کیا میاں نواز شریف کا یو ٹرن لینا درست اقدام تھا
لعل مسیح کرسی پر نیم دراز کسی خیال میں گم تھا کہ اس کی بیٹی نے چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے اس کے خیال کی ڈور کاٹ دی۔ پاپا چائے آ گی ہے۔ بسکٹ اور چمچ ساتھ میں رکھے ہیں۔ لعل مسیح نے حیرت سے پوچھا، میری چائے تو شکر کے بغیر ہوتی ہے یہ چمچ کس کارن ہے۔ بیٹی بولی۔ دیکھئے آپ چائے میں بسکٹ ڈبو کر کھاتے ہیں۔ جب آپ چائے میں بسکٹ ڈبو کر باہر نکالیں گے تو آدھا بسکٹ چائے میں ڈوب جائے گا۔ دوسرا آدھا حصہ آپ بنا ڈبوئے کھائیں گے۔ اسی طرح آدھے بسکٹ پیالے میں بیٹھ جائیں گے۔ یہ چمچ ان کو چکھنے کے لئے آپ کی سہولت کاری کے لئے ہے۔ بیٹی نے ہنستے ہوئے لعل مسیح کی طرف دیکھا اور ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
بیٹی کے کرسی پر بیٹھ جانے سے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب اس کے ساتھ مغز ماری کر نا پڑے گی چنانچہ اس نے کتاب میز پر رکھ کر گویا مکالمہ کے لئے تیاری کا اشارہ دیا تھا۔ پا پا ایک بات سمجھائیں میاں نواز شریف صاحب نے پاکستان آنے سے پہلے سب سے حساب لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا تو جیسے ہر جانب آگ لگ گئی تھی۔ شہباز شریف بھاگے بھاگے واپس گئے اور پھر میاں صاحب اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ یہ یوٹرن نہیں کیا۔ لعل مسیح نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا اور کہا، ”بیٹا میرے خیال میں پہلے والا بیان غیر ضروری اور غیر منطقی یا غیر حقیقی تھا۔ کیا معلوم یہ اعلان لٹمس پیپر کی حیثیت سے داغا گیا ہو۔ بہر حال میاں نواز شریف نے درست راستہ اپنایا ہے۔
لعل مسیح کی بیٹی الجھن میں پڑ گئی۔ پاپا ہر کسی کا احتساب ہو گا کس طرح غیر منطقی یا غیر حقیقی ہوا؟ بیٹا ہر ایک کا احتساب ہونا ایک اصولی بات ہے۔ جمہوریت درحقیقت جواب دہ حکومت کا نام ہوتا ہے۔ جہاں کچھ افراد احتساب سے بالا تر ہوں اس کو آمریت کہا جاتا ہے۔ سیاست دان تو ہر حکومت میں احتساب کی تلوار کے نیچے ہی رہتے ہیں۔ ظاہر ہے میاں صاحب کی ”ہر ایک سے“ مراد سیاستدانوں کے علاوہ تھا۔ یاد رکھنا ”ہر ایک کا احتساب“ کا تصور ایک مضبوط جمہوری نظام اور جمہوری قوتوں کے طاقتور ہونے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
مگر پاپا ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کا کام ملک کو لوٹنے کے علاوہ کوئی دوسرا تو ہے نہیں۔ لعل مسیح کی بیٹی نے اپنی رائے داغ دی۔ لعل مسیح نے اپنی بیٹی پر ایک مسکراہٹ ڈال کر کہا۔ بیٹا آج اگر ہمارا ملک سوڈان نہیں ہے، لیبیا، لبنان، ایران یا عراق کی مانند نہیں ہے تو اس کی وجہ یہ معتوب سیاسی جماعتیں ہی ہیں۔ یہ سیاسی جماعتیں ہی ہیں جن کے خلاف کرپشن کے الزامات کی دھول اڑا کر مختلف غیر جمہوری قوتیں اپنے مفادات حاصل کر رہی ہیں۔
پاپا آپ میاں صاحب کے سب کا احتساب والی بات گول کر گئے ہیں۔ لعل مسیح کی بیٹی نے دوبارہ حملہ کیا۔ میں نے بتایا تھا کہ سب کو احتساب کی چھتری کے نیچے لانے کی میاں صاحب کی خواہش ایک جمہوری خیال ہے۔ مگر یہ خواب ایک مضبوط جمہوری نظام کے بغیر ممکن نہیں۔ پاکستان میں سیاسی قوتیں منتشر اور کمزور ہیں۔ مجھے کہنے دو کہ انہیں اسی لئے کمزور رکھا گیا ہے۔ غیر جمہوری گروہوں کو طاقت دی گئی ہے۔ حکومت دی گئی ہے۔ غیر جمہوری سوچ رکھنے والوں کے جتھے تیار کر کے جمہوری قوتوں کے آگے کھڑے کر دیے گئے ہیں۔ چنانچہ آج 2023 ء میں ہم جمہوری راستے سے بھٹک کر بہت دور آ گئے ہیں۔ ایسے میں میاں صاحب کا اس خواہش کا اظہار خود کو نقصان پہنچانے کے مترادف تھا۔ چنانچہ وہ پیچھے ہٹ گئے۔
2006 ء میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے مابین ایک میثاق جمہوریت ہوا تھا۔ غیر جمہوری طاقتوں کو اس میثاق سے بہت خوفزدہ تھیں۔ اس کو سبوتاژ کرنے کے لئے اس کو ’[مذاق جمہوریت ”کئی دوسرے نام دیے گئے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی نے میاں صاحب کی حکومت کے دوران پارلیمنٹ پر چڑھائی، پاکستان تیلی ویژن اور پارلیمنٹ پر چڑھائی کو شکست دی تھی۔ میں امید رکھتا ہوں کہ پی ٹی آئی بھی آنے والے وقت میں جمہوریت کی جانب لوٹے گی۔ تب شاید ملک کی ساری جماعتوں کے مابین ایک میثاق جمہوریت ہو گا جس کے بعد ہمارا ایک جمہوری ریاست اور جمہوری کلچر کی جانب سفر شروع ہو جائے گا۔
پاپا آج بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس وقت میاں صاحب اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے ہیں۔ کیا اس طرح کے انتخابات قابل قبول ہوں گے۔ کیا ان کو شفاف کہا جا سکتا ہے؟ لعل مسیح نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا، ”جو لوگ یہ استدلال ارزاں کر رہے ہیں وہ یہ بھی تو بتائیں کہ 2018 ء کے انتخابات کیسے تھے۔ کیا اس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو مساوی مواقع ملے تھے جس کو لیول پلیئنگ کہا جاتا ہے؟ لعل مسیح کی بیٹی بیچ میں بول پڑی۔ تو کیا آپ اس کی توثیق کر رہے ہیں۔ لعل مسیح نے بیٹی کی طرف شفقت سے دیکھا اور جواب دیا، نہیں بیٹی
میں 2018 ء والے انتظام کو بھی غیر منصفانہ کہتا تھا اور میرے نزدیک یہ بھی طریق جمہوری تقاضوں بلکہ انصاف سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ سیاستدان دستیاب حالات میں سے ہی اپنے لئے راستہ نکالتا ہے۔ اس وقت میاں نواز شریف موجود حالات میں اپنے اور اپنی پارٹی کے لئے گنجائش نکالنے کے لئے جو انہیں کرنا چاہیے وہی کر رہے ہیں۔ لعل مسیح کی بیٹی نے سوال کا رخ بدلتے ہوئے پوچھا، پاپا کل تک تو یہ لوگ حکومت میں ساتھ تھے مگر اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز میں تلخی کیوں بڑھ رہ رہی ہے؟
بیٹا یہ انتخابات کا چلن ہے۔ دونوں جماعتیں اپنی اپنی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے لئے یہی موزوں ہے کہ وہ اپنی سیاسی مہم میں غصہ اور سخت بیانیہ سے گریز کرتے ہوئے دھیرے دھیرے آگے بڑھے سو وہ یہی کر رہی ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کی تلخ نوائی کو برداشت کر رہی ہے اور حتی المکان کرتی رہے گی۔ لیکن پاپا پیپلز پارٹی کا رویہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ لعل مسیح نے کہا، ”پیپلز پارٹی کو یہ سوٹ کرتا ہے۔ درحقیقت وہ مسلم نواز کے مخالف ووٹر کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
اسے معلوم ہے کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر پی ٹی آئی کی جانب منتقل ہو گیا تھا۔ اب پی ٹی آئی کے امکان سکڑ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا ووٹر نواز شریف کے خلاف ہے چنانچہ پیپلز پارٹی اسے متاثر کرنے کے لئے یہ طریق اختیار کر رہی ہے۔ تا ہم الیکشن کے بعد یہ جماعتیں انتخابات کے بعد حکومت بنانے اور ملکی مسائل کے حل تلاش کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گی۔
پا پا میں نے سنا ہے کہ جب عمران خان صاحب کو لانے والوں نے دیکھا کہ ملک کے دہانے پر پہنچ گیا ہے تو میاں صاحب کو آنے کی دعوت دی گئی۔ جس پر میاں صاحب نے ان سے کہا کہ 2018 ء میں جس نے یہ ہائبرڈ نظام تراشا تھا وہی اس کو واپس اسی مقام پہ لائے۔ چنانچہ اب اسٹبلشمنٹ مبینہ طور پر اپنے کیے ہوئے کو خود ہی منسوخ (undo) کر رہی ہے۔ آپ کو کیا لگ رہا ہے۔ لعل مسیح نے جواب دیا، بیٹا مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔
ویسے بھی لوگ ایسی باتیں پھیلانے میں خوب ماہر ہیں۔ ہاں فرض کریں یہ سب کچھ کچھ لوگ اپنی غلطی کی درستی کرنے کے لئے کر رہے ہیں تو آئندہ یہ کیا رنگ لائے گا اس کا اندازہ یوں لگا لو۔ ہمارے انکل جان سڑک پر پیدل چلے آ رہے تھے۔ پیچھے سے ایک نوجوان نے ان پر کار چڑھا دی۔ نوجوان نے کار روک کر دیکھا تو کار کا ٹائر ان کی ٹانگ فریکچر کرتے ہوئے گزر گیا تھا۔ وہ کار کے نیچے پڑے کراہ رہے تھے۔ نوجوان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے اپنی غلطی کو سدھارنے کا فیصلہ کر لیا۔ جلدی سے واپس گاڑی میں بیٹھا۔ گاڑی ریورس میں ڈالی اور ٹائر انکل جان کی ٹانگ سے دوبارہ گزار کر گاڑی پیچھے کر لی۔ غلطی درست کرنے کے اس عمل میں ٹانگ دو جگہ سے ٹوٹ چکی تھی۔


