بلوچستان کی جامعات میں ہو کیا رہا ہے
ہو سکتا ہے اس سوال سے آپ کے ذہن میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور یا بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ میں ہونے والے سکینڈلز کا خیال آئے۔ یا آپ کو لگے کہ میں کسی یونیورسٹی انتظامیہ کے کرپشن کی کہانی گڑ رہا ہوں۔ تو پہلے سے بتاتا چلوں کہ یہ میرا مسئلہ بالکل بھی نہیں ہے۔ یہ تمام مسائل اپنی جگہ وجود رکھتے ہیں مگر اس وقت بلوچستان کے جامعات کو جو سب سے اہم مسئلہ درپیش ہے وہ پاکستان کے دوسرے تمام جامعات سے مختلف نوعیت کا ہے۔
بلوچستان میں سب بڑی اور سب سے پہلا یونیورسٹی ”جامعہ بلوچستان کوئٹہ“ ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں آج بھی طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں مزید آٹھ یونیورسٹیاں ہیں۔ جو تقریباً سب کے سب اس وقت مالی بحران کا شکار ہیں۔ ہر دو تین ماہ بعد بلوچستان یونیورسٹی میں ملازمین کی ہڑتالیں چل رہی ہوتی ہیں اور جس طرح کے حالات ہیں تو مستقبل میں تمام یونیورسٹیوں کی یہی حالت ہوگی کہ پروفیسرز سڑکوں پہ ٹماٹر بیچتے نظر آئیں گے۔ یا ہر روز بینرز اٹھا کر اپنی تنخواہ کی بھیک مانگتے ملیں گے۔ دوسری طرف یونیورسٹیوں کے طلباء ہاسٹل سے اٹھائے جاتے ہیں تو کبھی سفر کے دوران غائب کر دیے جاتے ہیں۔ باقی جو باہر رہ جاتے ہیں وہ بھی کبھی جسٹس کا ٹیگ لگا کر سوشل میڈیا کیمپین چلا رہے ہوتے ہیں تو کبھی ہڑتال اور ریلیوں میں مصروف، مگر سننے والا کوئی نظر نہیں آتا۔
ان حالات میں بھی جن سٹوڈنٹس کے والدین اپنی دل پر پتھر رکھ کر اپنے بچوں کو جامعات میں بھیجتے ہیں ان کو بھی پڑھنے نہیں دیا جاتا۔ ڈر یہی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ یہیں علم کی کرنیں پھوٹیں اور اندھیروں کے پردے چاک ہوں اور ان کے پیچھے چھپے چہرے عیاں ہوجائیں۔ لیکچررز کو محدود کیا جاتا ہے کہ انہیں کیا پڑھانا ہے کیا نہیں پڑھانا ہے۔ باہر طلباء تنظیموں کے سرکلز پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ بک سٹال لگانے نہیں دیتے اور جب سٹوڈنٹس کسی بلوچ دانشور کو اپنے کسی پروگرام میں شرکت کرنے کی دعوت دیں تو انہیں جامعہ کے اندر آنے نہیں دیا جاتا۔ جامعات کے بک پوائنٹس میں کئی کتابیں رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان حالات میں انسان نہیں صرف روبوٹ ہی پیدا ہو سکتے ہیں جو بظاہر تو تعلیم یافتہ ہوں گے مگر ان کے پاس ڈگری کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
حال ہی میں بلوچستان کی ایک جامعہ میں طلباء کو بک سٹال لگانے سے روک لیا گیا۔ پھر ایک دانشور کو جامعہ میں داخلے کی اجازت اس لئے نہیں ملی کہ وہ بلوچ طلباء کے ایک سیشن سے گفتگو کرنے جا رہا تھا۔ حالانکہ وہ بھی ایک یونیورسٹی پروفیسر تھا۔
مگر جوں جوں تعلیمی اداروں کے اندر پابندیاں بڑھ رہی ہیں تو باہر یہی سرگرمیاں مزید شدید ہوتی جا رہی ہیں اور نفرت کی آگ دن بہ دن شدت اختیار کر رہی ہے۔ اگر حالات یہی رہے تو مستقبل میں اس صوبے کو جن خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے وہ ہماری سوچ سے بھی بڑھ کر ہوں گے۔


