چاند ہتھیلی پر: سفرنامہ
کاغان، ناران
یہ اکتوبر 1995 کی بات ہے جب یار دیرینہ ظہور شاہ کا فون آیا اور اس نے ہم سب دوستوں کو اپنی شادی میں مدعو کیا اور بہت درخواست کی کہ اسے بہت خوشی ہوگی اگر ہم سب اس کی شادی میں شرکت کریں!
ظہور شاہ اور اس کی فیملی پہلے کراچی میں ہمارے علاقے میں رہائش پذیر تھی اور لگ بھگ دس سال کراچی میں رہنے کے بعد وہ لوگ اپنے آبادی علاقے بالاکوٹ مستقل طور پر منتقل ہو گئے تھے اور ظہور کے ساتھ ہم دوستوں نے بہت اچھا وقت گزارا تھا۔ سوچا کہ ظہور کی شادی میں شرکت کر کے کاغان ناران گھوم لیں گے، ان ہی دنوں میں میری کزن کی شادی راولپنڈی میں ہو رہی تھی، میں اپنے دوستوں حسن، رمیز اور شارق کے ساتھ پروگرام فائنل کر کے راولپنڈی چلا گیا، یہ کہہ کر کہ میں کزن کی شادی سے فارغ ہو کر اکیلا ظہور کے گاؤں پہنچ جاؤں گا اور آپ لوگ کراچی سے ظہور کے گاؤں پہنچ جائیں۔
راولپنڈی سے ظہور کے گھر پی ٹی سی ایل پر فون کر کے اس کے گاؤں کی لوکیشن سمجھ لی اور اسے اپنے آنے کا وقت بتا دیا۔
پنڈی سے جب میں مانسہرہ پہنچا تو شام ہونے ہی والی تھی میں چائے پی کر بالا کوٹ جانے والی گاڑی میں بیٹھ گیا، مانسہرہ سے ظہور کا گاؤں تلہٹہ اٹھائیس کلومیٹر دور ہے اور یہ تقریباً ایک گھنٹے کا راستہ ہے جب میں نے مسافروں کو بتایا کہ میں تلہٹہ جا رہا ہوں تو گاڑی کے مسافر پریشان ہو گئے اور دو گروپس میں تقسیم ہو گئے، ایک گروپ کا خیال تھا کہ مجھے مانسہرہ سے بٹراسی والے راستے سے تلہٹہ جانا چاہیے کیونکہ اس راستے سے آپ براہ راست گاؤں میں داخل ہو جاتے ہیں۔
جب کہ دوسرے گروپ کا کہنا تھا کہ واپس مانسہرہ جانے سے بہتر ہے کہ میں اسی گاڑی میں سفر کروں اور وہ مجھے تلہٹہ اسٹاپ پر اتار دیں گے، بس قباحت اس راستے پر یہ تھی کہ مجھے دریا پر بنالکڑی کا پل اور پھر ایک چھوٹا سا جنگل پار کر کے تلہٹہ گاؤں میں داخل ہونا تھا۔ ان لوگوں کا خلوص مجھے بہت متاثر کر رہا تھا اور اندر سے میں ڈر بھی رہا تھا کہ اکیلے کیسے ظہور کے گاؤں پہنچوں گا؟ ڈرائیور نے مجھے پل کے ساتھ ہی اتار دیا اور اشارے سے بتایا کہ یہ پل پار کر کے سیدھا چلے جانا، اللہ کا نام لے کر میں نے سڑک پار کی، مغرب ہو چکی تھی اور اندھیرا پھیل چکا تھا۔
میرا استقبال دریائے کنہار کے دل دہلانے والے شور اور ٹھنڈی ہوا نے کیا، اچانک بوندا باندی بھی شروع ہو گئی، روڈ اوپر تھا اور دریا ذرا نیچے تھا، اندھیرے کی وجہ سے مجھے اس برج تک جانے کا کوئی باقاعدہ راستہ نظر نہیں آ رہا تھا، کسی نہ کسی طرح میں برج تک پہنچ گیا یہ ایک سو پندرہ فٹ لمبا اور تیرہ فٹ چوڑا لکڑی کا برج تھا، لکڑی کا پل، اندھیرا، بارش اور دریائے کنہار کا شور یہ سب چیزیں مل کر میرا حوصلہ پست کر رہی تھیں۔
میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، دل میں خیال آیا کہ بارش تیز نہ ہو جائے۔ ہمت کر کے پل پر پاؤں رکھا۔ ابھی تک دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ پل پر کوئی انسان نظر آ جائے پر دور دور تک سناٹا ہی سناٹا تھا۔ اپنے آپ پر غصہ بھی آ رہا تھا کہ دوستوں کا انتظار کر لیتا اور ان کے ساتھ ہی آ جاتا۔
سب سے زیادہ ڈر اس بات کا تھا کہ لکڑی کے پل کے کسی سوراخ میں میری بیساکھی نہ چلی جائے اور میں دریا میں نہ گر جاؤں، میں بہت محتاط انداز میں بیساکھی اور اپنے پاؤں کو رکھ رہا تھا اور بالکل بیچ میں چل رہا تھا، مر مر کر جب میں آخری حصے پر پہنچا تو مجھے کوئی یہاں کنارے پر کھڑا ہوا نظر آیا، اس نے مجھے دیکھ کر زور سے آواز لگائی کہ شاہ صاحب آپ کے مہمان آ گئے۔ بھاگ کر وہ لڑکا میرے پاس آیا اور مجھے تھام لیا، ظہور آواز سنتے ہی برساتی پہنے ہوئے آیا، اس کے ہاتھ میں شکاری رائفل بھی تھی، میرے سامنے آ کر مجھے گلے لگا لیا۔
اور ناراض ہونے لگا کہ تم نے فون پر میری پوری بات سنے بغیر فون کیوں رکھ دیا تھا۔ میں کب سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں اور چھوٹا بھائی گاؤں کے دوسرے راستے پر بیٹھا ہوا تمہارا انتظار کر رہا ہے، ایک چھوٹا سا راستہ طے کر کے ہم ظہور کے گھر پہنچ گئے۔ اگلے دن صبح تک میرے دوست بھی کراچی سے ظہور کے گھر پہنچ گئے۔
٭٭٭
تلہٹہ
تلہٹہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو مانسہرہ ڈسٹرکٹ کی بالا کوٹ تحصیل میں واقع ہے اور دریائے کنہار کے کنارے آباد ہے، تلہٹہ کو سیدوں کا گاؤں بھی کہا جاتا ہے اور یہ سب لوگ سنی سادات ہیں، یہ گاؤں تین سو گھروں پر مشتمل ہے، گرمی زیادہ نہیں ہوتی اور سردیوں میں درجہ حرارت منفی میں چلا جاتا ہے، یہاں چیڑا ور دیار کے خوبصورت درخت موجود ہیں اور گلاب موتیا کے پھول تقریباً ہر گھر کے باہر لگے ہوئے ہیں۔ گاؤں کی زمین بہت زرخیز ہے گندم اور مکئی کی کاشت کی جاتی ہے اور سبزیوں میں پالک، میتھی، بھنڈی، لوکی، مولی، سیم کی پھلی اور شلجم شامل ہیں، پھلوں میں آلو بخارا، اخروٹ اور چکوترا کے درخت لگے ہوئے ہیں۔ گاؤں میں ایک جامع مسجد ہے اور لڑکے لڑکیوں کا پرائمری سے لے کر ہائر سیکنڈری اسکول موجود ہیں۔
ستمبر اکتوبر کے مہینوں میں موسم بہت خوشگوار ہوتا ہے دن میں ہلکی سی گرمی اور رات میں خنکی ہوتی ہے، باہر شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھی۔ گھر کے قریب ایک کھلی جگہ پر ٹینٹ لگا ہوا تھا اور عورتوں کے لئے گھروں میں انتظام کیا گیا تھا۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی اور ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آ رہا تھا، گاؤں کے سارے گھر پختہ بنے ہوتے تھے، قریب ہی کھانا بن رہا تھا، گاؤں کے لوگ بہت ملنسار اور خوش مزاج تھے اور وہ سب بہت خوش تھے کہ ہم کراچی سے شادی میں شرکت کرنے آئے ہیں۔ شادی میں 300 افراد مدعو کیے گئے تھے جن کے لیے نشستوں کا انتظام تھا۔ ظہور نے سفید شلوار قمیض کے اوپر آف وائٹ واسکٹ پہن رکھی تھی اور گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا ہوا تھا، ظہور کے سرخ و سفید چہرے پر یہ لباس بہت سج رہا تھا۔
ہم سب دوستوں اور مہمانوں نے شلوار قمیض زیب تن کی ہوئی تھی سوائے حسن کے، حسن نے تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا، تھری پیس سوٹ میں حسن اس گاؤں کی شادی میں بالکل ہی الگ لگ رہا تھا اور سب لوگ دولہا سے زیادہ حسن کو دیکھ رہے تھے اور ہم سب مل کر حسن کا مذاق اڑا رہے تھے۔ وہ اس ماحول میں ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی انوکھی مخلوق ہو۔
نکاح پہلے ہی ہو چکا تھا بتیس روپے حق مہر کے عوض، چھوہاروں کی جگہ بتاشے جیسے کوئی چیز مہمانوں میں تقسیم کی جا رہی تھی۔ بارہ بجے کے قریب کھانے کا آغاز کر دیا گیا کھانا بہت پرتکلف تھا، کھانے میں چکن پلاؤ، چکن روسٹ، بیف قورمہ، پالک گوشت اور میٹھے میں زردہ شامل تھا۔ سب چیزیں بہت مزیدار بنی ہوئی تھیں۔
کھانے سے فارغ ہو کر اور رخصتی کروا کر ہم گھر آ گئے، ظہور نے ہمارے لئے جیپ بک کروا دی تھی۔ کل صبح ہم نے کاغان ناران کے لئے نکل جانا تھا، کچھ دیر سستانے کے بعد ہم ظہور کے بھائی کے ساتھ دریا پر چلے گئے، کیا خوبصورت نظارہ تھا، دریا کے پیچھے سرسبز پہاڑی سلسلہ اور دریا کے ساتھ ہرا بھرا چھوٹا سا میدانی علاقہ، دریائے کنہار کا شور اور اس کا بہاؤ بہت تیز تھا، گاؤں کے لوگ اس جگہ کرکٹ اور والی بال کھیلتے ہیں۔
اور یہ دو کھیل ہی وہاں کھیلے جاتے ہیں۔ دریا کے کنارے ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور موسم بہت خوشگوار تھا۔ ورنہ ہم سب دوست ڈر رہے تھے کہ کہیں سردی نہ ملے۔ ہم اس خوبصورت ماحول میں کرکٹ کھیل کر بہت محظوظ ہوئے۔ دریا کے ساتھ ہی قبرستان تھا اور اس قبرستان میں ایک چھوٹا سا مزار سید احمد شہید کا بھی تھا۔ ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ سید احمد شہید کا مدفن بالاکوٹ میں ہے لیکن گاؤں والے اس بات پر متفق تھے کہ سید احمد شہید کا مزار بالاکوٹ میں نہیں یہاں تلہٹہ میں ہے۔
٭٭٭
اگست 2002
میری شادی دس اگست کو ہوئی تھی اور شادی کے تیسرے دن ہی میں بیگم کو لے کر ہنی مون ٹرپ پر کاغان ناران کے لئے روانہ ہو گیا۔ ہم میاں بیوی کراچی سے بذریعہ ٹرین لاہور پہنچے اور فوراً ہی راولپنڈی کے لئے بس میں روانہ ہو گئے، شام تک ہم پنڈی پہنچ گئے اور صبح صبح پنڈی سے مانسہرہ کے لیے روانہ ہو گئے۔
مانسہرہ
مانسہرہ ہزارہ ڈویژن کا ایک ضلع ہے جس کا نام مغل شہنشاہ اکبر کے ایک سرکردہ جنرل مان سنگھ کے نام پر رکھا گیا تھا، مانسہرہ مرکزی راہ گزر ہے جس سے ہو کر آپ کشمیر، کاغان اور گلگت بلتستان میں داخل ہوتے ہیں۔
ظہور اور اس کے گھروں نے ہمارا والہانہ استقبال کیا۔ کھانے سے فارغ ہو کر میری بیگم لبنیٰ دریا کی سیر کرنے کے لئے ظہور کی بیگم کے ساتھ چلی گئی اور میں ظہور سے کل صبح کا پروگرام طے کرنے لگا۔ ظہور نے اپنے ایک قابل اعتماد ڈرائیور کی جیپ مہیا کردی تھی اور ہم صبح ناشتہ کر کے اپنے سفر پر روانہ ہو گئے اور گھر سے لایا ہوا کیسٹ جیپ کے پلیئر میں لگادیا۔
سفر میں کتاب اور موسیقی سفر کو مزید خوشگوار بنا دیتے ہیں، ٹرین کے سفر میں کتاب پڑھنے کا اور بائی روڈ کے سفر میں گانے سننے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے، گانے اور کتابوں کا چسکا بچپن سے ہی لگ گیا تھا۔ پاپا صبح سویرے ریڈیو سیلون پر گانے سنتے تھے اور امی نے بچپن سے ہی دو رسائل گھر پر لگوا دیے تھے۔ ایک تھا بچوں کا باغ اور دوسرا بچوں کی دنیا، جب کہ ہمارا تعلق لوئر مڈل کلاس فیملی سے تھا، لیکن امی یہ چاہتی تھی کہ کسی طرح ہم میں کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہو۔
اور پھر اس شوق نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بچوں کے رسالے سے اشتیاق احمد کی سیریز سے عمران سیریز اور پھر ڈائجسٹ تک کا سفر طے کیا۔ سسپنس ڈائجسٹ، جاسوسی ڈائجسٹ، سب رنگ، نیا رخ، نئے افق، مسٹری میگزین اور سرگزشت کا باقاعدہ مطالعہ کیا۔ ڈائجسٹ فروٹ چاٹ کی طرح ہوتے ہیں، اسلامی مضامین سے لے کر تاریخ، افسانے سے لے کر دیسی بدیسی ناول، رومان سے لے کر جرائم، مزاحیہ سے لے کر طنزیہ اور تصوراتی سے لے کر حقیقی ہر طرح کا مواد پڑھنے کو ملتا ہے۔
محی الدین نواب کا دیوتا ہو یا شکیل عادل زادہ کا بازیگر، احمد اقبال کا شکاری ہو یا ایم اے راحت کے سلسلے وار ناول، سب شوق سے پڑھے پر جو بات بازیگر میں تھی وہ کسی اور میں نہیں ملی، محی الدین نواب کی طویل کہانیاں ہوں یا علیم الحق حقی کی، احمد اقبال کی ہو یا ش صغیر کی، صبا احمد کی یا ناہید سلطانہ اختر کی ہو یا محمود احمد مودی کی ہو یا طاہر جاوید مغل کی سب سے پہلے آخری صفحات پر یہ طویل کہانیاں پڑھتے تھے، یا ڈاکٹر ساجد امجد کی مختلف لوگوں کی سوانح حیات کے واقعات، علی سفیان آفاقی کے فلمی سفر نامے ہوں یا زخمی کانپوری کی فلمی الف لیلا، پھر الیاس سیتا پوری کی تاریخی، ضیا تسنیم بلگرامی کی ایمان افروز، احمد اقبال کی مزاحیہ کہانیاں ہوں یا سڈنی شیلڈن کے ناول کا ترجمہ ہو، سب رنگ میں شائع ہونے والے افسانے ہوں یا وائلڈہائم کے کالم ہوں، سب اچھے سے اب تک یاد ہیں۔ غربت کا زمانہ اور شوق رسائل کا رکھتے تھے۔ کبھی دوستوں سے تو کبھی لائبریری سے تو کبھی ردی کاغذ والے سے رسالوں کا ردو بدل کرتے تھے۔ کیا خوبصورت زمانہ تھا، کسی کے گھر جاتے تو سب سے پہلے اس کی کتابوں اور آڈیو کیسٹ کا کلیکشن دیکھا کرتے تھے۔
گانے میں بس رفیع اور لتا کے ہی سنتا تھا، پھر انیس سو نوے کے سنہرے دور کا آغاز ہوا جس کی ابتدا سنہ اٹھاسی کی فلم قیامت سے قیامت تک سے ہوئی اور اصل آغاز اس دور کا فلم عاشقی سے ہوا جو انیس سو نوے میں ریلیز ہوئی اور یہیں سے موسیقی کے سنہرے دور کا آغاز ہوا۔ موسیقی کے سنہرے دور کے نمایاں میوزک ڈائریکٹر میں ندیم شروان، آنند ملند، انوملک اور جیتن للت شامل تھے، انو ملک کا اس سنہرے دور سے پہلے کوئی خاص اسکور نہیں تھا، نائنٹی تھری کی فلم پھر تیری کہانی یاد آئی نے بریک تھرو دیا اور پھر انوملک نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
تخلیق میں اگر جدت نہ ہو تو وہ تخلیق یکسانیت کا شکار ہوجاتی ہے اور انو ملک کو اپنے ہم عصر موسیقاروں پر اس اعتبار سے فوقیت حاصل رہی کہ اس کا ہر نیا کام جداگانہ انداز لیے ہوتا ہے، پر انو ملک کو وہ مقام نہیں ملا جس کا وہ حقدار تھا۔ چمتکار، تحقیقات، بازی گر، خوددار، وجے پتھ، میں کھلاڑی تو اناڑی، ناراض، دی جنٹلمین، ناجائز، بازی، غنڈہ راج، یارانہ، اکیلے ہم اکیلے تم، چاہت، دراڑ، دل جلے، رام اور شیام، آنکھوں میں تم ہو، وراثت، عشق، ڈپلی کیٹ، سولجر، وجود، بادشاہ، بادل، جوش، باڈر، ریفوجی، تمنا، ہر دل جو پیار کرے گا، مجھے کچھ کہنا ہے، یادیں، اجنبی، اشوکا، فی الحال، کچھ تو ہے، عشق وشق پیار ویار، انتہا، میں پریم کی دیوانی، مرڈر، میں ہوں نہ، پاپ، قریب، جان من اور بہت ساری فلمیں، بس انوملک کا نام دیکھا اور فلم کی پوری البم خرید لی۔ خوبصورت دھنیں، لاجواب شاعری اور مدھر آواز۔ اس سنہرے دور میں غزلوں کے بھی بہت لاجواب البم ریلیز ہوئے، لتا اور جگجیت کا سجدہ جس کی ساری غزلیں لاجواب، خاص طور پر مظفر وارثی کی شاندار غزل
میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں
پنکج ادھاس اور انوراھا کا البم آشیانہ، پنکج اور سادھنا کا کبھی آنسو کبھی خوشبو، انورادھا اور چندن داس کا البم عشق، انورادھا اور چندن داس کا ہی البم دیوانگی، خیام اور آشا بھوسلے کا البم، کمار سانو کے پرائیویٹ البم، جگجیت اور آشا بھوسلے، کمار سانو اور لتا کا البم، پھر جگجیت کے سولو اور ڈوئٹ البم۔ اشوک کھوسلہ کا البم تیرے ہونٹوں کو سلام جس کے شاعر قتیل شفائی، کیا گولڈن زمانہ تھا یہ موسیقی کا ۔
٭٭٭
ہم ہی شاید وہ آخری لوگ ہیں۔
جنھوں نے ٹانگے سے سائیکل اور موٹر سائیکل کا زمانہ دیکھا
جنھوں نے کوئلے سے منجن اور ٹوتھ پیسٹ کا زمانہ دیکھا
جنھوں نے شادیوں پر پردے پر فلمیں دیکھی۔
جنھوں نے دن کی شادیوں سے رات کی شادیوں کا زمانہ دیکھا
جنھوں نے مٹکے سے لے کر فریج کا زمانہ دیکھا
جنھوں نے ٹیلی فون سے پیجر اور موبائل کا زمانہ دیکھا
جنھوں نے عید پر فلم کا پہلا شو دیکھنا باعث بھرم سمجھا
جنھوں نے لائبریری سے ای لائبریری کا زمانہ دیکھا
جنھوں نے ریڈیو سے لے کر ٹیپ ریکارڈ اور سی ڈی پلیئر کا زمانہ دیکھا
جنھوں نے بلیک اینڈ وائٹ سے کلر ٹی وی، اور وی سی آر سے انٹرنیٹ کا زمانہ دیکھا،
جنھوں نے محمد رفیع سے لے کر کمار سانو اور ارجیت سنگھ کا زمانہ دیکھا
جنھوں نے ہینڈ پمپ سے لے کر سرکاری نلکوں کا پانی اور منرل واٹر کا زمانہ دیکھا
ہم ہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے وقت کے سارے رنگ دیکھے
٭٭
اس زمانے کے کھیل بھی بہت منفرد تھے گلی ڈنڈا، کنچے، پتنگ بازی، دس گوٹی، ہاکی، لڈو، ڈرافٹ۔ پر تین کھیل ایسے تھے جو معدوم ہو گئے، ایک راجستھانی کھیل چنگا پہ جو ہم گھروں میں کھیلتے تھے، یہ ایک قدیم کھیل ہے لڈو کی طرح جس میں دانے کے طور پر ہم چھالیہ استعمال کرتے تھے۔ یہ لڈو سے ملتا جلتا کھیل ہے اور ایک کھیل کل کل کانٹا ہوا کرتا تھا یہ دو ٹیم کے درمیان کھیلا جاتا تھا اس میں لوگ ایک گلی میں کسی بھی جگہ لائنیں کھینچ دیا کرتے تھے اور کاغذ پھر پتھر کے نیچے یا کہیں بھی چھپا دیا کرتے تھے پھر دوسری ٹیم آ کر ڈھونڈتی تھی جو چیز ملتی اسے کاٹ دیا جاتا تھا جو نہ ملتی وہ حریف ٹیم کا ٹارگٹ ہوا کرتا تھا۔ ایک کنگ نامی گیم تھا، ربر کی گیند سے مارنا ہوتا تھا اور آپ کو صرف اپنے ہاتھوں سے گیند کو اپنے جسم پر لگنے سے بچانا ہوتا ہے۔ جس کے جسم پر گیند لگ جاتی تھی وہ چور کا ساتھی بن کر دوسروں کو آؤٹ کیا کرتے تھے پھر آخر میں جو بچتا تھا وہ ہی کنگ کہلاتا تھا۔
بات آڈیو کیسٹ سے شروع ہوئی تھی اور پھر ڈائجسٹ سے لے کر اس زمانے کے کھیل اور فلمی گانے تک یاد آ گئے۔
٭٭٭
بالاکوٹ
تلہٹہ سے بالاکوٹ چودہ کلومیٹر دور ہے۔ ہم بیس منٹ کے سفر کے بعد بالاکوٹ پہنچ گئے بالاکوٹ دریائے کنہار کے کنارے آباد ایک چھوٹا اور مشہور قصبہ ہے۔ بالاکوٹ سے ناران تک ایک خوبصورت اور طلسماتی راستے کا آغاز ہوتا ہے۔ یہاں سے لے کر ناران تک دریائے کنہار آپ کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ کبھی دریا آپ کے ساتھ ساتھ کبھی آپ اوپر اور کبھی بہت اوپر سفر کرتے ہیں، دریائے کنہار کا شور آپ کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہ سارا راستہ سرسبز پہاڑوں سے پہاڑی جھرنوں سے آبشاروں سے اور برف کے تودوں سے بھرا پڑا ہے۔
مجھے ذاتی طور پر بالاکوٹ سے ناران تک راستہ سب سے حسین لگتا ہے اور پھر بالاکوٹ سے ناران تک کا روڈ بھی بہت عمدہ بنا ہوا ہے۔ پہاڑ سبزے، گلیشیئر، دریا اور جھرنے کا جو تال میل آپ کو یہاں ملے گا وہ کہیں اور نہیں ملے گا۔ میں نے عارف (ڈرائیور) کو بتایا کہ میں پہلے بھی یہ سب جگہیں گھوم چکا ہوں اگر ہو سکے تو کسی ایسی جگہ بھی لے چلنا جو میں نے نہیں دیکھی ہو۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد عارف نے کہا کہ میں آپ کو شاران بھی لے چلوں گا۔ مجھے کچھ نہیں پتا تھا کہ یہ شاران کیسی جگہ ہے۔
ظہور کی شادی کے بعد میں اپنے دوستوں کے ساتھ ناران، جھیل سیف الملوک، لالہ زار اور شوگران گھوم چکا تھا پر بیگم کے ساتھ ان راستوں پر سفر کرتے ہوئے ہر چیز نئی اور منفرد لگ رہی تھی۔ وہی راستے تھے و ہی منزلیں تھیں بس ہم سفر بدل گئے تھے، اسی لئے کہتے ہیں کہ وجود بیگم سے ہے سفر میں رونق، اس وقت ہر چیز کی چھاپ ہی الگ تھی، فضاؤں میں روشنی ہی الگ تھی ہوا کی تازگی ہی الگ تھی۔ ہوا جیسے گیت گا رہی تھی، بادل جیسے رقص کر رہے تھے دریا جیسے مدہوشی میں لہرا رہا تھا اور پہاڑ جیسے اپنی بانہیں پھیلائے ہوئے تھے۔
ایسا سماں نہ ہوتا کچھ بھی یہاں نہ ہوتا
میرے ہمراہی جو تم نہ ہوتے
موسم یہ نہ آتا یوں نہ چھاتی یہ گھٹا
ایسے گنگناتی یوں نہ گاتی یہ ہوا
گل شبنم کے موتی نہ پروتی
میرے ہمراہی جو تم نہ ہوتے
راتیں وہی وادی وہی بدل کچھ بھی نہیں
بالاکوٹ سے کوائی بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور ہم کوائی پہنچ گئے، کوائی میں بالکل روڈ پر ایک خوبصورت آبشار ہے جس کا پانی روڈ پر گزر کر ایک جھرنے کی صورت اختیار کر لیتا ہے، یہاں ہوٹل ہیں اور جھرنے پر ہی چار پائیاں ڈالی ہوئی ہیں۔ یہ ایک بہت خوبصورت جگہ تھی یہاں بیٹھ کر ہم نے چائے پی اور تصاویر اتاریں، کوائی سے شوگران کا راستہ جاتا ہے کوائی سے پارس پانچ کلومیٹر دور ہے اور پارس سے مین روڈ چھوڑ کر الٹے ہاتھ پر شاران کے لئے مڑ جاتے ہیں۔
٭٭٭
شاران جنگل
پاکستان کے گھنے جنگلات میں سے ایک شاران جنگل ہے۔ شاران جنگل ایک شاندار اور اچھوتا جنگل ہے جو سطح سمندر سے 7872 فٹ بلند ہے اور پارس سے چودہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ وادی کاغان میں شاران جنگل نوآبادیاتی برطانوی دور کے موسم گرما کے ان چند باقی ماندہ مقامات میں سے ایک جو اپنی اصل خوبصورتی میں ابھی تک محفوظ ہے۔ یہ جنگل کاغان ناران روڈ کے اوپر اتنا اونچا ہے کہ آپ پہاڑ کی چوٹی سے کاغان تک کا سارا راستہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس جنگل میں بہت سے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں، جیسے کالے ریچھ، چیتے، بندر اور جنگلی تیتر۔
مجھے کچھ نہیں پتا تھا شاران کے بارے میں، بس نئی جگہ دریافت کرنے کے شوق میں میں نے شاران کی حامی بھری تھی، اب جنگل کا سن کر دل ہی دل میں ڈر بھی رہا تھا۔ جنگل سے منسوب سارے قصے کہانیاں ذہن میں جاگزیں ہو گئی تھیں، یہ ایک کچا راستہ تھا جس پر مٹی اڑ رہی تھی۔ ہمارے ایک طرف پہاڑ اور دوسری طرف کھائیاں جو آہستہ آہستہ گہری ہوتی جا رہی تھی۔ ہم آہستہ آہستہ بلندی کا سفر طے کر رہے تھے، یہ ایک مہم جوئی سے بھرا راستہ ہے جس سے ہم خوب لطف اندوز ہو رہے تھے۔
بالکل اوپر پہنچے تو ہم نے جیپ روک دی اور جب نیچے دیکھا تو ایک خوبصورت نظارہ ہمارے سامنے تھا۔ دریائے کنہار، کاغان سڑک اور گاڑیاں سب چھوٹی چھوٹی نظر آ رہی تھیں۔ وہاں کیمرے سے ہم نے اس خوبصورت جگہ کی تصاویر لیں۔ آخر کار ہم دو گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے بعد اس جنگل میں بنے واحد ریسٹ ہاؤس پہنچ گئے جہاں موسم بہت خوشگوار اور ٹھنڈا تھا پر سردی نہیں تھی۔ یہ ایک پرامن، پرسکون جنگل تھا جو سبزے اور بڑے بڑے درختوں سے گھرا ہوا تھا۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی، صاف ماحول خوشگوار ہوا اور آسمان پر تیرتے بادل دیکھ کر روح تک خوشی ہو گئی تھی۔
یہ حسین وادیاں یہ کھلا آسمان
آ گئے ہم کہاں اے میری ساجناں
ان بہاروں میں دل کی کلی کھل گئی
مجھ کو تم جو ملے ہر خوشی مل گئی
٭٭
1942 کے انگریز دور کا بنا یہ ریسٹ ہاؤس دو کمروں پر مشتمل تھا۔ ریسٹ ہاؤس کے باہر ایک تختی پر اس کی تفصیل بھی لکھی ہوئی تھی، ریسٹ ہاؤس کے واحد منتظم نے ہمیں خوش آمدید کیا اور کہا کہ آپ لوگ تھوڑا آرام کر لیں جب تک میں آپ لوگوں کے لئے چائے بناتا ہوں۔ ایک چھوٹے مگر صاف ستھرے کمرے میں دو سنگل بیڈ بچھے ہوئے تھے۔ فریش ہونے کے بعد اور تھوڑی کمر سیدھی کرنے کے بعد ہم باہر آ گئے۔ باہر ہی کرسیاں بچھا دی گئی تھیں، چائے پینے کے بعد ہم ان لوگوں کو کھانے کا وقت بتا کر جنگل گھومنے چلے گئے۔
یہ میری زندگی کا پہلا جنگل تھا، لفظ جنگل سن کر اور پڑھ کر جو خوف اور ڈر جاگتا ہے، اصل جنگل میں آ کر ایسا کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ بلکہ سکون، مسرت اور شادمانی کی لے میں ہم دونوں میاں بیوی ہلکے ہلکے جھوم رہے تھے۔ صاف و شفاف آب و ہوا تھی اور سبزہ زمین پر بچھا ہوا تھا۔ پرندے اور حشرات الارض مل کر ایک جادوئی موسیقی تخلیق کر رہے تھے۔ پہاڑوں سے بہتا ہوا چشمہ ان سرسبز پودوں کو شاداب کر رہا تھا۔ زمین پر بچھی گھاس کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے پودے تھے جن پر طرح طرح کے جنگلی پھول کھلے ہوئے تھے۔ اس پر قد آور دیار اور دیودار کے درختوں نے اس جنگل کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیے تھے۔ یہ جگہ اس زمانے میں اتنی مشہور نہیں تھی، اس لئے یہ پوری جگہ سیاحوں کی دسترس سے محفوظ ہونے کی وجہ سے ابھی تک اچھوتی اور صاف ستھری تھی۔
صاف ستھرا جنگل صاف ستھری تازہ اور خوشگوار ہوا، تیرتے بادل، پہاڑی چشمے دور سبزے اور برف کے پہاڑ بے اختیار اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ وہ مجھ ناچیز پر کتنا مہربان ہے۔ ہم جب واپس آئے تو کھانا تیار تھا، ابلے ہوئے چاول کے ساتھ مرغی کا سالن، روٹی اور سلاد موجود تھی۔ اس جنگل میں کھانا کھانے کا مزا ہی آ گیا۔ کھانا کھا کر ہم اپنے کمرے میں چلے گئے اور تھوڑا آرام کر کے ہم دوبارہ ایک نئی سمت گھومنے نکل گئے۔
یہاں ایک خوبصورت آبشار بھی تھا لیکن وہ پینتیس منٹ کی مسافت پر واقع تھا اور راستہ بھی اوپر نیچے کا تھا یہ ایک بہت بڑا اور گھنا جنگل تھا اور بعض جگہ پر قد آور درختوں نے سورج کی کرنوں کو بھی روکا ہوا تھا۔ کسی پھل کا درخت ہمیں نظر نہیں آیا۔ یہ بھی ایک ایسی ہی جگہ تھی جہاں درختوں نے سایہ کیا ہوا تھا اور آسمان نظر نہیں آ رہا تھا۔ سب سے متاثر کن خوبصورتی اس جنگل کی خاموشی تھی۔ ہم شہر والوں کے لئے یہ خاموشی کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔ ہنی مون منانے کے لئے اور فیملی پکنک کے لئے یہ ایک آئیڈیل جگہ تھی۔ رات میں اس جگہ سردی بہت بڑھ جاتی ہے، دل تو بہت چاہ رہا تھا کہ رات اس جنگل کے ریسٹ ہاؤس میں گزاری جائے پر پھر آگے کے سارے پروگرام متاثر ہو جاتے۔
کچھ نہ کہو کچھ بھی نہ کہو،
کیا کہنا ہے کیا سننا ہے
مجھ کو پتا ہے تم کو پتا ہے۔
سمے کا یہ پل تھم سا گیا ہے
اور اس پل میں کوئی نہیں ہے۔
بس ایک میں ہوں
بس ایک تم ہو
کتنے گہرے ہلکے
شام کے رنگ ہیں چھلکے
پربت سے یوں اترے بادل
جیسے آنچل ڈھلکے
اور اس پل میں کوئی نہیں ہے۔
بس ایک میں ہوں بس ایک تم ہو
شام ہونے والی تھی ریسٹ ہاؤس پر آ کر چائے پی اور بہت دل سے منتظم کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اتنا خیال کیا۔ اور پھر ایک الوداعی نظر ڈال کر جیپ میں بیٹھ گئے۔
٭٭٭
شوگران
شوگران ایک پہاڑی مقام ہے جو وادی کاغان میں سطح سمندر سے 7749 فٹ کی بلندی پر ایک سطح مرتفع پر واقع ہے، شوگران اتنی بلندی پر اپنی حیرت انگیز خوبصورتی اور ایک بہترین موسم کے ساتھ ایک شاندار پہاڑی مقام ہے، گرمیوں میں اس کی خوشگوار آب و ہوا اسے پاکستان کے میدانی علاقوں میں شدید درجہ حرارت سے بچنے کے لئے ایک بہترین جگہ بناتی ہے۔ اس جگہ پر وہ تمام چیزیں موجود ہیں جن کی خواہش آپ چھٹیوں میں کر سکتے ہیں۔ سرسبز گھاس کے وسیع و عریض میدان سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ سرسبز میدان آس پاس کی پہاڑی چوٹیوں کا خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہیں۔ سردیوں میں یہ جگہ برف سے ڈھکی رہتی ہے اور گرمیوں میں موسم معتدل رہتا ہے اور سیاحوں کا ایک جم غفیر یہاں موجود ہوتا ہے، یہاں ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس کی بہتات ہے اور ہر ہوٹل کے آگے گھاس کے وسیع و عریض باغیچے موجود ہیں۔
چونکہ ہم شاران جیسے راستے ہو کر آرہے تھے اس لئے ہمیں یہ راستہ زیادہ مہم جوئی سے بھرا نہیں لگا۔ ہم شوگران پہنچ گئے، مقامی ڈرائیور ساتھ ہونے کی وجہ سے ہم بہت فائدے میں تھے۔ عارف خود ہی اپنے حساب سے ہوٹل پسند کرتا تھا اور ہمیں کھانے کی بھی ٹپ دیتا تھا کہ کیا کھانا چاہیے اور کہاں کھانا چاہیے۔ ایک چھوٹے اور صاف ستھرے ہوٹل میں اس نے اپنی جیپ روک دی۔ سامان وغیرہ رکھ کر اور تازہ دم ہو کر ہم باہر آ گئے کیونکہ ابھی مغرب میں کافی وقت تھا۔
نرم گھاس پر ہی لیٹ گئے اور یہاں ہی چائے منگوائی، نرم گھاس پر اس جگہ کے حیرت انگیز آسمان کو تکنا بڑا دلچسپ لگ رہا تھا، ایک طرف پہاڑ، گہری کھائیاں، خوبصورت سرسبز جنگلات کا راستہ اور سر کے اوپر ایک انوکھا آسمان جدھر دیکھو اللہ کی قدرت اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ آنکھوں کو ٹھنڈک اور روح کو سکون پہنچا رہی تھی، ہر ہوٹل کے باہر طرح طرح کے پھولوں کے پودے لگے ہوئے تھے۔ یہاں زیادہ تر فیملیز آئی ہوئی تھی ہم اس خوبصورت ماحول میں چہل قدمی کرتے ہوئے شوگران کے مشہور ہوٹل پائن پارک پہنچ گئے یہ ایک بہت دلکش ہوٹل ہے جو ایک وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
اب مغرب ہو گئی تھی اور ہوٹلز اور بازار کی لائٹ آن ہو گئی تھیں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ہماری طرح گھوم پھر رہی تھی۔ رات کا کھانا ہم نے اس بازار کے ٹھنڈے موسم میں کھایا۔ واپسی پر اچانک ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی اور ہمیں اس پھوار میں بھیگنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اس طرح بھیگتے ہوئے ہم اپنے ہوٹل پہنچے۔
انیس سو بانوے کی فلم ساتواں آسمان کا خوبصورت نغمہ
تیری میری مرادوں کے دن ہیں
راتوں کو جاگ کر سونے کے دن ہیں
بستر کی ٹھنڈک سانسوں کی گرمی
بانہوں کی سختی، ہونٹوں کی نرمی
کچھ کھو کے کچھ پا جانے کے دن ہیں
راتوں کو جاگ کر سونے کے دن ہیں
بارش کی بوندوں میں دو جسم بھیگے
بھیگے بدن کی شرابوں کو پی لیں
شرابی شرابی راتوں کے دن ہیں
راتوں کو جاگ کر سونے کے دن ہیں
شبنم گرے پھول پر پھول ہم پر
مہک اک رچے نئی تینوں مل کر
گلابی گلابی جاڑوں کے دن ہیں
راتوں کو جاگ کر سونے کے دن ہیں
٭٭٭
سری پائے
صبح ناشتہ کر کے ہم سری پائے کے سفر کے لئے نکل گئے، سری پائے شوگران سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور سطح سمندر سے 10032 فٹ بلند ہے۔ یہ تقریباً ایک گھنٹے کا سفر ہے۔ سارا راستہ پتھریلا اور کیچڑ والا ہے مگر امن اور فطرت کے حسن سے مالا مال ہے۔
جیپ آہستہ آہستہ چل رہی تھی پھر بھی جھٹکے لگنے سے ہم اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پا رہے تھے، ڈرائیور کے کہنے پر ہم نے گرم کپڑے رکھ لئے تھے۔ خدا خدا کر کے یہ تکلیف دہ راستہ ختم ہوا اور ہم سب سے اوپر پہنچ گئے۔
سری پائے بھی ایک سرسبز شاداب میدان ہے جسے چمکتی ہوئی برف کی پہاڑیوں نے گھیرا ہوا ہے، یہاں موسم ٹھنڈا تھا۔ دھند چھائی تھی اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے بادلوں کے سمندر نے ہمیں گھیر لیا ہو۔ شوگران سے کہیں زیادہ یہ جگہ خوبصورت تھی، پائے میں ہم نے 3 پہاڑوں کی چوٹیوں کو دیکھا ملکہ پربت، موسیٰ کا مصلیٰ اور مکڑا پہاڑ، دل بے اختیار اللہ کی تسبیح کرنے لگ جاتا ہے۔ ایک طرف گہری جنگلیاتی وادیاں، زمین پر سبزہ بچھا ہوا تھا اور اس گھاس میں چھوٹے چھوٹے پھول کھلے ہوئے تھے اور پھر برف سے ڈھکی پہاڑوں کی چوٹیاں اور اوپر تیرتے سفید بادل۔
ہم جو اپنی آنکھوں سے اس خوبصورتی کو دیکھ رہے تھے وہ کیمرے کی آنکھ اس خوبصورتی کو قید نہیں کر سکتی تھی۔ یہاں جانور سبزہ چرنے میں مصروف تھے۔ کھانے پینے کی چیزوں کا ایک چھوٹا سا بازار تھا۔ اس خوبصورت دلفریب جگہ پر ہم نے چائے پی۔ یہاں آپ گھوڑے پر بیٹھ کر بھی گھوم سکتے ہیں۔ ڈرائیو ر سے کہہ دیا تھا کہ ہم کھانا یہیں کھائیں گے اور کھانا کھا کر یہیں سے ناران جائیں گے۔ شوگران اور سری پائے میں بس ”زوم“ کا فرق ہے۔ تقریباً وہی جگہ ہے سری پائے بس ایسا لگتا ہے کہ ہم شوگران کو زوم کر کے دیکھ رہے ہیں۔
یہ جگہ بھی ایسی ہی تھی جہاں کیمپ لگا کر رات گزاری جائے، پر پھر وہی بات کہ
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
یہاں بھی لوگ کافی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔ کوئی گھوڑے پر سوار ہو کر گھوم رہا تھا، کچھ پیدل ہی گھوم رہے تھے، کھانا ہم نے کھلی جگہ پر آسمان کے نیچے گھاس پر بیٹھ کر کھایا، دل تو یہاں ہی رکنے کا چاہ رہا تھا لیکن آج شام ہم نے جھیل سیف الملوک پہنچنا تھا۔ واپسی پر اداکارہ میرا سے حادثاتی طور پر ملاقات ہو گئی۔ میرا کسی فلم کی شوٹنگ سے واپس آ رہی تھیں اور ان کی گاڑی خراب ہو گئی، ہم جیپ سے نیچے اتر آئے۔ میں نے میرا سے کہا کہ میڈم پلیز ایک تصویر ہمارے ساتھ کھنچوا لیں تو میرا نے کہا کہ ”اے تھے لب جا“ ۔ پنجابی نہ آنے کی وجہ سے میں یہ سمجھا کہ وہ منع کر رہی ہیں تو میں نے پھر اپنا سوال دہرایا تو پھر میرا نے پنجابی میں وہی جواب دیا، پھر اس بار اس نے اشارے سے بھی اپنے پاس آنے کو کہا۔ ہم نے دو تصاویر میرا کے ساتھ لیں اور شکریہ ادا کر کے رخصت لی۔
شوگران سے ناران ڈھائی گھنٹے کا سفر تھا اور 67 کلو میٹر دور تھا، راستہ حسب معمول بہت خوبصورت تھا اور شوگران سے ناران کے سفر میں ہم نے بڑے بڑے گلیشیئر دیکھے، ان گلیشیئر کے اندر جا کر ہم نے تصویریں بھی بنوائیں، بعض جگہ تو روڈ کے دونوں طرف برف کے گلیشئر تھے، کئی جگہ آبشار کا پانی بہتا ہوا روڈ پر آ رہا تھا، روڈ پر تھوڑے فاصلے پر ہوٹل اور پیٹرول پمپ موجود تھے، پہاڑوں پر بنے گھر بھی اس وادی کو مزید دلکش بنا رہے تھے۔
مختصراً یہ آپ اس وادی کو گھومتے ہوئے اشوک کھوسلا کی گائی غزل جس کے شاعر قتیل شفائی ہیں گنگناتے ہوئے بہت محظوظ ہوسکتے ہیں۔
روبرو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں
اس کے چہرے کی تلاوت کر رہا ہوں
میں نے دیکھا ہے قتیل اس کا سراپا
میں کہاں ذکر قیامت کر رہا ہوں
٭٭٭
جھیل سیف الملوک
جب بات شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی کی ہو تو سب سے پہلے ذہن میں جھیل سیف الملوک آتی ہے۔ یہ پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقامات میں سے ایک ہے۔ اپنی شاندار اور مسحور کن قدرتی خوبصورتی، خوشگوار ماحول اور اس سے وابستہ کہانیوں اور تاریخ کے ساتھ یہ جھیل ہر سال موسم گرما کے دوران ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
ناران سے یہ جھیل تیرہ کلومیٹر دور ہے اور سطح سمندر سے ساڑھے دس ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ پاکستان کی بلند ترین اور خوبصورت جھیلوں میں سے ایک ہے۔ ملکہ پربت کے سائے میں یہ جھیل وادی کاغان کے بلند ترین پہاڑ ملکہ پربت کے دلکش نظارے پیش کرتی ہے، گہری سبز جھیل، پہاڑوں کا برفیلا عکس۔ بلاشبہ جھیل سیف الملوک پاکستان میں دیکھنے کے لئے سب سے خوبصورت اور جمالیاتی مقامات میں سے ایک ہے، یہ دنیا بھر کے لوگوں کے لئے ایک مقبول سیاحتی مقام ہے۔
راستہ کچا اور بہت خراب تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ہم اوپر جھیل پر پہنچ گئے۔ کچھ حد تک یہ جھیل ایک پیالے کی طرح ہے۔ یہاں ناران کے مقابلے میں کہیں زیادہ ٹھنڈ تھی، موسم بہت سہانا تھا، بادلوں نے جھیل کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ اتنی بلندی پر برف کے پہاڑوں کے اور سبزے کے پہاڑوں کے درمیان یہ جھیل کسی اور ہی دنیا کی لگ رہی تھی۔ پہاڑ کوئی سبزے سے گھرا تھا تو کوئی برف سے۔ چند ایک کو بادلوں نے گھیر رکھا تھا۔ ان سب کا عکس جب جھیل کے سبز پانی پر پڑ رہا تھا تو انتہائی دلفریب نظارہ تخلیق ہو رہا تھا۔ اس بہترین جگہ کی آب و ہوا حیرت انگیز طور پر دلکش تھی۔ اس جھیل کی گہرائی ابھی تک غیر واضح ہے۔ یہ ایک جادوئی جھیل لگ رہی تھی جو اپنی پرسکون خوبصورتی کی وجہ سے ہمیں اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
فلم بارڈر کا خوبصورت گانا
ہمیں جب سے محبت ہو گئی ہے
یہ دنیا خوبصورت ہو گئی ہے
فضاؤں میں نئی ایک روشنی ہے
ہواؤں میں عجب سی تازگی ہے
تم اس وادی میں مجھ سے مل رہی ہو
زمین لگتا ہے جیسے گا رہی ہے
نئی رت کی مہورت ہو گئی ہے
یہ دنیا خوبصورت ہو گئی ہے
ہیں لپٹے دھند میں دلکش نظارے
ندی خاموش ہے چپ ہیں نظارے
ہے ایک چھوٹی سے کشتی اور ہم ہیں
چلے جاتے ہیں لہروں کے سہارے
سہانی اب تو سنگت ہو گئی ہے
یہ دنیا خوبصورت ہو گئی ہے
کچھ لوگ یہاں گھوڑوں پر بیٹھ کر تو کچھ کشتی میں بیٹھ کر تو کچھ اس جھیل کے کنارے پر چہل قدمی کر رہے تھے، ہم چہل قدمی کرتے ہوئے اس جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے اور آنکھوں میں یکساں جذب کر رہے تھے۔ کشتی میں بیٹھ کر اس دیو مالائی جھیل کا چکر لگایا۔ اس ٹھنڈے ماحول میں ابلے ہوئے انڈے اور چائے نے ذرا ہمت بڑھائی۔ بادلوں نے جھیل کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا، پس منظر میں برف کے پہاڑ اور جھیل کا سبز پانی اس اندھیرے میں چمک رہے تھے۔ شام کے وقت اتنی سردی تھی تو رات میں سردی کا کیا عالم ہوتا ہو گا؟
اگر سردی نہیں ہوتی تو میں ضرور رات اس جھیل کے کنارے گزارتا اور جھیل کی خوبصورتی کو چاند ستاروں کی روشنی میں دیکھتا۔ رات میں ستاروں سے بھرا آسمان کیا خوبصورت نظارہ پیش کرتا ہو گا۔ چاند کو جھیل میں ڈوبتے دیکھتا، چاند کی کرنوں سے برفیلے پہاڑ منور دیکھتا۔
رات کی ہتھیلی پر چاند جگمگاتا ہے
اس کی نرم کرنوں میں تم کو دیکھتا ہوں تو
دل دھڑک سا جاتا ہے دل دھڑک سا جاتا ہے
تم کہاں سے آئی ہو؟ کس نگر کو جاؤ گی
سوچتا ہوں میں حیران
چاند جیسا یہ چہرہ
رات جیسی زلفیں
یہ جگائیں سو ارماں
اک نشہ سا آنکھوں میں دھیرے دھیرے چھاتا ہے
رات کی ہتھیلی پر چاند جگمگاتا ہے
میری اس تنہائی میں میرے اس ویرانے میں
رنگ لے کر تم آئی، پھر بھی سوچتا ہوں میں
کیا یہاں تم سچ مچ ہو یا ہو صرف پرچھائیں
خواب جیسے بنتا ہے اور ٹوٹ جاتا ہے
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جاوید اختر نے فلم ریفوجی کے لئے یہ گیت جھیل سیف الملوک میں چاندنی رات میں بیٹھ کر لکھا ہو گا۔
مغرب کے وقت پر ہم جھیل سیف الملوک سے واپس ناران پہنچ گئے اور بازار میں واقع ایک ہوٹل میں کمرا لے لیا۔
سوچا کہ کھانا باہر ہی کھایا جائے ذرا چہل قدمی ہو جائے گی اور ناران کو رات میں بھی دیکھ لیں گے۔ بازار کے دونوں طرف دکانیں تھیں مگر صرف کھانے پینے کی دکانوں اور ہوٹلز میں رونق تھی۔ ابر چھایا ہوا تھا اور چاند ستارے غائب تھے۔ موسم ٹھنڈا تھا، ایک مناسب جگہ دیکھ کر کھانا کھایا اور اب اس ٹھنڈے موسم میں کافی پینے کا دل کر رہا تھا۔ ہم تنہا ہی اس روڈ پر مزے سے ٹہلتے ہوئے کافی کی کوئی دکان دیکھ رہے تھے، کیا مستی کے دن اور راتیں تھیں، تھکن اور بوریت کا نام و نشاں تک نہیں تھا بس ایک خمار کا عالم تھا جو کم نہیں ہو رہا تھا۔
تو کہاں یہ بتا اس نشیلی رات میں
مانے نہ میرا دل دیوانہ، ہائے مانے نہ میرا دل دیوانہ
بڑا نٹ کھٹ ہے سماں ہر نظارہ ہے جواں
چھا گیا چاروں طرف میری آہوں کا دھواں
دل میرا میری جان نہ جلا
تو کہاں
آئی جب ٹھنڈی ہوا میں نے پوچھا جو پتا
وہ بھی کترا کے گئی اور بے چین کیا
پیار سے تو مجھے دے صدا
تو کہاں
بہت صدائیں دینے کے بعد بھی کافی کی دکان نہیں ملی پر ایک دکان سے مزے کا قہوہ مل گیا۔
٭٭٭
ناران
ناران سطح سمندر سے 7904 فٹ بلند ہے، ناران ایک درمیانے درجے کا قصبہ ہے جو کاغان میں واقع ہے۔ یہ پاکستان کے شمالی علاقوں کا سب سے خوبصورت حصہ ہے۔ یہ سیاحوں اور مہم جو افراد کے لئے ایک مشہور سیر گاہ ہے، ناران کا موسم بہت سرد ہے، پہاڑوں کی چوٹیوں کی برف کبھی نہیں پگھلتی ہے۔ یہاں تک کہ جون جولائی میں بھی گلیشیر ہوتے ہیں اور پہاڑ برف سے ڈھکے ہوتے ہیں، وادی ناران تک جانے والی سڑک دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہے، دریائے کنہار کاغان کے گلیشیر سے شروع ہوتا ہے اور مانسہرہ سے پہلے گڑھی حبیب اللہ سے ہوتا ہوا مظفر آباد کے قریب دریائے جہلم سے مل جاتا ہے۔
سردیوں میں یہ پورا علاقہ برف سے ڈھک جاتا ہے، وادی ناران کی اہم اشیاء میں خشک میوہ جات اور گھریلو دستکاری کا سامان ہے۔ ناران میں بھی مری کے مال روڈ جیسا ایک چھوٹا سا بازار ہے جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات آسانی سے میسر ہوتی ہیں۔ ناران میں بہت سارے ہوٹل موجود ہیں جن میں اعلیٰ درجے کے لگژری ہوٹل سے لے کر کم قیمت والے ہوٹل شامل ہیں۔
صبح ناشتہ کرنے کے بعد ہم پیدل ہی گھومنے باہر نکل گئے۔ ناران میں موسم بہت خوشگوار تھا، اگست کے مہینے میں آنے کی وجہ سے ہمیں ہر جگہ موسم اچھا ملا اور اب تک بارشیں بھی نہیں ملی تھیں۔ ناران اونچے اونچے پہاڑوں سے گھرا ہونے کی وجہ سے شاید سورج یہاں کم ہی نکلتا ہے، بادل چھائے ہوئے تھے اور ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں پر یہ ہوائیں سرد نہیں تھیں۔
یہ ایک بہت پررونق بازار تھا جہاں مقامی اور غیر مقامی لوگوں کا ہجوم تھا، ہم آہستہ آہستہ بازار کی رونقیں دیکھتے ہوئے چل رہے تھے۔ ہوٹل سے لے کر ہر قسم کی دکانیں موجود تھیں، بازار کے بعد لوہے کا ایک چھوٹا سا پل تھا جس کے نیچے دریائے کنہار خراماں خراماں بہہ رہا تھا اور یہاں اس کا بہاؤ اور تندی بالکل نہیں تھی، کافی سیاح نیچے دریا کے کنارے تفریح کر رہے تھے ہم بھی نیچے اتر کر دریا کے پاس آ گئے، پانی اتنا بے انتہا ٹھنڈا تھا کہ اس میں پاؤں رکھ کر فوراً ہٹانا پڑا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے برف کا پانی ہو۔
ذرا سا آگے جا کر جھیل سیف الملوک والے راستے سے بھی ایک پہاڑی چشمہ بہتا ہوا یہاں آ رہا تھا ذرا سا اور آگے بڑھے تو الٹے ہاتھ پر ایک پارک تھا، یہاں کچھ دیر بیٹھے اور گھومے پھرے، وقت کی تنگی نہیں ہوتی تو ناران مزید ٹھہرتے۔


