کیا زرداری کا سیاسی تیر نشانے سے چوک گیا ہے؟


آج کل کی سیاست نے بھی عجیب مخمصے میں ڈالا ہوا ہے۔ کسی سوال کا جواب تلاش کرنے نکلتے ہیں تو مزید نئے سوالات کا سامنا ہوجاتا ہے۔ سوال در سوال درپیش ہیں اور جواب ندارد۔ سوال تو جنون کے دھرنے سے شروع ہو گئے تھے کہ یہ کیا اور کیوں ہو رہا ہے۔ 2018 کے عام انتخابات کے نتائج سے سمجھے کہ شاید ان سوالات کا جواب مل گیا ہے مگر ایسا نہیں تھا کپتان کی گورننس نے مزید نئے سوالات کھڑے کر دیے کہ ایسا انتخاب کیوں کیا گیا۔ ابھی تک اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ سیاست نہیں ریاست بچاؤ کا نظریہ پروان چڑھا۔ زرداری کی عدم اعتماد کی سیاسی چال نے سیاسی بساط کو الٹ کر رکھ دیا۔ پل بھر میں نصیب بدلے اور صبح کے تخت نشین شام کو مجرم ٹھہرے۔

یہ بات ان نوجوان کھلاڑیوں کو کہاں قبول تھی اور یوں یہ کھلاڑی اپنی قیادت کو سرخ لائن بتاتے بتاتے فرط جذبات میں 9 مئی کو ریاست کی طرف سے متعین کردہ سرخ لکیر عبور کر گئے۔ اس دن جو کچھ ہوا وہ ناقابل معافی، ناقابل برداشت تھا۔ لہذا وہی ہوا جو قانون توڑنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ 2018 میں تحریک انصاف کے اس بھان متی کے کنبے کو جس طرح ادھر ادھر کے اینٹ، پتھر اور روڑوں سے جوڑا گیا تھا یہ کنبہ بکھرنا شروع ہو گیا ہر اینٹ اور روڑہ اپنی جگہ واپس جانے لگا۔ جیسے تعمیر ہوئی تھی اسی طرح مسمار ہونے کا عمل شروع ہو گیا۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر اس طرح ٹوٹنا تھا تو پھر جوڑا کیوں گیا تھا۔

پی ڈی ایم سرکار کے مطابق اس نے سیاست کی بجائے ریاست کو ترجیح دی اور مشکل حالات میں ملکی معیشت کو بچایا۔ مدت پوری ہوئی اور سب کچھ نگرانوں کی نگرانی میں چلا گیا۔ ایسے میں بڑے میاں صاحب کی دھماکے دار واپسی ہوئی اور جس انداز میں واپسی ہوئی اس سے تاثر یہ ملا کہ اب اگلی باری ان کی ہے۔ سوال پیدا ہوا کہ کیا 2018 والی فلم دوبارہ چلے گی؟ مطلب وزیراعظم کا پہلے سے پتہ ہو گا کہ کون بن رہا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو سوال یہ ہے کہ 2018 کے نتائج کو جس طرح تسلیم نہیں کیا گیا تھا کیا 2024 کے نتائج بھی عوام کو قابل قبول ہوں گے۔ کیا یہ زیادہ بہتر نا ہوتا کہ الیکشن کی شفافیت کے حوالے سے عوام کے اعتماد کو مزید پختہ کیا جاتا۔ ایسے اقدامات کیے جاتے جس سے انتخابی مرحلے پر شکوک و شبہات پیدا نا ہوتے۔

میاں نواز شریف کی کوئٹہ آمد کے بعد جس طرح وہاں کے الیکٹیبلز نے شمولیت کی ہے اس سے یہ تاثر مزید تقویت پکڑ گیا ہے کہ نون لیگ اقتدار میں آ رہی ہے۔ معروف صحافی عمر چیمہ نے اعزاز سید کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس پر خوبصورت تجزیہ کیا کہ بلوچستان کی سیاست آئی ایم ایف کی طرح ہے جس طرح معاشی مشکلات میں گھرے ملک کو آئی ایم ایف مالی امداد کر کے سپورٹ کرتا ہے ایسے ہی سیاسی مشکلات میں گھری سیاسی جماعت کو بلوچستان کے سیاسی لوگ سپورٹ کرتے ہیں۔ گویا بلوچستان وطن عزیز کا سیاسی آئی ایم ایف ہے۔

ایسے میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو عوامی اجتماعات میں نون لیگی قیادت کو لاڈلا کے نام سے یاد کر رہے ہیں۔ حالیہ انتخابی مہم میں نون لیگی قیادت کو لاڈلا کہنا سیاسی بیان ہے یا حقائق پر مبنی دعویٰ ہے اس کی حقیقت تو آئندہ کی حکومت کی تشکیل کے بعد ہی آشکار ہوگی۔ تاہم بظاہر تاثر یہی ہے کہ نون لیگ وفاق میں حکومت بنانے جا رہی ہے۔ اور وفاق میں اس کے ساتھ ایم کیو ایم، جے یو آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں بھی شریک اقتدار ہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ اس سارے عمل میں پیپلز پارٹی کے ہاتھ کیا آیا؟ کہیں کپتان سے جان چھڑانے کی جلدی میں سابق صدر زرداری سے کہیں سیاسی غلطی تو نہیں ہو گئی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آصف علی زرداری کا سیاسی تیر نشانے سے چوک گیا ہو۔

بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ وفاق، پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے میں نون لیگ اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہوگی۔ اقتدار کی تقسیم اس طرح ہویا کسی اور فارمولے کے تحت ہو ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے۔ الیکشن کی شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ریاستی ادارے آئندہ عام انتخابات کی بہتر ساکھ کی خاطر ہر قدم اٹھائیں اور ہر ممکن اقدامات کریں۔ تاکہ عوام انتخابی عمل کے ساتھ جڑی رہے اور اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔

حرف آخر یہ کہ ریاستی اقدامات کے نتیجے میں جہاں ڈالر غیر قانون خرید و فروخت پر پابندی سے ڈالر کی تنزلی ہوئی ہے وہاں پر سیاسی استحکام کے نتیجے میں سٹاک مارکیٹ میں بہتر آ رہی ہے مطلب کہ ٹھیک سمت میں جا رہے ہیں۔ حالات مشکل سہی مگر بہت جلد معاشی مشکلات پر قابو پالیں گے اور مہنگائی کا جن جس طرح بے قابو ہو گیا ہے اس کو قابو کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ بہتر معاشی پالیسیوں کے تسلسل سے بے روزگاری میں کچھ نا کچھ کمی ہو سکے گی اور عوام کو کچھ راحت نصیب ہوگی۔

رہی بات کہ کپتان کا کیا ہو گا تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ کپتان انتخابات کے نتائج جیل میں ہی سنیں گے اور ان کے باہر آنے کے امکانات فی الحال نا ہونے کے برابر ہیں۔ مطلب 8 فروری کے انتخابات کپتان کے بغیر منعقد ہوں گے۔ رہی بات پیپلز پارٹی کے سیاسی مستقبل کی تو نون لیگ کی سیاسی سرگرمیوں سے یہی لگ رہا ہے کہ اس بار زرداری کا سیاسی تیر نشانے سے چوک گیا ہے کیونکہ وفاق کا تاج اس کے سر سجتا ہے جس کے پاس پنجاب کا تخت ہو اور پنجاب کا تخت بلا شک و شبہ نون لیگ کے پاس جا رہا ہے۔ اور اس بار بھی پیپلز پارٹی نے پنجاب کی سیاست شروع کرنے میں دیر کردی ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیے مشورہ یہ ہے کہ اگر وفاق لینا ہے تو پنجاب کی سیاست میں بھرپور حصہ لینا ہو گا وگرنہ سندھ پر اکتفا کرنا پڑے گا

Facebook Comments HS