لندن مہنگا ہے لیکن۔ ۔ ۔


ٹریفک، ٹرانسپورٹ، سڑکیں، گاڑیاں، ریل، ہوائی اڈے

پاکستان کے ہوائی اڈے سے ترقی یافتہ ممالک کی سمت اڑنے کے کچھ دیر بعد دنیا بدلنے لگتی ہے۔ پہلے آسمان، پھر زمینی مناظر اور بالائی نظارے۔ افراط زر اور افراط الرجال کا فرق واضح ہونے لگتا ہے۔ زیادہ چیزیں اور طریقے مشینی بننے لگتے ہیں اور انسانوں کا دخل کم ہونے لگتا ہے۔ واش بیسن کی ٹونٹی سے لے کر ٹوائلٹ کے فلیش سبھی خودکار سنسرز میں بدل جاتے ہیں۔ سب کچھ یا خود کرنا ہوتا ہے یا مشین نے۔ چائے، کافی، بریڈ ٹوسٹنگ، وغیرہ وغیرہ۔

لاہور سے براستہ دوحہ لندن پہنچے۔ جہاز ہیتھرو ائر پورٹ پر اترا۔ جو کہ برطانیہ کا سب سے بڑا ہوائی اڈا ہے اور وسطی لندن سے مغرب کی طرف چودہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا شمار دنیا کے چوتھے مصروف ترین ہوائی اڈے میں ہوتا ہے۔ اس کے کل چار ٹرمینلز ( 2، 3، 4، 5 ) ہیں۔ ٹرمینل 1 نہیں ہے۔ اس کو 2015 میں ٹرمینل 2 کو وسیع کرنے کے لئے بند کر دیا گیا تھا۔ یہ سارے ٹرمینلز مختلف ائر لائنز اور منزلوں کے لئے مخصوص ہیں۔ سبھی ٹرمینلز آپس میں جڑے ہیں اور مسافر پیدل یا فری ریل اور شٹل سروسز سے ایک سے دوسرے ٹرمینل بآسانی آ جا سکتے ہیں۔

ہیتھرو ائر پورٹ پر اترتے ساتھ ہر طرف مسافر بھاگتے دوڑتے ملتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر پانچ سو سے اوپر پروازیں دو سو سے زیادہ جگہوں کے لئے اڑتی اور اترتی ہیں۔ مطلوبہ ٹرمینل کی تلاش میں پاؤں تھکتے ہیں۔ جگہ جگہ ہدایات چل رہی ہوتی ہیں۔ ان کو پڑھیں، سمجھیں اور آپ نے جدھر جانا ہے، کس ٹرین پر سوار ہونا ہے؟ کس طرف سے چڑھنا، اترنا ہے؟ اس کا فیصلہ آپ نے انھیں تصویری نقشوں اور مشاہدوں کی مدد سے کرنا ہے۔ تیز گام، وقت پر پہنچنے والی ٹرینوں کی طرح، مسافروں کو بھی گھڑی کی سوئیوں کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ ذرا سی چوک ہوئی، ادھر گولی کی رفتار پر آئی ریل اڑن چھو۔

ٹرمینل 4 پر اترے۔ وہاں سے گڈ ہوٹل پہنچنے کے لئے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ درکار تھا۔ اپنا سامان لینے کے بعد جو فکر ایک نئے سیاح کو پکڑتی ہے، وہ منزل تک کس طرح اور کیسے جانے کی ہوتی ہے۔ کیری، بیگز، بیگ پیک، ہینڈ کیری سامان جتنا بھی ہو اور جیسا بھی۔ کوئی سامان اٹھانے کو دستیاب نہیں ہو گا۔ شکر کہ سامان میں صرف ایک چھوٹا کیری، دو لیپ ٹاپ تھے۔ آدھے گھنٹے کی ابتدائی خواری و جان کاری لینے کے بعد وہ ایلزبتھ ریل پر بیٹھے۔

ساٹھ منٹ میں اگلے سٹاپ کنیری وارف سے دوسری ٹرین پکڑی اور وکٹوریہ ڈوک آ گئے۔ دوسری ریل میں بیٹھتے ساتھ ہلکی پھلکی بارش برسنے لگی جو مطلوبہ پتہ پر اترنے سے پہلے ہی موسلا دھار میں تبدیل ہو گئی۔ بارہ گھنٹے کی پرواز سے وہ تھکان زدہ تھے۔ بارش، ہلکی ہلکی خنکی سے وہ گھبرا رہے تھے۔ بھیگنا نہیں چاہتے تھے۔ اسٹاپ سے ہوٹل تک، دریائے ٹیمز پر بنے ایک بڑے پل سے ہوتے ہوئے گزرنا پڑتا ہے۔ کہیں شیڈز، کہیں کھلا آسمان۔ لیکن بیشتر راہ گزر اور مسافر رکے نہیں۔ لیکن جب بارش طوفانی ہوئی تو کچھ کے قدم شیڈز کے نیچے تھمے۔ بوندوں کے ہلکا ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ جو نہ رک سکے، انھوں نے اپنا چھاتا کھول لیا۔ کوئی ہاتھوں کے چھجے کو سہارا بنا کر چل دیا۔ وہ بھی بھیگتے، رکتے، ٹھٹھرتے رات کے دس بجے ہوٹل پہنچے۔

اگلی صبح انھیں ٹرنٹ او کینٹ، سٹیفورڈ شائر یونیورسٹی جانا تھا یعنی ایک دوسری کاونٹی۔ جس کا ایک طرف کا فاصلہ سوا تین گھنٹے کا ہے۔ اور اس سے پہلے انھیں ایک دفتر بھی جانا تھا۔ مختلف سمتیں لیکن جانا ضروری تھا۔ مطلب کل ملا کے سات، ساڑھے سات گھنٹے کا سفر۔ تین اسٹاپ کی تبدیلی۔ پھر بھی وہ سات بجے ہوٹل سے نکل کر رات گیارہ بجے انجان راستوں پر بہت مفید اور کافی وقت گزار کر واپس بھی پہنچ چکے تھے۔ لیکن تھکن، بے آرامی، کلفت کا نام و نشان بھی نہ تھا۔

پہلے دن کی طرح اگلے سبھی دن یونہی مصروف تھے۔ دفتری کام، کتابوں کی خریداری، سیاحی کے لئے لندن کے دس دن کے قیام میں انھیں روزانہ سفر کرنا پڑتا۔ جس کو اگر کوزے میں بند کریں تو خلاصہ یہ ہے :

اگر آپ پڑھے لکھے نہیں اور خاص طور پر بنیادی انگریزی نہیں سمجھتے۔ تو انگلستان میں کوئی بھی چھوٹا، بڑا سفر نا ممکن تو نہیں لیکن جان مشکل میں ضرور ڈالے گا۔

موسم کیسا بھی طوفانی ہو جائے، نہ ٹریفک کا نظام معطل ہوتا ہے۔ نہ سڑکیں اور اسٹیشنز پانی سے بھرتے ہیں۔ نہ گٹر ابلتے ہیں۔ اور نہ ہی مسافر زیادہ دیر بارڈ تھمنے کے منتظر رہتے ہیں۔ دھوپ، چھاؤں، سردی، گرمی، بہار، خزاں کی طرح آسمان سے چھاجوں مینہ برسنا بھی ایک معمول ہے۔

ہوائی اڈوں پر چیک ان، چیک آؤٹ خود کار سسٹم کے تحت مسافروں نے خود کرنا ہوتا ہے۔ کوئی کاؤنٹر اور اسٹاف اس مقصد کے لئے نہیں۔ ہاں! مدد کرنے، رہنمائی کرنے اور سمجھانے کو عملہ ہر لمحہ آپ کے اردگرد ہوتا ہے۔

ایلزبتھ ٹرین، ڈی۔ ایل۔ آر ریل، ہیتھرو پریس، انڈین اس کے علاوہ کئی طرح کی ٹرینز چلتی ہیں۔

ریلوں کے پائیدان اور اترنے کی جگہ کے درمیان چھ انچ سے زیادہ خلا نہیں ہوتا۔ لیول بالکل ایک۔ نہ وہیل چیئر اتارنے، چڑھانے کی تکلیف۔ نہ پرام سے کشتیاں کرنے کی ضرورت۔ نہ سائیکل لانے، لے جانے کی دقت۔ نہ بیماروں، بزرگوں، عورتوں کے گھٹنوں کی ہڈیاں چٹختی ہیں۔

دور کے سفر میں چائے، پانی، ٹک شاپ کی سہولت، ٹوائلٹ کی دستیابی ہر شہر سے باہر جاتی ٹرین کا حصہ ہیں۔
عموماً شہر کے اندر چلنے والی ریلیں ڈرائیور لیس ہیں۔

ہر طرح کے اڈے گریڈڈ ہیں۔ یعنی بیس منٹ (تہہ خانے /زیریں خانہ) ، گراؤنڈ فلور، اور اوپر بھی۔ مثلاً ہیتھرو ائر پورٹ ٹرمینل 5 کے پانچ لیولز ہیں۔

سائیکل، پالتو جانور، بڑے، چھوٹے ہر طرح کے کیری، ضعیف، حاملہ انھی ٹرینوں پر سفر کرتے ہیں۔
پالتو جانور ہر ٹرمینل، ٹرین اور بس پر مسافروں کے ساتھیوں کی صورت ملیں گے۔
بچوں، بزرگوں، بیماروں اور حاملہ مسافروں کے لئے فوقیتی سیٹیں موجود ہوتی ہیں۔

جہاں جانا ہو، جب جانا ہو، جس پر جانا ہو۔ سب کے انتخاب کے لئے آن لائن بکنگ، ٹکٹنگ اور خریداری کریں۔ جو کہ کریڈٹ کارڈ، موبائلز ایپ، ٹریول کارڈز اور ہر اسٹاپ پر لگی ٹچ اسکرینوں سبھی سے ہو سکتا ہے۔ سبھی آپشنز اسکیننگ اور کیو۔ آر کوڈ سے قابل استعمال ہوتی ہیں۔

ہر طرح کے اڈوں پر ان آؤٹ ہونے کے لئے یہی نظام ہے۔

’ون سکیننگ ون پیسنجر‘ کا اصول لاگو ہوتا ہے۔ اگر داخل ہوتے وقت بھول گئے تو خارج ہوتے سمے کرنا ہو گا۔ ورنہ باہر نہیں نکل سکتے۔ سبھی رکاوٹیں کارڈ پڑھنے کے بعد پیچھے ہٹتی ہیں۔ اور اسی وجہ سے صرف مسافر ہی ٹرمینلز کے اندر ہوتے ہیں۔ رخصت کرنے والوں کا جمگھٹا دیکھنے کو نہیں ملتا۔

ایلویٹرز پر اوپر نیچے دونوں طرف جانے کے لئے آہستہ اور تیز جانے والوں کی الگ الگ قطاریں بنی ہوتی ہیں۔

الیکٹرانک شیڈول چارٹس ہر انتظار گاہ میں، اڈے کے اندر، باہر جگہ جگہ، لمحے لمحے کی تفصیل، ہر طرح کی ریل کے لئے رواں۔ کون سی ٹرین، کس پٹڑی سے آئی گی؟ کس اسٹاپ پر رکے گی۔ اگلا اسٹاپ کون سا ہو گا۔ اگر تاخیر ہے تو کتنے منٹ کی؟ کچھ بھی کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔

اشتہارات اور مشہوری کے لئے ہوائی اڈے، بسوں کے اسٹیشنز اور ریل ٹرمینلز استعمال ہونے لگے ہیں۔ بل بورڈز یہاں لگتے ہیں۔ برانڈز کی مارکیٹنگ، نئے خیالات کی ترویج و آگاہی، معلومات کا پھیلاؤ انھی عوامی جگہوں پر ہونے لگا ہے۔ جس نے بصری آلودگی کو قابو کرنے میں کافی مدد کی ہے۔

’سی اٹ، رپورٹ اٹ، سولو اٹ‘ ، یہ نعرہ ٹرینوں کی ڈیجیٹل پٹی پر چلتا رہتا ہے۔ جو بذات خود ہر مسافر کے لئے پیغام ہے کہ وہ دوران سفر پیش آنے والا مسئلہ کس طرح حل کروانا ہے۔ اور ہر مسافر عمومی طور پر محفوظ ہے۔

مرد، عورت کے لئے علیحدہ ڈبوں کا کوئی ’کانسپٹ‘ نہیں۔ باوجود اس کے آپ کو نہ کوئی گھورتا ہے۔ نہ چھیڑتا ہے اور نہ ہی چھوتا ہے۔

پاکستان کی طرح دائیں طرف سے گاڑیاں چلائی جاتی ہیں۔ چونکہ پاک و ہند نے کئی برس انگریز راج میں گزارے ہیں۔ اس لئے نظام کی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔

رکشے ناپید، ریڑھیاں غائب، گدھا گاڑی، ہتھ گاڑی ندارد، موٹر سائیکل اکا دکا، پک اپس، ہائی۔ ایس، تانگے اور اس طرح کے سبھی ٹرانسپورٹ موڈز اب صرف تیسری دنیا کے ممالک میں رہ گئے ہیں۔

ٹرمینلز ہوں یا ہوائی اڈے یا ہوٹل قلی کا وجود ختم۔ وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔ اس لئے اپنا ساتھ اتنا سامان ہی رکھیں۔ جتنا خود اٹھا سکیں۔

ٹریفک کے اشارے خاص طور پر زیبرا کراسنگ کے اشارے موجود بھی ہیں اور ہر وقت کام بھی کرتے ہیں۔ اور ہر چوک کے اشارے دوسرے سے کنیکٹڈ ہے۔ ٹریفک وارڈنز جو کام تذلیل کے ساتھ ترقی پذیر ممالک میں کرتے ہیں۔ وہ ترقی یافتہ ملکوں میں مشینوں نے زیادہ بہتر سنبھالا ہے۔

زیبرا کراسنگز اور پیدل چلنے والوں کا احترام سبھی کرتے ہیں۔ اس کے لئے کسی ڈنڈے اور ڈر کی ضرورت بالکل نہیں۔

نوٹ: 8 نومبر ہر سال ’عالمی یوم اربنزم‘ جسے ’ورلڈ ٹاؤن پلاننگ ڈے‘ بھی کہتے ہیں، کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چونکہ مصنف اربن پلانر ہے، جس کی ڈاکٹریٹ ’بصری آلودگی یعنی وژیول پلوشن‘ میں ہے۔ اس لئے کوشش ہو گی کہ اس مہینے ساری تحریریں ٹاؤن پلاننگ کے حوالے سے ہوں۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS

One thought on “لندن مہنگا ہے لیکن۔ ۔ ۔

  • 19/11/2023 at 1:06 شام
    Permalink

    ایک اچھی تحریر جسے پڑھ کر آج کے لندن کے بارے میں بہت کچھ جانا۔ بہت شکریہ

Comments are closed.