ڈاکٹر خاور نوازش کی کتاب: ”موقف کی تلاش“


بد قسمتی سے پاکستان میں تنقیدی سوچ اور منطقی انداز فکر کو سراہے جانے کا چلن رواج نہیں پا سکا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ رویہ اس قدر جڑ پکڑ چکا ہے کہ جو بھی بات ہمارے عقائد اور مسلمات سے متصادم ہو رہی ہو، اسے یا تو یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے یا پھر اس کے خلاف محاذ تشکیل دے لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہماری قوم دنیا میں قدامت پرست اور بنیاد پرست رویوں کا اظہار کرنے میں سب سے آگے ہے۔

پوری دنیا ترقی کے زینے طے کر رہی ہے اور ہم تنزلی کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔ ویسے تو روشن خیالی اور منطقی فکر کوئی گناہ نہیں بلکہ یہ مہذب زندگی کی رفتار (Momentum) سے ہم آہنگ ہونے کا انداز ہے لیکن پھر بھی رجعت پسند قوتیں نہ جانے اس سے کیوں بدک جاتی ہیں۔ فکری انحطاط کے اس دور میں ڈاکٹر خاور نوازش ”موقف کی تلاش“ لے کر تاریک ذہنوں کے لیے روشن سورج بن کر طلوع ہوئے ہیں۔ ان کی مذکورہ کتاب ان کے مضامین کا مجموعہ ہے جو عکس پبلی کیشنز نے 2023 ء میں شائع کی ہے۔

اس کتاب کے تمام مضامین ایسا موقف لیے ہوئے ہیں جو رائج فکر و نظر کو یا تو رد کرتا ہے یا پھر اس سے گریز کرتے ہوئے اپنا منفرد راستہ تشکیل دیتا ہے۔ استرداد اور افتراق ان مضامین کا خاصا ہے۔ وہ ادب کو رنگ، نسل اور قومیت سے اوپر اٹھ کر اخوت و مساوات کے وسیع دائرے میں رکھ کر دیکھنے کے عادی ہیں۔ اسی لیے انھوں نے ایسا موقف تراشا ہے کہ پامال راستوں پر محو سفر ہونے کے بجائے نئی راہوں اور پگڈنڈیوں کو تلاشنے کا جتن کیا جائے۔

کتاب کے پہلے مضمون کو ہی دیکھ لیں جو ”ادب کی نظریاتی اساس“ کے عنوان کے تحت قلم بند کیا گیا ہے۔ مذکورہ مضمون میں مصنف نے ان تمام ناقدین کے اعتراضات کا مدلل جواب دیا ہے جو ادب کو جمالیاتی سر گرمی سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ اس کا موقف ہے کہ ادب کو زندگی اور سیاست سے مربوط ہو کر ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ جو ادیب معاشرتی اور سماجی ذمہ داریوں سے دور بھاگتے ہیں اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ وہ خود کو معاشرے سے الگ خیال کرتے ہیں اور ان کے تخلیق کردہ ادب کی معاصر عہد میں کہیں کوئی جگہ دکھائی نہیں دیتی۔

موجودہ عہد میں ہمارا سماج جس انحطاط پذیر صورت حال سے گزر رہا ہے، اس صورت حال میں ادب کو مثبت کردار ادا کرنے کے لیے نئی سوچ اور تازہ فکر کے ساتھ سامنے آنا ہو گا جو زوال پذیری کے عمل کے سامنے بند باندھ سکے اور معاشرتی سطح پر نشاۃ ثانیہ کا موجب بن سکے۔ اس موقعے پر وہ ترقی پسندوں سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ انھیں نعرہ بازی سے زیادہ ارتقا، رواداری اور کلچر کی وسعت پر یقین کو مضبوط کرنا ہے۔

میرے نزدیک اس کتاب کا سب سے اہم مضمون ”گلوبلائزیشن، مقامیت اور اردو کی نئی تشکیل“ ہے۔ اس مضمون میں عالمگیریت کو آج کے کارپوریٹ کلچر کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ آج کا کارپوریٹ کلچر اتنی بھیانک شکل اختیار کر چکا ہے کہ اس نے انسانی جذبات و احساسات کو کموڈٹی میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ یوں انسان کی اپنی ذات پر گرفت کمزور ہو گئی ہے اور وہ اپنی ہی ذات کا تلاشی نظر آتا ہے۔ کچھ عرصے سے عالمگیریت کے کلچر کو مقامیت سے شکست دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ عبث ہے۔

کیوں کہ ہمارے خطے کی مقامیت تو قبولنے کی صلاحیت پر استوار ہے اس لئے اس میں مزاحمتی اثر پیدا نہیں ہو سکتا۔ اگر عالمگیریت نے مقامی زبانوں کو قبول کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے کاروباری منڈی کی توسیع کی ہے۔ اسی مضمون کے آخر میں انھوں نے اردو کی بقا کے لیے اس کے فعلی کردار کو لازمی قرار دیا ہے بصورت دیگر اس کا مستقبل مخدوش ہے۔ وہ زبانیں جو معیشت اور تجارت کے ساتھ منسلک ہوں گی، وہی انگریزی کے لسانی استعمار کا مقابلہ کر سکیں گی۔

”تصور آزادی اور اردو نظم“ میں مابعد دور میں آزادی کے تصور کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس تصور آزادی کو موضوع بنایا گیا ہے جو ہماری اردو نظم میں بیان ہوا ہے۔ اردو نظم میں زیادہ تر اس تصور آزادی کو پیش کیا گیا ہے جو انگریزی استعمار سے چھٹکارا حاصل کرنے سے جڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے جوش، مجاز، علی سردار جعفری، جاں نثار اختر اور سیماب اکبر آبادی کے نام بطور خاص لیے جا سکتے ہیں۔ انگریزی استعمار سے آزادی کے علاوہ استحصالی نظام سے آزادی کے خیالات بھی ترقی پسند شاعروں کے ہاں دیکھنے کو ملتے ہیں جنھیں اس مضمون میں تجزیاتی عمل سے گزارا گیا ہے۔

”کیا فقط یا دو ہجرت تھا اداسی کا سبب ( مطالعۂ ناصر)“ میں مضمون نگار نے ناصر کاظمی کے حوالے سے اس تصور کا رد کرنے کی کوشش کی ہے جس کے تحت ناصر کاظمی کو اداسی اور میر و فراق کا مقلد شاعر خیال کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری سے ایسے اشعار سامنے لائے گئے ہیں جن میں ناصر زندگی اور سماج سے جڑا ہوا شاعر دکھائی دیتا ہے۔ ”مطالعۂ فیض۔ نئے پیراڈائم کی تلاش“ میں ان منطقوں کو کھوجنے کی کوشش ہے جو ابھی تک تحقیق طلب ہیں۔

معاصر عہد میں وقوع پذیر ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں کے ذیل میں اس کے کلام کو معرض تفہیم میں لانے کی ضرورت پہ زور دیا گیا ہے تاکہ فیض کو حقیقی معنوں میں زندہ رکھنے کی کوشش ہو سکے نہ کہ اسے میلوں ٹھیلوں کی بیساکھیوں سے زندہ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ ”مذہب اور کلچر“ کے مضمون میں فیض اور اقبال کے نظریات کی روشنی میں ایسی مماثلتیں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ان کے کلچر کے تصورات کے حوالے موجود ہیں۔ ”سر سید اور اقبال کا تصور تہذیب“ میں اقبال اور سر سید کے خیالات کو قارئین کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

دونوں مفکرین کے ہاں تہذیب کی اساس احترام آدمیت پر قائم ہے۔ دونوں اس طرز حیات کو ناپسند کرتے ہیں جس سے حیوانیت، بربریت اور نا انصافی کا اظہار ہوتا ہے۔ عصری تناظر میں سر سید اور اقبال کے تصورات تہذیب کے مطالعات مثبت بیانیے کے منبع بننے کی پوری توانائی رکھتے ہیں۔ ”اقبال: ’اسرار خودی‘ سے ’تاریخ تصوف‘ تک“ ایک معلومات افزا مضمون ہے جس کے آخر میں دلچسپ سوالات اٹھائے گئے ہیں ان میں سے چند ایک قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش ہیں :

٭اقبال نے اپنے خطبات کے لیے ذریعۂ اظہار کے طور پر انگریزی زبان کا انتخاب کیوں کیا جب اپنی نگرانی میں ہی بعد ازاں اس کا اردو ترجمہ بھی کرانا تھا؟

٭خطبہ الہ آباد میں اقبال نے جو کچھ کہا اسے نظریۂ پاکستان کا نام دے کر مطالعہ پاکستان کی کتب میں شامل کرنے والے اس بات کو نظر انداز کیوں کر دیتے ہیں کہ انھوں نے متحدہ ہندوستان کے اندر ہی ایک مسلم ریاست کی بات کی تھی اور تقسیم ہند کے علمبردار کبھی بھی نہ رہے تھے۔

٭اقبال نے اپنی فارسی شاعری میں جس فلسفیانہ فکر کا تانا بانا بنا ہے، اردو شاعری میں وہ کیوں مفقود ہے؟

٭فکر اسلامی کو اپنی شاعری اور خطبات میں موضوع بحث بنا کر فلسفیانہ نظریات رقم کرنے والے اقبال عملی زندگی میں بالخصوص وراثت کے حوالے سے مذہب اسلام کے اصولوں پر کس قدر عمل پیرا رہے ہیں؟

” سر سید احمد خان کی انگریز دوستی اور مسلم مفادات ( مابعد نو آبادیاتی تناظر)“ میں سر سید احمد خان کو مسلمانوں کا خیر خواہ اور اعلا سیاسی بصیرت کا حامل سیاستدان اور مفکر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں اس تصور کو بھی رد کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کے تحت متعدد ناقدین انھیں انگریز کا حامی خیال کرتے ہیں۔ سر سید ہی تھے جنھوں نے متاخرین کو متاثر کیا اور محمد علی جناح اور جواہر لال نہرو جیسی شخصیات سر سید کی سیاسی فکر کا تسلسل محسوس ہوتے ہیں۔

”Divide and Rule اور اردو ہندی تنازع“ میں اس خیال کی بیخ کنی کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انگریزوں نے ہندوستانیوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں پہلے سے اختلافات کے بیج موجود تھے جنھیں انھوں نے دانشمندی سے اپنے حق میں استعمال کیا۔ کتاب کے آخری مضمون ”آریاؤں کی ہندوستان آمد (یلغار) ؟“ میں Aryan Invasion Theory پر تشکیک کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسی مضمون کے دوسرے حصے میں ان مفکرین کی آرا کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے جو اس تھیوری کے حق میں دلائل پیش کرتے ہیں۔ مصنف کا خیال ہے کہ یہ ضروری نہیں پچھلی نسلوں کے وہ محاکات جو خام صورت میں موجود ہیں انھیں بغیر سوچے سمجھے اگلی نسلوں کو منتقل کر دیں۔

ڈاکٹر خاور نوازش اس سے پہلے ”اردو اور ہندی :وحدت/ثنویت“ کے عنوان سے اردو قارئین کو ایک فکر انگیز کتاب دان کر چکے ہیں۔ حالیہ کتاب اسی تسلسل کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ اس فکر انگیز کاوش پہ وہ داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ امید ہے کہ وہ اس تسلسل کو جاری رکھیں گے۔

Facebook Comments HS