کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر اور قدرت کا نظام

ماضی پرست اور لکیر کو پیٹنے والے ہمیشہ عظمت رفتہ کے گن گانے میں مگن رہتے ہیں، کبھی ماضی میں حاصل ہو جانے والی اتفاقی یا حادثاتی کامیابی یا کارنامے کو بار بار دہرا کر خود کو خواہ مخواہ میں ہلکان کیے رکھتے ہیں۔
جناب! اب تو بہت کچھ قصہ پارینہ ہو چکا ہے اور آج ہم مسل کے دور میں نہیں بلکہ سائنس کی بدولت لمحہ بہ لمحہ بدلتے حقائق اور علم و ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں جو کبھی ناممکن یا بالا فہم تھا وہ بہت حد تک انسانی فہم کی گرفت میں آ چکا ہے۔
نالج بیسڈ اکانومی کی بدولت دنیا کے طور طریقے بدلے، سوچ و فکر کے ڈھنگ بدلے مگر ایک قوم ایسی بھی ہے جو اکیسویں صدی میں بھی نہیں بدلی اور جوں کی توں ہے اور آج بھی ماضی کی تاریک غاروں میں پناہ لیے ہوئے ہے۔
وہ اپنے ”آج“ کو بدلتی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کر کے بہتر کرنے کی بجائے ماضی کے قصے کہانیوں میں کھوئے رہنے پر اکتفا کیے رکھتے ہیں اور انہی کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔
ہماری کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کے میدان میں جیسے ہی اتری تو اسی روز سے 1992 کے ورلڈ کپ کی قصہ بیانیاں شروع ہو گئیں، ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم زندگی کی ہر حقیقت کو حتی کہ گیم تک کو بھی مذہبی عینک سے دیکھنے کے عادی ہیں۔ ہم دواؤں کی بجائے محض دعاؤں پر اور دوسری طرف محنت و ریاضت کی بجائے معجزات یا انہونیوں پر اکتفا کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور ہماری نظر میں کامیابی کے حصول کی صرف ایک ہی کسوٹی یا کنجی ہے اور وہ صرف مذہب ہے باقی سب کچھ مایا ہے۔
اب یہ سب کچھ ذاتی یقین و عقیدہ کی حد تک تو درست ہو سکتا ہے اور جو کوئی بھی اس بندوبست کے تحت جینا چاہے جی سکتا ہے کوئی حرج نہیں مگر یاد رکھیں قدرت کو آپ کے ذاتی یقین و ایمان سے کوئی سروکار نہیں ہوتا وہ تو اپنے حساب سے جوں کا توں جاری و ساری ہے اور قدرت کا اٹل اصول ”مائٹ از رائٹ یا سروائیول آف دی فٹسٹ“ کی بنیاد پر قائم ہے۔ کمزور یا وقت کے ساتھ ساتھ نا بھاگنے والے کی قدرت کی نظروں میں کوئی حیثیت و گنجائش ہی نہیں ہوتی اور اس قسم کی آ لسی ذہنیت کی قومیں یا تہذیبیں وقت کے بلیک ہول میں کہیں ہمیشہ کے لیے گم ہو جاتی ہیں۔
اب ظاہر ہے جس قوم کے رہبر و مربی شروع دن سے اپنی قوم کو ایک ہی پاٹھ پڑھاتے آ رہے ہوں کہ
1965 کی جنگ میں سبز عمامے پہنے بزرگ بمب کیچ کر رہے تھے اور دشمن کے اوزاروں کو ناکارہ بنا رہے تھے۔
ہم دنیا کی انوکھی یا چنیدہ قوم ہیں جن کا سینہ ایمان و یقین سے لبریز ہے۔
ہم اور ہمارا ملک تو بنیں ہی قائم رہنے کے لیے ہیں۔
اس قسم کی ذہنیت کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی قوم کے کرکٹر بھلا مختلف کیسے ہو سکتے ہیں؟
اور وہاں بھلا دماغ والوں کا کیا کام؟
جو محنت و ریاضت پر یقین رکھنے والے ہوں اور خالصتاً پروفیشنل اپروچ کے ساتھ میدان میں اترتے ہوں، جن کا مطمح نظر صرف اپنے پروفیشن کے ساتھ مخلص رہنا اور مکمل انصاف کرنا ہو۔
دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑ جائیں یا فلاں ٹیم کا میچ بارش کی نذر ہو جائے ایسی ذہنیت، دعا و مناجات اور کھوکھلے سہاروں کی آس و امید والے رویوں کے ساتھ وقتی طور پر تو خود کو بہلایا جا سکتا ہے مگر اس قسم کی لا حاصل سی کوشش یا وش فل تھنکنگ سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور نا ہی نتائج تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔
موجودہ ورلڈ کپ نے جہاں کھلاڑیوں کی کجیوں، کوتاہیوں اور غفلتوں کو بے نقاب کیا ہے وہیں پی سی بی، ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کے اصول و قواعد کو بھی ننگا کر کے رکھ دیا ہے۔
کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات، ٹیم مینجمنٹ کی اقربا پروری، تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے معاملات کھل کے سامنے آ گئے۔
خاص طور پر تبلیغ کے عنصر کی وجہ سے گیم کے حوالے سے کھلاڑیوں کا نقطہ نظر بالکل ہی تبدیل ہو چکا ہے اور اس رویے کی جھلک انضمام الحق اور دوسرے تبلیغی گینگ کی کاوشوں کی بدولت محمد رضوان یا دوسرے کھلاڑیوں میں دکھائی دیتی ہے جو مذہبی نمائش بازی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے کھلاڑی گیم سپرٹ جیسے جوہر سے بالکل ہی بیگانہ ہو چکے ہیں اور اس وقت ہماری ٹیم مکمل نان پروفیشنل ٹیم بن چکی ہے جو دعاؤں یا 1992 کی سحر انگیزیوں کی بدولت کبھی کبھار کسی میچ میں چل جاتے ہیں اور قوم کو وقتی سی خوشی نصیب ہو جاتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
دیگر ممالک کی ٹیموں کا موازنہ اپنی کرکٹ ٹیم سے کر کے دیکھ لیجیے آپ کو واضح نظر آ جائے گا کہ کون مکمل ہوم ورک کے ساتھ میدان میں اترا ہے اور کون ”چمتکار یا انہونی“ کے سپنے آنکھوں میں سجائے کھیلنے آئے ہیں؟
ویسے بھی ہمارا یقین ہوم ورک یا محنت و ریاضت پر کہاں ہے؟
ہم دنیا کو اپنی گیم سے نہیں بلکہ عبادات سے متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو محنت پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنی سوپر ڈوپر پرفارمنس سے دنیا کو متاثر کرتے ہیں اور اس ورلڈ کپ میں بھی ہمارے علاوہ باقی ٹیمیں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں مصروف ہیں۔
ہم کیا اور ہماری اوقات کیا؟
ہم تو بس ایک ہجوم ہیں جو محض دکھاوے کے زور پر قدرت کو مرعوب کر کے دنیا میں ہر میدان کے فاتح بننا چاہتے ہیں۔ ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ جن کے پاس عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا وہی غیبی طاقتوں پر آس و امید لگائے رکھتے ہیں اور جان توڑ محنت کی بجائے قدرت پر اکتفا کیے رکھتے ہیں۔
یاد رکھیں نالائق، کام چور اور بددیانت لوگوں کا قدرت بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہے، حقائق کی دنیا میں معجزے یا انہونیاں نہیں ہوتیں جو کچھ بھی ہوتا ہے آپ کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے اور یہ انسانی ذہن کا کمال ہے جو دھیرے دھیرے امکانات کی حدود کو کھولتا چلا جا رہا ہے۔
اچھا ہوا ہم موجودہ ورلڈ کپ کی دوڑ سے آؤٹ ہو گئے اور اس قسم کی ٹیم کے لیے لازم ہو چکا ہے کہ
”ہٹ دی راک باٹم“
جب تک یہ یہ پستی کی بدترین سطح کو نہیں چھوئیں گے تب تک شاید محاکمہ ذات ممکن نہ ہو سکے، بعض اوقات خود بینی کے لیے پستی کی گہرائیوں میں اترتا ضروری ہو جاتا ہے ممکن ہے ہوش ٹھکانے آئیں اور بہتری کی کوئی امید نکلے۔

