مسلم لیگ (ن) کو مبارکباد


اس تلخ حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ لیاقت علی خان سے لے کر نواز شریف تک اس ملک میں جتنے بھی سویلین وزرائے اعظم آئے صرف ان پر ہی بد عنوانی، نا اہلی اور غداری (ہندوستان نوازی) کے الزامات لگتے رہے۔ اختیار و اقتدار میں مداخلت کا رونا اور منصب سے بے عزت ہو کر نکلنا وطن عزیز میں صرف سویلینز کا مقدر رہا ہے۔ عوام کو مگر نواز شریف سے پہلے یہ بتانے کی ضرورت کسی سیاستدان نے محسوس نہیں کی تھی کہ ان الزامات کے پیچھے کیا مقاصد کار فرما تھے۔ جمہور کی طرف سے عنایت کردہ اختیار میں مداخلت کے مرتکب اصل کردار کون تھے۔ قوم کی شعوری و فکری نشو و نما کبھی اس طرح ہونے ہی نہیں دی گئی کہ وہ از خود ان سوالات کی کھوج لگا سکتے۔ میاں صاحب پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے عوامی بالادستی کی جد و جہد کا علم اٹھانے کی کوشش کی۔

اسی وجہ سے نا اہلی کی سزا کے بعد جب جی ٹی روڈ پر عوامی عدالت میں میاں صاحب اپنا مقدمہ لے کر گئے تو اس وقت ہم ایسوں نے ان کی حمایت کی تھی۔ اس کے بعد ہم میاں صاحب سے بار بار مطالبہ کرتے رہے کہ اپنے خلاف سازشوں کا بار بار ذکر کرنے کے بعد بھی اس کی تفصیل بتانے کو وہ کیوں آمادہ نہیں ہو رہے؟ حالانکہ وہ راز اب کوئی راز بھی نہیں رہے۔ قوم کا ہر بچہ جان چکا ہے کہ نواز شریف کی حکومت کی راہ میں کن کن مواقع پر رخنہ اندازی ہوئی۔

دھرنے کیسے ہوئے اور ان کے پس پردہ کون تھا یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ڈان لیکس اور پانامہ لیکس میں ریاستی اداروں کا نواز شریف کی ذات سے متعلق جو برتاؤ رہا وہ بھی ہر کسی پر عیاں ہے۔ نواز شریف کی زبانی مگر یہ سب سنے بغیر عوام اس پر ایمان کس طرح لا سکتے تھے؟ اس دشت کی سیاحی میں نواز شریف نے تین دہائیاں گزاری ہیں۔ لہذا ان سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا کہ سیاست اور جنگ کے داؤ پیچ میں وقت کی کیا اہمیت ہے۔ میاں صاحب نے تیسری بار اقتدار سنبھالتے وقت کہا تھا کہ وہ اب عوام سے اپنا رشتہ استوار رکھیں گے۔

ان کے اقتدار پر جب دور ابتلا کا آغاز ہوا، اپنے اس قول کی روشنی میں اگر وہ عوام کے سامنے تمام حقائق رکھ دیتے، شاید ان کا انجام مختلف نہ ہوتا، لیکن ان کے بیانیے کی بنیاد پر فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہو چکا ہوتا۔ دیر آید درست آید، اقتدار سے نکلنے کے بعد ہی میاں صاحب نے یہ علم اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا تو نتائج سے بے پروا ہو کر انہیں اس پر ڈٹ جانا چاہیے تھا۔ عوامی بالادستی اور ووٹ کو عزت دلانے کا خواب اس طرح کیسے پورا ہو سکتا تھا کہ ان کی جماعت کی قیادت جلسوں میں انقلابی نعرے لگائے مگر بند دروازوں کے پیچھے کچھ اور کرتی رہے۔

ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کا حاصل یہ ہے کہ طاقت کا اصل منبع عوام کے ہاتھ میں ہو۔ عوام کے پاس اپنے مقدر کے فیصلے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ اس بیانیے پر ایمان لانے والا ہر شخص ریاستی اداروں کی مخالفت پر کمر بستہ ہے۔ اس بیانیے کا اصل مفہوم یہ ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملکی ترقی کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کریں۔ اقتدار سے نکلنے کے بعد اب عمران خان بظاہر جو بات کر رہے ہیں، یہ ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کا تسلسل نہیں تو اور کیا ہے؟

کیونکہ مسئلہ اگر واقعتاً بد عنوانی کا ہوتا تو پھر ان الزامات کو ہر دور میں مخصوص سیاستدانوں کے ساتھ مخصوص نہ کیا جاتا۔ جو لوگ اب تک اس بیانیے کے مخالف ہیں جلد یا بدیر انہیں بھی اس پر ایمان لانا پڑے گا۔ اس مملکت کے قیام سے لے کر تاحال بد عنوانی کے خاتمے کے نام پر کئی بار نظام مملکت کے کنویں سے ڈول بھر کر نکالے جاتے رہے لیکن کنواں بدستور ناپاک ہے۔ اس ناپاکی کے قائم رہنے کی وجہ یہ ہے کہ اختیارات سے تجاوز کا تعفن جو بد عنوانی کی اصل بنیاد ہے اسے کبھی کنویں سے نہیں نکالا گیا۔ سمجھ لینا چاہیے کہ اختیارات سے تجاوز خواہ وہ کسی بھی صورت میں ہو، جب تک اسے ختم نہیں کیا جائے گا بد عنوانی کا خاتمہ نا ممکن رہے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بیانیے میں غلط کیا ہے؟

درویش نون لیگ کا حصہ ہے اور نہ اس کی سیاست سے کوئی سروکار ہے۔ ہماری حمایت صرف اس بیانیے کے لیے جدوجہد تک محدود تھی۔ جب نون لیگی ارکان اسمبلی نے سروسز ایکٹ میں ترمیم کے لیے ووٹ دیا تو ہمیں دھچکا ضرور لگا تھا مگر نواز شریف صاحب کی ذات کے متعلق ہمارے دل میں خوش گمانی کی تھوڑی بہت رمق باقی تھی۔ لیکن میاں صاحب کے انتہائی قریبی ساتھی سے ذاتی طور پر تصدیق کر لینے کے بعد کہ یہ تمام عمل نواز شریف کی رضامندی سے ہوا اور انہیں طبی بنیادوں پر ملنے والی ضمانت اسی خدمت کا صلہ ہے، ہماری تحریریں گواہ ہیں اس کے فوراً بعد ہم نے نون لیگ کی دہری پالیسی کے خلاف لکھنا شروع کر دیا تھا۔ عطا تارڑ صاحب کے بقول اگر واقعتاً بات ہو گئی ہے کہ آئندہ وزیراعظم رائیونڈ سے ہو گا تو ہم نون لیگ کو پیشگی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور یہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ وہ سر جھکا کر نوکری کرے گی اور انقلابی باتیں چھوڑ کر اقتدار کے حصول کے ستر سال سے رائج راستے پر چلتی رہے گی۔

Facebook Comments HS