اوہ: آئی سی: نشستن گفتن برخاستن

1972 میں او آئی سی ( آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن ) کا قیام عمل میں آیا، جو تقریباً 1.7 ارب مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ 57 اسلامی ملکوں پر مشتمل اس تنظیم کو اقوام متحدہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی عالمی تنظیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
او آئی سی کے چارٹر میں کہا گیا کہ،
اسلامی، اقتصادی اقدار کا تحفظ، آپس میں یکجہتی کا فروغ، سماجی، اقتصادی، ثقافتی، سائنسی اور سیاسی شعبوں میں تعاون کے فروغ، عالمی امن و سلامتی کے قیام کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم خاص طور پر سائنس و ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے گا۔ تنظیم مقدس مقامات کے تحفظ اور فلسطینی عوام کی جدوجہد میں تعاون کے لیے مربوط اقدامات کرے گی۔ مسلمانوں کے وقار، آزادی اور قومی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو مضبوط بنایا جائے گا۔
ملکوں کے درمیان تنازعات کو پرامن طور پر مذاکرات، مصالحت اور ثالثی کے ذریعے حل کرایا جائے گا۔ ’اپنے منشور کی روشنی میں تنظیم نے پاکستان و بنگلہ دیش [ 1971۔ 74 ]، ایران و عراق [ 1980۔ 88 ]، سینگال و موریطانیہ [ 1989 ]، عراق و کویت [ 1990۔ 91 ] تنازعات اور فلپائن و تھائی لینڈ میں مسلم اقلیتوں کو درپیش مسائل حل کرنے کی کوشش کی، لیکن افغانستان، بوسنیا، مقبوضہ کشمیر، آذربائیجان، چیچنیا، جنوبی فلپائن، کو سوو، لبنان، الجزائز، سوڈان اور عراق جیسے معاملات پر زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ مسئلہ فلسطین دراصل او آئی سی کی تاسیس کا بنیادی محرک ہے۔
غاصب صہیونی ریاست نہتے فلسطینیوں پر جو ظلم و ستم ڈھا رہی ہے اس کے لیے او آئی سی اور عرب لیگ کو بالآخر یاد آ ہی گیا کہ اجلاس بلانے کی ضرورت ہے۔ اس مشترکہ اجلاس میں حصہ لینے والے شرکاء نے جو کچھ کہا ہے ان سے کہیں بہتر ردعمل ان لاکھوں افراد کا ہے جو امریکا اور یورپ کے مختلف ممالک میں احتجاج کر رہے ہیں۔ پوری دنیا بالخصوص مغربی ممالک میں فلسطین سے ناقابل یقین اظہار یکجہتی ہو رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے قریب مظاہرین یہ احتجاجی بینر اٹھائے نکلے : ’بائیڈن ہمیں دھوکا دے رہا ہے۔
تاریخ کا بھیانک ترین منظر اربوں انسان دیکھ رہے ہیں، غزہ میں اس وقت ہسپتال ایندھن، ادویات اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ غزہ کے 35 میں سے 21 ہسپتال مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے العودہ، القدس اور انڈونیشیا ہسپتال کو بھی گھیر رکھا ہے۔ مغربی ممالک کے عوام فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ ان کے حکمران لاشیں کھانے والے گدھوں کی طرح غزہ کی صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔ یہود کا سب سے بڑا ہتھیار میڈیا تھا جس نے دنیا کے دل دماغ یرغمال بنا رکھے تھے۔ آج اسی پر پلٹ چکا ہے۔ عالمی رائے عامہ بدل گئی، ٹویٹ، ٹک ٹاک فلسطینیوں پر عقیدت، محبت کے پھول نچھاور کر رہے ہیں۔
اب آئیے او آئی سی اور عرب لیگ کے ریاض میں ہونے والے اس مشترکہ اجلاس کی طرف جس میں ایران، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور کویت نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا جبکہ ترکی اور انڈونیشیا نے اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں جانے کی تجویز دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی، غزہ کا محاصرہ ختم اور فوجی آپریشن بند کیے جائیں۔ یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی رسائی دی جائے۔ غاصب قوت فلسطینیوں کے خلاف جرائم کی ذمہ دار ہے۔
فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ اسرائیلی جارح فورسز کو جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں لایا جائے۔ امریکا سمیت عالمی برادری کو خطے میں قیام امن کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا۔
نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ اسرائیلی افواج فلسطین میں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ عالمی برادری اسرائیل کا محاسبہ کرے، اسرائیل کے مظالم اور ریاستی دہشت گردی کی اس مہم کو فوری طور پر روکے۔ کانفرنس کے اعلامیے میں غزہ میں جاری جنگ اور بمباری کو فوری روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا۔ غزہ کا محاصرہ ختم کرنے، علاقے میں انسانی امداد کی اجازت دینے اور اسرائیل کے ہتھیاروں کی برآمدات روکنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
موجودہ صورتحال میں مذکورہ اجلاس بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا لیکن اعلامیہ مایوس کن ہے۔ مذمتی بیانات سے غاصب صہیونی ریاست کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر مسلم ممالک کے حکمران اور کچھ نہیں بھی کر سکتے تو انھیں ایسی تمام کمپنیوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کرنا چاہیے تھا جو اپنے منافع سے ناجائز اسرائیلی ریاست کو حصہ دے کر مظلوم فلسطینیوں کے خلاف اس کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ امریکا سمیت ان تمام ممالک کے ساتھ تعلقات محدود کرنے کی بات ہونی چاہیے تھی جو ممالک کھل کر غاصب صہیونی ریاست کی حمایت اور اسے اسلحہ اور گولا بارود مہیا کر رہے ہیں۔ ایسے اقدامات کے بغیر غاصب صہیونیوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے ہاتھ نہیں روکے جاسکیں گے۔ او آئی سی اور عرب لیگ میں شامل ممالک کے حکمران حماس کے بارے میں جو خواہش رکھتے ہیں اس کے متعلق سابق امریکی سابق سفارت کار کا انکشاف آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔
نیویارک ٹائمز ( 27 اکتوبر) میں سابق امریکی سفارت کار ڈینس راس اپنے مضمون میں گزشتہ ہفتوں میں عرب ممالک کے لیڈران سے رازدارانہ گفتگو کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”سب لیڈروں نے کہا کہ حماس کا تباہ کیا جانا ضروری ہے۔ اگر حماس فتح یاب ہو گئی تو اس کی پالیسی قوت پا جائے گی۔ عوام کے سامنے فلسطینیوں کی اموات اور شدید حالات کی بنا پر فلسطینیوں کا ظاہری دفاع کرنا ان کی مجبوری ہے۔“ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلم حکمرانوں کی اکثریت فلسطینی کاز سے کتنی مخلص ہے۔
اس کے مقابلے میں حال ہی میں منظر عام پر آنے والی اس دستاویز پر نظر ڈالیں جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی یورپی ممالک نے جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کو بین الاقوامی نگرانی میں دینے کے آپشن پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے تعاون سے اسے منظم کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کے قیام کی تجویز پیش کی۔ جرمنی کی طرف سے تیار کردہ دستاویز میں تجویز کیا گیا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری ایک بین الاقوامی اتحاد پر عائد کی جائے۔
فلسطین کے مظلوم انسان، دنیا سے شکوہ کناں ہیں اور نہ ہی کسی سے اچھے کی امید رکھتے ہیں۔ فلسطین کی فوج کے ننھے سپاہی، نوجوان لڑکیاں، بہادر لڑکے، حوصلہ مند بوڑھے اور توانا جذبوں کی حامل مائیں، بیٹیاں، عورتیں ہر روز ایک نئی کربلا کا سامنا کرتے ہیں اور ان کے خاموش سوال پونے دو ارب مسلمانوں کے ضمیر پر تازیانے برساتے ہیں کہ ناتواں اور تنہا سہی مگر دیکھو! جنگ یوں خالی ہاتھوں بھی لڑی جا سکتی ہے۔ ایک آسٹریلوی عیسائی مائیکل روہان نے ( 21 اگست 1969 ء ) مسجد اقصی میں آگ لگا کر او آئی سی بنوا دی۔ مگر اب او آئی سی سوائے ”اوہ: آئی سی“ کے اور کیا ہے؟ خلاصہ نشستن گفتن برخاستن۔

