سڑک پر متحرک عزرائیلی


پچیس سال پہلے، لکھاری کو چار سال سعودی عرب میں بحیثیت ایڈوائزر کام کرنے کا موقع ملا۔ ہم خوامخواہ کے احساس برتری میں مبتلا پاکستانی جس طرح ”بھوکے بنگالی“ کی اصطلاح مشرقی پاکستان کے لوگوں کے لئے استعمال کرتے تھے۔ کچھ اسی طرح ایک اصطلاح اہالیان عرب کے لئے بھی استعمال کی جاتی تھی وہ تھی ”بدو“ کی۔ یعنی صحرا (جنگل سمجھ لیں ) میں رہنے والے بیوقوف یا احمق لوگ جنہیں شاید دنیا کا علم نہیں ہوتا۔ سچ تو یہ ہے کہ آنکھیں اور ذہن کھول کر مشاہدہ کیا تو پتہ چلا کہ ”بدو“ اور ”بھوکے بنگالی“ تو درحقیقت ہم پاکستانی خود ہیں۔ ایک اچھے معاشرے کے لئے قوانین سے زیادہ، ضروری ہے کہ وہاں کی عوام الناس اچھے اخلاق اور نیک کاموں کے ساتھ ملکی قوانین کی پاسداری کرنا کتنا ضروری سمجھتے ہیں۔

یہ بات مجھے لاہور میں ہونے والے اس واقعہ کے بعد یاد آئی۔ جس کے نتیجے میں ایک خاندان کے چھ لوگ ہلاک ہوئے۔ ہر جگہ اس ڈرائیور کی بات ہو رہی ہے جو کم عمر قرار دیا جا رہا ہے اور کوئی آٹھویں اور کوئی اے لیول فائنل کا طالب علم گردان رہا ہے۔ کم عمر، بغیر لائسنس، خطرناک اور لاپروا ڈرائیونگ۔ یہ مسائل سعودی عرب میں بھی دیکھے۔ اور شاید ہم سے بھی زیادہ۔

سعودیہ میں البتہ دیت اور انشورنس کے قوانین بہت مضبوط ہیں۔ بلکہ ان سب سے زیادہ نظام عدل۔

بیس سال پہلے 2002 میں جب میں واپس آیا۔ ان دنوں کسی کی موت کے بعد اگر قاضی سمجھے کہ قتل کا ذمہ دار کوئی شخص یا کمپنی ہے، چاہے موت حادثاتی ہوئی ہو، قتل عمد یا قتل خطا کا نتیجہ ہو، ٹریفک حادثے کے دوران یا کسی صنعتی حادثے کے دوران۔ مسلمان مرد کی موت کے ذمہ دار کو ، اگر مقتول کے ورثا، خوں بہا (جسے دیت کہتے ہیں ) لے کر معاف کر دیں تو مختلف مقتولین کے لئے دیت کی رقم مختلف ہوتی تھی۔ سال 2002 میں مسلمان مرد (چاہے وہ سعودیہ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہو یا کوئی خارجی افغانی بنگالی یا پاکستانی مسلمان مرد ہو) خوں بہا مبلغ ایک لاکھ ریال ہوتا تھا۔

سعودیہ میں مروج شرعی و قبائلی اصولوں کے تحت، قاتل کو مقتول کے خاندان کو ”سو اونٹ“ دینے ہوتے تھے۔ جس میں اسی اونٹنیاں اور بیس اونٹ ہوتے تھے۔ اونٹ کی عمر زیادہ سے زیادہ ایک سال ہو سکتی تھی جبکہ اونٹنیوں کی چار قسمیں ہوتی تھیں۔ بیس، عمر ایک سال، باقی بیس بیس کی دو سال، تین سال اور چار سال ہوتی تھی۔ 2002ء میں مسلمان مرد کا خوں بہا، ایک لاکھ ریال (قتل خطا) جبکہ قتل عمد کی صورت میں ایک لاکھ دس ہزار ریال مقرر تھا۔

دل چسپ بات یہ بھی تھی کہ جس طرح عورت کی گواہی اور حصہ وراثت نصف مانی جاتی ہے اسی طرح عورت کا خوں بہا بھی سعودی قانون میں مرد سے آدھا مقرر تھا یعنی پچاس ہزار ریال۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ مقامی شریعہ کے فارمولے کے تحت غیر مسلم اہل کتاب مرد کا خوں بہا بھی مسلمان مرد سے نصف ہوتا ہے یعنی پچاس ہزار ریال چاہے وہ انڈین عیسائی ہو یا امریکی یہودی۔ جبکہ غیر مسلم غیر اہل کتاب، ہندو، بدھ اور سکھ غیر مسلم مرد کے لئے یہ رقم اس سے بھی کم ہوتی تھی۔ شاید آٹھ دس ہزار ریال۔ یہ رقم 1980 میں طے کی گئی تھی۔ اور اس کے بعد لوگوں کی اس شکایت پر کہ تیس سال میں اونٹوں کی قیمتیں دوگنی تگنی ہو چکی ہیں۔ بالآخر 2013ء میں خوں بہا کی یہ رقم ایک لاکھ سے بڑھا کر قتل خطا پر تین لاکھ اور قتل عمد پر چار لاکھ ریال کردی گئی۔

لیکن سعودیہ میں شرعی اصولوں پر خوں بہا ادا کرنے سے پہلے قاتل کو نہ صرف مقتول کے خاندان سے معافی لینی پڑتی ہے بلکہ رہائی کے بعد کم از کم ایک غلام بطور کفارہ بھی آزاد کرنا ہوتا ہے یا دو مہینوں تک مسلسل روزے رکھنا ہوتے ہیں۔ اب چونکہ سعودیہ میں غلام ہوتے ہی نہیں اس لئے لامحالہ قاتل صاحب کو دو مہینے مسلسل روزے بھی رکھنے پڑتے ہیں جو پرتعیش زندگی گزارنے والے لاڈلوں کے لئے بہت سے بھی بہت بڑی سزا ہوتی ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک عدالت سے ٹریفک حادثے کے بعد دیت دے کر رہائی پانے والے ایک نوجوان کو دیکھا جو رہائی کے بعد پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ سوچا شاید احساس گناہ یا رہائی سے خوشی کی وجہ سے رو رہا ہو گا۔ بات کی تو پتہ چلا ”روزے رکھنے کی ٹینشن“ سے رو رہا ہے۔

ہم پاکستانی ہر طرح کے قوانین بنانے میں ماہر ہیں لیکن جب ان پر عمل کرنے کی باری آئے تو ہم لوگ کوئی نہ کوئی شارٹ کٹ نکال لیتے ہیں۔ اور روزے رکھنے کی بجائے کسی مفتی قوی سے مشورہ کر کے ساٹھ روزے رکھنے کی بجائے ساٹھ بھوکوں کو کھانا کھلانے کا شارٹ کٹ نکال لیتے ہیں۔ لیکن سعودیہ میں قاضی فیصلے میں صاف حکم دیتا ہے کہ قبلہ پیسے دے کر آپ بچ تو گئے ہیں لیکن ساٹھ مسلسل روزے بطور کفارہ رکھنے ہوں گے وگرنہ قیامت کے دن آپ کے ساتھ جو کچھ ہو گا اس کے ہم ذمہ دار نہیں۔

سعودیہ میں حرام ہے کوئی گاڑی ایسی نظر آ جائے جس پر اپلائیڈ فار لکھا ہو۔ یا کوئی گاڑی ایسا شخص چلا رہا ہو جو اس کی ملکیت نہ ہو۔ یا پچھلے مالک کے نام پر رجسٹر ہو۔ یا آگے پیچھے ایک یا دونوں نمبر پلیٹ غائب ہوں۔ جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ آج 2023 کے اختتام پر اپلائیڈ فار 2022 کی گاڑیاں سڑک پر موجود ہیں جو بس ٹریفک اہل کاروں کو نظر نہیں آتیں۔ ستر سے اسی فی صد موٹر سائیکلوں کی آگے کی نمبر پلیٹ ہی نہیں ہوتی۔ اصل وجہ یہ کہ زیادہ تر سکیورٹی کیمروں میں آگے کی پلیٹ نظر آ سکتی ہے۔ اور پرس لفٹنگ ہو موبائل چھیننا یا ون ویلنگ۔ ان سب کارناموں کو انجام دینے والے موٹر سائیکلسٹ آگے کی نمبر پلیٹ نہ ہونے سے گرفتار ہونے سے صاف بچ جاتے ہیں۔

ان موٹر سائیکلسٹ یا گاڑی چلانے والوں کے پاس گاڑی کے کاغذات ہیں یا نہیں۔ ڈرائیور کے پاس لائسنس ہے یا نہیں اور گاڑی پر ایکسائز یا سالانہ رجسٹریشن ادا کی گئی ہے یا نہیں کون چیک کرتا ہے؟ سڑکوں پر گھومنے والے نئے قاتل ہیوی موٹرسائیکل سے منسلک چنگچی لوڈر اب حضرت عزرائیل کے نئے عزرائیلی نمائندے بن چکے ہیں۔ شہری علاقوں میں ڈمپر یا سڑکوں پر زرعی مشینری یعنی ٹریکٹر، ٹرالیاں، پانی کے ٹینکر اور سامان کے ٹرک اور رکشوں کے علاوہ مسافر بسیں۔ ان کے ڈرائیوروں کے لائسنس، ذہنی و جسمانی حالت اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے ساتھ گاڑی چلانا۔ کون چیک کرتا ہے!

بہرحال ہم پاکستانیوں کا حال یہ ہے کہ ہم اسلام سے اتنے دور آچکے ہیں کہ ہمیں یاد ہی نہیں کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل، پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر کہ جس نے ایک جان بچائی اس نے اسی طرح گویا پوری انسانیت کی جان بچائی۔ اور جہاں بھی جو جو بھی ٹریفک حادثوں میں انسانوں کے قتل میں حصہ ڈال رہے ہیں خود سوچ لیں کتنے بڑے گناہ کا سبب بن رہے ہیں۔

ہمارے بچپن میں بچے گھر والوں سے زیادہ محلے کے بزرگوں سے ڈرتے تھے۔ ہر بزرگ ہر بچے کو اپنا سمجھتا تھا اور اسی لئے اس کو ہر غلطی پر سر بازار اس کو ٹوکتا اور سرزنش کرنے کا حق رکھتا تھا۔ لیکن اب ہمارا حال یہ ہے کہ میرے بچے کو کوئی موت کے منہ میں جانے سے بھی بچا لے تو میں اس شخص کا گریبان پکڑ لیتا ہوں کہ میرے بیٹے کو روکنے والے تم کون ہوتے ہو۔ لاہور کے ڈیفنس میں ہونے والے سانحے میں صرف وہ کم عمر ڈرائیور، اس کے والدین، گھر کے بڑے ہی نہیں۔

سڑک پر متعین تمام ٹریفک اہل کار (جنہوں نے کبھی اس یا اس جیسے بچوں کو گاڑی چلاتے دیکھ گردن دوسری طرف کرلی ہوگی) بھی ذمہ دار ہیں۔ وہ مائیں اور بہنیں بھی اس قتل عام میں شامل ہیں جو خوشی خوشی گھر کے نابالغ چھوٹو کو ڈرائیور بنا کر اسے قاتل بنانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ باپ بھی ہے جو یہ جاننے کہ بعد بھی کہ بیٹا کیا کیا کرتا پھر رہا ہے گاڑی گھر میں بیٹے کے لئے رکھ چھوڑتا ہے۔ اہل محلہ اور معاشرہ، گویا ہم سب اس قتل میں کہیں نہ کہیں ضرور شامل ہیں۔ ممکن ہے ہمارے اپنے کم عمر بچے بھی یہ سب کچھ کر رہے ہوں۔ لیکن بظاہر اب تک پکڑے جانے سے بچے ہوئے ہوں۔

یوں تو اس معاملے پر جتنا لکھ لیا جائے کم ہے۔ لیکن گھر والوں سے زیادہ پاکستان کے ٹریفک کے قوانین میں کچھ تبدیلیاں اور اس سے بھی زیادہ اس پر لازمی عمل مستقبل میں کئی جانیں بچانے کا سبب بن سکتی ہیں۔

پہلے تو پھر سعودیہ پر آتے ہیں۔ ماضی میں سعودیہ میں سگنل توڑنے سے بے انتہا جانی حادثات ہوتے تھے۔ بڑے قوانین بنائے گئے۔ جرمانوں کو مہنگے سے مہنگا کیا گیا مگر فائدہ ندارد، کیونکہ ریال تو ان کے لئے کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔ اور جہاں تک خوں بہا کا تعلق ہے یہاں ہر انشورنس تیس چالیس مقتولین تک کی دیت کو بھی پروٹیکشن دیتی ہے۔ تو سعودیوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ سگنل توڑنے کی سزا مالی جرمانے کی جگہ تین دن کی تھانے میں قید کردی۔

اور اس پر اس طرح عمل کیا کہ آسمان بھی ٹوٹ پڑے تو بھی مجرم 15 وقت کی نماز پڑھے بغیر گھر نہیں جاسکتا۔ اور دوسرا اصول یہ بھی کہ جس سپاہی نے تھانے میں بند کیا وہی وقت سے پہلے رہا کرنے کا حقدار ہوتا ہے۔ اس کے بعد حال یہ ہوا کہ لوگوں کی اکثریت اب ہرے سگنل پر بھی بریک لگا لیتی ہے۔ دوسرا قانون، پرانے افغانستان میں طالبانوں کا قانون تھا۔ چوک پر تعینات شخص ڈرائیور کی طرف سے کی گئی غلطی پر ہاتھ کے ہاتھ یا تو اپنے پاس موجود ڈنڈے سے اس کی گاڑی کی ہیڈ لائٹ توڑ دیتا۔ ایک یا دونوں سائیڈ مرر یا کہیں اور پر ڈنڈا مارکر زبردست ڈینٹ ڈال دیتا۔ اور بس! کوئی قید نہیں کوئی جرمانہ نہیں۔

پاکستان میں بھی یا تو قانون بنا دیا جائے کہ ون ویلنگ ہو یا خطرناک ڈرائیونگ یا سگنل توڑنا۔ لائسنس یا کاغذات چھوڑیں چپ چاپ گاڑی اور ڈرائیور کو تھانے لے جا کر تین دن رکھا جائے گا یا دو دن تک کسی بھی چوک یا سگنل پر مرغا بنا کر آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک بانگ دینے کے لئے کھڑا رکھیں۔ ساتھ سینے پر ایک کاغذ جس پر ان کا نام اور جرم لکھا ہو۔

نادرا کا سسٹم تبدیل کر کے ان تمام گرفتاریوں کا ریکارڈ اس میں رکھا جائے۔ پہلی بار گرفتاری پر تین دن قید کے علاوہ صرف ریکارڈ میں وقت دن اور جرم کی نوعیت ڈالی جائے۔ اور اس جرم کی دوسری سزا یہ ہو کہ ان بچوں کو لائسنس اٹھارہ کی بجائے 25 پچیس سال سے پہلے نہ دیا جائے۔

دوسری بار پھر گرفتاری کی صورت میں ان پر ساری زندگی کے لئے لائسنس اجرا کی پابندی ہو۔ تیسری بار گرفتاری کی صورت میں ان کو ساری زندگی کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے میں تعلیم، سرکاری ہسپتال میں علاج، سرکاری نوکری اور ووٹ ڈالنے کے لئے نا اہل قرار دے دیا جائے۔ اور ایسے فن کاروں پر پھر نظر بھی رکھی جائے۔

اسی طرح ہر نوعمر ڈرائیور چاہے موٹرسائیکل چلائے یا گاڑی اس پر ہر حال میں گاڑی چوری کا مقدمہ بھی چلایا جائے۔ جس کی سزا تین ماہ رکھی جائے۔ (اس میں ایک ہفتہ تھانے میں قید ہو اور اس کے بعد بچہ ضمانت پر گھر جاکر اسکول کالج جائے۔ مگر روزانہ، اسکول جانے سے پہلے، واپسی پر اور رات کو تھانے میں حاضری دے۔ اس کے علاوہ ان بچوں سے کمیونٹی سروس کے طور پر کوئی اضافی کام بھی لیا جاسکتا ہے۔ جو صرف یہ خود کریں گے۔

دوسری طرف اگر گاڑی کا اصل مالک (چاہے باپ ہو یا بھائی) سامنے آ کر اقرار کر لے کہ گاڑی اس نے اس بچے کو خود دی تھی یہ جاننے کے باوجود کہ وہ لائسنس نہیں رکھتا۔ اس بچے کو چھوڑ دیا جائے مگر گاڑی کے مالک کو لاپرواہی یا جانتے بوجھتے دوسروں کی جان خطرے میں ڈالنے کے جرم میں سزا دی جائے۔ اور یہ بھی کم از کم تین مہینے ہو۔ اس معاملے میں صرف مجسٹریٹ کے سامنے محض ایک پیشی میں فیصلہ ہو۔ اور بس۔ اگر گاڑی کسی خاتون کے نام ہو تو اسے بے شک سزا نہ دی جائے لیکن گاڑی بحق سرکار ضبط کر کے فروخت کردی جائے اور سرکار اس رقم کو حادثات میں معذور ہونے والے افراد کے علاج کے لئے استعمال کرے۔ ویسے آفرین سیف سٹی کے کیمرے دیکھنے والوں پر بھی ہے جو ان دو اور چار پہیوں کی بلٹ ٹرینوں کو دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

ٹریفک سارجنٹ اور مجسٹریٹوں کو بس یہ یاد رکھنا چاہیے کہ موت کا ایک دن ضرور معین ہے آپ کسی دن کسی کم عمر ڈرائیور پر ہاتھ ہولا رکھ لیں لیکن شاید ایک دن پھر وہی بچہ بڑا ہو کر آپ کے کسی پیارے کا قتل کا سبب بن رہا ہو گا۔ وقت پر پڑنے والا صحیح طمانچہ کسی بچے کو مستقبل میں قاتل یا مجرم بننے سے بچا سکتا ہے۔ اور کسی نور مقدم کی جان بھی بچا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS