طرز حکمرانی۔ کرکٹ سے لے کر کرکٹ تک


انگریزوں کی روشناس کرائی ہوئی کئی چیزوں میں سے کرکٹ ایسا کھیل ہے جو کہ برصغیر کے لوگوں کے خون میں بسا ہوا ہے۔ شروع میں امیروں کے کھیل سے جلد ہی غریبوں تک پہلے شہروں اور پھر ہر گاؤں اور ہر محلے تک پھیل گیا۔ آزادی کے بعد ، جلد ہی پاکستان نے دنیا کو دکھانا شروع کیا کہ وہ ہاکی کے علاوہ کرکٹ میں عالمی سطح پر اک اہم طاقت ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے رنگ ڈھنگ میں بہت بدلاؤ آیا ہے۔ 1971 کی شروعات میں ٹیسٹ میچ کے ساتھ ساتھ اک دن۔ ون ڈے کرکٹ کو پذیرائی ہوئی۔ 1975 کے پہلے عالمی کپ (جو ویسٹ انڈیز نے جیتا) سے لے کر ہندستان میں کھیلے جانے والے 13 ویں عالمی کپ تک ”ون ڈے کرکٹ“ دنیائے کھیل کے مقبول ترین ایونٹس میں سے اک ایونٹ ہے! اگرچہ بیس اور والی ٹی ٹونٹی نے اس خوبصورت کھیل میں نئے رنگ بھر دیے ہے لیکن اب بھی ون ڈے کرکٹ میں عالمی دلچسپی قائم ہے۔

آسٹریلیا اس دفعہ کوشش کرے گا کہ وہ چھٹی بار عالمی چیمپین بنے۔ ہندستان اس کو تیسری بار جیتنے کی کوشش کرے گا۔ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ اپنے پہلے کپ اٹھانے کے لیے خواہش مند ہوں گے۔ سری لنکا، انگلستان اور پاکستان جو 2019، 1996 اور 1992 والے کپ جیت چکے ہیں، وہ سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہیں!

اپنے ملک اور قوم کے لیے جیتنا، اور اپنے اپنے ملک کا نام روشن کرنا ”اولمپک گیمز“ کی طرح کرکٹ کے شروعاتی دؤر کا خاصہ تھا۔ پھر یہ ہوا کہ آسٹریلیا کے کیری پیکر نے ستر کی دہائی میں ( 1977 ) کمرشل کرکٹ کا رواج ڈالا!

انگلستان میں کاؤنٹی کرکٹ تو پہلے سے کھیلی جاتی تھی اور پوری دنیا کے کرکٹ کھیلنے والے ممالک سے پلیئر اس میں حصا لیتے رہے ہیں اور اب بھی لے رہے ہیں۔ اس کا معقول معاوضہ بھی ملتا ہے۔ لیکن کیری پیکر کے دیے ہوئے کمرشل شکل، وقت کے ساتھ ترقی کرتے ہوئے پاکستان سپر لیگ یا انڈین پریمیر لیگ کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ کرکٹ میں بہت زیادہ پیسا، گلیمر، کاروبار، شرطیں اور مارکیٹ فورسز آ گئے۔

تاریخی طور پر کرکٹ کھیلنے والی قومی ٹیم کو ہاکی کے میڈل جیتنے والی ٹیم سے کہیں زیادہ مالی فائدے ہوئے تھے۔ لیگ سسٹم نے فٹ بال کے بعد شاید کرکٹر کے لیے پیسے اور شہرت کے نئے دروازے کھول دیے۔ ایسے حالات میں قومی ٹیم کا ملک کے لیے کھیلنے، جیتنے اور اپنا معیار برقرار رکھنے کے لیے اپنے اپنے ملک کے کرکٹ بورڈ/ادارے کو بہت اہم کام کرنے تھے۔ جس میں میرٹ، ٹیلنٹ کو ڈھونڈ کے آگے بڑھانا، کھلاڑیوں کی صحت، ورزش، نفسیاتی مضبوطی کا خیال رکھنا، ان کو کرکٹ میں جوا کھیلنے والے بہت بڑے اور طاقتور مافیا سے دور رکھنا شامل ہے۔

کیری پیکر نے کرکٹ کو یک سر تبدیل کر دیا تھا۔ اس سے پہلے یہ کھیل نیم شوقیہ/نیم پیشہ ورانہ تھا، جس میں انتظامی طور پر اور مارکیٹنگ کے لحاظ سے معاش فراہم کرنے کی صلاحیت تھی۔ شاید اب کسی کو یاد بھی نہ ہو کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے اہم ترین کھلاڑیوں، عمران خان، ظہیر عباس، ماجد خان اور مشتاق احمد نے کیری پیکر کے عالمی سیزر کے لیے ( 1977 میں) معاہدے کیے تھے۔

انگلینڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کو چھوڑ کر ”پیسوں کے خاطر“ کھیلنے والے کھلاڑیوں پر پابندی لگا دی تھی! 78۔ 1977 کی انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے دؤرے پر تھی۔ پاکستان کے ٹیم کے اہم کھلاڑی پابندی جھیل رہے تھے۔ عوام کا دباؤ تھا کہ ان کے ہیرو کھلاڑی، انگلینڈ کے خلاف کھیلیں۔ اور یہ دکھائی دے رہا تھا کہ شاید تین کھلاڑی اس دورے کے آخری ٹیسٹ میں جو کراچی میں کھیلے جانا تھا، اس میں شامل ہوں (اس کے پہلے دو ٹیسٹ ڈرا/برابر ہو چکے تھے ) ۔ ان خیالات کی تصدیق اس وقت ہوئی جب یہ خبر بریک ہوئی کہ ظہیر عباس، عمران اور مشتاق آسٹریلیا سے واپس آ رہے ہیں!

انگلستانی کیمپ ناراض تھا کہ جب دونوں بورڈز نے کیری پیکر سیریز میں گئے ہوئے کھلاڑیوں کو نہ کھلانے کا وعدہ کیا تھا تو پاکستان اب ان کو کیوں کھلا رہا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر مرحوم وسیم راجا، مشتاق احمد سے پنی جگہ کھونے کے امکان پر اتنے پریشان تھے کہ انہوں نے اپنی دااڑھی منڈوا دی اور ریٹائرمنٹ کا سوچا! خیر آخری ٹیسٹ میں کیری پیکر جانے والا کوئی کھلاڑی نہیں کھیلا۔

پاکستان کرکٹ میں یہ اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ اس دفعہ، سید عمران شفقت کے ولاگ کے مطابق، ہندستان جانے سے پہلے پاکستانی ٹیم بشمول کپتان کے اپنے کانٹریکٹ کا اجرا نہ ہونے کی وجہ سے ہندستان نہ جانے کی دھمکی دی تھی اور پھر رات کے اندھیرے میں ان کے کانٹریکٹ سائن ہوئے!

پاکستان کرکٹ بورڈ، پاکستان کے باقی اداروں کی طرح سیاسی حکمرانوں اور بڑے لوگوں کی ترجیحات کے حساب سے چلایا جاتا رہا ہے۔ اگر کوئی قابل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل قیادت آئی ہے تو اس کو یا تو چلنے نہیں دیا گیا یا تو پھر ان کے اثر اندازی کو محدود کیا گیا ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ، بورڈ کی انتظامیہ اور قیادت میں بھی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ سارے عمل حکمرانی اور سیاسی ترجیحات کا نتیجا ہوتے ہیں۔

ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں کھیلوں کے شعبے کے لیے شاید پیسے میسر نہیں ہوتے اس لیے بتدریج ہم کھیلوں میں عالمی طور پر کوئی خاص مقام حاصل نہیں کر سکے۔ لیکن پیسے سے بھی زیادہ اہم سبب ہماری ادارتی طرز حکمرانی ہے جو ”اپنوں کو نوازنا“ ”ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا“ اور ”اور کسی کا کیا واسطہ، ہم ہی مالک ہیں“ جیسے مفروضات پر چلتی ہے!

کرکٹ کھیل کے ساتھ اک آرٹ اور سائنس بھی ہے۔ بلکہ اس موضوع پر باب وولمر کی کتاب ”آرٹ اینڈ سائنس آف کرکٹ“ اہم حیثیت رکھتی ہے۔ آسٹریلیا کے عظیم کرکٹر کامینٹیٹر اور کرکٹ کے تھنک ٹینک ”رچی بینیو“ کے لکھے تعارف کے ساتھ، چھ سو سے زیادہ صفحات پر لکھی ہوئی اس کتاب کو شاید ہمارے ہاں کرکٹ کے کرتا دھرتا فیصلہ سازوں نے پڑھا بھی ہو! باب وولمر کی 2007 کے عالمی کپ کے بعد جس میں وہ پاکستان کے کوچ تھے، اور پاکستان بری طرح ہارا تھا، دل کے دورہ کی وجہ سے موت واقعہ ہوئی تھی۔ اس کے بہت سے طبعی اسباب ہو سکتے ہیں، لیکن شاید پاکستان کی شکست کو وہ بھی اپنی دل پر لے گئے تھے۔

کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ جب دو ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے تو اک کو جیتنا اور اک کو ہارنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی ٹیم بغیر مقابلہ کرے، پیشہ ورانہ مظاہرہ کر کے، نتیجے سے پہلے ہتھیار پھینک دیتی ہے تو پوچھا جانا لازم ہوجاتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہے!

اگر ہم پاکستان کی حالیہ کارکردگی دیکھیں تو یہ سوال اٹھانا اس لیے اہم بنتا ہے کہ ہم اپنی غلطیاں ڈھونڈھ سکیں اور ان کو سدھار سکیں! عجب بات یہ ہے کہ اپنی طرز حکمرانی کے حوالے سے ہمارا استدلال یہ ہے کہ ہمارا طریقہ ہی بہتر ہے۔ جبکہ عالمی تجربات اور تحقیقات کا استدلال ہے کہ کھیل میں کامیابی اور فضیلت کے حصول میں چار اہم اجزا جسمانی، تکنیکی، حکمت عملی (ٹیکنیکل) اور ذہنی مہارت شامل ہیں!

جب بڑے قومی اور عالمی مقابلے ہوتے ہیں تو کھلاڑیوں کی زیادہ طور پر جسمانی، تکنیکی اور ٹیلنٹ کی مہارت عموماً اک جیسی ہوتی ہیں، لیکن زیادہ طور پر وہ کامیاب ہوتے ہیں جو کہ ذہنی طور پر مضبوط ہوتے ہیں! ذہنی مہارت اور کھیل کی جانکاری دو ایسے اہم عناصر ہیں جس پر فوکس کیے بغیر اس دؤر میں جیتنا آسان نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیم کی مدد کے لیے بہت سے کوچ، فزیو، اور نفسیاتی ماہر رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر عالمی ماہر ہیں۔ لیکن ان کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سیاسی ترجیحات کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں ہوتا ہو گا۔ اور پھر نوکری تو ہر اک کو کرنی ہوتی ہے۔

ہاکی کے دیوانوں کو تو یاد ہو گا کہ ہم نے اپنا آخری اولمپک طلائی کا تمغہ لاس اینجلس اولمپکس 1984 ء میں جیتا تھا۔ اس کے بعد جلد ہی چند سالوں میں ہاکی میں ہماری جیت کی زمین بنجر ہو گئی! اک تحقیق کے مطابق اس اولمپک میں طلائی تمغہ جیتنے والے وہ تھے، جن کی ذہنی مہارت اور تربیت بہتر تھی، باقی جسمانی اور تکنیکی مہارتیں تو تقریباً اک جیسی ہی تھیں!

اگر ہم عالمی کرکٹ کپ میں پاکستان کے کھیلے گئے مئچوں کا تجزیہ کریں گے تو ہمیں مجموعی طور پر ذہنی مہارت اور مضبوطی کی کمی کپتان سے لے کر پوری ٹیم میں نظر آئے گی۔

باب وولمر نے (نوکس اور موفیٹ کے ساتھ) ”آرٹ اینڈ سائنس آف کرکٹ“ میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ کرکٹ میں کامیابی نوے فیصد پیشہ ورانہ کھیل اور صرف دس فیصد خام ٹیلنٹ کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور عجب بات یہ ہے کہ سب کے سب کھلاڑی اپنے وقت کا تقریباً سو فیصد کارکردگی کے جسمانی اجزاء پر عمل کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ بہت سے کھلاڑی اپنی خام ٹیلنٹ اور خداداد صلاحیت کو بڑے کامیاب کیریئر میں اس لیے تبدیل نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اپنے کھیل کے ذہنی پہلو پر دھیان نہیں دیتے!

امید تو کی جا سکتی ہے کہ ایشیا کپ سے لے کر اب تک کی متواتر شکستوں سے پاکستان میں فیصلہ ساز سبق حاصل کریں گے اور کرکٹ بورڈ سے لے کر کھلاڑیوں کی سلیکشن تک شفافیت کو برؤئے کار لائں گے۔ کرکٹ کی اسٹرکچر کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان کی ہر اک اکائی کے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو مواقع دیں گے۔ اور بڑے بڑے رہائشی منصوبے اور ان کے مالکان کو زمین دینے کے بجائے عام لوگوں کے بچوں کے لیے شہروں، گاؤں، قصبوں، محلوں میں کھیلوں کے میدان بنائیں گے! سفارش اور اپنے اپنوں کو نوازنے کی روش ختم کر کے سب کو شامل کریں گے۔ آخرکار سب پاکستانی اپنے ہی تو ہیں!

اس آرٹیکل کو لکھنے کے لیے مندرجہ ذیل کتب اور آرٹیکل کی مدد لی گئی۔

1. Woolmer, R.A, Noakes, T,s Moffet (2008) bob woolmers ’Art and science of cricket], captown, straik publishers.

2. Rossw (2009) Personal Development: the psychology of cricket.
3. Gucciardi, D (2016) Mental Toaghness: conceptualization, measurement and development.
4. Julius Joaste (2012) The Relationship Between Mental skills and level of cricket Participation.

Facebook Comments HS