دیہی ثقافت میں خواتین کے مسائل
قبرستان گاؤں کے قریب ہی تھا۔ رات کو یہاں سے گزرنے والے افراد کے ساتھ بھوت پریت یا کسی غیر مرئی مخلوق سے ملاقات معمول کی بات تھی۔ کبھی کوئی چڑیل قبر سے مردہ نکال کر اس کی ہڈیاں چبا رہی ہوتی تو کبھی آگ کے الاؤ کے گرد بھوت اپنے بیوی بچوں سمیت محو رقص ہوتے۔ کبھی وہاں پر اسی مخلوق کی شادی کی تقریب جاری ہوتی اور کبھی ہاتھی گھوڑوں پر سوار فوجیں جنگ و جدل میں مصروف دکھائی دیتیں اور کوئی مخالف پیادہ دستوں کو شمشیر و و سناں اور تیر و تفنگ سے کھیلتے ہوئے دیکھتا۔
بعض لوگوں کے پیچھے چڑیلیں دوڑ پڑتیں۔ اول تو وہ کوشش کرتا کہ تیزی سے دوڑ کر اس کی پہنچ سے باہر ہو جاتے۔ ناکامی کی صورت میں وہ اچانک چڑیل کی طرف رخ پھیر کر اپنی دھوتی اٹھا کر چڑیل کو دکھا دیتا اور چڑیل چیختی چلاتی، شور مچاتی اور اسے گالیاں نکالتی ہوئی پیچھے کی طرف بھاگ پڑتی۔ اس قسم کے واقعات بیان کرنے والا داستان گو ایسی مہارت، تسلسل اور یک سوئی سے بات کر رہا ہوتا کہ سامعین ہمہ تن گوش ہو جاتے۔ واقعات بیان کرتے ہوئے وہ سانس لینے کے لیے رکتا۔
حقے کے دو تین کش لگانے کے بعد کچھ دیر کے لیے مکمل خاموشی اختیار کر کے سامعین کے تجسس کو ابھارتا۔ لوگ بڑی خاموشی اور دلچسپی سے اس کے بولنے کا انتظار کیا کرتے۔ لوگوں کو انتظار کروانے کے بعد وہ ایک کنگھوڑے سے اپنی کہانی کو آگے بڑھانا شروع کر دیتا۔ گاؤں کی پوری آبادی میں صرف چند لوگوں کو ہی داستان گوئی کے فن پر عبور حاصل تھا۔ بھوت پریت، شرشرار، جنات اور چڑیلیں اور ایسی ہی دوسری غیر مرئی مخلوق کی ملاقات بھی تقریباً روزانہ کہ بنیاد پر انہی لوگوں سے ہوا کرتی تھی اور اس طرح ان کے پاس اپنے سامعین کو سنانے کے لیے نت نئی کہانی موجود ہوتی۔
ایک دن میں مغرب کے بعد کھانا کھا کر گھر سے باہر نکلا تو گلی میں میری اپنے ہم عمر پڑوسیوں اور دوستوں ابراہیم اور غلام محمد سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ آج جمعرات ہے اور پورے گاؤں کو چاروں اطراف سے جن بھوتوں نے گھیر رکھا ہے۔ آؤ تمہیں بھی دکھائیں کہیں تم نے گوشت تو نہیں کھایا۔ اگر ایسا ہے تو فوراً گھر جا کر گڑ یا پیاز کھا کر آؤ۔ تاکہ اس کی مہک ختم ہو جائے۔ گھریلو ماحول اور تربیت کی بناء پر میرا ایسی فضول باتوں پر یقین نہ تھا۔ اس لیے میں نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا اور ہم چلتے چلتے گاؤں سے باہر آ گئے۔
