ماؤزے تنگ، چین اور گوریلا جنگ


بیسویں صدی میں گوریلا جنگ لڑنے والے رہنماؤں میں ماؤزے تنگ کا نام سر فہرست آتا ہے۔ انہوں نے چین میں انقلاب برپا کر کے نیا چین تخلیق کیا۔ ماؤزے تنگ اپنے سیاسی اور انقلابی نظریات کی وجہ سے جہاں خوش نام ہوئے وہیں بدنام بھی ہوئے کیونکہ انہوں نے انقلاب کی خاطر سینکڑوں ہزاروں لاکھوں جانوں کی قربانی دی۔ اسی لیے جہاں بہت سے لوگ ان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں وہیں بہت سے لوگ ان سے شدید نفرت بھی کرتے ہیں۔

جب ہم ماؤزے تنگ کی سوانح حیات کا مطالعہ اور تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بچپن سے اپنے والد سے شدید نفرت اور اپنی ماں سے بے پناہ محبت کرتے تھے کیونکہ ان کی ماں ایک امن پسند بدہسٹ تھیں اور ان کے والد ایک جابر و ظالم سرمایہ دار تھے۔ ماؤزے تنگ نے بچپن سے ہی اپنے والد اور اساتذہ کی روایت سے بغاوت کی۔ ان کی بغاوت اتنی شدید تھی کہ وہ دس برس کی عمر میں گھر سے بھاگ گئے اور کئی دن تک جنگلوں میں چھپے رہے۔ اس دور میں بھلا کس کو خبر تھی کہ جنگلوں میں چھپنے والا یہ بچہ ایک دن گوریلا فوج کا سپہ سالار ہو گا اور جنگل ہی اس کا میدان کارزار ہو گا۔

ماؤ کے والد کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا ان کے ساتھ کھیتوں میں کام کرے لیکن ماؤ شروع سے کتابوں اور خیالوں کی دنیا میں کھوئے رہتے۔ ماؤ کے والد ان سے اتنے دلبرداشتہ ہوتے کہ غصے میں آ کر ماؤ کو کاہل اور سست الوجود کہتے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا بیٹا ایک دن دانشور بنے گا اور دانشور بننے کے لیے کتابوں کا پڑھنا اور ساری دنیا کے دانشوروں کے فلسفوں کو جاننا کتنا اہم ہے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ ان کے بیٹے کی لکھی ہوئی کتاب۔ گوریلا جنگ۔ ساری دنیا کے مختلف کونوں میں انقلاب لانے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

ماؤ غریبوں مزدوروں اور کسانوں سے جس قدر محبت کرتے تھے وہ زمینداروں اور سرمایہ داروں سے اتنی ہی نفرت کرتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ سرمایہ دار غریب کسانوں کا استحصال کرتے ہیں اسی وجہ سے وہ اپنے والد سے بھی نفرت کرتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان کے والد وہ پہلے سرمایہ دار تھے جو ان کی زندگی میں شامل تھے۔

ماؤ نوجوانی میں اپنے گاؤں سے بڑے شہر میں منتقل ہو گئے اور ایسٹ ماؤنٹین سکول میں داخلہ لے لیا۔ انہوں نے نوجوانی میں جب نپولین روسو اور لنکن جیسے عظیم لوگوں کی سوانح عمریاں پڑھیں تو انہوں نے زندگی اور جنگ کے بہت سے راز جانے۔ انہوں نے ان عظیم ہستیوں کی سوانح عمریوں سے یہ سیکھا کہ انقلاب کے بغیر استعماری طاقتوں سے نجات حاصل کرنا ناممکن ہے۔

1911 میں ماؤ کی ملاقات ان انقلابیوں سے ہوئی جو مانچو حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے تھے۔ ماؤ ان انقلابیوں سے اتنے متاثر ہوئے کہ ہونان انقلابی فوج میں شامل ہو گئے۔

ماؤ نہ صرف سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے بلکہ معیشت کا مطالعہ بھی کرتے تھے۔ 1915 تک پہنچتے پہنچتے وہ ایک سنجیدہ سیاسی کارکن بن چکے تھے اور سیاست اور معیشت پر مقالے لکھنے لگے تھے۔ انہوں نے اپنے ایک دوست کو لکھا، ’یہ کیسے ممکن ہے کہ جاپان جو تین ہزار جزیروں پر مشتمل ہے ایک ایسے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جس کی آبادی چالیس کروڑ ہے‘

ماؤزے تنگ اپنی زندگی کی تیسری دہائی میں بیجنگ چلے گئے۔ ماؤ جب چین کے جنوب سے شمال پہنچے تو انہیں اپنے ماحول میں بہت سی دشواریوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ عرصے کے لیے وہ اتنے مفلوک الحال تھے کہ زمین پر سوتے اور بہت سے اجنبی لوگوں کے ساتھ رہتے تھے۔ ماؤ بہت محب الوطن تھے۔ جب فرانس جانے کی دعوت آئی تو چو لین لائی نے دعوت قبول کر لی لیکن ماؤ نے انکار کر دیا کہنے لگے میں چین میں ہی زندہ رہوں گا اور چین میں ہی مروں گا۔

ماؤزے تنگ کی زندگی میں ایک وہ دور بھی تھا جب وہ انارکسٹ تھے اور پیٹر کروپٹلن سے بہت متاثر تھے لیکن پھر انہیں اندازہ ہوا کہ انارکسٹ مذہب اور ریاست کے خلاف دلائل تو دیتے ہیں لیکن ان کا کوئی بہتر متبادل پیش نہیں کرتے۔ اسی لیے ماؤ نے بالآخر انارکزم کو خیر باد کہہ کر کمیونزم کو گلے لگایا کیونکہ انہیں اندازہ ہوا کہ کمیونزم زندگی کا ایک متبادل نظریہ پیش کرتا ہے۔ دھیرے دھیرے ماؤزے تنگ ایک سیاسی کارکن ہی نہیں ایک انقلابی دانشور بھی بن گئے۔

ماؤزے تنگ کمیونسٹ مینی فسٹو پڑھنے کے بعد مارکس ’اینجلز اور لینن کے نظریاتی اور سیاسی طور پر بہت قریب آ گئے اور روس کے کمیونسٹ انقلاب کا اپنا رول ماڈل بنا لیا۔ انہوں نے جاپان کے خلاف پرجوش تقریریں کرنا شروع کر دیں۔ انہوں نے محب الوطنی کے جذبے کے تحت چینیوں کو مشورہ دیا کہ وہ جاپان کی قیمتی مصنوعات کی جگہ چین کی سستی مصنوعات خریدنا شروع کر دیں۔

ماؤزے تنگ کی والدہ 1918 میں اور والد 1920 میں فوت ہو گئے۔ ان دونوں کی وفات کے بعد ماؤزے تنگ نے کھل کر اپنے مارکسسٹ اور کمیونسٹ خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے کمیونسٹ دوستوں سے پیشین گوئی کی کہ اگر وہ سب مل کر کوشش کریں تو چین تیس چالیس برسوں میں ایک کمیونسٹ ملک بن سکتا ہے۔ ماؤزے تنگ جہاں مزدوروں اور کسانوں سے دوستی کرتے تھے وہیں وہ ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کے بھی قریب رہتے تھے۔

ماؤزے تنگ نے 1921 میں ہونان کے شہر اینیان میں اپنے سیاسی مقاصد اور آدرشوں کا برملا اعلان کیا اور کان میں کام کرنے والے مزدوروں کو مالکان کے خلاف احتجاج اور بغاوت پر آمادہ کیا اور ان سے ہڑتالیں کروائیں۔ انہوں نے مزدوروں کا قائل کیا کہ تاریخ ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ہم اپنے مستقبل کے فیصلے خود کریں گے۔

1922 میں ماؤزے تنگ نے اپنی سیاسی تحریک کو ہونان سے چنکشا تک پھیلا دیا اور بیس یونینوں کے پچاس ہزار مزدوروں کو جمع کر لیا جنہوں نے مل کر ہڑتالیں کیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب مزدوروں اور مالکان کے درمیان باقاعدہ جنگ ہوئی اور خون بہا۔ اگر اس موقع پر ماؤ پکڑے جاتے تو جیل بھیج دیے جاتے۔ 1924 میں ماؤ نے کسانوں کی تحریک میں شرکت کی۔ انہوں نے مزدوروں کے بعد کسانوں میں سماجی شعور کو بڑھاوا دیا اور انہیں انقلاب کے لیے تیار کیا۔

ماؤزے تنگ نے 1925 میں چین کی کمیونسٹ پارٹی میں شرکت کی۔ ماؤ کی شرکت کے بعد پارٹی کی مقبولیت بڑھنے لگی اور دو برسوں میں بیس لاکھ لوگ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ ماؤ نے پارٹی کو بتایا کہ انہوں نے شہری مزدوروں تو اہمیت دی ہے لیکن دیہاتوں کے کسانوں کو نظر انداز کیا ہے۔

جوں جوں ماؤ مقبول ہوتے گئے ان کی نہ صرف حکومت کے اصحاب بست و کشاد سے جھڑپیں بڑھنے لگیں بلکہ ان کی تحریک میں جارحیت اور تشدد بھی در آئے۔ حکومت نے نہ صرف مزدوروں اور کسانوں پر گولی چلائی بلکہ طالب عملوں کو زندہ بھی جلا دیا تا کہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ ماؤزے تنگ خود بھی کئی دفعہ موت کو چھو کر واپس آئے۔ ہونان کے گورنر نے یونینوں پر پابندی عاید کی اور ماؤزے تنگ کو معاشرے کے سکون کے لیے لیے ایک خطرناک لیڈر قرار دیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ ماؤ اور کمیونسٹ پارٹی کے اختلافات بھی بڑھنے لگے۔ انہیں ایک دفعہ یورپ کے انقلابیوں نے مشورہ دیا کہ وہ یورپ چلے جائیں لیکن ماؤ چین سے کسی حالت میں باہر نہیں جانا چاہتے تھے۔ وہ حالات ناسازگار ہونے کے باوجود اپنی دھرتی سے جڑے رہے۔

جب ماؤزے تنگ کو چین کی کمیونسٹ پارٹی سے نکال دیا گیا تو انہوں نے دیہاتوں کے بدمعاشوں کو اپنے ساتھ ملایا جن کے پاس چھ سو لوگ اور بارہ سو بندوقیں تھیں۔ پھر انہوں نے کمیونسٹ پارٹی کے ایک شدت پسند گروہ کو اپنے ساتھ ملایا جس کی رہبری ZHU DE کر رہے تھے۔ اس طرح ماؤزے تنگ اور زو ڈی نے مل کر دس ہزار کامریڈوں کی RED ARMYکی بنیاد رکھی۔ ذو ڈی کو جلد اندازہ ہو گیا کہ ماؤزے تنگ ایک سیاسی کارکن ہی نہیں ایک انقلابی دانشور بھی ہیں۔

ماؤزے تنگ کے چین کی کمیونسٹ پارٹی سے ہی نہیں روس کی کمیونسٹ پارٹی سے بھی شدید نظریاتی اور سیاسی اختلافات تھے۔ روس کی کمینوسٹ پارٹی شہروں کے کارخانوں کے مزدوروں پر اور ماؤزے تنگ دیہاتوں کے کسانوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتے تھے۔ بالآخر ماؤزے تنگ ذو ڈی کے ساتھ مل کر کسانوں کی سرخ فوج بنانے میں کامیاب ہوئے ایسی فوج جو وردی بھی پہنتی تھی ٹوپی بھی پہنتی تھی اور اس ٹوپی پر سرخ ستارہ بھی لگاتی تھی۔

1929 میں ماؤزے تنگ ملیریا سے اتنے بیمار ہوئے کہ مرنے کے قریب پہنچ گئے۔ ان دنوں جیانگشی میں کونین دستیاب نہ تھی۔ اگر اس وقت ان کے ایک پرستار ایک عیسائی ڈاکٹر ان کا علاج نہ کرتے تو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہوتے۔

صحتمند ہونے کے بعد ماؤزے تنگ نے اپنی گوریلا فوج تیار کر لی اور وہ چیانگ کائی شیک کی حکومت کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔

ماؤزے تنگ نے گوریلا جنگ کو ایک فن کی طرح اپنایا اور اس پر مہارت حاصل کی۔ وہ اپنے فوجیوں کو تقسیم کرتے۔ ایک گروہ چیانگ کائی شیک پر حملہ کرتا وہ جوابی حملہ کرتے تو ماؤزے تنگ کے گوریلا فوجی شب خون مارتے اور حکومت کی فوج کو حیراں پریشاں اور ہراساں کرتے۔ دھیرے دھیرے ماؤ جو نوجوانی میں ایک شاعر اور دانشور تھے جوانی میں ایک ماہر گوریلا جنگجو بن گئے۔

ماؤزے تنگ اور زو ڈی کی سرخ فوج نے نہ صرف چین کی حکومت کو بلکہ جاپان کی حکومت کو بھی للکارا۔ ان کے ساتھ ایک لاکھ مردوں اور چند سو عورتوں کی گوریلا فوج تھی۔ ماؤ چین میں سرخ انقلاب لانا چاہتے تھے لیکن چین اور روس کی کمیونسٹ پارٹیوں نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ وہ ماؤ کی عظمت سے واقف نہ تھے۔

بیالیس برس کی عمر میں ماؤزے تنگ نے اپنی تاریخی long marchکا آغاز کیا اور اپنے سیاسی آدرشوں اور فوجی عزائم کا کھلم کھلا اظہار کیا۔ ماؤزے تنگ روس کے سٹالن کے لیے بھی ایک معمہ ایک بجھارت ایک پہیلی تھے۔ ماؤزے تنگ کی مارچ کئی سال جاری رہی جس کے دوران انہوں نے چوبیس دریا اور اٹھارہ پہاڑ پار کیے۔

ماؤزے تنگ نے پہلے جاپان کے خلاف گوریلا جنگ لڑی اور پھر اس جنگ سے سیکھے گئے نتائج پر ایک کتاب لکھی جس کا نام On Protracted War رکھا۔

1940 کی دہائی میں ماؤزے تنگ نے امریکی حکومت سے جاپان کے خلاف مدد مانگی۔ امریکی حکومت نے انکار کر دیا۔ وہ وقت پر ماؤزے تنگ کی عظمت نہ سمجھ سکے جس کا بعد میں انہیں پچھتاوا ہوا۔

جب ماؤزے تنگ کی ایک گوریلا فوجی اور رہنما کی حیثیت سے شہرت بڑھنے لگی تو چیانگ کائی شیک نے انہیں ایک ملاقات کے لیے بلایا۔ اس ملاقات کے بعد چیانگ کائی شیک کو اندازہ ہوا کہ ایک ریاست میں دو لیڈر نہیں رہ سکتے جیسے ایک آسمان پر دو سورج نہیں چمک سکتے۔ چیانگ کائی شیک نے اپنے فوجی جرنیل ہو کو حکم دیا کہ وہ ماؤزے تنگ پر حملہ کر کے تباہ و برباد کر دے لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ ماؤزے تنگ گوریلا جنگ میں ماہر ہوچکے ہیں۔

1948 تک پہنچتے پہنچتے ماؤزے تنگ ساری دنیا سے اپنی عظمت منوا چکے تھے۔ ایک زمانے میں وہ چیانگ کائی شیک کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے لیے تیار تھے لیکن پھر وہ چیانگ کائی شیک سے مایوس اور نا امید ہو گئے۔

ماؤزے تنگ جاپان اور چین کی حکومت کے خلاف دس برس کی گوریلا جنگ لڑنے کے بعد کامیاب ہوئے اور یکم اکتوبر 1949 کو وہ چینی ریاست کے سربراہ بن گئے۔

ماؤ نے چین میں انقلاب برپا کر دیا۔ ان کے انقلاب سے جتنے لوگ خوش ہوئے اتنے ہی لوگ مایوس بھی ہوئے۔ وہ جتنے لوگوں کے ہیرو تھے اتنے ہی لوگوں کا ولن بھی تھے۔ اب ماؤزے تنگ کا شمار بیسویں صدی کے عظیم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ماؤزے تنگ نے اپنی دو کتابوں ON PROTRACTED WAR اور ON GUERRILLA WARFARE  میں گوریلا جنگ کے جو راز رقم کیے ہیں میں ان کی تلخیص اور ترجمہ بیس نکات میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

1۔ جب ایک فوجی حوالے سے کمزور قوم ایک طاقتور قوم کا مقابلہ کرنا چاہے تو وہ گوریلا جنگ کا سہارا لیتی ہے۔

2۔ جب کسی قوم میں بھوک غربت اور بے روزگاری حد سے بڑھ جائے تو وہ عوام گوریلا جنگ سے انقلاب لا سکتے ہیں

3۔ گوریلا جنگ انقلاب لانے کا ایک حصہ ہیں۔ انقلاب میں کامیابی کے لیے گوریلا جنگ کے ساتھ ساتھ معاشی معاشرتی اور سیاسی تیاریاں بھی ضروری ہوتی ہیں۔

4۔ گوریلا فوجیوں کو عوام کی جتنی زیادہ حمایت حاصل ہو اسی قدر ان کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
5۔ گوریلا فوجیوں کی عوام جتنی زیادہ عزت اور احترام کرتے ہیں اسی قدر گوریلا جنگ کامیاب ہوتی ہے۔

6۔ گوریلا جنگ طبقاتی جنگ بھی ہے اور حب الوطنی کی جنگ بھی چاہے وہ جنگ مقامی جابرانہ حکومت کے خلاف ہو یا بیرونی استعماری حکومت کے خلاف ہو۔

7۔ گوریلا فوج میں چھوٹے چھوٹے دستے ہوتے ہیں جو تجربہ کار گوریلا رہنماؤں کی زیر نگرانی کام کرتے ہیں۔ ان میں ہوشیاری بھی ہوتی ہے اور سرعت بھی۔

Mao Zedong (Mao Tse-tung). Photograph from 1957 showing him laughing and surrounded by a group of delighted women, some in modern and some in ethnic dress. The following year, Mao launched the Great Leap Forward, a madcap attempt at forced industrialisation that led to widespread famine. (Photo by Michael Nicholson/Corbis via Getty Images)

8۔ گوریلا فوجی میرا تھون رنر کی طرح ہوتے ہیں کیونکہ وہ جنگ دیرپا ہوتی ہے۔
9۔ گوریلا فوجی پہلے دشمن کے کمزور مقامات کو تلاش کرتے ہیں پھر ان پر حملے کرتے ہیں
10۔ گوریلا فوجی اپنے شب خون سے دشمن کو حیراں پریشاں اور ہراساں کرتے ہیں
11۔ گوریلا فوجی اپنے مقاصد اور آدرشوں کے لیے قربانیاں دینے کو تیار رہتے ہیں۔

12۔ گوریلا فوجی معاشرے کے ذمہ دار افراد ہوتے ہیں۔ وہ اپنے کام بھی کرتے ہیں ان کے خاندان بھی ہوتے ہیں اور وقت آنے پر وہ روپوش بھی ہو جاتے ہیں۔

13۔ گوریلا فوجی وقت آنے پر حکومت اور دشمن فوج کے وسائل پر قبضہ کر لیتے ہیں۔

14۔ گوریلا فوجیوں کو عوام کی عزت کرنی چاہیے کیونکہ وقت آنے پر انہیں عوام کی مدد اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔

15۔ گوریلا فوج میں وہ لوگ شامل نہیں ہونے چاہیے جو منشیات استعمال کرتے ہوں اور شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہوں۔ گوریلا فوجی بننے کے لیے اعلیٰ کردار اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔

16۔ گوریلا فوجیوں کو ایک دوسرے سے اتحاد کرنا چاہیے اور دشمن میں تفرقہ ڈالنا چاہیے

17۔ گوریلا فوجیوں کو اپنے دشمن کے زخمی سپاہیوں کا خیال رکھنا چاہیے تا کہ وہ واپس جا کر ان کا احترام سے نام لیں

18۔ گوریلا فوجی اگر کامیابی کا یقین نہ ہو تو انہیں حملہ نہیں کرنا چاہیے
19۔ گوریلا فوجیوں کو عوام کا سماجی اور سیاسی شعور بڑھانا چاہیے تا کہ انقلاب کی راہ ہموار ہو۔

20۔ گوریلا فوجیوں کو پر امید رہنا چاہیے کہ جلد یا بدیر وہ کامیاب ہوں گے اور وہ غیر منصفانہ نظام کو ختم کر کے ایک عادلانہ نظم قائم کریں گے۔

ماؤزے تنگ جانتے تھے کہ وہ چین میں گوریلا جنگ لڑ کر تاریخ کا نیا باب رقم کر رہے ہیں اور مستقبل میں بہت سی قومیں ان کی جنگ سے سبق سیکھیں گی اور ان کا حوصلہ بڑھے گا۔

ماؤزے تنگ نے بیسویں صدی میں انقلاب کا باب خون سے رقم کیا اور اپنے آپ کو عظیم گوریلا فوجی منوا کر دم لیا۔

۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail