انتخابات کا ناٹک، کرداروں کی تلاش


بعض اوقات فلاپ ڈراموں سے بھی کامیاب اداکار سامنے آ جاتے ہیں۔ اس ملک کے ٹھاکر متعدد بار آزمائے ہوئے ناکام اداکاروں کو لے کر ایک کامیاب فلم بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر فلم ساز اپنی مرضی کی فلم بنانے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو اس فلم نے باکس آفس پر دو ہی شو نکالنے ہیں تو اس پر سنسر کی تلوار لٹک جانی ہے۔ حسب روایت فلم کے ہیرو اور پروڈیوسر کے درمیان کردار کے جاندار ہونے نا ہونے پر اور کئی کرداروں کو فلم میں سے مائنس کرنے پر لڑائی کی وجہ سے فلم نے ڈبے کی نظر ہو جانا ہے۔

خیر یہ تو فلمی باتیں ہیں۔ پاکستان کو 2024 میں ایک اور عام انتخاب کا سامنا ہے۔ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتیں لیول پلیئنگ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس نئی وارد ہونے والی اصطلاح کو سب سے بہتر الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی بیان کر سکتا ہے۔ کیا سیاسی جماعتیں جب یہ کہتی ہیں تو درپردہ وہ خلائی مخلوق سے مدد کی طلب گار ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے تمام انتخابات شفافیت کے لحاظ سے مشکوک ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں مسلم لیگ نون کے بیانات کی حد تک تو ایسا لگنا شروع ہو گیا تھا کہ مسلم لیگ نون نے بائیں بازو کی سیاست شروع کر دی ہے۔

مگر 21 اکتوبر 2023 کو مینار پاکستان پر مسلم لیگ نون کے قائد میاں محمد نواز شریف نے ایک جذباتی اور مذہبی خطاب میں واضح کر دیا کہ ان میں جنرل ضیاالحق کی روح واپس آ گئی ہے اور وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے امیدوار کے طور پر 2024 کے انتخاب میں حصہ لیں گے۔ اس ملک میں جب بھی اختیارات کی جنگ میں آخری مرحلہ آتا ہے تو ایک قوت کا سپہ سالار خود ہی جنگ سے دستبردار ہو کر مخالف قوت سے ہاتھ ملا لیتا ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد اس کو انعام اکرام سے نوازا جاتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ وہ جنگ ہی انعام و اکرام حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے۔ جب انعام اکرام کا سلسلہ رکتا ہے تو وہ پھر نئی جنگ کے لیے صف بندی کا آغاز کر دیتا ہے۔ گزشتہ پچاس سال کی سیاسی تاریخ تو یہی سبق دیتی ہے کہ یہاں پر اختیارات کی جنگ میں مرکزی کردار عوام نہیں بلکہ ذاتی اور خاندانی ترجیحات ہوتی ہیں۔ مگر جنگ کا سارا ایندھن عوام بنتے ہیں۔ وہ مال و دولت کو بچانے والے سیاستدانوں کو اپنا مسیحا سمجھ بیٹھتے ہیں جب کہ سیاستدان تو ناٹک میں ایک نیا بہروپ دھار کر عوام کو روٹی کپڑا مکان، کون بدلے کا پاکستان اور ووٹ کو عزت دو کے سہانے خواب دکھاتے ہیں۔

جب مقاصد کی تکمیل ہو جاتی ہے تو نعرے بھی نئے بن جاتے ہیں اور سیاسی جلسوں میں عوامی جذبات سے کھیلنے کے لیے مہنگے ترین نغمے بھی تیار کروا لیے جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی، جنوبی پنجاب محاذ، مسلم لیگ پیر پگارا اور چھوٹے بڑے متعدد گروپوں کو نئے سکرپٹ تھما دیے گئے ہیں۔ خیبر سے لے کر کراچی تک ایک ہی سکرپٹ ہے مگر ابھی ولن زندہ ہے اس نے ہتھیار نا ڈالے تو ہیرو کو ہیرو کوئی نہیں مانے گا۔ دلہن پیا تو سدھار لے گی مگر کیا سہاگن بھی کہلائے گی اس پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

ابھی اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ کہیں شادی کو ہی ملتوی نا کر دیا جائے اگر ایسا ہوا تو بڑے گھر والوں کو بھی کارڈ پر تاریخ طے کرنے والوں میں سے سب سے با اثر اور معزز ترین فرد کا سامنا بھی کرنا بڑ سکتا ہے۔ اس صورت حال میں اس معزز ترین شخص کو اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے انصاف تو کرنا ہی پڑے گا۔ گھر میں جب ایک ہی وقت میں جب بہت زیادہ محاذ کھل جائیں تو بعض اوقات گھر کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ 1971 کے انتخابات کے بعد پاکستانی قوم دیکھ چکی ہے۔

ماضی میں بھی پاپولیرٹی کا خبط ایک وزیراعظم کو تختہ دار پر چڑھا چکا ہے۔ اب کی بار ایک سابق وزیراعظم کو کوئی حکمت و دانش سے چلنے کا کہتا تو وہ مغرور سے لہجے میں کہتے میرا کوئی متبادل نہیں ہے۔ صورت حال اب اس طرف جا رہی ہے کہ جو اس کا نام لے گا اس کو اپنی بقا کے خطرات لاحق ہوں گے۔ حکومت میں رہتے ہوئے اس نے وہی سب کچھ کیا جو اس سے پہلے کے وزراء اعظم کرتے رہے تھے۔ بس قوم کو اس بات کا انتظار ہے کہ وہ جیل میں رہ کر کس وزیر اعظم کی تقلید کرتا ہے تختہ دار والے کی کہ تخت والے کی فیصلہ اس نے کرنا ہے۔

سیاسی انڈسٹری کے حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ 70 فیصد ادارے دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ خارجی محاذ سے لے کر معاشی محاذ تک ہر طرف نئے چیلنجز موجود ہیں۔ چیلنجز اس قدر گمبھیر ہیں کہ کوئی بھی ایک سیاسی گروہ اس کو حل نہیں کر سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کے ٹھاکر کو چاہیے کہ اپنے کردار کی ہیت کو بدلے اور باقی کرداروں کو مضبوط کرنے کے لیے بھرپور تعاون کرے صرف یہ طریقہ ہے کہ گھر کو بچا یا جا سکتا ہے۔ گھر کے افراد کو بھی چاہیے کہ ٹھاکر کی تکریم میں کوئی کمی نا بجا لائے اگر ایسا بار بار کیا گیا تو نا ٹھاکر رہے گا اور نا اس کی محکوم رعایا۔ تاریخ یہی سبق دیتی ہے غلطیوں کو بار بار دہرانے والے مٹ جایا کرتے ہیں

Facebook Comments HS