روم جل رہا ہے، بانسری بج رہی ہے


تاریخ بتاتی ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو (بادشاہ وقت) بانسری بجا رہا تھا۔ افواہیں یہ بھی تھیں کہ یہ آگ خود نیرو نے ہی لگوائی تھی۔ یہ بات کس قدر مستند ہے، اس پر تاریخ دان ہنوز دو رائے رکھتے ہیں کہ آیا واقعی یہ آگ نیرو نے خود لگوائی تھی یا وہ محض کسی سازش کا شکار ہوا تھا۔

بہر حال، کئی دنوں سے مجھے روم کا جلنا اور بانسری کا بجنا بہت شدت سے یاد آ رہا ہے کیونکہ آج بھی کسی کا روم جل رہا ہے اور ہمارے ارد گرد بانسریاں بج رہی ہیں۔ ان بانسریوں سے نکلنے والی دھنیں اتنی پر کیف اور بلند ہیں کہ۔ طیاروں کی گھن گرج، بموں سے منہدم ہوتی عمارتوں کا شور، ان عمارتوں کے بیچے دبے جانداروں کی چیخیں، زندہ بچ جانے والے نفوس کی سسکیاں اور دہائیاں، ٹرکوں پر سوار ہوتے لوگوں کی پریشانی بھری سرگوشیاں، ان ٹرکوں پر دم توڑتے لوگوں کی آہ و بکا، اسپتالوں میں ختم ہوتا ایندھن اور آکسیجن، جلے ہوئے اجسام کے لیے نایاب ہوتی ادویات، کچھ خاموش پکاریں، بے آواز التجائیں۔ کچھ بھی سنائی نہیں دیتا، کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

اپنے اپنے روم میں بستے یہ لوگ، ایک زندگی میں کتنی بار دوبارہ جیتے ہیں، شاید حساب رکھنا مشکل ہے۔ ایک بچہ ہے جو میرے لیپ ٹاپ پر ایک پروفیشنل پلیٹ فارم پر ابھرتا ہے۔ وہ بچہ یہ بتاتا ہے کہ اس کی عمر بارہ سال ہے۔ ان بارہ سالوں میں یہ تیسری یا چوتھی دفعہ ہے جب وہ اس جنگ کو دیکھ رہا ہے۔ گویا وہ موت کو ہر تین یا چار سال بعد چکمہ دینے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ لیکن، کیا یہ واقعی وہ زندگی ہے جس کا خواب ہم اپنے لیے دیکھتے ہیں، کیا ہم اپنے لیے کوئی ایسا خواب دیکھ سکتے ہیں؟

ہم ہمت کر سکتے ہیں ایسا کوئی سپنا دیکھنے کی اور پھر نارمل بھی رہ سکیں؟ نہیں نا؟ تو کیوں اتنی ننھی ننھی جانوں کو اس سب سے ہر کچھ عرصہ بعد گزرنا پڑتا ہے؟ صرف اس لیے کہ طاقتور کی منشاء ہے کہ وہ اور اس کی آنے والی نسلیں ایک نہایت پرتعیش زندگی بسر کریں؟ کیوں جنگ پر آمادہ لوگ، امن کے خواہشمند لوگوں کو ان کی پسند کی زندگی جینے نہیں دیتے؟ کیوں اسی فیصد لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے بیس فیصد لوگ کرتے ہیں؟ کیا زندگی پر صرف ان بیس فیصد لوگوں کا ہی حق ہے کہ جیسے چاہیں، جب چاہیں، جس سے چاہیں زندگی کا حق چھین کر، اپنی زندگانی کو اپنی مرضی سے جئیں؟

اور دوسری طرف کے لوگ۔ وہ ایک زندگی میں جانے کتنی ہی بار موت کا رقص دیکھتے ہیں۔ وہاں زندگی کتنی صفاک نظر آتی ہو گی جہاں لوگوں کو کسی ایک رات اپنے پیاروں کے ساتھ سونے کے لیے لیٹتے ہوئے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ہو گا کہ یہ ہماری زندگی کی آخری رات ہو گی یا ہم کل کا طلوع ہوتا سورج دیکھ پائیں گے۔ یا شاید کچھ زندہ بچ جانے والوں کے پہلو میں ان کے جان سے پیارے بے جان ہو چکے ہوں گے۔ یا شاید ملبوں کے نیچے سے ٹٹول ٹٹول کر، کھینچ کھینچ کر نکالنے پڑیں گے۔

لیکن وہ اس تجربے سے گزرتے ہیں۔ حالات معمول پر آتے ہیں تو گزشتہ زندگی کی ٹوٹی پھوٹی اینٹوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔ زخموں پر مرہم لگاتے، ہر روز نئے سرے سے ایک نئی زندگی کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ایک نئی صبح کی نوید جی جاتی ہے اور پھر ایک دن۔ ایک نئی آگ میں جھونک دیے جاتے ہیں۔ کیا خوب کہا ہے عبد الحمید عدم نے :

زندگی کے حسین ترکش میں
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں

دور کہیں، امن کے محافظ، شاید کسی غاصب کے سامنے التجا کے لیے دست بدست کھڑے ہیں کہ عالی جاہ، اگر آپ کا شوق تماشا پورا ہو گیا ہو اور آپ کو نا گوار خاطر نہ گزرے تو ہم اس آگ کو بجھانے کے لیے درخواست کر پیش کر دیں آپ کو۔ اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں کریں گے۔ کوئی پابندی نہیں لگائیں گے، کوئی بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ بس درخواست دیں گے آپ کو، اگر آپ قبول کر لیں گے تو عین نوازش ہو گی ورنہ ہم چپ چاپ واپس لوٹ جائیں گے۔ دیکھیے، یہ باون ملکوں کی فوج کے سپہ سالار بھی ساتھ ہیں۔ عرضی دینے سے زیادہ کی جسارت نہیں کریں گے یہ۔ ہماری لاج رکھ لیجیے جناب۔

ارے یہ کیا باتیں لے بیٹھے ہیں ہم۔ موسم نے کیا انگڑائی لی ہے، اس کا لطف اٹھاتے ہیں۔ ہمارا کیا لینا دینا روم سے۔ موسیقی کا والیوم بڑھائیے۔ زندگی ایک بار ملتی ہے۔ آئیے، اسے جیتے ہیں۔

ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے۔

Facebook Comments HS