لمز (ہمارے ) بچوں کی غلطیاں؟


لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز المعروف لمز میں نگراں وزیراعظم سے طلبا کے سوالات پر لکھنے بولنے والوں نے اللہ دے اور بندہ لے اپنی اپنی دیہاڑی لگائی۔ لیکن چند باتیں ایسی ہیں جن کی طرف میں تمام طالب علموں اور ان کے اساتذہ کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔ عدنان کاکا خیل جو اب مفتی بھی ہیں۔ پندرہ بیس سال پہلے مدرسہ بنوری ٹاؤن میں زیرتعلیم، ان کی وجہ شہرت ٹی وی پر اسی طرح ان کے کھلے ڈلے مگر نپے تلے سوال تھے جو انہوں نے باوردی صدر پرویز مشرف سے پوچھے تھے۔ آج بھی لوگوں کو بے شک ان کے سوال یاد نہ ہوں لیکن ان کا نام اور شکل یاد ہے۔ کیوں!

جبکہ لمز کے کچھ طلبا نے سوال کر کے تالیاں تو پٹوا لیں لیکن انہیں شاید کوئی بھی یاد نہ رکھے۔ دوسرا کیوں!

ملکی یا غیرملکی نشریات بالخصوص اگر وہ براہ راست نشر ہو رہی ہوں تو اس میں کسی نئے شخص کا نمودار ہونا اور کوئی ایسی انوکھی حرکت کر جانا، اسے چند لمحوں میں مشہور کر دیتا ہے۔ اور اب سوشل میڈیا کے اس لم ڈھینگ دور میں موبائل پکڑے ہر دوسرا شخص، ”ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام : بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا“ کا جاپ کرتا ملتا ہے۔ لیکن لمز کے طلبا کی شہرت عارضی کیوں رہے گی؟

سب سے بڑی وجہ جو طلبا اور ان سے زیادہ ان کے اساتذہ کا قصور ہے وہ یہ ہے کہ ایسی محفلوں کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ جن پر عمل کرنا ضروری نہیں لیکن ان پر عمل کرنے سے لوگوں کے ذہنوں میں آپ کے بارے میں پہلی رائے بہت خوشگوار، فائدہ مند اور دیرپا ہوجاتی ہے۔

سوال کرنے والے کو ہمیشہ سب سے پہلے اپنا نام بتانا چاہیے۔ یہ ٹیلیفون پر گفتگو جیسا ہے۔ جہاں دونوں پارٹیوں کو پہلے اپنا تعارف کرانا ہوتا ہے۔ جس میں پہلی ذمہ داری کال کرنے والے کی ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنا تعارف نہیں کراتا یا آپ کو شک ہے کہ غلط بتا رہا ہے تو آپ بھی حجت کے لئے نام نہ بتائیں یا بحث سے بچنے کے لئے غلط نام بتا دیں۔ بچیوں اور خواتین کے لئے تو لگ بھگ لازم ہے کہ انجان نمبر سے فون آنے کی صورت میں مخاطب انجان خاتون ہو یا مرد کبھی اپنا اصل نام نہ بتائیں اور نہ گھر کی کسی خاتون کا۔ کسی سہیلی یا کزن کا نام لے دیں یا گھر کے کسی مرد کے نام کو زنانہ بنا دیں مثلاً شاہدہ راشدہ عارفہ۔ اب مخاطب کہے راشدہ میں نے آپ سے بات کرنی ہے تو سمجھ جائیں یہ لگ بھگ فراڈ ہے۔

اب واپس آتے ہیں مکالمہ یا سوال و جواب پر۔ اب چونکہ سوال کا جواب دینے والی شخصیت یا پینل کے لوگوں کے نام، سائل کے علم میں ہوتے ہیں۔ تو ٹیلیفونی اصول پر آپ کو سوال کے شروع میں اپنا نام بتانا چاہیے۔ مبادا مائیک پر موجود شخصیت نے جواب کی بجائے اگر آپ سے آپ کا نام پوچھ لیا تو آپ کلین بولڈ ہوجائیں گے۔

اگر آپ کسی ایسی جگہ ہیں جہاں مختلف اداروں، مدارس، تنظیموں، اخبارات یا علاقوں سے لوگ آئے ہیں تو پہلے اس اخبار یا ادارے کا نام لیں جس سے آپ کا تعلق ہے۔ اب یہاں چونکہ سبھی طلبا لمز سے تعلق رکھتے تھے۔ تو اس کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر یہ تقریب ایوان صدر یا گورنر ہاؤس میں ہو رہی ہوتی تو سوال کا ابتدائیہ ہوتا۔ السلام و علیکم، میرا نام سید رضی الدین ہے اور میرا تعلق لمز لاہور سے ہے۔ (اگر آپ کا مخاطب غیر مسلم ہے یا اردو نہیں جانتا تو بے شک سلام کا انگریزی ترجمہ بھی کر دیں۔ شرمانے کی ضرورت نہیں ) ۔ تعلیمی ادارے سے تعلق کی صورت میں دو اور باتیں بتانا زیادہ ضروری ہوتی ہیں۔ ایک آپ کس چیز کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں دوسرا، آپ کا تعلیمی سال کیا ہے۔

”میں ایم بی اے (تھرڈ ائر فرسٹ ائر یا) فائنل ائر کا طالب علم ہوں“ ۔

بادی النظر میں شاید اس کی اہمیت نہ ہو لیکن یہ آپ کے مستقبل تک کو بدل سکتی ہے۔ کیسے۔ مثلاً آپ سوال کرتے ہیں اقلیتوں کے حقوق پر لیکن بتاتے ہیں کہ میں انجینئرنگ کے فرسٹ ائر کا طلب علم ہوں۔ سوال کرنے والا اور پروگرام دیکھنے والے حیرت میں پڑ جائیں گے کہ ایک طالب علم جو ابھی بمشکل انٹر کر کے آیا ہو گا۔ اس کی کیا زبردست علمی قابلیت ہے؟ آپ دیکھیں کہ لوگ عرصے تک نہ صرف آپ کے سوال کے معیار اور متن پر گفتگو کریں گے بلکہ اس بات پر بھی آپ کو دہری داد ملے گی کہ انجینئرنگ کے طالب علم ہوتے ہوئے آپ نے انسانی اور اقلیتوں کے حقوق پر بات کی۔ لیکن یاد رہے اگر ایک ایل ایل بی فائنل ائر کا طالب علم ایک ایسا سوال پوچھ ڈالتا ہے جو اس کے آئین یا قانون سے ناواقفیت کو ظاہر کرتا ہے تو ہوشیار خبردار۔ لیکن فائنل ائر میں قانون کا طالب علم لاجواب کردینے والا سوال کر ڈالتا ہے تو ممکن ہے کوئی لیگل آفس یا این جی او آپ سے صرف وہ سوال سن کر متاثر ہونے کے بعد نوکری کے لئے رابطہ کر لے۔ یعنی ایک اچھا موقع جو اپنا تعارف نہ کرانے پر سائل نے ضائع کر دیا۔ یہاں لمز میں لگ بھگ تمام طالب علموں نے یہ موقع گنوایا۔

فوج میں جانے کے لئے سب سے کٹھن مرحلہ آئی ایس ایس بی کو پاس کرنا ہوتا ہے۔ اتفاق کی بات ہے میں یہ امتحان دو دفعہ پاس کرچکا ہوں۔ اس کے بعد مجھ سے جس بچے نے اسے پاس کرنے کے لئے ٹِپ مانگی میں اسے ایک مختصر جملے میں کہتا۔ ”یہ جھوٹ بولنے اور گپ مارنے کا عالمی مقابلہ ہے۔ کیا آپ یہ دونوں کام کر سکتے ہیں۔ اس لیے کہ یہاں آپ کو بادل ناخواستہ وہ تمام باتیں نہیں کہنا جو آپ کہتے ہیں یا کہنا چاہتے ہیں اسی طرح وہ تمام باتیں جو آپ میں نہیں ہیں آپ نے انہیں ہی بیان کرنا ہے“۔ آپ کو اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا لیکن چوہے چھپکلی یا لال بیگ سے لگتا ہے۔ لگے، لیکن لکھنا نہیں۔ کالا رنگ آپ کو بے انتہا پسند ہو مگر ماننا نہیں۔ آپ منہ پھٹ بدتمیز یا ٹھرکی ہیں مگر ایسا کوئی تاثر نہیں دینا۔

یہی کچھ بڑے منظر نامے پر سوال کے معیار کا بھی ہوتا ہے۔ یہاں بھی آپ نے آئی ایس ایس بی کا امتحان دینا ہوتا ہے کیونکہ آپ کے ایک ایک لفظ سے سامنے والا اور دنیا آپ کے بارے میں نتیجہ اخذ کرے گی۔

مگر ایک بات کا خیال رہے مہمان اور میزبان دونوں کی کچھ عزت اور مرتبہ ہوتا ہے۔ اس کو داؤ پر نہیں لگنا چاہیے۔ اگر کاکڑ صاحب یا کوئی اور مقرر لمز آئے تھے تو طلبا کو خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ان کے مہمان ہیں۔ بالکل ویسے جیسے والد صاحب کے دوست گھر آتے ہیں۔ بلکہ ان سے معذرت کریں کہ ان کی خاطر میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو درگزر کر دیں۔

آپ کے سوال سے مہمان کی تذلیل نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر صدر مملکت طلبا کو ایوان صدر میں ملاقات کے لئے بلاتے ہیں۔ تو اب بچے مہمان ہیں اور ان پر لازم ہے کہ میزبان کی عزت کا خیال رکھیں۔ اس کی میزبانی میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو اس کا تذکرہ مت کریں کسی ایسی بات کا تذکرہ کریں جو اچھی ہوئی ہو۔

دونوں صورتوں میں اپنے تعارف کے بعد اس شخصیت کا شکریہ ادا کریں کہ اس نے مہمان کے طور پر آپ کے ادارے میں آ کر اپنے خیالات سے آگاہ کیا اور آپ لوگوں کو سوال کا موقع دیا۔ دراصل تعارف اور یہ چند جملے اس شخص پر آپ کے بارے میں ایک بہت گہرا تاثر چھوڑے گا اور وہ کسی حد تک سکون سے آپ کی بات سنے گا۔ اور ساری دنیا پر آپ کا ایک مثبت اثر پڑے گا۔

اگر آپ کو سامنے والے شخص کی گفتگو میں کوئی بات اچھی لگی تو تھوڑا سا اس کو دہرا کر اس کی تعریف کر دیں یا اس میں سے کوئی وضاحت مانگ لیں۔ اور بتا دیں کہ یہ میرا اصل سوال نہیں۔ اعتراض کرتے وقت اگر آپ کو کوئی تاریخی واقعہ یا قرآن و حدیث یا قانون پاکستان یا کوئی عدالتی فیصلہ آپ کے اعتراض کے حق میں آپ کو یاد آ جائے تو فبھا ورنہ میرے ”قانون رضی“ کا استعمال کریں۔ اول تو مجھے گفتگو کرتے وقت کچھ نہ کچھ یاد آہی جاتا ہے وگرنہ میں (یعنی آپ) جو اعتراض کرنا چاہتے ہیں وہ اس طرح کریں۔ صدر مملکت آپ نے یہ کہا۔ مگر میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا (یا دستاویزی فلم میں دیکھا تھا) ۔ اس کے آگے وہ سب کچھ بیان کر دیں جو آپ کے دماغ میں کلبلا رہا ہے۔ لیکن خبردار سوال کا مواد بے شک صحیح ہو یا غلط۔ لیکن حوالہ غلط نہیں ہونا چاہیے۔ مثلاً آپ اقبال کا قول خلیل جبران کے نام سے پیش کریں تو تالیاں تو پٹ جائیں گی مگر زندگی بھر آپ کا لوگ ریکارڈ بجاتے رہیں گے۔

اب جہاں تک اصل سوال کی بات ہے۔ بہتر ہوتا ہے پہلے لکھ لیں یا دل میں کئی بار دہرا لیں۔ ایسے مواقع پر اگر آپ یا آپ کے اہل خانہ یا آپ کا ادارہ آپ کے لوگ آپ کا ملک، کسی مشکل میں ہے تو اس کو ہائی لائٹ کریں اور اس کے حل کے لئے درخواست کریں۔ سب سے بہتر ہوتا ہے آپ کے پاس خود کم ازکم دو مشورے یا حل ہوں۔ انہیں پیش کر دیں اور سب سے آخر میں وہ حل ہوتا ہے آپ جس کے حق میں ہوں۔ اسی طرح کچھ مشہور شعر، گانے کے ٹکڑے، یا ڈرامے کے مکالمے ایسے ہوتے ہیں جو بہت مشہور ہوتے ہیں۔ ایسے کسی محاورے یا شعر کا اگر تڑکا لگا سکتے ہیں تو ضرور لگائیں لیکن صحیح جگہ پر۔ مثلاً کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔ کانپیں ٹانگ جاتی ہیں۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ تہذیب میں رہتے یہ الفاظ استعمال کر لیں گے تو تالیاں بھی پٹ جائیں گی ساتھ کوئی برا بھی نہیں مانے گا۔

کیا ہی اچھا ہوتا اگر کوئی بچہ کہتا ملک میں وقت کی پابندی نہیں کی جاتی۔ آئین 90 دن میں الیکشن کا کہتا ہے ہم وقت کی قدر نہیں کرتے۔ کسی اہم شخص نے کسی جگہ پہنچنا ہو تو اس کا ایک دو گھنٹے دیر سے آنا عام ہے جیسے ”آپ بھی دیر سے آئے“ ۔ اسمبلیوں میں ارکان آتے ہی نہیں یا اجلاس کئی گھنٹیاں بجانے کے بعد شروع ہوتا ہے، شادی بیاہ میں برات کا دیر سے آنا فیشن ہے۔ ایسے میں آپ کیا سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں میری کچھ تجاویز یہ ہیں۔ وغیرہ۔

ممکن ہے مہمان کی بے عزتی نہ کر کے تالیاں نہ پٹیں لیکن سوال کی اہمیت آپ کو کہیں سے کہیں پہنچا دے گی۔

9 مئی کے تناظر میں پاکستان میں جو کچھ ہوا، اس سے سبق سیکھنا بھی ضروری ہے۔ آپ کا ایک غلط موقع پر صحیح سوال یا سوشل میڈیا پر لگائی گئی بڑھک یا طنز۔ آپ کو، آپ کے والدین اور اہل خانہ کو اتنا خجل خوار کردے گی کہ آپ مستقبل میں ہر وقت چپ رہیں گے وہ بھی سو جوتے کھانے کے بعد ۔

آپ طالب علم ہوں یا عام پاکستانی یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کا رجحان چاہے کسی بھی پارٹی کی طرف ہو۔ اگر آپ کے گھر میں فاقے ہو رہے ہوں تو نہ نواز شریف اور نہ ان کی صاحبزادی آپ کے گھر راشن لائیں گے۔ اور اگر آپ کے بیمار والد پیسوں کی تنگی کی وجہ سے مر بھی رہے ہوں تو عمران خان یا بلاول ان کا علاج کرانے نہیں آئیں گے۔ جب کہ وہ دوست یا رشتہ دار جس کا آپ نے اپنے محبوب قائد کی چاہت میں سر پھاڑ دیا تھا۔ ایسے مواقع پر وہ لوگ ہی آگے بڑھ کر آپ کی مدد کریں گے۔ تو دوستی اور رشتے داری میں جہاں کوئی سیاست داں رخنہ ڈالنے لگے۔ فوراً لاحول پڑھ کر موضوع تبدیل کر دیں۔ زندگی کا قانون بنا لیں دوست اور رشتہ دار آپ کے محبوب قائد سے اہم نہیں۔ اسی طرح عام زندگی میں میرے سامنے کئی ایسے لوگ آئے جو ایران اور سعودی عرب کی محبت میں ایک دوسرے کا سر پھاڑنے اور پاکستان کی بے عزتی کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ میں ان سے ایک ہی بات کہتا ہوں کہ بھائی اگر پاکستان ختم ہو گیا تو علی صاحب نہ ایران آپ کو اپنی شہریت دے گا اور نہ عمر صاحب سعودیہ آپ کو۔ اس لئے ان ممالک کے لئے جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسے مت کاٹیں۔

اب سوال کو ہی لے لیں۔ فرض کریں آپ کے بدتہذیبی سے کیے گئے سوال سے ”بوئے حب عمران“ آتی ہے۔ چلیں تالیاں پٹ گئیں۔ مگر چند ماہ یا سال بعد آپ نوکری یا کسی پینل کے سامنے انٹرویو کے لئے بیٹھے ہیں جہاں کا بڑا صاحب عمران مخالف ہے اور آپ کو پہچان لیتا ہے۔ اسے آپ کا اکھڑ پن اور بدتہذیبی بھی یاد ہے۔ وہ آپ کو آپ کی قابلیت اور اعلی میرٹ کے باوجود یا تو مسترد کر دیتا ہے یا اتنے کم نمبر دیتا ہے کہ آپ کا میرٹ پر انتخاب نہ ہو سکے۔ تو بات یہ ہے کہ آپ کو تالیاں پٹوانے یا سوال کرنے کا عارضی شہرت کے علاوہ کیا معاوضہ ملا؟ ٹھینگا۔ یاد رہے طریقے سے بات کرنا فن ہے چمچہ گیری نہیں۔ اگر آپ کو علم ہے کہ آپ کے سامنے موجود شخص فلاں بات پسند نہیں کرتا تو کیا ضروری ہے اس کو تنگ کر کے اسے یا اس کے چاہنے والے کو اپنا دشمن بنالیا جائے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے راہ چلتے کسی سوئے ہوئے جانور کو پتھر مارکر دشمن بنا لینا۔

ویسے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو چند فیصلے کرنے چاہئیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ہر مہینے ایک دن گیلری عوام کے لئے مختص ہو (کسی موبائل ایپ کے ذریعے ) اور ایک دن طلبا کے لئے۔ اسلام آباد پنڈی یا کسی دوسرے شہر کے طالب علم جو وہاں مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے ہوں۔ اور ان دونوں دن، تمام وزرا اور اہم لوگوں کی موجودگی یقینی بنائی جائے تاکہ ان کے سوالات کا تشفی جواب دیا جا سکے اور اگر قانون میں کوئی سقم ہو تو قانون سازی کی جا سکے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اسمبلیوں کے اجلاس میں بھی ایک دن عوام اور ایک دن طلبا کے لئے مختص ہو۔ بے شک چند گھنٹے ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح ہر ممبر اسمبلی اور وزیر کے لئے لازم ہو کہ وہ اپنے علاقے کے کسی اسکول کالج یا یونیورسٹی کا مہینے میں ایک بار ضرور دورہ کرے۔ طلبا کے مسائل اور سوال سنے اور اس کا ریکارڈ اسمبلی میں حاضری کی طرح دے۔ فوجی اداروں سے اعلی عہدیدار، کمشنر، ڈپٹی کمشنر بھی اپنے علاقے کے کسی اسکول کالج یا یونیورسٹی میں مہینے میں ایک دفعہ ضرور جائیں بے شک اپنے دفتر کے بعد ۔ بچوں سے ملیں اور ان کے تشنہ سوالات کے جوابات دیں۔ اور اصل یہ ہو کہ صاحب صرف اپنا تعارف کرائیں اور طلبا سے کہیں کہ وہ ان ان معاملات پر گفتگو یا سوالات کر سکتے ہیں اور ان پر نہیں۔ اسے ہی نئی نسل کی گرومنگ کی طرف ایک قدم شمار کیا جاسکتا ہے۔ کتنے اسمبلی کے ممبر یا اعلی عہدیدار ہیں جو بالخصوص جمعہ کی نماز کے بعد مائیک پر آ کر لوگوں کے سوالات کے جواب دینا کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بڑے بڑے عالم اور امام مسجد بھی اس کام سے کَنّی کتراتے ہیں۔

سچ یہ ہے کہ ہماری زندگیوں میں مکالمہ اور سوال جواب ختم ہو چکا ہے۔ جس نے صرف عدم برداشت کو جنم دیا ہے۔ جو تشدد اور قتل و غارت کی پہلی سیڑھی ہے۔

آج کے طلبا کو اور وہ جو اپنی تعلیم مکمل کرچکے میں ان کو ایک اور مشورہ دوں گا کہ ”ڈیل کارنیگی“ ایک زبردست انسان گزرا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے اس کی انگریزی (یا اردو ترجمہ) کتابوں کو لفظ بہ لفظ پڑھیں اور سمجھنے اور سیکھنے کی کوشش کریں۔ کہاں جواب دینا ہے کہاں جواب نہیں دینا۔ آپ جھوٹ مت بولیں لیکن خوامخواہ سچ بول کر اپنے لئے مشکلات بھی مت کھڑی کریں وغیرہ۔

مکالمہ دوسروں کے تجربات سے سیکھنے کا فن ہے۔ اگر آپ ایک ریڑھی والے سے ملتے ہیں اور اس سے خریداری کے دوران مکالمہ کرتے اور اس کے بارے میں چند باتیں جان لیتے ہیں بے شک وہ اس کی ذاتی زندگی سے متعلق ہوں یا وہ سودا کہاں سے لاتا ہے۔ صبح کب اٹھتا ہے۔ کل کے مقابلے میں آج وہ کتنی مشکلات یا آسانی محسوس کرتا ہے۔ اس کے بیوی بچے کہاں رہتے ہیں۔ کسی شے پر منافع کا تعین کیسے کرتا ہے۔ یہ مت پوچھیں دن میں کتنا کما لیتا ہے۔ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ اتنی آمدنی سے گزارا کیسے کرلیتے ہیں۔ یقین کریں بھاؤ تاؤ کی آپ کو ضرورت نہیں پڑے گی۔ اور یہ چھوٹا سا مکالمہ نہ صرف آپ کو اس شخص کے لئے قابل اعتبار بنا دے گا بلکہ اس سے حاصل معلومات آپ کو زندگی میں متعدد مرتبہ کہیں نہ کہیں کام بھی ضرور آئیں گی۔ آپ کو علم ہو گا مونگ پھلی کس علاقے میں اگتی ہے۔ اس کی کون سی قسمیں ہوتی ہیں۔ منافع کی کیا شرح ہوتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کتنی مہنگی ہے۔ آپ کے شہر میں بڑی مقدار میں خریدنا ہو تو کہاں سے ملے گی۔ مکالمے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کے ذہن میں نت نئے سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں اور علم کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا ہے۔ چاہے وہ کباڑی سے ہی کیوں نہ ملے۔ لیکن ایک بات یاد رہے سامنے والا ممکن ہے آپ کو سب سچ نہ بتائے یا وہ حقیقت جانتا ہی نہ ہو۔ یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

سوال کرنے کا موقع ملے تو اسے کبھی ضائع نہ ہونے دیں۔ اور کسی بڑی شخصیت کے ساتھ سیلفی کھنچوانے میں جتنا وقت لگتا ہے اگر آپ اس وقت میں اس سے ایک اچھا سوال کر لیں تو سیلفی شاید آپ کی تقدیر نہ بدلے لیکن کسی کامیاب یا ناکام شخص سے ملنے والے تجربے کا نچوڑ ممکن ہے آپ کی زندگی ہی بدل دے۔

میری باتیں پڑھ کر عمل کرنا ضروری نہیں یہ چند ابتدائی باتیں ہیں۔ آپ ان کو سامنے رکھ کر ان میں جتنی بہتری لا سکتے ہیں۔ ضرور لائیں۔ لیکن سوال کرنا مت چھوڑیں۔ اور کاری گری یہ ہے کہ آپ سامنے والے سے کام کی بات اگلوا لیں۔

اسلام تو شروع ہی اقرا سے ہوتا ہے یعنی پڑھ۔ اور علم حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ مکالمہ یا سوال ہے۔ اسی طرح اسلام کہتا ہے کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو خود علم حاصل کرے اور پھر دوسروں کو سکھائے۔ ہر وہ شخص جو آپ کو زندگی میں کچھ بھی سکھا دے اس کی عزت کریں چاہے آپ اس کو کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کرتے ہوں۔ کیونکہ وہ آپ کا معلم اور استاد رہ چکا ہوتا ہے۔ دوسروں سے سیکھا علم ایک قرض کی طرح ہوتا ہے اور جب اللہ آپ کو اس مقام پر پہنچا دے کہ کوئی آپ سے سوال کرے تو اس قرض کو اتارنے میں کبھی کوتاہی نہ کریں، کیونکہ اسلام کہتا ہے کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو خود علم حاصل کرے اور پھر دوسروں کو سکھائے۔

Facebook Comments HS