ممتاز شاعر احمد مشتاق کی پاکستان آمد اور ملاقات کا احوال


کبھی سان گمان میں بھی نہ تھا کہ احمد مشتاق صاحب سے ملاقات ہو گی اور اس ٹی ہاؤس میں ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کا موقع ملے گا کہ جہاں ان کی گہرے دوستوں ناصر کاظمی اور انتظار حسین جیسے بڑے ادیبوں کے ساتھ ان کا وقت گزرا۔ مشتاق صاحب کو پاکستان سے گئے چالیس برس ہو گئے اور اس دوران وہ آخری مرتبہ تئیس برس قبل تشریف لائے تھے۔ ان تئیس برسوں میں ان کے چاہنے والوں میں چند خوش نصیبوں کو ہی ان سے شرف ملاقات حاصل ہوسکا جو امریکہ یاترا کو گئے اور ان سے ملے۔

ہمارے امریکہ جانے کے کسی بھی خیال یا منصوبے میں سب سے نمایاں منظر اور مقصد احمد مشتاق صاحب کی دست بوسی تھا۔ ان کی آمد کی خبر ملی تو خوشی کی انتہا نہ رہی، پیارے بھائی محمود الحسن جو مدت سے مشتاق صاحب کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انھی کے توسط سے ان کی خیر خبر ملتی رہتی ہے، نے مجھے تسلی دی کہ آپ کی ایک نہیں کئی ملاقاتیں ہوں گی۔ میں دو دن اسلام آباد میں تھا اور علی الصبح واپس پہنچا تو محمود الحسن صاحب کا حکم ملا کہ ساڑھے دس بجے تحسین فراقی صاحب کے دفتر پہنچو۔

وہ سارا دن ان کے ساتھ گزرا جو میری زندگی کے یادگار ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ تحسین فراقی صاحب سے تفصیلی ملاقات رہی جہاں فراقی صاحب نے ایک پرانی بیاض ڈھونڈ نکالی جس میں مشتاق صاحب کے اشعار درج تھے، جو فراقی صاحب نے سنائے۔ اس کے بعد عباس تابش صاحب کے دفتر میں محفل جمی اور وہاں بھی کئی دوست دن کی روشنی میں جمع ہوئے اور مشتاق صاحب سے ان کا کلام سنا گیا۔

یار سب جمع ہوئے رات کی خاموشی میں
کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا
(احمد مشتاق)

بعد ازاں مشتاق صاحب کو خواجہ زکریا صاحب کے ہاں تشریف لے جانا تھا، ہم بھی ساتھ تھے۔ دونوں صاحبان نے امرتسر کی یادیں تازہ کیں۔ کوئی گھنٹہ ڈیڑھ دونوں امرتسر کی گلیوں میں گھومتے رہے، کبھی ایک گلی میں مڑتے تو کبھی دوسری میں، کبھی ایک بازار کا ذکر چلتا تو کبھی دوسرے کا ، کبھی کسی سکول کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے کہیں دور نکل جاتے۔ کبھی ریلوے سٹیشن اور ریل کی پٹڑی کا ذکر ہوتا تو کبھی جلیانوالہ باغ کا حوالہ آ جاتا۔

میں نے امرتسر نہیں دیکھا لیکن چشم تصور میں ان دو محترم شخصیات کے ساتھ ساتھ گھومتا رہا اور دل مین امرتسر دیکھنے کا شوق شدت سے بیدار ہوا۔ زکریا صاحب کے مہمان خانے کی مدہم روشنی میں یوں لگ رہا تھا کہ دو بزرگ کسی اور زمانے میں بیٹھے مکالمہ کر رہے ہوں یا جیسے ریڈیو پر رات گئے دو بزرگوں کی گفتگو چل رہی ہو اور ہم تین، (محمودالحسن، عدنان بشیر اور ناچیز) ہمہ تن گوش ہوں۔

وہاں سے چلے تو اس دن کا سب سے یادگار پڑاؤ پاک ٹی ہاؤس پر کیا جہاں مشتاق صاحب کے ساتھ میں اور محمود الحسن ہی رہ گئے تھے۔ میں نے پورے دن میں مشتاق صاحب کو اس سے زیادہ پرجوش و متحرک نہیں دیکھا۔ ایک اداسی بھی ان کی آنکھوں سے چھلکی جا رہی تھی۔ یہ مقام ان کی جوانی کی یادوں کا مرکز ہے۔

وہ در و دیوار کا کونا کونا بغور دیکھ رہے تھے، جیسے کچھ تلاش کر رہے ہوں۔ ایک ایک تصویر کو دیکھ رہے تھے، کچھ کے بارے میں فرماتے، ’ان صاحب کو توہم نے یہاں کبھی نہیں دیکھا‘ ۔ ایک دو کے بارے میں تو فرمانے لگے، ’ان کا تو نام بھی نہیں سن رکھا۔‘ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ کس کونے میں، کس میز پر زیادہ بیٹھتے رہے۔ انھوں نے دروازے سے داخل ہوتے ہی دائیں طرف کی میز کی طرف اشارہ کیا۔ یہ بھی فرماتے رہے کہ ٹی ہاؤس کے اندر تبدیلی کم آئی ہے، لیکن ماحول بدل گیا ہے۔ پھر ہم نے ایک میز پر بیٹھ کر چائے پی جو سب سے یادگار لمحہ تھا۔ ہم جہاں بھی جا رہے تھے، لوگ ان کی خدمت کرنا چاہتے تھے، کھانے پینے کا پوچھتے کہ کچھ خاص کھانا پینا ہو لیکن وہ انتہائی مروت سے یہی فرماتے رہے، کوئی ضرورت نہیں بس یہ کافی ہے۔

کبھی خواہش نہ ہوئی انجمن آرائی کی
کوئی کرتا ہے حفاظت مری تنہائی کی

ہم نے پوچھا سر یہاں چائے پئیں؟ تو فرمانے لگے ’یہاں تو پیوں گا‘ ، اس میز پر میں نے ان کی آنکھوں میں مسرت اور اداسی کا رنگ گڈ مڈ ہوتے دیکھا۔

واش روم سے واپسی پر فرمانے لگے ’بھائی واش روم ویسے کا ویسا گندا ہے‘ ۔ ٹی ہاؤس سے اٹھے تو دروازے سے باہر نکلتے ہی فرمانے لگے ’یہاں کچھ دیر رکتے ہیں‘ ۔ جیب سے سگریٹ نکالے اور مجھے عطا کرتے ہوئے فرمانے لگے، ’پیجیے‘ ۔ میں نے بصد شکر وصول کیا تو لائٹر روشن کر کے ہاتھوں کے پیالے میں جلتا چراغ آگے کر دیا، میرے لیے تو یہ کسی خواب جیسا لمحہ تھا، اس پر مستزاد کہ محمود الحسن نے وہ لمحہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا، میں محمود الحسن کی محبت کا یہ قرض عمر بھر نہیں چکا سکتا۔

میں نے اس لمحے سے جو لطف اٹھایا، وہ ناقابل بیان ہے۔ میں نے عقب سے ٹی ہاؤس کی عمارت کے جھروکے سے گئے وقت کو نیچے جھانکتے دیکھا، جیسے وہ مشتاق صاحب کو چھپ چھپ کے دیکھ رہا ہو۔ مجھے ایک قلق رہا کہ میں ناصر کاظمی سے نہ مل سکا لیکن اپنے پسندیدہ ترین شاعروں میں سے ایک اور بڑے شاعر اور ناصر کے گہرے دوست سے مل لیا۔

اس دن کا آخری پڑاؤ سنگ میل تھا۔ وہاں اکرام اللہ صاحب اور کئی شاعر ادیب دوست موجود تھے۔ افضال احمد صاحب نے کمال محبت سے استقبال کیا اور کھانے پینے کے لوازمات سے میز سجا دی۔ وہاں سجنے والی محفل سب سے طویل رہی، مشتاق صاحب نے شعر سنائے، سیاست پر بات کی، یاروں دوستوں کو یاد کیا اور کئی دوستوں نے ان کی کتابوں پر ان کے دستخط لیے۔ یہاں شاعری کی محفل بھی خوب جمی، احمد مشتاق صاحب ان شاعروں میں سے ہیں جن کے پاس زبان زد عام اشعار کی بڑی تعداد موجود ہے۔ انھوں نے یہاں کافی دیر تک شاعری سنائی۔ مشتاق صاحب چند دن رکے اور واپس امریکہ چلے گئے۔ پریوں کی تلاش میں گیا آدمی خدا جانے دوبارہ کب لوٹے۔

پریوں کی تلاش میں گیا تھا
لوٹا نہیں آدمی ہمارا
(احمد مشتاق)

عنبرین صلاح الدین بھی میری طرح ان سے ملنے کے لیے بے تاب تھیں، لیکن جو یان کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث ساتھ نہ جا سکی، لیکن محمود بھائی نے اس کا ازالہ یوں کیا کہ ایک شام کو جب وہ لوگ ریڈنگز پر تشریف فرما تھے تو ہمیں بلا لیا، ہم بھاگم بھاگ وہاں پہنچے جہاں ایک خوبصورت محفل جمی، کراچی سے ہمارے پیارے دوست نامور صحافی اور مترجم رانا آصف بھی تشریف فرما تھے اور محمود صاحب کی مسز ہماری بھابی بھی موجود تھیں۔ پہلے تو عنبرین نے مشتاق صاحب کو انھی کے شعر سنائے اور پھر مشتاق صاحب سے فرمائش کر کے غزلیں سنیں۔ شعر و ادب پر کئی عمدہ نکتہ آفریں باتیں مشتاق صاحب سے سننے کو ملیں اور یوں ہماری ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ اختتام کو پہنچا۔

ان کی شاہکار اور ہماری پسندیدہ غزل ان ملاقاتوں میں کئی لوگوں نے فرمائش کر کے سنی۔
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے
اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے
روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے
عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے
دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن
عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments