس بھاگتے، دوڑتے شہر کے مقابلے میں ایک گاؤں ہی تھا۔ جہاں مرکزی شاہراہوں کو پار کرنے کے لئے بھی دور سڑک پر آتی ایک بس، گاڑی یا موٹر سائیکل کے گزرنے کا انتظار کیا جاتا تھا۔ فاصلے سہل اور قدموں پر طے کیے جاتے تھے۔ برینڈز کی کسی کو خبر نہ تھی۔ ریستوران، ہوٹل کا وجود نہ تھا۔ زرعی زمینیں حد نگاہ سے اوجھل نہ تھیں۔
زندگی کے اٹھارہ سال تک اس کی زندگی میں آسمان کی وسعت، چاندنی، ستاروں کی دمک، سورج کی روشنی اور تازہ ہوا کا اتنا کال نہیں تھا۔ گھر بڑا، صحن، دالان موجود تھے۔ لیکن پھر بھی گرما، سر شام ہی سیمنٹ کی دیواروں سے باہر کھلے صحن میں بیٹھنے کو دل ہمکتا۔ رات ادھر ہی یا پھر چھت پر چارپائیاں بچھتیں۔ اماں، ابا کو دباتے، آنکھیں اوپر آسمان تکتی رہتیں۔ تارے گنتیں۔ چاند کا بڑھنا، گھٹنا ملتا۔ تاروں کا ٹوٹ کے گرنا اور شمال کی طرف سات ستاروں کا جھرمٹ جسے دب اکبر کہتے ہیں، اسے ڈھونڈتے، اسے دیکھے بنا تو بستر پر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور اگر لیٹنے کے بعد بھی نیند مہربان نہیں ہوتی تھی تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ماہتاب کی ابتدائی تاریخیں ہوتیں تو ٹھنڈی روشنی ہمہ وقت موجود۔
اور اب جو کچھ پڑھنے کی لگن اس شہر تک لائی تھی تو ہوا، روشنی، صفائی، خاموشی، شور، حسن اور شہری زندگی کے سارے معیار ہی بدل رہے تھے۔ اپنے باپ سے کیے اس شکوے کے علاوہ اس نے کبھی نئے ماحول کی تبدیلیوں کا ذکر نہیں کیا کہ بڑی جامعات کو دیکھنے اور ان سے سیکھنے کا عشق تھا۔ لیکن اگلے سات سال، نجانے کتنی بار وہ سانس کی شدید تکلیف کا شکار رہی۔ کھانسی، گلا خراب، اسپتال ایمرجنسی کی دوڑ۔ تب یوں لگتا تھا کہ اب وہ ہمیشہ اس بیماری کے ساتھ جیے گی۔
لیکن ایک دہائی وہاں گزار کر جب اس نے وہ شہر چھوڑا تو وہ ساری اذیت گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو گئی۔ لاہور نے اسے بہت کچھ دیا، ڈگری، علم، اساتذہ، تجربے، روزگار، احباب، پہچان۔ باوجود اس سب کے اسے اب بھی جب پروفیشنل یار دوست اس شہر میں دوبارہ مستقل رہائش کے لئے کہتے ہیں تو اس کا سر بے اختیار نفی میں ہلتا ہے۔ ویزا، فلائٹس اور ایسے کئی کاموں کے لئے جب آئے دن ادھر کا رخ کرنا پڑتا ہے تو بھی وہ شش و پنج کا شکار رہتی ہے لیکن خود کو شفٹ ہونے پر آمادہ نہیں کر پاتی۔
نوکری، کاروبار، اور ذاتی زندگی کی خاطر لگنے والے چکر اس شہر کی مزید بدلتی حالت آشکار کرتے رہتے ہیں۔ دو دہائیاں پہلے جس شہر کی راتیں ستاروں سے خالی ہو رہی تھیں۔ آج بانجھ ہو گئی ہیں۔ سورج کی کرنیں زمین تک پہنچتی ہی نہیں۔ دن رات کا فرق سموگ کی بھوری یا سلیٹی رنگ کی تہہ نے ختم کر دیا اور سانسیں زہریلی کر دی ہیں۔ آنکھ کھلے تو چبھن، منہ کھلے تو زہر۔
اس لئے آئیے سمجھتے ہیں سموگ کیا ہے؟ یہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے : ’سموک یعنی دھواں‘ اور ’فوگ یعنی دھند‘ ۔ مختصراً دھوئیں کی دھند۔ جن کا استعمال پہلی بار انیسویں صدی میں برطانیہ میں صنعتی انقلاب اور اس میں کوئلے کا بطور ایندھن بننے اور نتیجتاً پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کے لئے ایچ۔ اے ڈیس ووئیکس نے کیا۔ جس کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں : سلفرس سموگ جسے لندن سموگ بھی کہتے ہیں (جو فضا میں سلفر کی مقدار بڑھنے سے ہوتا ہے ) ۔
فوٹو کیمیکل سموگ جس کا دوسرا نام ’لاس اینجلس سموگ بھی ہے (شہری علاقوں میں آٹو موبائلز سے نکلنے والی نائٹروجن آکسائیڈ گیس، ہائیڈرو کاربنز کا سورج کی روشنی سے ملاپ، اس کا سبب ہے۔ جو اوزون کو فضا کی نچلی سطح پر پیدا کرتا ہے اور یہ انسانی صحت کے لئے خطرناک ہے ) ۔
لاہور، بمبئی، دہلی اور اس جیسے سبھی شہروں میں ’فوٹو کیمیکل سموگ‘ کا راج ہے۔ اور اس مسئلے پر پچھلے کئی سالوں سے بات کی جا رہی ہے۔ تاکہ مسئلے کی نوعیت اور مقدار کا احساس پیدا ہو اور ممکنہ اقدامات بر وقت کیے جا سکیں۔ لیکن باقی بہت سارے مسائل سے نظریں چرانے کا جو وتیرہ ہم نے قومی، سماجی اور انفرادی سطح پر اپنا رکھا ہے۔ اس کے کرم سے اب ’سموگ‘ کو لاہور کا پانچواں موسم کہا جانے لگا ہے۔ دس سال پہلے جو مسئلہ صرف لاہور کا تھا۔ اب اس نے اس کے گردونواح میں چھ، سات سو کلو میٹر تک رقبہ اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اور ملتان، وہاڑی، بورے والا، ساہیوال، اوکاڑہ، میلسی جنوب کی طرف اور گوجرانوالہ، شیخوپورہ، نارووال، مرید کے کو مشرق کی سمت آلودہ کر دیا ہے۔ لیکن ’شارٹ ٹرم لاک ڈاؤن‘ ، ’ماسک پہننے کی ہدایات‘ اور وقتاً فوقتاً چھٹیاں کرنے کے علاوہ ہم نے کیا کیا ہے؟
گزشتہ دس برسوں میں گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کو کتنے پبلک ٹرانسپورٹ کے پراجیکٹس متعارف کروائے ہیں؟ اس کے برعکس سڑکوں کو مزید کشادہ کرنے پر بے تحاشا بجٹ لگایا ہے۔
’انرجی ایفیشنٹ‘ کتنے متبادل ایندھن ہم مارکیٹ میں لائے اور ان کے فروغ کے لئے کوشش کی ہے؟
کتنی ہاؤسنگ اسکیمز کو ہم نے ’واک ابیلیٹی‘ کے اسکیل پر ڈیزائن کیا ہے؟
کتنی سموگ سے متعلقہ آگاہی مہمات ہم نے شروع کی ہیں؟ کتنی ’ایمرجنسیز‘ نافذ کی ہیں؟
کتنے ماحولیاتی جرمانے، سزائیں، اور قوانین اس سلسلے میں منظور اور نافذ کیے ہیں؟
کتنے درختوں کو کٹنے سے بچایا اور کتنوں کو کمرشل شجر کاری مہم سے پرے، در حقیقت اگایا ہے؟
یہ سب اور اس سے متعلقہ کاموں کو کرنے کے لئے اصل میں ہمیں شہروں کو ’زندہ جاندار یعنی لونگ آرگنزم‘ کی طرح سوچنا ہو گا۔ تب موثر، پائیدار، اور بہتر حل بھی نکل سکتے ہیں۔ ورنہ ’ڈنگ ٹپاؤ‘ اور ’ایڈہاک‘ علاج کبھی بھی بیماری کا جڑ سے خاتمہ تو کجا عارضی آرام بھی نہیں پہنچا سکتے۔ جس کی زندہ مثال ہمارے شہروں کے بے نور آسمان اور اندھی ہوتی زمین ہے۔
نوٹ: 8 نومبر ہر سال ’عالمی یوم اربنزم‘ جسے ’ورلڈ ٹاؤن پلاننگ ڈے‘ بھی کہتے ہیں، کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چونکہ مصنف اربن پلانر ہے، جس کی ڈاکٹریٹ ’بصری آلودگی یعنی وژیول پلوشن‘ میں ہے۔ اس لئے کوشش ہو گی کہ اس مہینے ساری تحریریں ٹاؤن پلاننگ کے حوالے سے ہوں۔


