ظلم کی زبان


انسانیت درحقیقت کوئی اخلاقی معیار نہیں ہے۔ انسانوں کے خلاف سب سے زیادہ ظلم اور جبر اپنی انسانیت میں رہتے ہوئے انسان ہی کرتے ہیں۔ معصوموں کا دشمن کوئی سیاسی یا مذہبی دشمن ہی ظالم نہیں، خون کے رشتوں کی تپش میں بھی ویسے ہی ظالم پنپ جاتے ہیں۔ ظلم تو ظلم ہے، حد سے بڑھتا رہتا ہے اور اپنی ہیبت اور شدت قائم رکھتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی ظلم کی پکار للکار بنتی سنائی دے تو اپنے اطراف میں ظلم کی ٹیس بنتی چیخوں کو سماعتوں میں مدعو کریں۔

ہر ظالم کے پاس ظلم کے سینکڑوں جواز ہوتے ہیں۔ ظلم سے فائدہ اٹھانے والے ان مظالم کے ہزاروں انسانیت پرست جواز ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ ان جوازوں کے سہارے عمر بھر جیتے ہیں اور بنا احتساب کے گزر بھی جاتے ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں نہیں لاکھوں عظیم انسان آئے، کوئی ایک بھی ظلم کو یک طرفہ ثابت نہ کر سکا۔ جہاں یہ یک طرفہ ثابت ہوا وہاں اس کے نام پر پلنے اور خود کو بچانے والے بھی ہمیشہ موجود رہے۔ کہیں مذہب، قوم، قبیلے تو کہیں جنس، عزت، اور اصولوں کے نام پر کمزور مغلوب ہوتا ہی رہا۔

ظلم روا رکھنے والے مختلف رنگ و نسل، مذہب، نظریے کے تو ہوسکتے ہیں مگر ان کی فطرت میں بلا کی یگانگت ٹپکتی ہے۔ امان سب کے حیلے بہانے، دکھڑے، اور مظلومیت کے لبادے ایک سے ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو یہ آئے ایک جگہ سے ہیں یا ایک جگہ جائیں گے۔ ظلم کی زبان ایک سی ہوتی ہے، کچھ حقیقت پر مبنی مثالیں درج ذیل ہیں :۔

یہ ہمارے مذہب کے خلاف ہے
ہمیں دفاع کرنے کا حق ہے
یہ ہمارا اٹوٹ انگ ہے
اس نے ہم پر حملہ کیا
اس نے زبان چلائی ہے
اس نے فرمانبرداری نہیں کی
اس نے کپڑے ایسے پہنے تھے
یہ کمی کمین لوگ۔

یہ ہماری شان کے خلاف ہے
ہماری روایات کے منافی ہے
یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے
ہم ان کا پانی بند کریں گے
ہم بجلی کاٹ رہے ہیں
میں بجلی بند کرتا ہوں، دیکھتا ہوں کب تک اندر بچ کے رہے گی

یہ گھر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی
اس کا اسکول بند
اس کی جیب خرچ بند
اس کو عاق کرتے ہیں
پھوپھی مر جائے تو زمین ہماری
بیٹا، اچھی بہنیں بھائیوں سے حق نہیں لیتی
حق لے لو، ہم سے تعلق ختم کر دو

ہمارے گھر میں رہنا ہے تو ایسے کپڑے نہیں پہن سکتی
یہ تمھارے ماں باپ کا گھر نہیں
اجی، تم اپنی بہن سے نوکری کرواؤ
اس کے بچوں کو نوکر نہ بنایا تو میرا نام نہیں

ان کی عورتوں کو اٹھا لیں گے
ان کا کھیت جلا دیتے ہیں
اس کا جانور مار دو
اس کے رشتے داروں سے ناتا ختم کراؤ
اس پر کڑی نظر رکھو
اس کی ذات برادری کو مٹا دیں گے
اس کی اوقات ہی کیا ہے؟
بیمار ہو تو توبہ کرو

پتا نہیں کیا گناہ کیا ہے کہ ایسا بچہ پیدا ہوا
گناہ کی سزا مل رہی ہوگی
اس کی میت سے بو آ رہی تھی
ہم تو خدا کے منتخب کردہ ہیں
ہماری امت ہی جنت میں جائے گی
یار، تم مسلمان نہیں ہو
یار، تم شیعہ ہو
وہ ہمارا ہیرو نہیں، وہ قادیانی ہے
ڈائن کہیں کی اپنا بچہ کھا گئی
تم منحوس ہو

ان پر گن شب ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کرو
ان پر ڈرون گراؤ
اس کی تصویریں نیٹ پر لگاتے ہیں
نکالو، ان نمک حراموں کو
اس کی نوکری ختم کراتے ہیں
ان کے جوان مار دو
ان کے بچوں کو جیل میں ڈالو

اس کو پاگل لکھوا لیتے ہیں، پھر کون یقین کرے گا اس کی بات کا؟
قرض نہیں تو اس کی بیوی لے آؤ
ساس کو سونا نہیں پہنایا
جوئے میں گھر والی ہار گیا
اس کی بہن کا ریپ کر دوں گا
کپڑے اتار کے چوک میں گھوماؤ

تیری بچی نہیں آتی تیرے پاس؟ اس کو کچھ ملا کے پلا دو۔
اس کے خلاف پرچہ کٹوا دو
اس کو پولیس سے اٹھوا دو
اس کی چھپ کر ویڈیو بنا دو
ان کے اسپتال پر بم گرا دو
ان کی مسجد ڈھا دو
اس پر گستاخی کا الزام لگا دو
اس کی تصویریں فوٹو شاپ کر دو

ویڈیو سے اس کو بلیک میل کرتے ہیں
اس کو اس کے ساتھ بدنام کر دو
ان کا اسکول اڑا دیتے ہیں
ان کے سو دو سو بچے مروا دو
ریپ کا ہی تو مجرم ہے، اس کو بری کروا دو
بم گرا کر ان کو دہشتگرد بھی ثابت کر دو
ہم دنیا کی سب سے طاقتور قوم ہیں
ہمارے پاس طاقت کا سرچشمہ اندھا پیسہ ہے
ہمارے پاس عالمی منڈی ہے
ہمارے پاس گھر کی کنجی ہے
دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ ہمارے اشاروں پر ناچتے ہیں
باورچی خانے کا اختیار میرے پاس ہے
بیٹا ہمارے اشاروں پر ناچتا ہے
اپنے مفاد کے لئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کر کے دکھانا کوئی بری عادت نہیں

معصوموں کے قاتل معصوم خود ہیں، اس نے اپنا ریپ خود کرایا ہے، بمباری ہو رہی ہے تو وہاں سے نکل جاؤ نا، ریپ ہو رہا ہو تو اس سے محظوظ ہونا شروع کردو۔

مختصراً، بین الاقوامی سیاست سے لے کر گھر کے در و دیوار میں ظلم ایسے ہی غراتا ہے اور کمزور ہی مجرم ثابت ٹھہرائے جاتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments