ورلڈ کپ فائنل کے دوران فلسطین کی حمایت والی شرٹ پہنے شخص پِچ پر کوہلی تک پہنچ گیا


کرکٹ

انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان ورلڈ کپ 2023 کا فائنل میچ جاری ہے جس میں آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کی دعوت پر روہت شرما کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 240 رنز بنائے۔ مگر انڈیا کی بیٹنگ کے دوران شائقین کی طرف سے ایک شخص کا میدان میں داخل ہو جانا بھی زیرِ بحث ہے۔

میچ میں آسٹریلیا کے بولرز نے متاثرکن کارکرگی دکھائی۔ انڈیا کے ٹاپ سکورر کے ایل راہل رہے جو 66 رنز بنا پائے۔ کوہلی نے عمدہ نصف سنچری بنائی جس کے بعد کمنز نے انھیں آؤٹ کیا۔

آسٹریلیا کے سٹارک نے 55 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ کمنز نے 34 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ ہیڈ کے شاندار کیچ نے روہت شرما کی اننگز کا خاتمہ کیا جنھوں نے 31 گیندوں پر 47 رنز بنائے۔

آسٹریلیا 1983 اور 2011 میں جیتنے والے انڈیا کے خلاف اپنی چھٹا ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تفصیلی سکور کارڈ کے لیے یہاں کلک کریں

میچ میں فین کی سنسنی خیز انٹری

اگرچہ اس وقت سوشل میڈیا پر یہ میچ اپنی سنسنی خیزی کی وجہ سے تو زیر بحث ہے ہی لیکن اسی میچ میں ہونے والا ایک اور واقعہ بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

میچ کے دوران گراؤنڈ میں موجود شائقین میں سے ایک شخص نکل کر دوڑتا ہوا پچ پر موجود انڈین بلے باز وراٹ کوہلی کے قریب آیا جسے بعد میں پولیس نے حراست میں لے لیا۔

اس شخص نے ’آزاد فلسطین‘ کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اور اس کے ہاتھ میں جھنڈا تھا۔ وہ پچ پر ویراٹ کوہلی کے قریب آیا اور کوہلی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ کچھ دیر کے لیے میچ میں خلل پڑا اور پھر سکیورٹی اہلکار اسے باہر لے گئے۔

پولیس کی تحویل میں لیتے وقت اس شخص نے اپنے بارے میں بتایا اور کہا کہ وہ آسٹریلیا کا رہائشی ہے۔

نیوز ایجنسی اے این آئی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں یہ شخص اپنا نام جانسن بتا رہا ہے۔

اس شخص کا کہنا ہے کہ ’وہ آسٹریلیا کا رہائشی ہے اور وہ میدان میں وراٹ کوہلی سے ملنے گیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ فلسطین کے حامی ہیں۔ ان کی ٹی شرٹ کے آگے ’فلطسین پر بمباری بند کرو‘ اور پشت پر’فلسطین کو آزار کرو‘ لکھا ہوا تھا۔

کرکٹ

کوہلی کے کندھے پر ہاتھ

یہ شخص میدان میں داخل ہوا اور وراٹ کوہلی کے قریب آگیا۔

تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس شخص نے کوہلی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس دوران کوہلی قدرے بے چین نظر آئے، حالانکہ ان کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔

بعد میں جب سکیورٹی اہلکار اس شخص کو لے جا رہے تھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کوئی نعرہ لگا رہا ہے۔

بعد میں اسے احمد آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے اس واقعے کو سکیورٹی کی بڑی خامی قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی شائقین کرکٹ اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دے رہے ہیں۔

آشیش نامی شخص نے لکھا ہے ، ’نریندر مودی سٹیڈیم میں سکیورٹی لیپس‘۔ عملہ اور سکیورٹی اتنی غیر ذمہ دار ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ ورلڈ کپ کا فائنل ہے، سٹریٹ کرکٹ میچ نہیں۔‘

جبکہ پریتش شاہ لکھتے ہیں کہ ’یہ بہت غلط ہے، فین اندر کیسے داخل ہو سکتا ہے؟ نریندر مودی سٹیڈیم کا عملہ اور سکیورٹی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔‘

سٹیڈیم کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ایک اور صارف نے لکھا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔

سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا۔ اس حملے میں تقریباً 1200 لوگ مارے گئے اور 200 سے زیادہ یرغمالیوں کو اغوا کر کے غزہ لے جایا گیا۔

اس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کردی اور حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اب تک 12 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔

غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے دنیا بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور اسرائیل پر فوری طور پر انسانی امداد کے لیے بمباری بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp