سٹیٹس کو بمقابلہ فوری اور سستا انصاف


بہتر کاروبار، پیداوار اور اس کی ترقی کے لیے پرامن ماحول کا ہونا ہر وقت اور پر جگہ ناگزیر رہا ہے۔ اور اس کے لیے ہر طرح کے جائز اور ناجائز طریقے مقامی، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔

جرگہ۔ پنچایت۔ DRCs جسٹس آف پیس لوکل گورنمنٹس اور مختلف سرکاری۔ نیم سرکاری۔ نجی ادارے اور تنظیمیں اس بات ہی کے لیے وجود میں آئی ہوئی ہیں اور اسی کام میں مگن رہتی رہی ہیں کہ معاشرے میں امن برقرار رہے۔

امن برقرار رکھنا بذات خود نیک ہی نہیں بلکہ ایک بہت ہی مقدس فریضہ ہے۔ جس پر تمام مذاہب اور نظام ہائے بہت زور ڈالتے اور اقدامات اٹھاتے رہے ہیں۔

اسی امن کو برقرار رکھنے کے لیے۔ سرمایہ دار خاص طور پے انفرادی، اجتماعی، ملکی اور نظام کے طور پر بہت توجہ دیتے رہے ہیں۔ کیونکہ زیادہ پیداوار کے لیے اور کاروبار کے پھلنے پھولنے کے لیے پر امن ماحول لازمی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس سے مثبت نتیجہ ملتا ہو۔

چونکہ سرمائے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اور سرمائے کی بڑھوتری ہی اس نظام میں سب کچھ ہوتا ہے۔ اس لیے دنیا کے بڑے بڑے ترقی یافتہ۔ سرمایہ دار ممالک اپنے ہاں موجود اکثر بلکہ تمام مذاہب کے کمیونیٹیر اور تنظیموں کی باقاعدہ اور مستقل سرپرستی، مالی، اخلاقی اور دیگر ہر قسم کا امداد کرتے رہے ہیں۔ اور یہ بھی اپنی مذہبی فرائض جوش و جذبے سے پوری کرتے ہوئے صبر۔ شکر۔ اطمینان اور امن کی تبلیغ اور کوششیں کرتے اور بلاواسطہ سرمایہ داری کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔

برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور انگریز سرکار کی سامراجی قبضہ گیری اور نظام بھی اسی سرمایہ داری نظام کا حصہ تھا۔ جو ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہتے اور اس سے مال اور وسائل چراتے نہیں بلکہ دن دیہاڑے زبردستی لے جایا کرتے تھے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کے ان انگریزوں اور دیگر ممالک کے سرمایہ داروں میں بہت بڑا فرق تھا۔ دیگر ممالک کے سرمایہ دار اپنے ہی لوگوں سے کام چلاتے ہیں اس لیے ان سے مہذب طریقہ سے پیش آتے ہوئے اپنا مطلب نکالتے رہتے ہیں۔ مگر یہاں برصغیر میں ان کی حیثیت بالکل الگ ہی تھی۔ یہ ہندوستان پر قابض بن کے ہندوستانیوں کو غلام بنا کے ان پر ظلم کے پہاڑ بھی توڑتے رہے اور ان کے وسائل بھی لوٹتے رہے۔ ہندوستانی جو صدیوں سے آزاد اور حکمران رہے تھے۔

ان سامراجیوں کو برداشت نہیں کر رہے تھے۔ اس لیے انگریز طرح طرح کے طریقے ان کو دبانے اور زیر دست رکھنے کے لیے اپنائے رکھے تھے۔ جس میں دھونس۔ دھاندلی۔ ظلم و ستم کے طریقوں کے ساتھ ساتھ اپنے پروردہ چوہدریوں۔ ملکوں۔ اربابوں۔ نوابوں اور خان بہادروں کے ذریعے بڑی بڑی جاگیریں اور مراعات دے کر عوام کو زیر دست رکھا کرتے تھے۔

