صدیقہ بیگم پاکستانی اور صدیقہ بیگم ہندوستانی ( 1 )


صدیقہ بیگم کا نام اہل ادب کے لیے یقیناً کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے لیکن قابل توجہ معاملہ یہ ہے کہ دنیائے اردو ادب سے وابستہ صدیقہ بیگم نام کی دو بہت ممتاز اور معروف شخصیات ہیں۔ ایک صدیقہ بیگم کا تعلق ہمسایہ ملک بھارت سے ہے جبکہ دوسری صدیقہ بیگم کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جبکہ سن ولادت کو مدنظر رکھا جائے تو دونوں کا تعلق برٹش انڈیا یا متحدہ ہندوستان سے بنتا ہے۔ بہت سے لکھنے والوں نے دونوں شخصیات کے کوائف کو گڈ مڈ کر دیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ اردو ادب کی سب سے بڑی ویب سائیٹ ریختہ پر بھی جو معلومات دستیاب ہیں وہ صدیقہ بیگم پاکستانی کی تصویر کے ساتھ ہیں اور معلومات میں تاریخ ولادت صدیقہ بیگم ہندوستانی کی جبکہ تاریخ وفات صدیقہ بیگم پاکستانی کی درج ہے۔ یہی نہیں بلکہ ریختہ پر تو صدیقہ بیگم پاکستانی کے بلاگ میں ادب لطیف کے مختلف شماروں کو صدیقہ بیگم کی مرتبہ کتب کے طور پر جبکہ صدیقہ بیگم سیوہاروی (ہندوستانی) کے افسانوں کے مجموعوں کو صدیقہ بیگم پاکستانی کی تصانیف کے طور پر پیش ڈسپلے بلکہ اپ لوڈ کیا گیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ ٹائٹل یا کور پیج پر صدیقہ بیگم پاکستانی کی تصویر کے ساتھ یہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ صدیقہ بیگم 1925۔ 2019 لاہور۔ پاکستان۔ معروف افسانہ نگار اور مشہور ادبی جریدے ادب لطیف کی مدیر۔ بے شک اس میں لاپرواہی ریختہ کو معلومات فراہم کرنے والے کی بھی ہو سکتی ہے اور نا اہلی بھی۔ لیکن اس سے یعنی ریختہ سے قطع نظر جن لکھنے والوں کے ماخذات معتبر نہیں ہیں ان کی تحریروں میں بہت سی غلط اور من گھڑت معلومات پر مشتمل مواد بھی شامل ہے۔

لکھنے والوں میں سے کچھ کا تعلق تحقیق، تصنیف اور تنقید سے بھی ہے۔ ہمارے لیے انتہائی قابل احترام ایک بہت اچھی شاعرہ، ادیبہ اور ڈاکٹریٹ ڈگری یافتہ خاتون نے صدیقہ بیگم پاکستانی کے حوالے سے اپنی تحریر میں مکتبۂ ادب لطیف اور دیگر اشاعتی و تعلیمی اداروں اور ماہنامہ ادب لطیف لاہور کے بانی سر سید لاہور اور محسن ادب جناب چوہدری برکت علی کی تاریخ وفات انیس سو اسی یا اکیاسی درج کر کے وضاحت فرمائی کہ چوہدری برکت علی کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی صدیقہ بیگم نے ادب لطیف کی مدیر اعلی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

ہم نے محترمہ کو فیس بک میسنجر پر پیغام بھیجا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے میسنجر بلاک کر رکھا ہے۔ پھر ہم نے کو مینٹس میں گزارش کی اس تحریر کے حوالے سے ہم کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں تو جواب ملا کہ تحریر پر کومینٹس بوکس میں ہی فرما دیجے۔ ہم نے بصد احترام کومینٹس بوکس میں گزارش کی کہ حضرت چوہدری برکت علی کا وصال انیس سو باون میں ہوا تھا لہذا آپ اپنی تحریر میں درست تاریخ وفات درج فرما دیں۔ موصوفہ نے جواباً فرمایا کہ ہماری معلومات کے مطابق چوہدری برکت علی کی یہی تاریخ وفات ہے۔ آپ فکرمند نہ ہوں۔ اس واقعے کے بعد پروفیسر جناب غلام شبیر رانا صاحب کا مضمون صدیقہ بیگم : وہ جو چپ چاپ بھری بزم سے اٹھ کر چل دیں۔ شائع ہوا۔ اس مضمون میں صدیقہ بیگم کا سال ولادت انیس سو پچیس بتایا گیا ہے۔ جو کہ غلط ہے۔ چند دیگر معلومات پر بھی ہمارے تحفظات ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس نوعیت کے اور بھی متعدد قابل توجہ معاملات ہیں کہ جن میں سدھار لانے کی اشد ضرورت ہے۔

مدیر اعلی ماہنامہ ادب لطیف محترمہ صدیقہ بیگم کا ذکر خیر آتے ہی اللہ جانے کیوں مجھے آنس معین کی نظم ترکہ یاد آ گئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے محترمہ صدیقہ بیگم صاحبہ کو آنس معین کا جو کلام حد درجہ پسند تھا، یہ نظم بھی اس میں شامل تھی۔ صدیقہ بیگم کے حوالے سے مزید کچھ پڑھنے سے پہلے ملاحظہ فرمائیے یہ شاہکار نظم۔

نظم :۔ ترکہ
نظم نگار :۔ آنس معین
زندگی کے طویل صحرا میں
اک شجر سایہ دار آیا تھا
جس کے نزدیک سے گزرتے ہوئے
ایک لمحے کو رک گیا تھا میں
پھر یہ لمحہ، جو ایک نقطہ تھا
جانے کیسے دراز ہونے لگا
کتنے موسم سمٹ گئے اس میں
۔ ۔
تھی بدن کو سکون کی خواہش
لیکن اندر جو کوئی رہتا ہے
وہ جو لمبے سفر پہ نکلا تھا
اس نے بے چین کر دیا آخر
یہ تو ممکن نہ تھا کسی صورت
وہ شجر ساتھ چل سکے میرے
اس کی شاخوں کے ریشمی بازو
میرے قدموں کی بیڑیاں بن کر
مجھ کو آگے نہ بڑھنے دیتے تھے
اور اب تو یہ ہو چلا تھا یقیں
میرے اندر کا آدی بھی کبھی
اس کے بازو جھٹک نہ پائے گا
۔ ۔
پھر اچانک
نہ جانے کیسے نظر
آ گئے چند پاؤوں کے نقوش
جن کو دیکھا تو یہ خیال آیا
اس سے پہلے بھی ان گنت راہی
اسی رستے سے ہوکے گزرے ہیں
اسی سائے سے فیض یاب ہوئے
میں چلا جاؤں گا
تو میرے بعد
اور بھٹکا ہوا کوئی راہی
لمحہ بھر کو سکوں کا متلاشی!

نامور افسانہ نگار صدیقہ بیگم سیوہاروی ہندوستانی کی انیس سو پچیس میں لکھنؤ میں ولادت ہوئی اور ستمبر دو ہزار بارہ کو علی گڑھ میں وفات پائی۔ انہوں نے اپنی زندگی بجنور، الہ آباد اور علیگڑھ سمیت مختلف شہروں میں گزاری۔ ان کا تعلق بھی ترقی پسند مصنفین سے تھا۔ ادب لطیف، نقوش، شاہرہ اور دیگر رسائل و جرائد میں ان کے افسانے تواتر سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ محترمہ صدیقہ بیگم سیوہاروی ہندوستانی کے افسانوں کے مجموعے ہچکیاں، دودھ اور خون، پلکوں میں آنسو، ٹھیکرے اور رقص بسمل قابل ذکر ہیں۔ (جاری ہے ) ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments