چھ لوگوں کا قاتل کس کالج میں پڑھتا ہے؟ – مکمل کالم


چند دن پہلے افنان نامی جس نوجوان نے تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے لاہور میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد کو ٹکر مار کر ہلاک کیا وہ نوجوان بھی لمز جیسے کسی اعلیٰ کالج میں پڑھتا ہے۔ نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ اگر یہ نوجوان لمز والی تقریب میں ہوتا تو دیگر بچوں کی طرح یہ بھی چبھتے ہوئے سوالات پوچھتا کہ جناب والا آپ دیر سے کیوں آئے، آپ کی آمد پر ہٹو بچو کی صدائیں کیوں لگائی گئیں، کیا اِس ملک میں قانون صرف عام بندے کے لیے رہ گیا ہے اور کیا اشرافیہ قانون سے بالا تر ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور پھر ہم لوگ اِس کی ویڈیو شیئر کر کے تالیاں بجاتے اور کہتے کہ واہ یہ ہوتا ہے شعور، یہ ہوتی ہے بہادری۔ مگر افسوس کہ اِس بچے کو یہ موقع نہ مل سکا کیونکہ یہ اُس وقت ڈیفنس کے علاقے میں ’ریش ڈرائیونگ‘ کے ذریعے قتل کرنے کی پریکٹس میں مصروف تھا! یہ پہلا حادثہ نہیں ہے اور نہ ہی آخری۔ لوگ ایسے ہی مرتے رہیں گے اور خاندان اجڑتے رہیں گے تاوقتیکہ کہ قانون کی وہ عملداری نہیں ہوگی جس کے تحت بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والے ڈرائیور کو سیدھا حوالات میں بند کر دیا جاتا ہے۔ مگر یہ کام ہو گا کیسے؟

دنیا بھر میں ٹریفک کے حادثات ہوتے ہیں جن میں بے گناہ لوگ راہ چلتے ہوئے مارے جاتے ہیں، اور چاہے ڈرائیور کی لا پروائی ثابت ہی کیوں نہ ہو جائے اسے پھانسی یا عمر قید کی سزا نہیں ہوتی مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی نوجوان بغیر لائسنس کے گاڑی لے کر سڑک پر آ جائے اور آن کی آن میں پورے خاندان کو ہی اڑا ڈالے۔ دنیا کے جن ممالک کی ہم بات کر رہے ہیں وہاں تو کار پارکنگ کے قوانین اتنے سخت ہیں کہ بندہ اُن پر عمل کرتے کرتے عاجز آ جاتا ہے مگر چوں تک نہیں کرتا۔ سان فرانسسکو کی سڑکیں کہیں کہیں اونچی نیچی ہیں لہذا قانون کے مطابق ضروری ہے کہ آپ گاڑی کے پہیے موڑ کر پارک کریں تاکہ گاڑی ڈھلان سے نیچے نہ لڑھک جائے، بظاہر یہ بات مضحکہ خیز لگتی ہے کیونکہ گاڑی کی ہینڈ بریک کی موجودگی میں اِس کی ضرورت نہیں مگر اِس سے پتا چلتا ہے کہ اُن کے نزدیک انسانی جان کس قدر قیمتی ہے بشرطیکہ یہ جان اُن کی اپنی ہو غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مرنے والے کسی فلسطینی بچے کی نہ ہو۔

دوسری طرف ہمارے ملک میں معاملہ خاصا سنگین ہے۔ ویسے تو ٹریفک قوانین کی پاسداری کے حوالے سے ہماری کارکردگی کبھی بھی قابل رشک نہیں رہی مگر گزشتہ پانچ دس برسوں میں ٹریفک کا جو حال ہم نے کر دیا ہے اسے دیکھ کر خوف آتا ہے۔ ٹریفک کے اشاروں اور ون وے کی خلاف ورزی پہلے بھی ہوتی تھی مگر اب جس دھڑلے اور بیباک انداز میں ہوتی ہے وہ کم از کم میں نے کسی اور ملک میں نہیں دیکھی۔ کار اور موٹر سائیکل سوار رات کو بغیر لائٹ کے اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے ہوئے اچانک سامنے آ جاتے ہیں اور انہیں ذرہ برابر بھی پروا نہیں ہوتی کہ وہ کوئی غلط کام کر رہے ہیں بلکہ الٹا اگر آپ انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کریں گے تو کوئی بعید نہیں کہ یہ غصے سے آپ پر ہی گاڑی چڑھا دیں۔ رہی بات ٹریفک کے سنتری کی تو وہ بیچارہ زیادہ سے زیادہ اُنہیں پانچ سو روپے کا چالان تھما سکتا ہے جس کی حیثیت فقط اتنی ہے کہ اسے اگلے چوراہے تک پہنچنے سے پہلے ہی پھاڑ کر پھینک دیا جائے۔

ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کی شرح ہمارے ہاں خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے، کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب مسافر بس کسی کھائی میں نہیں گرتی اور ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آ کر کوئی موٹر سائیکل سوار ہلاک نہیں ہوتا۔ یہ مرنے والے بیچارے کسی کے باپ، بھائی اور بیتے ہوتے ہیں، کہیں کسی کا سہاگ اجڑ جاتا ہے اور کہیں کوئی بچی بیٹھے بٹھائے یتیم ہوجاتی ہے۔ یہ تمام اموات اِس لیے نہیں ہوتیں کہ اِن کی موت کا دن اور طریقہ کار تقدیر میں لکھا جا چکا ہے، بلکہ یہ بے گناہ لوگ اِس لیے مارے جاتے ہیں کہ کہیں کوئی چنگ چی رکشے پر سریا لاد کر لے جا رہا ہوتا ہے یا کہیں کوئی سرپھرا نوجوان بغیر لائسنس کے باپ کی سڑک پر اندھا دھند گاڑی چلا رہا ہوتا ہے۔

جس دن اٹھارہ سال سے کم عمر نوجوان، گاڑی یا موٹر سائیکل لے کر سڑک پر نکلتا ہے، اُس دن اگر اسے یہ پتا ہو کہ پکڑے جانے کی صورت میں معافی نہیں ملے گی تو ہمارے ہاں قانون پر عملداری کے دیگر مسائل بڑی حد تک کم ہوجائیں گے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ پہلے دن جب بچہ گاڑی لے کر نکلتا ہے تو اسے کوئی نہیں تو روکتا، روکنا تو دور کی بات گھر والے خوشی سے نہال ہو جاتے ہیں کہ آج بیٹے نے گاڑی چلانی سیکھ لی، اُس کے بعد سڑک پر بھی کوئی باز پُرس نہیں کرتا، نتیجہ یہ کہ پہلے دن سے ہی بچے کے دماغ میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اِس ملک میں قانون فقط مذاق ہے، سو اُس کی پہلی قانونی خلاف ورزی ٹریفک سے شروع ہوتی ہے، اُس کے بعد وہ کوئی دوسرا چھوٹا موٹا قانون توڑتا ہے، اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور اُس وقت تک نہیں رکتا جب تک کسی سنگین معاملے میں اسے جیل کی ہوا نہ کھانی پڑ جائے۔

مہذب ممالک میں ڈرائیونگ لائسنس کا حصول بے حد مشکل کام ہے، جبکہ اپنے ہاں یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں، لیکن اِس کے باوجود لوگ لائسنس کی پروا ہی نہیں کرتے کیونکہ انہیں اچھی طرح علم ہے کہ اول تو کوئی پکڑے گا ہی نہیں اور اگر پکڑے بھی گئے تو اِس کی سزا کا اُن کے معمولات زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اِن تمام مسائل کا حل کوئی آسان نہیں مگر شروعات تو بہرحال کرنی پڑے گی۔ پہلا حل تو یہ ہے کہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے عائد کر کے گھر کے پتے پر ارسال کیے جائیں۔ یہ کام شروع تو ہو چکا ہے مگر اِس کا اثر اِس لیے نہیں ہو رہا کہ جرمانوں کی رقم بے حد معمولی ہوتی ہے سو کسی گاڑی والے کے گھر اگر ہزار پانچ سو کا چالان آ بھی جاتا ہے تو وہ پروا نہیں کرتا۔ جرمانے کی کم از کم حد پانچ ہزار مقرر کرنی چاہیے اور ہر خلاف ورزی پر گاڑی کے مالک کے خلاف پوائنٹس کا اندراج کرنا چاہیے جو متعلقہ ایکسائز اور ٹیکسیشن محکمے میں اُس کی گاڑی کے کاغذات کا حصہ بن جائے، مثلاً اگر کوئی شخص دس مرتبہ ٹریفک کی خلاف ورزی کرے تو اُس کے خلاف پچاس ہزار کا جرمانہ جمع ہو جائے اور گاڑی کی ملکیت منتقل کرواتے وقت یہ جرمانہ ادا کرنا پڑے ورنہ گاڑی ٹرانسفر ہی نہ ہو سکے۔ اگر خلاف ورزیاں بڑھتی چلی جائیں تو ایسی گاڑی کے مالک کو نشان زد کر دیا جائے او ر یہ گاڑی جہاں نظر آئے پکڑ کر بند کردی جائے اور مالک کا لائسنس دس سال کے لیے منسوخ کر دیا جائے۔ اب وہ لوگ باقی بچیں گے جو سرے سے لائسنس لینے کا تکلف ہی نہیں کرتے، اِن کے لیے معافی کی کوئی گنجایش نہیں، جہاں ایسی کوئی موٹر سائیکل، گاڑی یا رکشہ نظر آئے اسے پکڑ کر بند کر دیا جائے اور صرف تب واپس کیا جائے جب مالک ایک ماہ کا کشٹ کرنے کے بعد لائسنس بنوا کر تھانے میں پیش کرے۔ جب یہ لوگ لائسنس یافتہ ہوجائیں گے تو پھر یہ بھی اُس درجے میں آ جائیں گے جہاں انہیں بھی سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے دیکھ کر جرمانے عائد کیے جا سکیں گے۔

یہ تمام کام مشکل ضرور ہیں مگر نا ممکن نہیں، دنیا کے کئی پسماندہ ممالک نے بھی اِس قسم کی اصلاحات کے ذریعے اپنے نظام کو بہتر بنایا ہے، اگر ہم یہ کام نہیں کریں گے تو یقین کریں کہ ہماری سڑکیں موت کا ایسا کنواں بن جائیں گے جہاں سے زندہ واپس آنے کے لیے لوگ دعائیں مانگا کریں گے۔

یاسر پیرزادہ

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 520 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments