آپ کہاں کھڑے ہیں۔ لکیر کے اس طرف سے جو عیب لگے دوسری طرف ہوں تو ہنر معلوم ہوتا ہے۔ لکیر کے بالکل اوپر کھڑے ہونے کا فاٸدہ یہ ہے کہ دونوں طرف کے میدان صاف دکھاٸی دیتے ہیں۔

مسلم دنیا اس وقت ایک عجیب بحران کا شکار ہے۔ اس کی سیاسی اور تاریخی وجوہات پر اہل دانش غور کرتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ ایک فکری بحران بھی ہے۔

پڑھے لکھے لوگ دوستوں  سے سنتے ہیں کہ پاکستان میں اسلام کو غلط طریقے سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں اسلام کی بجاٸے مولوی کا اجارہ رہا ہے۔ اس وقت اسلام کا اصلی چہرہ دیکھنا ہو تو مغرب میں جاٸیے۔

دس نومبر بروز  جمعہ عشا کی نماز پڑھنے اوہاٸیو کے شہر ایتھنز کی مسجد گیا۔ دو واقعات ہیں۔ جیسے دیکھے ویسے لکھ رہا ہوں۔یہ اگر اینتھروپولوجی کا تحقیقی مقالہ ہوتا تو پارٹیسیپنٹ آبزرویشن کے تمام تر قواعد سامنے رکھ کر لکھا جاتا۔ مگر یہ بلاگ ہے اس لیے جو لکھا ہے یقین کر لیں۔ نا کریں تو  زور نہیں ۔

نماز سے کچھ دیر پہلے پہنچا۔ اس لیے کہ یہاں مسجد محض عبادت خانہ نہیں بلکہ ایک کمیونیٹی سنٹر ہوتا ہے۔ شاید مسجد کو ہونا بھی یہی چاہیے۔ مرکزی دروازے سے داخل ہوا تو جوتے کے تسمے اتارنے بیٹھ گیا۔ نظر کتب خانے پر پڑی جو مسجد سے منسلک تو ہے لیکن اس کی حدود سے باہر ہے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید فام امریکن بچی ایک عربی نوجوان سے بیٹھی باتیں کر رہی ہے۔ عمر اٹھارہ انیس ہوگی۔ فریش مین لگ رہی تھی۔  اسے مسجد کے کتب خانے میں دیکھ کے حیرت ہوٸی۔

پہلا خیال آیا کہ شاید اسلام قبول کرنے آٸی ہے۔  پھر سوچا ہو سکتا ہے ابھی اسلام کے بارے میں جاننے کی نیت سے آٸی ہو۔ خیر میں مسجد کے احاطے میں چلا گیا ۔ ابھی نماز میں وقت تھا سوچا واپس کتب خانے میں جاتا ہوں۔ کوٸی کتاب لے آتا ہوں۔  واپس آیا۔  اجازت طلب کی تو اس نوجوان نے عربی لہجے میں ویلکم برادر کہہ کر  اندر آنے کو کہا۔ بعد میں اسی نوجوان نے جماعت بھی کراٸی۔
میں کتابیں دیکھتا رہا اور کانوں پر اس بچی اور عربی نوجوان کی آوازیں مسلسل پڑتی رہیں۔  آخری جملہ جو اس نوجوان کے منہ سے سنا لکھ رہا ہوں

سو آر یو آ مسلم ناٶ؟
نو۔ آٸی تھنک آٸی نیڈ ٹو ہیو مور کنورسیشن اباٶٹ اٹ ود ماٸی بواٸے فرینڈ۔ ہی از آلسو ریڈنگ اپ آن اسلام۔

میں نے اخوان المسلمون کے قیام اور اغراض پر ایک کتاب اٹھاٸی اور کتب خانے سے باہر نکل آیا۔ کچھ ہی دیر میں جماعت کھڑی ہو گٸی۔ نماز سے فارغ ہوٸے تو عقیل نے عمر سے ملوایا۔ عمر نے بتایا وہ حلب سے ہے۔دو ہزارگیارہ میں وہاں جنگ لگی تو وہ اس کی فیملی اوہاٸیو چلی آٸی۔

باتیں کرتے کرتے ہم سب بیٹھ گٸے۔ اتنے میں کچھ اور لوگ بھی آ گٸے۔ جو غالبا سب عرب تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے دو سعودی ہیں ایک لبنان سے ہے اور ایک اومان سے۔ان سب عربوں کی محفل میں ایک میں پنجابی ذرا گھبرایا۔ لیکن مشترک قدر اسلام تھی تو گفتگو تساہل سے ہونے لگی۔ اتنے میں قہوہ آ گیا۔ اور فٹ بال پر بات چھڑ گٸی۔ سارے عرب آپس میں گھل مل گٸے۔ عمر نے سب سے میرا تعارف کرایا۔ تو گفتگو انگریزی میں پلٹ آٸی۔

برادران اسلام نے مجھ سے پوچھا کہ فٹ بال دیکھتے ہو۔ کہا نہیں۔ فٹ بال کے بارے میں صرف یہ جانتا ہوں کہ دنیا میں  ایک پلٸیر میسی ہے اور دوسرا رونالڈو ۔

ایک سعودی فخر سے  چھوٹا ساقصہ سنایا۔ بتانے لگا کہ رونالڈو سعودی عرب  آیا تھا۔ کسی پریس رپورٹر نے اس کا حال پوچھا تو اس نے کہا الحمداللہ۔
اس پر ایک عربی نے بتایا کہ رونالڈو اسلام قبول کر لے گا۔
دوسرے سعودی برادر نے بتإیا کے رونالڈو اسلام قبول کرنے کا سوچ رہا ہے۔
۔

اٹھنے سے پہلےعمر نے میری طرف دیکھ کرکہا۔ ماشااللہ۔اٹ ول بی گریٹ فار اسلام اِف رونالڈو اکسیپٹس اسلام۔
میں نے سوچا فلسطین پر بھی کچھ بات ہوگی۔ اس لیے فلسطین کا موضوع چھیڑنے کی کوشش کی۔ سب نے متفقہ طور پر کہا کہ بہت برا ہو رہا ہے۔نہیں ہونا چاہیے۔ عمر نے البتہ ایک اچھا پہلو نکالا۔ کہنے لگا کہ  جیسے فلسطین کا موضوع میڈیا میں آ رہا ہے امریکی لوگوں کا اسلام کے بارے میں تجسس بڑھ رہا ہے اور اللہ کا دین پھیل رہا ہے۔ اِٹس رٸیلی ہیوج۔ ون ڈے وی وِل سی موسکس ایوری وٸیر اِن امیریکا۔

لکیر کہاں ہے نہیں معلوم۔ میں لکیر کے کس طرف ہوں یہ بھی نہیں پتہ۔ یہ پتہ ہے کہ بحران فکری ہے اور بحران پاکستان سے مخصوص نہیں ہے۔

مسجد کے کمیونٹی کچن سے بکرے کی چربی پگھلنے کی خوشبو اٹھ رہی تھی۔ آج کسی صاحب ثروت عربی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ اس کا عقیقہ تھا۔
میں نے سوچا جا کے کھانا بنانے میں ہیلپ کرتا ہوں۔