سائنسی ایجادات کے اتفاقیہ سنگ میل


سٹیتھو سکوپ

سٹیھتو سکوپ کی ایجاد 1816 میں ہوئی تھی اور اس کا موجد رینی لانیک (René Laennec) تھا کیونکہ اس کی مریض نوجوان، خاتون اور قدرے فربہ جسم تھی۔ لانیک کو شبہ تھا کہ خاتون کو دل کا عارضہ ہے۔ اس لئے اس کو برا لگا کہ وہ معمول کے مطابق اس کا معائنہ کرے یعنی اپنے کان کو عورت کے دل کے پاس لے جا کر اس کی دھڑکن سنے۔ اس کے متبادل کے طور پر اس نے ایک اخبار کو ٹیوب بنا کر دھڑکن سننے کے لئے استعمال کیا۔ وہ یہ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گیا کہ اس طریقے سے amplification effect کتنا زیادہ پیدا ہوا۔ اس کے بعد اس نے بارہ انچ کی لکڑی کی ٹیوب تیار کی۔ یوں سٹیھتو سکوپ کی ایجاد ہوئی تھی۔

سیفٹی پن

نیویارک کے میکنک والٹر ہنٹ Hunt نے سب سے پہلے سیفٹی پن 1849 میں ایجاد کیا تھا۔ یہ کام اس نے تین گھنٹے میں کیا کیونکہ اس کو 15 ڈالر کا قرضہ ادا کرنا تھا۔ اس وقت اس کو اس ایجاد کا کوئی فائدہ نہیں سوجھا اور اس کے حقوق ایک دوست کو چار سو ڈالر میں دے دیے تاکہ وہ اس کا قرض چکا سکے۔ اس کے دوست اور مستقبل میں اس کے مینوفیکچرر نے اس کے ذریعہ کئی سو ملین ڈالر کمائے۔

الیکٹرک بلب

ٹامس ایڈیسن الیکٹرک بلب کا موجد قرار دیا جاتا ہے لیکن اس کے لئے اس نے قدرے دھوکے سے کام لیا۔ کیونکہ اس کے بغیر وہ اتنے خطیر فنڈز حاصل نہ کر سکتا جس کے ذریعہ وہ اس کا کمرشل استعمال تیار کر سکتا۔ 1878 میں اس نے بینکر جے پی مورگن سے بات کی کہ وہ اس کو پچاس ہزار ڈالر قرضہ دے تاکہ وہ لیبارٹری میں مارکیٹ کیے جانے والا بلب تیار کر سکے۔ بینک نے کمپنی بنائی مگر زیادہ شیئرز فروخت نہ ہوئے۔ تا ہم ایڈیسن نے اخبار کے ذریعہ یہ خبر پھیلا دی کہ اس نے بلب ایجاد کر لیا ہے۔ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور کمپنی کے شیئرز دھڑا دھڑ فروخت ہو گئے یوں ایڈیسن کو پچاس ہزار روپے مل گئے۔ تا ہم الیکٹرک بلب بنانے میں مزید ایک سال لگ گیا۔

گن کاٹن کی دریافت

جرمن کیمیا دان کرسچیان شون بائن Christian Schonbein نے گن کاٹن سے بارود کی انڈسٹری کی بنیاد رکھی تھی۔ اس نے اپنے کچن میں 1845 میں نٹرک ایسڈ اور سلفیورک ایسڈ کے مکسچر کو اتفاق سے الگ کر لیا۔ اس طرح میز پر جو گند پڑا تھا وہ اس نے اپنی وائف کے اپرن سے صاف کیا مگر جب اس نے اپرن کو سکھا نے کے لئے لٹکایا تو اس میں ٓاگ لگ گئی۔ کاٹن میں جو سیلولوس تھا اس سے اس نے نائیٹرو سیلو لوس بنا لیا۔ گرم ہونے اور خشک ہو نے پر یہ آکسی ڈائز ہو گیا۔ کئی دہائیاں گزرنے کے بعد اس کو اس رنگ میں تیار کیا گیا کہ اس کو مینوفیکچر کیا جا سکے۔ لیکن 1890 میں گن کاٹن کی جگہ گن پاؤڈر ملٹری کے استعمال کے لئے استعمال ہو نے لگا۔
تھرموس فلاسک

جس شخص نے تھرموس فلاسک ایجاد کیا اس نے اس کا پیٹنٹ نہیں لیا لیکن اس کے نائب نے لے لیا اور کئی ملین ڈالر کما لئے۔ جیمز ڈیوارJames Dewar نے 1892 میں دوہری دیوار والا فلاسک بنا لیا تاکہ چیز کو ٹھنڈا رکھا جا سکے۔ اس کے شاگرد Reinhold Burger نے گھریلو استعمال کے لئے اس کو 1904 میں جرمنی میں بنا لیا جس کا نام تھرموس تھا جس کے معنی لاطینی میں حرارت کے ہیں۔ اس کے بعد سے آج تک تھرموس کمپنی نے ہزاروں ملین نفع کما لیا ہے۔

ہیروئن Heroin

ہیروئن کو 1897 میں کھانسی کے علاج کے طور پر بنا یا گیا تھا۔ Bayer ڈرگ کمپنی کے ہائینرک ڈریسر نے اسی سال اسپرین ایجاد کی لیکن اس کو احساس ہوا کہ اس کا دل پر کمزوری کا اثر پیدا ہوتا تھا۔ اس نے اپنے اوپر اور ساتھ میں کام کرنے والے ملازمین پر اس کا تجربہ کیا تو دریافت ہوا کہ اس کا اثر heroic تھا۔ نومبر 1898 میں ہیروئن کا نام کمرشل استعمال کے لئے شروع کیا گیا۔ اس کو ونڈر ڈرگ wonder drug کا نام دیا گیا۔ اگلے چھ سالوں میں 180 کلینکل ٹرائلز کیے گئے جو سب کے سب فائدہ مند نکلے۔ لیکن 1913 میں بئیرز کمپنی نے اس کو میڈیسن کے طور پر بنانا بند کر دیا جب امریکہ میں ہسپتالوں نے شکایت کی کہ یہ لوگوں میں ایڈکشن پیدا کرتی ہے۔

مائیکرو ویو اوون Microwave oven

وہ مشین جس نے ہماری گھریلو زندگیوں میں انقلاب برپا کیا ہے اس کا نام مائیکرو ویو اوون ہے۔ اس کا آغاز ایک چاکلیٹ کے پگھلنے اور جنگ کے دوران ریڈار پر تحقیقی کام سے ہوا جو میگنا ٹران استعمال کرتا جس سے مائیکرو ویو چیزوں کو تلاش کرتا ہے۔ ایک ریڈار ریسرچر جس کا نام پرسی سپینسر جو رے تھیان Raytheon کارپوریشن میں ملازم تھا 1946 میں ایک روز وہ اپنی لیبارٹری میں میگنا ٹران کے پاس سے گزرا تو اس نے دیکھا کہ اس کی جیب میں چاکلیٹ پگھل گئی۔ وہ اس بات پر ششدر رہ گیا اب اس نے میگنا ٹران ٹیوب کے پاس مکئی کے دانے رکھے تو وہ اچھلنے لگے۔ اگلے روز اس کا تجربہ ایک انڈے پر کیا تو وہ اس کے رفیق کار کے اوپر پھٹ گیا۔

1946 کے آخر میں رے تھیان کارپوریشن نے مائیکرو ویو اوون کا پیٹنٹ حاصل کر لیا اور اگلے سال 1947 میں ایک کمرشل مشین بنا لی۔ ایجاد ہونے والی یہ مشین چھ فٹ اونچی، ایک ٹن کا تہائی اس کا وزن اور اس کی قیمت پانچ ہزار ڈالر تھی۔

جا کوزی کی ابتداء Jaccuzi

نارتھ امریکہ میں گھروں کے باتھ رومز میں جاکوزی کا استعمال بہت ہوتا ہے۔ اس کی ابتداء یوں ہوئی کہ کیلی فورنیا میں مقیم اٹلی سے آئی جاکوزی فیملی کے ایک بچے کینتھ کو جوڑوں کا شدید درد لاحق ہو گیا تھا۔ اس کے والد کین ڈیٹو جاکوزی کو احساس ہوا کہ اس کے بیٹے کو واٹرتھراپی کی ضرورت ہے۔ اس نے ایک پورٹیبل پمپ بنا یا جس کو ہسپتال کے باتھ ٹب میں رکھ کر چلایا جاتا تو اس میں بیٹھ کر اس کے کو سکون ملتا تھا۔ اس کی فیملی جہازوں کے لئے ائر پمپ بناتی تھی۔ 1955 میں اس آئیڈیا کو کمرشل کر دیا گیا جس کے لئے ایک تھیراپوٹک مشین بنائی گئی۔ پندرہ سال کے اندر اندر وھرل پول باتھ whirlpool baths بننا شروع ہو گئے جن میں ائر جیٹس لگے ہوتے تھے۔ وہ بچہ یعنی کینتھ جاکوزی اس کمپنی کا چئیرمین بن گیا جس کے علاج کے لئے یہ طریقہ دریافت کیا گیا تھا۔

آئین سٹائن سے پہلے نظریہ اضافت

آئین سٹائن کی شہرت نظریہ اضافت (جنرل ریلے ٹیوٹی) کی وجہ سے ہے۔ مگر 1998 میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالہ کے مطابق برطانیہ کے ریاضی دان کلفورڈ نے یہ نظریہ چالیس سال قبل پیش کیا تھا۔ اس کے مطابق ولیم کنگ ڈان کلفورڈ، جو کہ یونیورسٹی کالج لندن میں پروفیسر تھا اس نے 1870 میں نظریہ اضافت اپنی کتاب Elements of Dynamic 1878 پیش کیا تھا۔ اس نے اپنے ریسرچ پیپر میں سپیس، میٹر اور گریویٹی میں تعلق ثابت کیا جو آئین سٹائن نے 1915 میں کیا تھا۔ کلفورڈ 26 سال کی عمر میں پروفیسر بن گیا لیکن اس کے عجیب و غریب نظریات اور باتوں سے اس کے یار دوست اس کو کج رو اور فاتر العقل پروفیسر کہتے تھے۔ اس کی وفات تپ دق سے 33 سال کی عمر میں 3 مارچ 1879 کو پرتگال میں ہوئی یعنی آئین سٹائن کی پیدائش سے گیارہ دن پہلے۔

طبیعات دان چیڈوک کی غلطی

جیمز چیڈوک James Chadwick غلطی سے طبیعات دان بن گیا جبکہ وہ حساب دان بننا چا ہتا تھا۔ ہوا یہ کہ سولہ سال کی عمر میں جب وہ مانچیسٹر یونیورسٹی میں داخلے کے لئے گیا تو غلطی سے وہ اس لائن میں کھڑا ہو گیا جو فزکس کے طالبعلموں کے لئے تھی۔ جس ٹیوٹر نے اس کا انٹرویو لیا اس کا نام ارنسٹ رادرفورڈ تھا جو اس کا ہر دلعزیز تھا۔ چیڈوک نے اٹامک سٹرکچرز کے فنڈامینٹلز کو سب سے پہلے بیان کیا تھا۔ پھر اس نے 1932 میں نیوٹران پارٹیکل کو دریافت کیا جس کی بنا پر اس کو نوبل پرائز کا حقدار قراردیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس نے ان امریکی سائنسدانوں سے مین ہاٹن پروجکیٹ کے تحت تعاون کیا جنہوں نے ایٹم بم بنایا تھا۔ وہ برطانوی سائنسدانوں کا لیڈر تھا۔

پلاسٹک پہلے کس نے بنایا

پلاسٹک بنانے کا طریقہ سکالٹ لینڈ کے 49 سالہ کیمسٹ جیمز سون برن Swinburne نے اپنی لندن کی لیبارٹری میں 1907 میں متعارف کیا تھا۔ جب پیٹنٹ آفس میں اس ایجاد کا پیٹنٹ اپنے نام کروانے گیا تو اس کو بتایا گیا کہ بلجئیم کے لیو بیک لینڈ Leo Baekeland نے صرف ایک روز پہلے اس کا پیٹنٹ بیک لائٹ Bakeliteاپنے نام رجسٹر کروایا تھا۔

ڈارون کے ناک کا قصور

کپٹن رابرٹ فٹز رائے Fitzroy جو بیگلBeagle بحری جہاز کا کیپٹن تھا اور جس نے ڈارون کو اس کے تاریخی سفر پر لے کر جانا تھا۔ اس نے قریب قریب ڈارون کو اپنے ساتھ لے جانے سے اس کے ناک کی ہیئت کی وجہ سے انکار کر دیا تھا۔ فٹز رائے فرینالوجی phrenology کا معتقد تھا جس کے مطابق انسان کے کیریکٹر کا اندازہ اس کے سر کی شبیہ سے کیا جاتا ہے۔ اس نے سوچا کہ ڈارون کا بڑا، موٹا ناک اس بات کی علامت تھا کہ وہ فطری طور پر کاہل و سست تھا جو کہ لمبے کٹھن سفر کے لئے مناسب نہیں۔ لیکن جب اس نے ڈارون کے ساتھ کھانا کھایا تو اس نے اپنی رائے بدل لی۔ ڈارون کا باپ بھی اس لمبے سفر کے خلاف تھا۔ اگر ڈارون سفر پر نہ جاتا تو دنیا ایک بڑے انقلاب آفریں نظریہ ارتقا سے محروم رہ جاتی۔

charles darwin

گلوبل کمیونی کیشن

خلاء میں سیٹلائٹ بھیجنے کا آئیڈیا سب سے پہلے سائنسی مصنف آرتھر سی کلارک نے پیش کیا تھا۔ گلوبل کمیونی کیشن انہی سیٹلائٹ orbiting satellites کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ مسٹر کلارک نے یہ آئیڈیا 1945 میں ایک میگزین وائرلیس ورلڈ میں پیش کیا تھا۔ لیکن اس نے اس کا کوئی پیٹنٹ نہیں لیا یوں وہ ہزار ہا ملین پاؤنڈ کی دولت سے محروم گیا اور کوئی مالی فائدہ نہیں ہوا۔

زہرہ کی جانب راکٹ میں غلطی

امریکہ کی سپیس ایجنسی نا سا کے زہرہ سیارے کی جانب جانے والا مشن Mariner I جون 1962 میں یک لخت فیل ہو گیا۔ کیونکہ راکٹ ٹیک آف کے چار منٹ بعد اپنے طے شدہ سفر کی جانب جانے کی بجائے غلط جانب چل پڑا۔ تحقیقاتی ٹیم نے پتہ لگایا کہ اس مشن کے فیل ہونے کی وجہ کمپیوٹر سافٹ وئر پروگرام میں ہائیفن hyphen کو کوڈ نہ کیا جانا تھا۔ رموز اوقاف کی اس غلطی کی وجہ سے ناسا کو $ 18.5 ملین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

ھبل سپیس ٹیلی سکوپ پر پینٹ Hubble Telescope

ہبل سپیس ٹیلی سکوپ کو خلا میں 1990 میں بھیجا گیا اور اس پر 2 بلین ڈالر لاگت آئی تھی۔ مگر جلد ہی اس بات کا انکشاف ہوا کہ وہاں سے آنے والی تصاویر دھندلی تھیں۔ تفتیش کے بعد پتہ چلا کہ اس کے پرائمری عدسے کو جب پالش کیا جا رہا تھا تو پیمائش والی آپٹیکل راڈ پر پینٹ کا دھبہ رہ گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ لینز 0.002 mm زیادہ فلیٹ تھا یعنی انسانی بال کے 1 / 50 کے برابر۔ پینٹ کے اس دھبے کو مٹانے میں تین سال لگ گئے اور اس پر 86 ملین ڈالر خرچ آیا تھا۔ اس نقص کو دور کرنے کے لئے شٹل مشن 1993 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔

ویلکرو کی ایجاد Velcro

آج کل ویلکرو کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے۔ جوتوں میں، کپڑوں میں، فرنیچر میں، سکول بیگوں میں اس کا استعمال نظر آتا ہے۔ خاص طور پر اس کا جوتوں میں استعمال جہاں بزرگوں کے لئے تسمے باندھنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کا موجد سوٹزر لینڈ کا جارج میسٹرل George de Mestral تھا جس کو اس کی انسپریشن 1941 میں جورا ماؤنٹین میں سیر کے دوران ہوئی جب اس کے کتے کا جسم اس کانٹے دار شاخوں cockleburs سے لگا۔ وہ اس پودے کی ایک شاخ کو اپنی لیبارٹری میں لے گیا اور اپنی مائیکرو سکوپ میں اس کے مہین ہکس کو دیکھا جس کی وجہ سے یہ کسی چیز سے اٹک جاتے تھے۔ اس نے اس کا پیٹنٹ 1955 حاصل کر لیا اور اس ایجاد کا نام ویلور velour یعنی لوپ اور کراکٹ crocket یعنی ہک۔ پہلے حروف کو ملا کر یہ ویلکرو بن گیا۔

فٹ کتنا لمبا ہونا چاہیے

ایک فٹ بارہ انچ کا ہوتا ہے اس کا فیصلہ برطانیہ کے بادشاہ ہنری اول کے بازو کی لمبائی سے طے ہوا تھا۔ گیارہویں صدی کے بادشاہ نے حکم دیا کہ ایک فٹ اس کے بازو کا ایک تہائی 1 / 3 ہو گا جو کہ 36، انچ کا تھا۔

پالک کے متعلق غلط فہمی

پالک کے متعلق کہا جاتا کہ اس میں آئرن کافی ہوتا ہے جس کے کھانے سے انسان کے پٹھے طاقتور بن جاتے ہیں۔ اس کی شہرت 1930 میں ایک کارٹون پاپ آئی کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔ ایک جرمن سائنسداں جو 1870 میں پالک کے اجزا پر تحقیق کر رہا تھا اس نے اعشاریہ کا نقطہ اپنے مقالہ میں غلط جگہ پر لگا دیا تھا۔ جس سے لگتا تھا کہ پالک میں آئزن دس گنا زیادہ ہوتا بجائے اس کے کہ اس میں واقعی کتنا ہوتا ہے۔ اس غلطی کا انکشاف 1937 میں ہوا لیکن اب اس فرضی داستان کو رفع کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

کنگ فشر پرندہ اور جاپان کی ٹرین Kingfisher

جاپان کی بلٹ ٹرین 320 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شہروں کے درمیان مسافروں کو لے کر جاتی ہیں۔ ٹیسٹ رن کے دوران انجنیئرز نے دیکھا کہ جب ٹرین کسی ٹنل میں سے گزرتی تو پریشر کی وجہ سے سے پیدا ہونے والی لہروں سے سونک بوم پیدا ہوتی۔ اس کی وجہ سے 400 میٹر دور گھروں کی کھڑکیاں زور سے ہلنا شروع کر دیتیں۔ انجنئیر ایجی ناکٹسوEiji Naktsu کو کنگ فشر پرندے کا خیال آیا کہ وہ کس طرح ہوا میں سے پانی کے اندر غوطہ لگاتا جس سے پانی میں چھوٹا سا اچھال آتا۔ اس لئے اس نے بلٹ ٹرین کی ناک کنگ فشر کی طرح کی بنا دی جس سے نہ صرف شور کم ہو گیا بلکہ بجلی بھی کم استعمال ہو نے لگی۔

ونسٹن چرچل کی غلطی

برطانیہ کا مشہور سیاست دان ونسٹن چرچل دسمبر 1931 میں نیویارک میں لیکچر ٹور پر آیا ہوا تھا۔ نیویارک کی مشہور سڑک ففتھ ایونیو پر وہ موت کے منہ میں جانے سے بال بال بچا جب ایک کار کے ساتھ ٹکر میں زخمی ہو کر زمین پر گر گیا۔ ہوا یہ کہ چرچل نے غیر حاضر دماغی حالت میں آتے ہوئے ٹریفک کو غلط طرف دیکھا اور یہ بھول گیا کہ امریکہ میں ٹریفک الٹی چلتی ہے یعنی رائٹ ہینڈڈ۔ اس کو سر پر اور ران پر شدید چوٹیں آئیں اور ہسپتال میں تین ہفتے داخل رہا۔ لندن واپس جا کر اس نے اخبار ڈیلی میل میں مضمون لکھا جس کے عوض اس کو چھ سو پاؤنڈ کا معاوضہ دیا گیا تھا۔

نیپو لین کی بواسیر شکست کی وجہ

واٹر لو کی جنگ (جون 1815 ) میں نیپولین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ لڑائی کے آخری دن اس کو بواسیر کا دردناک حملہ ہوا، اور وہ اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر فوج کی نقل و حرکت کا معائنہ نہیں کر سکا۔ یہ واحد موقع تھا کہ وہ فوج کی کمان اپنی مرضی کے مطابق نہ کر سکا۔ جنگ کے بعد وہ پیرس واپس آیا اور 22 جون 1815 میں اس کو معزول کر دیا گیا۔ وہاں سے وہ Rochefort کے ساحلی شہر میں چلا گیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ امریکہ بھاگ جائے مگر برطانیہ کے بحری جہازوں نے اس شہر کا بلاکیڈ کیا ہوا تھا۔ البتہ اس کا بھائی جوزف امریکہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

Facebook Comments HS