یاد رہے کہ ان دنوں گھروں میں واش رومز اور ٹائلٹس کا تصور بھی نہیں تھا۔ ہر گھر میں بغیر چھت کے ایک غسل خانہ ہوا کرتا تھا۔ دستی نلکے کی مدد سے پانی کی بالٹی بھر کر وہاں صرف نہایا جا سکتا تھا اور کوئی سہولت یہاں میسر نہ تھی۔ انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں صرف خواتین کو یہاں پر پیشاب کرنے کی اجازت تھی۔ مردوں کو تو اس کام کے لیے بھی باہر زمینوں پر ہی جانا پڑتا تھا اور اگر کبھی کبھار کسی عورت کو دن کے وقت رفع حاجت کے لیے باہر زمینوں پر جانا پڑ جاتا تو نہ صرف یہ کہ پورا گھرانا اسے عجیب و غریب اور مشکوک نگاہوں سے دیکھتا بلکہ وہ بے چاری خود بھی اس ناکردہ گناہ کی پاداش میں دنوں تک شرمندہ شرمندہ سی پھرا کرتی۔
رات کے کھانے کے فوراً بعد عورتیں عموما گاؤں سے ملحقہ سرکاری چراگاہ کو اس کام کے لیے اپنے استعمال میں لایا کرتی تھیں۔ اسی عرصہ میں وہ ایک دوسرے کے پاس پاس بیٹھی ہوئیں اپنی روز مرہ کی مصروفیات بھی زیر بحث لاتیں اپنے اہل خانہ اور مال مویشیوں کی عادات و فضائل کا تذکرہ ہوتا۔ باہمی صلاح مشورے سے بیمار افراد اور ڈھور ڈنگروں کا علاج تجویز کیا جاتا۔ ساس بہو ہر دو فریق یہیں پر بیٹھ کر ہی اپنے اپنے دلوں کا غبار نکال کر بوجھ ہلکا کر لیا کرتے۔
گویا کہ گاؤں کے چاروں طرف موجود سرکاری چراگاہ اس وقت خواتین کے ایک ایسے کلب کی شکل اختیار کر لیتی۔ جہاں وہ جملہ ضروری امور سے فراغت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمہ داریوں اور پریشانیوں کو بھلا کر تھوڑی دیر کے لیے ہنس بول بھی لیتیں اور اپنے آپ کو آنے والے کل کی مشقت بھری زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار بھی کر لیتیں۔ مرد حضرات کے لیے یہ جگہ علاوہ ممنوعہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ وہ سرکاری چراگاہ کے آگے ملکیتی زمینوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ ویسے مرد حضرات کو اس معاملے میں کوئی دشواری بھی نہیں تھی۔ وہ سارا دن گھر سے باہر زمینوں پر ہی گزارتے بلکہ کچھ کسان گھرانوں نے تو اپنے ڈھور ڈنگر بھی زمینوں پر ہی رکھے ہوئے تھے۔ وہ لوگ تو دن رات وہیں رہتے۔ صبح سحری کے وقت اٹھ کر ہل جوت دیتے۔ طلوع آفتاب کے تھوڑی دیر بعد گھر سے ناشتہ آ جاتا۔
گرمیوں کے موسم میں تو ناشتے کے بعد وہ ہل چلانے کا کام ختم کر کے بیلوں کو کھول دیا کرتے۔ اس کے بعد رات گئے تک بیسیوں کام ان کے منتظر ہوتے۔ چارہ کاٹنا، مشین کی مدد سے اسے کترنا اور ڈنگروں کے آگے ڈالنا یہ سب معمول کے کام تھے۔ اس کے علاوہ وہ موقع محل کے مطابق کھال کی صفائی کر لیتے۔ حسب ضرورت فصلوں کو سیراب کرتے۔ ان کی گوڈی کرتے۔ اگر کسی فصل میں زیادہ گھاس اگی ہوئی دیکھ لیتے تو کھرپے کی مدد سے وہاں سے گھاس نکال کر ڈنگروں کو کھلا کر کچھ معمول کے چارے کی بچت کر لیتے۔ جانوروں کو پانی پلانا اور بھینسوں کو ساتھ ہی نہلا لینا بھی روزمرہ کے معمول میں شامل تھا۔ یہیں پر کھیتوں میں ہی وہ اپنی دیگر مصروفیات میں سے وقت نکال کر اپنے خانگی اور ازدواجی امور بھی نمٹا لیتے۔