اس کے علاوہ قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گھر کی لونڈیاں بنا کے قانون کی آڑ میں لاقانونیت اور جنگل کا قانون نافذ کیا تھا۔ ساتھ ہی بدنام پالیسی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو (Divide and rule) کی پالیسی کو بھی کامیابی سے دوام دیتے رہے۔ یہ تقسیم کرنے والی پالیسی دوہری نوعیت کی ہوتی تھی یعنی بڑی سطح پر اور چھوٹی سطح پر۔ بڑی سطح کی پالیسی بڑے بڑے سیاسی پارٹیوں۔ مذہبی اور فرقہ ورانہ تنظیموں کی سطح پر استعمال کی جاتی تھی جبکہ چھوٹی سطح کی پالیسی عوام اور نچلی سطح پر استعمال کی جاتی تھی۔ جس میں عوام کو مذہب۔ ذات برادری۔ خاندانی۔ جائیداد اور اس جیسی دوسری نوعیتوں کے اختلافات اور تنازعات میں مبتلا کراتے۔ جس سے وہ ایک دوسرے کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالے رہتے اور سامراج تماشا دیکھ دیکھ کر اور مسکرا مسکرا کے اپنا مقصد پورا کرتے رہے۔ جس میں بات مار پیٹ اور قتل و غارت تک چلی جاتی تھی۔ ایسے میں فوجداری قوانین تحت کڑی سی کڑی بلکہ عمر قید اور پھانسی تک کی سزائیں دے کر ایک تو معاملہ دباتے اور ساتھ ہی خوف و ہراس کی مستقل فضاء بھی قائم رکھا کرتے تھے۔

وہ بھی تفتیش، تھانہ۔ کچہری۔ ضمانت۔ سزاء اور سزا کاٹنے پر سالوں لگتے اور جب سزا پوری ہوتی تو اکثر فریقین مر کھپ ہو چکے ہوتے یا پھر راضی نامہ ہو جاتا۔ دوسری طرف جو زمین جائیداد۔ مذہبی فرقہ ورانہ خاندانی اور دیگر نوعیت کے تنازعات ہوا کرتے تھے اس کے لیے دیوانی قوانین لاگو اور دیوانی عدالتیں قائم کیں تھیں۔ جس کا واحد مقصد تنازعات کا مستقل بنیادوں پر ختم کرنا سرے سے تھا کی نہیں۔ بلکہ تنازعات کو زندہ رکھنا۔ فریقین کو مستقل الجھائے رکھنا تھا۔

وہ بھی اس طرح کہ امن و امان کوئی مسئلہ پیدا کیے بغیر عوام مطلب فریقین مستقل مخالفت اور ٹینشن میں رہیں۔ اور ایک بہت ہی معمولی نوعیت کا مقدمہ جب ابتدائی عدالت سے ہوتے ہوئے سیشن کورٹ۔ چیف کورٹ (ہائی کورٹ) اور سپریم کورٹ تک جاتا۔ وہ بھی اپیل درمیانی اپیل۔ نگرانی۔ نظرثانی۔ کمیشن وغیرہ وغیرہ تو اکثر فریقین کی تیسری نسل میدان میں ہوتی۔ اس نظام کے لیے جو حربہ اختیار کیا جاتا وہ قانون ضابطہ دیوانی (Civil procedure code) ہی تھا۔ اور یہی قانون آج بھی بہت ہی معمولی۔ غیر موثر اور ناقابل فہم ترامیم کے ساتھ پاکستان میں موجود اور جاری ہے۔ جس کا واحد مقصد تنازعات کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس کو طول دیتے ہوئے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوئے بغیر حالات کو جوں کے توں (Status۔ quo) رکھنا تھا۔ تبھی تو عدالتی نظام پر عوام اعتماد کھوتے رہے ہیں۔ اور پاکستان میں ہر سیاسی۔ جمہوری اور آمر لوگ اور جو بھی ہو وہ ایک ہی رٹ لگائے رکھے ہیں ”فوری اور سستا انصاف“ ۔

مگر یہ نئی نئی عدالتوں کے قیام یا اس کی تعداد بڑھانے اور عدالتی نظام میں تبدیلی کی بجائے بنیادی قوانین میں زمینی حقائق اور معروضی حالات کے مطابق قانون سازی ہی سے ممکن ہو گا۔

Facebook Comments HS