پاکستان میں جاگیردار طبقہ کی سیاسی گرفت


سماجی سائنسز کے ماہرین سماجی طبقات کو مختلف سیاق و اسباق کے حوالے سے مختلف زاویوں، مختلف طریقوں، الفاظ، اصطلاحات یا مختلف تراکیب سے بیان، موازنہ اور تجزیات کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر تحاریر میں درمیانہ طبقہ، مزدور طبقہ، کسان طبقہ، غریب اور امیر طبقہ وغیرہ جیسی اصطلاحات مستعمل ہیں۔ بسا اوقات سوچ اور فکری دھاروں کے اعتبار سے بھی طبقات کی نشان دیہی کی جاتی ہے مثال کے طور پر ترقی پسند طبقہ، مذہبی طبقہ وغیرہ۔

ہم اپنے آج کے مضمون میں طبقہ کو پیداواری طریقہ کار یا آمدن حاصل کرنے کے طریقہ کار کے لحاظ سے بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح سے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں طبقات کوئی زیادہ تعداد میں یا پیچیدہ نوعیت کے حامل نہیں ہیں۔ محنت کش طبقہ میں مستری، مزدور، فیکٹری مزدور، کھیت مزدور، پلمبر، ویلڈر، مکینک وغیرہ شامل کیے جا سکتے ہیں۔ وائٹ کالر کلاس یا سفید پوش طبقہ بھی اپنی نوعیت میں محنت کش ہی ہوتا ہے مگر پڑھے لکھے اور ہنرمند ہونے کی وجہ سے ان کی مزدوری کی مقدار محنت کش طبقہ کی نسبت سے زیادہ ہوتی ہے ان میں اساتذہ، بینک ملازمین، سرکاری اہلکار، مینیجر، ڈاکٹرز، انجنیئر وغیرہ شامل کیے جا سکتے ہیں۔

کسان طبقہ میں عام طور پر ایسے کسانوں کو شامل کیا جاتا ہے جو محض اتنی ہی زرعی زمین کے ملک ہوتے ہیں جس میں ان کے اہل خانہ کی ہی کفالت ہو سکے۔ تاجر طبقہ میں درآمد و برآمد کنندگان، چھوٹے بڑے دکاندار، ذرائع نقل و حمل سے وابستہ افراد کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ صنعت کار طبقہ میں چھوٹی بڑی کارخانہ داری اور مل مالکان کو شامل کیا جاتا ہے۔ جاگیردار طبقہ میں ایسے افراد اور خاندانوں کو کیا جا سکتا جو بڑے پیمانے کی زرعی زمینوں کے مالک ہوں اور بڑی تعداد میں مزارعین کو کاشتکاری کے لیے ملازم رکھتے ہوں۔

دنیا میں عام رواج ہے کہ طبقات اپنے اپنے معاشی، سماجی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف طرح کی گروہ بندیوں میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔ محدود پیمانے پر یہ گروہ بندیاں رسمی اور غیر رسمی یا علانیہ و غیر علانیہ طور پر ایسوسی ایشن، یونین، اتحاد، کنزیومر گروپس، لابی، پول، کارٹل، مافیاء فورم، برادری وغیرہ شکل میں عام دیکھی جا سکتی ہیں۔

لوکل گورنمنٹ، صوبائی اور قومی سطح کے انتخابات میں یہ گروپ یا تو بحیثیت گروپ، کسی بڑی سیاسی پارٹی کے حصہ یا دھڑے کے طور پر اور کبھی ایک سیاسی پارٹی کے طور پر حصہ لیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ اکثریت حاصل کر کے انتظامی اور قانونی و آئینی میدانوں میں اپنے تمام قسم کے حقوق کے دفاع کی سیاسی جدوجہد کرتے ہیں۔ اخلاقی اور سیاسی طور پر اس طرح کی جدوجہد کوئی معیوب یا بری بات نہیں ہے۔

پاکستان میں اس وقت پاکستان الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ شدہ سیاسی پارٹیوں کی کل تعداد 175 ہے اور ان کے ساتھ ایک سیاسی اتحاد بھی رجسٹرڈ جسے 176 واں نمبر کہا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی لسٹ میں شامل جماعتوں کے کوائف میں ”طبقہ کی نمائندگی“ کی شق شامل نہیں ہے اس لیے یہ کہنا کہ کون سی پارٹی کس طبقہ کی نمائندگی کرتی ہے خاصا مشکل کام ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثریت پارٹیوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کس طبقہ یا فکر کی نمائندگی کر رہی ہیں اور جن پر پارٹیوں کو طبقاتی مفادات کا ادراک ہوتا ہے مگر وہ کسی کو بتاتی نہیں۔

اس طرح کی پارٹیوں کے طرز عمل اور طرز حکمرانی سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کن طبقات کے مفادات کی محافظ اور کن طبقات کے مفادات کو نظرانداز کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر پاکستان کی گزشتہ تین اسمبلیوں کی کارروائی کو ایک نظر دیکھ لیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ کوئی ایک بل، قانون سازی و تر میم یا کوئی قرار دا عام آدمی تو دور کی بات حتیٰ کہ قومی مفاد کے تحفظ کے لیے بھی کارروائی کے لیے پیش نہیں کی گئی۔ ان تین بڑی پارٹیوں کے حالیہ طرز عمل سے صاف ظاہر ہے کہ یہ عام آدمی کی نمائندہ پارٹیاں نہیں ہیں۔ تو اس سے اگلا سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر یہ عام آدمی کی نمائندہ نہیں تو یہ کن طبقات یا طبقہ کی نمائندہ ہیں۔

1947 ء میں آزادی کے فوری بعد ہی ملک میں افسر شاہی اور سیاستدانوں کے مابین اقتدار اعلیٰ کے حصول کی جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ کا مقصد اپنے آپ کو انگریز بہادر کا سچا جانشین ثابت کرنا تھا۔ افسر شاہی چونکہ انگریز ہی پیدا کردہ تھی اور دوسرا فریق سیاستدان جن کی اکثریت جاگیردار طبقہ سے تعلق رکھتی تھی یہ طبقہ بھی انگریز کی ہی پیداوار تھا۔ بالآخر 1958 ء میں جنرل ایوب خان نے ”درمیان میں پڑ“ کر اس جھگڑے کو ہمیشہ کے لیے ”حل“ کر دیا۔ اس وقت کی افسر شاہی کے لیڈر سکندر مرزا کو ملک بدر جبکہ سیاست دانوں یا جاگیرداروں کے لیڈر سر فیروز خان نون کی بچی کھچی سیاسی بساط کو بھی لپیٹ دیا۔ ایبڈو قوانین وغیرہ پھر بعد کی باتیں ہیں۔

1958 ء کے مارشل لاء سے لے کر آج کے دن تک فوج اور جاگیردار طبقہ و اتحادیوں کے درمیان ملکی اقتدار اعلیٰ کے لیے رسہ کشی جاری ہے۔ یہاں پر اقتدار اور اقتدار اعلیٰ میں فرق کرنا لازمی ہے۔ راقم ذاتی طور پر پاک فوج کو ایک ادارہ کے طور پر دیکھتا ہے اور اسے کوئی طبقہ نہیں گردانتا۔ فوج نے کیا اچھا کیا اور کیا غلط کیا یہ اس وقت کی بحث نہیں۔ ملک کا جاگیردار طبقہ آج بھی فوج کو اپنے اقتدار اعلیٰ کے حصول کی جدوجہد کے راستے کی رکاوٹ سمجھتا ہے۔

مثال کے طور پر جنرل ایوب خان پر ملک میں 22 سرمایہ دار خاندانوں کو جنم دینے کا الزام لگتا ہے اور اس طرح لگتا ہے جیسے جنرل صاحب سے کوئی قومی جرم یا گناہ کبیرہ سرزد ہو گیا ہو۔ ایک عام محنت کش شہری ہونے کے ناتے راقم کو بھلا کیا مسئلہ ہو سکتا ہے کہ ملک میں سرمایہ داروں کے 22 خاندان جنم لیں یا 122۔ جاگیردار طبقہ آج کے دن تک جنرل ایوب کے اس ”گناہ کبیرہ“ کو معاف کرنے کو تیار نہیں۔ بھٹو دور جو کہ جاگیردار طبقہ کا ہی دور تھا میں ان 22 خاندانوں کے ساتھ کیا ہو اور کیسے ہوا یہ علیحدہ سے ایک تاریخ ہے۔ جاگیردارانہ سوچ اس قدر تنگ نظر ہوتی ہے کہ وہ ہر اس فرد، طبقہ اور گروہ کو اپنا دشمن گردانتی ہے جو ذہنی اور جسمانی طور پر ان کے تابع فرمان نہ ہو۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کا پاکستان مہنگائی، ملکی و غیرملکی قرضہ جات، بیروزگاری، غربت، لاقانونیت، عالمی تنہائی، زرمبادلہ کے ذخائر کی کمی، توانائی کے مہنگے ذرائع جیسے مہلک مسائل کا شکار ہے۔ معیشت کے ادنیٰ طالب علم کے طور پر ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ ان تمام مسائل کا حل واحد حل تجارت، صنعت و حرفت اور سیاحت کی ترقی میں پنہاں ہے۔ مگر ملکی میڈیا یا کسی اور پلیٹ فارم پر اس بارے نہ تو کوئی بات ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی کرنے کو تیار ہے۔ اگر کل ملکی سوچ کا یہ عالم ہے تو ہمیں اندازہ ہو جانا چاہیے کہ جاگیردارانہ ذہنیت کس قدر ہماری سوچوں پر حاوی ہے۔

اس وقت پاکستان ایک سماجی و سیاسی تبدیلی کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ بہتر راستہ یعنی تجارت اور صنعت کی ترقی کا راستہ ہے مگر اس راستے کی تمام منازل جاگیردارانہ ذہنیت کے نزدیک شجر ممنوعہ ہیں۔ 75 سالہ جاگیردارانہ سوچ کا کیا دھرا تو ہم بہت پہلے سے ہی بھگت رہے ہیں۔

یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ سماجی اور سیاسی تبدیلی کے عمل میں سیاسی پارٹی کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے یعنی کسی بھی قسم کی سیاسی تبدیلی کسی سیاسی جماعت کی شعوری جدوجہد کے بغیر ممکن ہو ہی نہیں سکتی۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کی تمام بڑی سیاسی پارٹیاں جو اسمبلیوں تک پہنچ بھی رکھتی ہیں بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر جاگیرداری نظام کو ہی قائم رکھنے کی حامی نظر آتی ہیں۔ یہ اسمبلی میں قانون سازی کر لیں، خاموشی اختیار کر لیں، ملک بدر ہو جائیں، جیل چلی جائیں، پاک فوج کے خلاف محاذ کھڑا کر لیں، امداد کے طور پر چند ملین ڈالر ملک میں لے آئیں، انکم سپورٹ پروگرام شروع کر لیں غرض کہ ان کے ہر اک عمل سے حتمی فائدہ جاگیردار طبقہ کو ہی پہنچتا ہے۔ یہ تمام سیاسی پارٹیاں ایک اور ”دو نمبری“ بڑی چالاکی کے ساتھ کرتی ہیں کہ اچھی اچھی باتیں اپنے پلڑے میں اور اپنی تمام ناکامیوں کو بغیر سوچے سمجھے فوج اور عالمی مالیاتی اداروں کے سر منڈھ دو اور بیان داغ دو کہ ہم تو بہت اچھا کرنا چاہتے تھے مگر فوج نے ہمیں کرنے ہی نہیں دیا وغیرہ۔

ہم نے کالم کی شروع سطور میں جاگیردار طبقہ کے علاوہ جن طبقات کو ذکر کیا ہے ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے کوئی ایک پارٹی بھی وجود یا معنی نہیں رکھتی۔ جب تک ملک میں سفید پوش، تجارت و صنعت پیشہ، مزدور اور کسان طبقات کی مضبوط سیاسی پارٹیاں میدان عمل میں نہیں آتیں اس وقت تک ملک جاگیرداری کے ہی زیر تسلط رہے گا اور جاگیرداری کے سیاسی تسلط کا نتیجہ وہی آئے گا جو گزشتہ 75 سالوں میں آ چکا ہے۔

Facebook Comments HS